سیاست

کیا نتیجے مودی جی کا بلڈپریشر بڑھا رہے ہیں؟

حفیظ نعمانی

وزیراعظم بننے سے پہلے نریندر مودی نام کے بھگوا لیڈر اور گجرات کے وزیراعلیٰ کے بارے میں یہ تو جانتے تھے کہ وہ بہت کچھ کرسکتے ہیں اور کریں گے لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ ہندو دہشت گردوں کو مذہب کے امن پسند پیروکار کا سرٹی فکیٹ بھی دے دیں گے۔ ملک میں نہ جانے کتنے ہندو لڑکے بم بناتے ہوئے بم کے پھٹنے سے مرگئے جانے کتنے کامیاب بھی ہوگئے مگر ہندو پولیس ضابطہ کی کارروائی کے بجائے خانہ پری کرکے چلی گئی۔ اب یہ کہنا کہ ہندو کبھی دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا دن کے بارہ بجے یہ کہنا ہے کہ رات ہے جیسی ضد ہے۔

پوری حکومت جانبداری پر چل رہی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کس زبان میں سمجھایا جائے جو وہ سمجھتے ہوں انہوں نے تو جانبداری کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ایک سال پہلے جب اُترپردیش میں ضمنی الیکشن ہوئے تھے تو جگہ جگہ مشین خراب ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ سخت گرمی کا اثر ہے۔ لوک سبھا کے الیکشن کی تاریخوں کا انتخاب جب وہ کررہے تھے تو انہوں نے گرمی کے مہینے کیوں رکھے؟ اور اگر اپریل مئی میں ہی الیکشن کرانا تھے تو ہر پولنگ پر اتنی فالتو مشینیں کیوں نہیں دی گئیں کہ ایک کے خراب ہوتے ہی دوسری چل پڑے اور گرمی میں ووٹر پریشان نہ ہوں۔ ہم توقع کررہے تھے کہ 2019 ء کے الیکشن میں اُترپردیش میں 75  فیصدی یا زیادہ پولنگ ہوگی لیکن اس خبر کے بعد کہ گولی ہاتھی کے مارویا گدھے کے لگے کی کمل کو ووٹروں میں بددلی کا نتیجہ وہ ہے جو سامنے ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانبداری کا یہ حال ہے کہ وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لینے کے جرم میں ایک افسر کو معطل کردیا گیا اور کل ہی وزیراعلیٰ پٹنائک کا ہیلی کاپٹر اپنے صوبہ میں اُترا تو ہم نے دیکھا کہ وہ سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ چند منٹ میں تلاشی لینے والے کتوں کی طرح دوڑے اور ہیلی کاپٹر کے ہر خانہ کو دیکھا ان کے سوٹ کیس کو دیکھا اسے کھولا اس میں ایک بند لفافہ تھا اسے کھولا اور ہر کام میں بدتمیزی شامل رہی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حاجی مستان یا حافظ سعید کی تلاشی لی جارہی ہے۔

اور حکومت کا یہ فیصلہ بھی سب نے دیکھا کہ چند روز پہلے لالو یادو کی بیماری کی خاطر علاج کیلئے سپریم کورٹ نے ضمانت اس لئے نہیں دی کہ سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ یہ الیکشن لڑائیں گے علاج تو ایک بہانہ ہے اور ان کو جیل بھیج دیا گیا۔ 2014 ء میں ہریانہ کے چوٹالہ جو دس سال کی سزا کاٹ رہے ہیں علاج کے لئے پیرول پر آئے ہوئے تھے انہوں نے الیکشن میں دلچسپی لینا شروع کی تو مخالفوں نے شکایت کی، عدالت نے پیرول واپس لے کر جیل بھیج دیا۔ سادھوی پرگیہ ٹھاکر پر دوسری سنگین دفعات کے علاوہ مکوکا بھی لگا تھا مودی سرکار کی مہربانی سے مکوکا ہٹ گیا تو ہائی کورٹ سے ضمانت اس نام پر مانگی کہ صحت خراب ہوگئی ہے علاج کرائیں گی۔ اب جو بیمار ہو اور علاج کے لئے ضمانت مانگے اور اسے وزیراعظم پارٹی میں شامل کریں اور بھوپال سے لڑنے کیلئے ٹکٹ دے دیں اسے کہاں ہونا چاہئے؟ اور جب ملک کے سب سے بڑے حاکم یہ کریں گے تو ایمانداری کہاں منھ چھپاکر روئے گی؟

