سیاستہندوستان

کیا قرض معاف ہونا کافی ہے؟

راحت علی صدیقی قاسمی

  ایک زمانے سے ’’جے جوان، جے کسان‘‘کا نعرہ ہندوستان کی فضا میں گونجتا ہے ، ہر شخص کی سماعتوں سے ٹکراتا ہے،اسے کسان اور جوان کی عظمت سے روشناس کراتا ہے ،ان کے مقام و منصب کا پتہ دیتا ہے اور ملک کا ہر باشندہ جوان اور کسان کی قصیدہ خوانی کو باعث فخر گردانتا ہے، ان کی عزت و وقار محنت و مشقت کی قسمیں اٹھاتا ہے ،ان کی قربانیوں کو قابل قدر تسلیم کرتا ہے ،سیاسی لیڈران بھی ان افراد کی ستائش کرتے ہیں ، اپنی تقدیر کا ستارہ بلند کرنے کے لئے ان کا استعمال کرتے ہیں ،ان کے درد و کرب کا مذاق اڑاتے ہیں ،ان کی محنت و مشقت اور قربانیوں کو لفظوں کا پیرہن عطا کرکے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر سیاسی جماعت انتخابی دنگل میں کسانوں کی حالت زار پر اشکبار ہوتی ہے، ان کے قرض معاف کرنے کا اعلان کرتی ہے ،انہیں کم سود پر قرض دینے کا دعویٰ کرتی ہے ،ان کے مسائل ختم کرنے کا اعلان کرتی ہے ،ان کی بے رنگ زندگی کو خوش رنگ کرنے کے لئے ،منصوبے بناتی ہے ،نئی نئی اسکیموں کا اعلان کرکے اور ترویج و ترقی کے نئے نئے طریقوں سے روبرو کراکر مال و دولت عیش و آرام کا خواب دکھا کر ، کسانوں کو ٹھگا جاتا ہے۔

عرصۂ دراز سے یہی ہوتا چلا آرہا ہے ،ہر سیاسی جماعت بہت ہی خوبصورت انداز سے اس طرز کا کھیل کھیلتی ہے اور فتح سے ہمکنار ہوتے ہی کسانوں سے آنکھیں پھیر لیتی ہے ،تمام وعدے بھول جاتی ہے اور ارادے فتح کے غرور تلے دب کر دم توڑ دیتے ہیں اور کسان سابقہ صورت پر زندگی گذارتا رہتا ہے ،آج عالم یہ ہو چکا ،رات و دن محنت کرنے والا ،زمین کو قابل کاشت بنانے میں جان دھننے والا ،ملک کی معیشت کا محافظ ،ساون کی بھیانک رات میں اٹھ کر ،جنوری کی سرد رات میں بیدار رہ کر آبیاری کرنے والا، پھاوڑے سے زمین کا سینہ چیرنے والا کسان،نان شبینہ کا محتاج ہے ،آسائش اور آرائش تو بہت دور کی بات ہے ،زندگی گذرانا دوبھر ہوچکا ،اولاد کی پرورش کرنا ،شادیاں کرنا ،لڑکیوں کو جہیز دینا ،ظالم سماج کی رسوم ادا کرنا ،چار لوگوں میں بیٹھنے لائق ہونا ،اتنا مشکل ہوچکا ہے کہ اس سب کے مقابلہ میں اسے جان گنوانا اچھا لگتا ہے ،سانس کی ڈور توڑ ڈالنا وہ ان سب مصائب کو جھیلنے سے بہتر سمجھ رہا ہے اور آئے دن کسانوں کی خودکشی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ،مطلب پرست میڈیا بھی ان پر کان نہیں دھرتا اور انہیں قابل توجہ نہیں گردانتا ،اگر کوئی جملہ سیاسی رہنما یا کسی فلم اداکار کی زبان سے نکلتا ہے ،تو پورے دن اسے بڑی خبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔

