سیاست

کیا واقعی میں وہ ہمارے ہیں؟

مدثر احمد

کرناٹک میں جے ڈی یس، یو پی میں یس پی، دہلی میں عام آدمی پارٹی جیسی کئی سیاسی پارٹیاں ہیں اور یہ تمام پارٹیاں اپنے آپ کو کانگریس کی طرح سیکولر پارٹیاں کہلواتی ہیں اور یہ خود اپنے آپ کو سیکولر کہنے سے زیادہ مسلمانوں کے ذریعے سے کہلواتی ہیں تاکہ انکی سیاسی دکانیں اچھی خاصی چلیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی میں یہ تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے حقوق کی پابند ہیں ؟۔ کیا ان سیاسی پارٹیوں میں مسلمانوں کو حقوق ملتے رہے ہیں ؟۔ کیا ان سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی حکومتوں میں مسلمانوں کے لئے واجب طریقے سے کام کیاہے ؟۔

اگر سرسری طورپر جائزہ لیاجائے تو ان سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ طورپر مسلمانوں کے نام پر سیاست ضرور کی ہے لیکن انہیں حقوق نہیں دئے ہیں۔ حکومتوں کے ذریعے سے انہیں حقوق دینے کی بات تو دور خود انکی پارٹیوں میں انہیں مناسب عہدے نہیں دئے جاتے اگر دئےبھی جاتے ہیں تو اقلیتی شعبوں کی ذمہ داریاں ان پر لاد دی جاتی ہیں۔ کانگریس، جے ڈی یس، عاپ اور یس پی جیسی تمام سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو محض اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا ہے اور مسلمان ان سیاسی پارٹیوں کے ذر خرید غلام بن کر کام کرتے رہے ہیں اور اس میں بھی اسی کیٹگیری کو ہی عہدے دئے جاتے ہیں جو مسلمانوں کے وفادار کم، پارٹیوں کے غلام زیادہ ہوں۔ کچھ مسلمان تو ایسے بھی ہیں کہ سونیا گاندھی کے بچوں، دیوے گوڈا کے بیٹوں اور ملائم سنگھ کے خاندان کا بھلا سوچتے سوچتے اپنے بچون کو مستقبل تاریک بناچکے ہیں اور انکے بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ملک بھر میں جس طرح سے مسلمانوں کا سیاسی استحصال ہوتا رہاہے اس سے مسلسل سبق لینے کے باوجود مسلمانوں نے کبھی اپنے سیاسی مستقبل کو بہتر بنانے اور مسلم قیادت کو مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اگر چہ کوئی مسلمان، مسلمانوں کی قیادت کرنے کے لئے آگے آتاہے یا پھر کوئی مسلمان سیاسی جماعت مسلمانوں کے وجود کو بچانے کی پہل کرتی ہے تو اسے سب سے پہلے خود مسلمان ہی بدنام کرتے ہیں دوسرے بعد میں اس کا اثر دیکھتے ہیں۔

مولانا آزاد نے کہا تھا کہ اگر دنیا دس ہزار سال رہے یا دس لاکھ سال بھی مزید قائم رہے تو پھر بھی دو چیزیں ختم نہیں ہوں گی، ایک ہندو قوم کی تنگ نظری تو دوسری مسلمانوں کی اپنے قوم کے سچے لیڈروں کے تعلق سے بد گمانی۔ مولانا ابوالکلام دور اندیش شخصیت تھے انہوںنے اس بات کو 70 سال پہلے ہی کہہ دیا تھا اور آج بھی ہماری قوم انکے اسی قول کی پابند ہے۔ مسلم لیگ، یس ڈی پی آئی، پیس پارٹی، یم آئی یم جیسی جتنی بھی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی قیادت کے نام پر بنی ہوئی ہیں انہیں بدنام کرنے، کمزور کرنے کا بیڑا مسلمانوں نے ہی اٹھایاہے۔ ان سیاسی پارٹیوں کو کبھی غدار قرار دیا گیا تو کبھی سنگھ پریوار کے ایجنٹ قرار دیا جاتا رہاہےجبکہ حقیقت دیکھی جائے تو کانگریس، یس پی اور جے ڈی یس جیسی سیاسی جماعتیں ہی غدار اور سنگھ پریوار کے نقش و قدم پر چلنے والی پارٹیاں ہیں۔ بھلے ا ن پارٹیوں کے اغراض و مقاصد سیکولربنیادوں پر ہیں لیکن موجودہ اراکین کا جائز ہ لیاجائے تو بڑے پیمانے پر بی جے پی، وی ہیچ پی و سنگھ پریوار سے نکل ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں میں شامل ہوئے ہیں۔

بی جے پی کے کئی قدآور لیڈران کانگریس میں شامل ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یس پی اور جے ڈی یس میں بھی بھاجپائیوں کا استقبال بڑے زورو شور سے کیا جاتاہے۔ بھلا بتائیے کہ کیا گدھے کو شیر کی کھال پہنانے سے وہ شیر بن جاتاہے ؟۔ نہیں نا !۔ تو پھر کس بنیاد پر کانگریس اور جے ڈی یس سیکولر بن گئیں۔ بی جے پی سے کانگر یس و جے ڈی یس میں شامل ہونے والے لیڈروں کی پارٹی تو بدل جاتی ہے، انکی ٹوپی اور اسکارف بھی بدل جاتے ہیں لیکن انکی سوچ و فکر نہیں بدل دیتی۔ ایسے میں کیا واقعی میں وہ ہمارے ہیں ؟۔

آج مسلمانوں کو اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کرنی ہوگی۔ چمچہ گری اورچاپلوسی کو چھوڑنا ہوگا۔ جو لوگ چمچے و چاپلوس بن کر ان پارٹیوں میں اپنی زندگیاں گزاررہے ہیں درحقیقت وہی قوم کے سب سے بڑے غدار ہیں۔ قوم انہیں اپنی قیادت کے لئے اپنا قائد منتخب کرتی ہے اور یہ قوم کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں۔ اب لوک سبھاانتخابات قریب ہیں ایسے میں مسلم سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو قبل از وقت کانگریس اور دوسری علاقائی جماعتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے شرائط اور مستقبل کے منصوبوں کو سامنے رکھتے ہوئے معاہد ہ کیا جائے اور ان معاہدوں کو قبول نہ کرنے کی صورت میں اپنی پارٹیوں کےامیدواروں کو میدان میں اتارنے کا اعلان کریں تو یقیناََ کچھ اثرات مثبت ثابت ہونگے۔

مسلمانوں کی ہی کچھ ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو ملت و سماج کے نام پر بنی ہوئی ہیں، ان تنظیموں کو بھی چاہئے کہ مسلمانوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کے لئے معاہدے طئے کریں نہ کہ اپنے مفادات کی تکمیل کی خاطر کانگریس، جے ڈی یس اور یس پی جیسی سیاسی جماعتوں کے غلام بن کر رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Back to top button
Close