سیاست

کیا ’مسلم‘ لیڈروں کے نام بھی تبدیل ہوں گے؟

اس سے پارٹی ’لَوجہادیوں‘ کو پناہ دینے کےالزام سے بھی بچ جائے گی اور ان ’مسلموں‘ کی اصلیت بھی سامنے آجائے گی۔

گلزار صحرائی

مخالفین کی جانب سے کی جانے والی تنقیدواعتراضات کو تو آسانی سے رد کیا جاسکتاہے ، لیکن تنقیدو اعتراض  کی آواز جب اپنوں کےدرمیان  ہی سے اٹھنےلگے اور محاسبہ کرنے لگے تو  بڑی مشکل ہوجاتی ہے۔ کچھ  ایسی ہی مشکل ان دنوں اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے کابینی وزیراوم پرکاش راج بھر  پیدا کررہے ہیں۔وہ وقتاً فوقتاً اسی طرح اپنی  حلیف پارٹی بی جے پی کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں، جس طرح اس سے  قبل یشونت سنہا اور شتروگھن  سنہا وغیرہ بناتے رہے ہیں۔خصوصاً شتروگھن  سنہا تو اس معاملے  میں کچھ زیادہ ہی بے باک رہے ہیں ،  جومخالف پارٹیوں کو ہدف تنقید بنانےکے بجائے اپنی پارٹی کے دیگر چوٹی لیڈروں کے ساتھ  ساتھ وزیر اعظم مودی تک  پر  طنز کے تیر چلانے  سے گریز نہیں کرتے۔حتیٰ کہ ’تالی جب کیپٹن کو ملتی ہے تو گالی بھی کیپٹن کو کھانی ہوگی‘ جیسے  تیکھے حملے کرنے سے  بھی نہیں چوکتے۔اسی طرح کانگریس  میں دگ وجے سنگھ  پارٹی کے ضمیر کی آواز بن کرسامنے  آتے  رہے ہیں،جن کے  پارٹی  لائن  سے  ہٹے ہوئے بیانات سے کانگریس قیادت  مشکل میں  پڑتی رہی ہے، اور اب ششی تھرور اپنے بے  لاگ بیانوں سے اس کے لیے گو مگو کی کیفیت پیدا کرتے رہتے ہیں۔

اب کچھ  ایسی ہی روش مسٹر راج بھر نے  اختیار کی ہے۔ حال ہی میں  انھوں نے یوگی سرکار کی شہروں کے نام بدلنے کی پالیسی پر سخت  تنقید کرتے  ہوئے  کہاہے کہ ’’بھارتیہ جنتا پارٹی لوگوں کا  عوامی مفاد  کے ایشوز سے دھیان  ہٹانے کے لیے یہ سب ناٹک کررہی ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی نے الٰہ آباد اورفیض آباد کا نام اس لیے بدلا کیوں کہ وہ مغلوں (مسلمانوں)کے نام پر تھے۔‘‘اس  کے ساتھ ہی انھوں نے  پارٹی کووہ  صلاح دی  جو ابھی تک کسی نے نہیں دی ،اور وہ یہ کہ شہروں کا نام بدلنے سےپہلے  پارٹی کے قومی ترجمان شاہنواز حسین ، مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اورمحسن  رضا کے نام تبدیل  کیے جائیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ  ’’بی جے پی یہ سب ناٹک اس وقت کرتی ہے جب استحصال کا شکار اور پسماندہ طبقات کے لوگ اپنا حق مانگنے کے لیے اپنی آواز بلند کرتے  ہیں۔‘‘یہی نہیں، بی جے پی کی نظریاتی ہمنوا پارٹی شیو سینا نے بھی یوگی سرکارکو سخت تنقید کانشانہ بنایا ہے۔پارٹی نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ میں کہا ہے کہ اتر پردیش  کے شہروں کا دوبار ہ نام رکھا جانا  وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ  کی جانب سے آئندہ سال کے لوک سبھا انتخابات سے قبل رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے ’لالی پاپ‘ہے۔ان کے علاوہ معروف مؤرخ عرفان حبیب نے خود امت شاہ کے نام پر اعتراض وارد کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی کو پہلے اپنے قومی صدر امت شاہ کا نام تبدیل کرناچاہیے، کیوں کہ ان کی عرفیت ’شاہ‘گجراتی نہیں بلکہ فارسی لفظ ہے۔واضح رہے کہ تازہ اطلاع کےمطابق مرکزی حکومت کی جانب سے ایک سال کے اندر کم از کم ۲۵ شہروں اور گاؤں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز کو ہری جھنڈی دی جا چکی ہے۔