مگر کسان کا کفن بھی بڑی خبر بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،اس کی بیوہ کے چہرہ کی مایوسی بچوں کے آنسوں بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے اور چمک دمک رنگ و حسن اور گلیمر کی دنیا اور مطلب پرستی اتنی مہلت ہی فراہم نہیں کرتی کہ ان حقائق پر توجہ دی جائے اور کسانوں کے مسائل کو طشت ازبام کیا جائے اور ان کے درد کا مداوا تلاش کیا جائے ،ان کے مصائب سے لڑنے کے لئے حکومت اور عوام کو بیدار کیا جائے ، جبکہ صورت حال اتنی بھیانک ہے کہ کلیجہ پھٹ پڑے ،حرکت قلب میں تیزی آجائے ،آنکھیں نمناک ہوجائیں ،اعداد و شمار کچھ ایسی کہانی بیان کرتے ہیں ،جو ہر شخص کو رنجیدہ کرکنے کے لئے کافی ہے ،1997سے 2006کے دوران 166304کسانوں نے خودکشی کی 2009میں 17363کسانوں نے موت کو گلے لگا لیا اور دنیا کے جھمیلوں سے نجات پاگئے ، اس صورت حال میں ہرگذرنے والا لمحہ اضافہ کررہا ہے ،اور ہر مہینہ 70کسان نیند کی آغوش میں سونا پسند کرتے ہیں ،زندگی کی رعنائیاں انہیں میسر نہ آسکیں ، عیش و طرب کے گیت گانے کا وقت انہیں میسر نہ آسکا ،پیٹ کی آگ نے گھر اور سماج کی ذمہ داریوں نے ان کے قدم لڑکھڑا دئے اور زمین کو ماں سمجھنے والا کسان اسے فروخت کر تجارت کرنے پر مجبور ہوگیا اور جو اپنے عقیدہ کے مطابق اس جرم کی تاب نہ لاسکا، اس نے زندگی پر موت کو ترجیح دینا بہتر خیال کیا ۔

حالانکہ پچھلے دس سالوں میں 70لاکھ لوگوں نے کھیتی کرنا چھوڑ دیا اور تجارت کو زراعت پر ترجیح دی ،یہ اعداد وشمار اس حقیقت کو عیاں کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ملک میں کسانوں کی حالت کیا ہے ،اب حکومتیں ان مسائل کے سدباب کے لئے ،اس صورت حال کے خاتمہ کے لئے کیا تدابیر کررہی ہیں ؟کیا منصوبے بنارہی ہیں ؟یہ بہت بڑا سوال ہے ،جس پر اس ملک کی معیشت کا دار و مدار ہے، ہندوستان میں زراعت ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے ،اب اس کی حفاظت کے لئے سرکار نے کیا کیا ؟کسان جو پوری طرح قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں ،ان کے قرض ادا کرنے کا وعداہ کیا گیا تھا ،بی جے پی فتحیاب ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ،مگر وعدہ وفا نہ ہوسکا،ہاں نوٹ بندی کے بعد وزیراعظم نے سود معاف کرکے گڑھ دکھا کر ڈھیلا مارنے والی مثال کو عملی شکل دے دی ، کم سود پر قرض دینے کا اعلان کیا گیا، جس کا منظور کرانا، جوئے شیر لانے سے بھی بڑھ کر ہے ،البتہ یوگی حکومت نے 36ہزار کروڑ روپے کسانوں کا قرض معاف کیا ہے اور یوپی کے خزانہ کی حالت دیکھی جائے تو اس کا انتظام بھی بڑا سوال ہے ،بہرحال 58ہزار کروڑ ابھی باقی ہے ،جو کسانوں کی بدتر صورت حال کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔

پورے ملک کی یہی صورت حال ہے ،36ہزار کروڑ سے زائد مہارشٹر کے کسانوں پر قرض ہے ،تملناڈو کے کسان قرض معافی کے لئے جنتر منتر پر احتجاج کرچکے اور بے ثمر لوٹ گئے ،مہاراشٹر کے کسان قرض معافی کا مطالبہ کررہے ہیں ،ہر خطہ کسانوں کی ابتری کی صورت حال بیان کرتا ہے، اب اس صورت حال میں حکومت کو غور کرنا ہوگا ،کیا صرف قرض معاف کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ؟یا کچھ اور منصوبہ بنانے ہوں گے، فصل کو بربادی سے بچانے کے لئے تدابیر کرنی ہوں گی ،قحط سے بچنے کے لئے، پانی کی قلت سے بچنے کے لئے موزوں انتظام کرنے ہوں گے ،ملک پوری طرح آلودگی کا شکار ہوچکا ہے ،موسم میں تبدیلی آگئی ،ساون کی پھنواریں بھی اب کم ہی میسر آتی ہیں اور ساون کے سیاہ بادل بھی بے رخی سے لوٹ جاتے ہیں ،خشک زمین اپنا سینہ پیٹ کررہ جاتی ہے اور پانی کی دوبوند بھی اسے میسر نہیں آتی ،موسم کی اس بے رخی کا خمیازہ کسان کو بھگتنا پڑتا ہے ۔

حکومت کے پاس اس سے نبردآزما ہونے کے لئے کوئی شکل نہیں ہوتی اور یہ صورت حال آئے دن کی کہانی بنتی جارہی ہے ،اس صورت حال سے مقابلہ کرنے کے لئے سخت انتظامات کی ضرورت ہے ،سنچائی کے لئے آبپاشی کی نالیاں بنوائی جائیں ٹیوب ویلس کا انتظام کیا جائے ،چھوٹی چھوٹی نہریں کھدوائی جائیں ،جن کے ذریعہ دور تک پانی پہنچایا جاسکے ،اور وہ علاقے جہاں پانی دستیاب کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ،ان کے لئے مخصوص انتظام کئے جائیں ،قحط سے مقابلہ کرنے کے لئے بہتر انتظامات کئے جائیں ،سائنس و ٹکنالوجی کے دور میں امکانات کی دنیا روشن ہے، مایوسی و ناامیدی بہانہ کے سوا کچھ نہیں ہے ،پھر کسانوں کو مناسب وقت پر ان کے مال کی قیمت دلائی جائے ،ملوں کو پابند کیا جائے ،اور خاص طور پر سبزیوں کی بربادی اور ان کی قیمت کے تعلق سے غور و فکر کی جائے ،اور کسان کو اس کی محنت کے مطابق نفع فراہم کیا جائے ،منڈیوں کی حالت درست کی جائے ۔

ابھی آلو کی بربادی نے کسان کے حوصلے توڑ دئے اور اس کے لئے تکلیف کا باعث رہا ،ایسے موقع پر حکومت کسانوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کرے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی آلو کو تیل میں تل کر laysکمپنی کئی گنا زیادہ قیمت میں فروخت کرتی ہے ،مگر محنت و مشقت سے چور کسان کچھ نہیں پاتا اور بہت سی سبزیوں کا یہی عالم ہے ،جن میں کسان بیج کی قیمت بھی وصول نہیں کرپاتا ،اس طرف حکومت ہند کو توجہ دینے کی ضرورت ہے،اگر ایسا نہ ہوا تو ملک کا معاشی نظام ڈھ جائے گا اور ہندوستان غربت و افلاس کے ہولناک مناظر سے دوچار ہوگا۔

تاریخ ملک کے سیاہ ترین حالات کو اپنے سینہ پر رقم کرنے پر مجبور ہوگی ،دنیا جانتی ہے ،ہندوستان سونے کی چڑیا زراعت کی بنا پر بنا تھا ،اس کے معاشی نظام کی بنیادیں ،زراعت پر ٹکی ہوئی ہیں ،اگر یہ بنیادیں ہلیں تو بہت سے خطہ بھوک مری کا شکار ہو جائیں گے ،مفلسی بے روزگاری حکمراں ہوجائے گی اور ملک کے لئے ایسی صورت حال سے ابھرنا بہت مشکل ہوگا ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close