تقریباً دو سو سیٹوں کا الیکشن ہوچکا اور ساڑھے تین سو کا باقی ہے ہم نے اپنے بڑوں کو دیکھا ہے کہ وہ ہوا کے جھونکوں سے اندازہ لگا لیتے تھے کہ اس کے پیچھے پانی والے بادل ہیں یا دھوپ اور انتہائی تیز دھوپ میں بتادیا کرتے تھے کہ گاڑی تیز چلائو بارش آرہی ہے اور واقعی بارش آتی تھی۔ دو سو سیٹوں کے الیکشن سے مودی جی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پانچ سال جو بیج بویا جو کھاد ڈالا وہ بہت گھٹیا تھے اور جو پانی فصل کو دیا وہ کھارا تھا جس کا نتیجہ وہ نہیں نکلے گا جس کا منصوبہ تھا۔ لیکن حکومت کا خون منھ کو لگ گیا ہے اسے تو اپنے قبضہ میں رکھنا ہے چاہے جو کرنا پڑے۔ اور اس کی ابتدا یہ ہے کہ مودی کی سرکار گئی تو ہندو راج ختم ہوجائے گا اور مسلم راج آجائے گا۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس کرشنا نے 1993 ء میں ممبئی میں مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیق کی تھی چھان بین کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہونچے کہ 900  سے زیادہ مسلمان مارے گئے اور انہوں نے مارنے والوں میں شیوسینا، بی جے پی اور مقامی پولیس کے لوگوں کو ملزم بنایا لیکن 26  سال ہوگئے ایک ہندو کو بھی سزا نہیں ہوئی اگر 900  مسلمانوں کو مارنے والے دہشت گرد نہیں تھے تو کیا تھے اور کسی بے قصور کی جان لینا دہشت گردی نہیں تو کیا ہے؟

اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان دہشت گرد کو مذہب کا امن پسند پیروکار کہے تو اسلام اسے مسلمان ہی تسلیم نہیں کرے گا۔ نیوزی لینڈ کی حکومت نے اسلام کو امن اور سلامتی مانا ہے۔ ہم ہر اس مسلمان کی پیروی کریں گے جس کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں برسوں سے جیل میں ڈال رکھا ہے لیکن اس کے لئے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کریں گے جس نے کسی بے گناہ ہندو کو مارا یا ستایا ہو۔ یہ بات مودی جی جانتے ہوں گے کہ جس نے چالیس سے زیادہ مسلمانوں کو بم سے اڑا دیا ہو اور جسے ایک انتہائی فرض شناس افسر نے مہینوں کی محنت سے ڈھونڈ کے نکالا ہو اور اسے اس خدمت کے انتقام میں ہندو دہشت گردوں سے مروا دیا ہو وہ بھی ہندو مذہب کا امن پسند پیروکار ہوتا ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک ہندو دہشت گرد ہو ہی نہیں سکتا۔ جبکہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ دہشت گرد صرف ہندو ہوتا ہے یا جس ملک میں جس کی حکومت ہوتی ہے وہ ہوتا ہے ہندوستان میں مسلمان تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اور اس لئے نہیں ہوسکتا کہ سیکڑوں لڑکوں کو وہ دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے مکھی یا مچھر بھی نہیں مارا اور وہ دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے بند ہیں ملک کی عدالتوں کا یہ رویہ پوری مسلم دشمنی ہے کہ وہ گرفتار کرنے والوں سے ثبوت نہیں مانگتے اور وہ ثبوت کے نام پر برسہا برس گذار دیتے ہیں یہ نہ حکومت کو نظر آتا ہے اور نہ عدالت کو جب مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک ہو تو وہ کس کے بل بوتہ پر دہشت گردی کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close