مذکورہ بالا تنقیداگرصرف کانگریس یا دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے کی گئی ہوتی تو  اسے ’اونہہ‘ کہہ کر نظر انداز کیا جاسکتا تھا۔کہا جاسکتا تھا کہ اپوزیشن  کا تو کام ہی کیڑے نکالناہوتاہے، لیکن  خود ’اپنوں‘ کی جانب سے اس طرح کی تنقیدیں ظاہر کررہی ہیں  کہ بی جے  پی میں داخلی طورپرسب کچھ ٹھیک نہیں ہے،شایدبی جے پی کے ’اپنوں‘  کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ چوں کہ  پارٹی کارکردگی کے اعتبار سے پوری طرح ناکام رہی ہے،ان تقریباً پانچ برسوں میں اس نے سوائے  نفرت وتشدد کے  عوام کو اور کچھ  نہیں دیا،اس پر سے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے فیصلے کرکے عوام کے  لیے مشکلیں  کھڑی کرنے کا ہی کام کیا۔ان  ساری کمزوریوں کو چھپانے کا اس کے پاس  سوائے ایک ہی راستہ ہے،اور وہ ہے کمیونل کارڈ کا، جس کےنظارے مختلف جگہ مختلف صورتوں میں سامنے آرہے ہیں۔پارٹی کااچانک ایودھیا میں رام مندر کے لیے سرگرم ہوجانا،کرناٹک میں ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش  کے جشن کے خلاف احتجاج وہ سارے حربے ہیں جو وہ اپنی کامیوں پر پردہ ڈالنے کےلیے آزمارہی ہے۔یوپی میں شہروں کے نام بدلنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، ورنہ جہاں تک عوامی فلاح وبہبود کی بات ہے ،شہروں کے نام بدلنے سےکسی کاکوئی بھلاہونے والا نہیں۔لیکن  بی جے پی کا تضاد تودیکھیے کہ ایک طرف تو وہ کھلم کھلا مسلم مخالفت،بلکہ مسلم  دشمنی کا مظاہر کرتی رہتی ہے اوردوسری طرف نہ جانے اس کی کون سی مجبوری ہے کہ اس نے  پارٹی میں مسلم نام والے کچھ لوگوں کو بھی جگہ دے رکھی ہے،حالاں کہ  اپنی علانیہ مسلم دشمنی کی وجہ سےاسے اس تکلف کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔اس لیے مسٹر راج بھر کا یہ مشورہ بی جے پی کے لیے ’مفید‘ معلوم ہوتا ہے  کہ وہ ان نام نہاد مسلم لیڈروں سے کہے کہ وہ پہلی فرصت میں اپنانام تبدیل کر لیں۔اس سے بی جے پی  اپنے قول وعمل کے تضاد سے متعلق اس الزام سے بھی بچ جائے گی کہ ایک طرف تو وہ مسلمانوں  کے خلاف ’لَوجہاد‘کا پروپیگنڈا  کرتی ہے اور دوسری طرف اس نے خود اپنے یہاں  اسی ’لَو جہاد‘ کے  کچھ  مرتکبین کوپناہ دےرکھی  ہے،نیز اس کےان ’مسلم‘ لیڈروں کی’اصلیت‘ بھی سامنےآجائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

گلزار صحرائی

Ph:. 9718972354

متعلقہ

Back to top button
Close