سیاستہندوستان

کیا وزیر اعظم سچ بولنے کی ہمت کریں گے؟

حفیظ نعمانی

اگر آر ایس ایس کے رہنما اندریش کمار جیسے ہوتے ہیں جنہیں ناگ پور سے ہندو جاگرن منچ کا افتتاح کرنے کیلئے رانچی بلایا گیا ہے تو سیوم سیوک کیسے ہوتے ہوں گے؟ ان کو اخبار نے مسلم راشٹریہ منچ کا سرپرست بھی بتایا ہے۔ ان کی معلومات کا یہ حال ہے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ کوئی بھی مذہب گائے کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جبکہ ہندوستان میں جہاں کی حکومت ہندو دھرم کے ماننے والوں کے ہاتھ میں ہے وہ ہر دن درجنوں گائیں کاٹ کر ان کا گوشت دنیا کے اُن ملکوں کو بھیجتی ہے جہاں وہ گوشت کھایا جاتا ہے۔ جس اخبار میں یہ خبر چھپی ہے جس کو دیکھ کر ہم لکھ رہے ہیں کل اسی اخبار کے اندر یہ خبر چھپی تھی کہ بیف یعنی گائے کا گوشت موجودہ حکومت کے زمانہ میں 18 فیصدی زیادہ گیا ہے۔

آر ایس ایس کے رہنما کی بے خبری کا یہ حال ہے کہ انہیں یہی نہیں معلوم کہ ہندوستان کی حکومت ڈالر کے لئے سیکڑوں گائے کاٹ کر ان کا گوشت اور کھالیں باہر بھیج رہی ہے۔ اور ہندوستان میں آزادی سے پہلے ہر بازار میں صرف گائے کا گوشت بکتا تھا اور بھینس ایک بھی نہیں کٹتی تھی۔ اندریش کمار کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ گؤشالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا واقعہ قرآن میں تفصیل سے موجود ہے اندریش کمار ہندی قرآن دیکھ لیں اور ہم تو یہ جانتے ہیں کہ روس کا عیسائی صرف گائے کھاتا ہے۔ اور جب پنڈت نہرو نے جمشید پور میں ایک بہت بڑا فولاد کا کارخانہ روس کے تعاون سے قائم کیا تھا تو اس کے لئے سیکڑوں افسر اور ورکر روس سے آئے تھے ان کے لئے جمشید پور میں گائے کاٹنے کی سرکار کی طرف سے اجازت دی گئی تھی۔ یہ ہم نے خود دیکھا کہ جمشید پور کے دیہاتوں کے بازاروں میں گائے کا گوشت بک رہا ہے۔ ان لوگوں نے ہی بتایا کہ پورے ضلع میں روسی تو کم مسلمان زیادہ گائے کھا رہے ہیں۔

اندریش کمار نے یہ بھی کہہ دیا کہ مکہ مدینہ میں بھی گائے کو مارنے پر پابندی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ پوری دنیا میں کھائی جانے والی گائے کے بارے میں آر ایس ایس کا رہنما اتنا بے خبر؟ آج پوری دنیا میں سب سے سستا گوشت مرغ کا ہے سعودی عرب میں بھی یہی ہے کہ مرغا اس کے بعد بھیڑ اس کے بعد گائے اور سب کے بعد اونٹ۔ دنیا کے اور کن ملکوں میں اونٹ کھایا جاتاہے یہ اس پر منحصر ہوگا کہ جہاں اونٹ پیدا ہوتے ہیں؟ لندن میں 50 برس سے ہمارے بھائی اور ان کا بیٹا بیٹی رہتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہمارا بیٹا بیٹی پوتے پوتی اور نواسے رہتے ہیں ان کے علاوہ بحرین اور ابوظہبی میں بھی بچے ہیں سب جگہ یہی ترتیب ہے کہ مرغی بھیڑ اور گائے عیسائی ملکوں میں سب سے مہنگا سوّ ر ہے۔

ہندوستان میں بنگال میں تو بیشک مسلمان گائے کا گوشت کھا رہے ہیں لیکن کیرالہ، منی پور، گوا، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، تری پورہ ہر جگہ ہندو اور عیسائی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ جو اپنے کو رہنما کہلوائے اسے اتنا بے خبر نہیں ہونا چاہئے۔ رہا ماب لنچنگ کا معاملہ تو اس کا کوئی تعلق گائے کاٹنے سے نہیں ہے۔ وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کل پھر لوک سبھا میں کہا کہ ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور جب سب نے انہیں گھیر لیا تو وہ 1984 ء پر آگئے۔ حکومت کے اتنے بڑے منصب پر جو بیٹھا ہو وہ 1984 ء کا حوالہ دیتے وقت یہ نہ سوچے کہ اس وقت وزیراعظم کو سکھ نے مار دیا تھا اور جو ہوا برا ہوا لیکن پھر بھی کم ہوا اگر مودی جی کو کوئی مسلمان مار دے تو شاید آدھا ہندوستان خون سے سرخ ہوجائے گا۔

ہندوستان کی صرف ان ریاستوں میں یہ غنڈہ گردی ہورہی ہے جہاں بی جے پی حکومت ہے راجستھان میں یہ تیسرا واقعہ ہے مودی جی اندرا گاندھی کی نقل کرنے کی بہت کوشش کرتے ہیں اگر اندرا گاندھی ہوتیں تو رانی کو کان پکڑکر نکال دیتیں اور راجستھان میں اس مایاوتی کو بٹھا دیتیں جس نے خود کہا ہے کہ ایک چماری ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والی دلت لڑکی۔ اسی دلت لڑکی نے برہمن افسروں سے اپنے جوتے صاف کرائے اور ہر برہمن اور ٹھاکر ممبر نے پہلے مایاوتی کے پاؤں کو ہاتھ لگایا بعد میں حلف لیا۔

2014ء کے بعد جتنے واقعات ہوئے ہیں اتنے 70 برس میں بھی نہیں ہوئے تھے۔ ریکارڈ ہے کہ 2012 ء میں ایک اور 2013ء میں ایک اور جو بھی ہوا اس میں گائے کٹی تھی مودی جی کے زمانہ میں 80 کے قریب واقعات ہوئے ہیں ان میں گائے کی رسّی پکڑکر مسلمان لے جارہا ہے۔ اگر ہندو حکومت کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ لوک سبھا کے اندر گیتا ہاتھ میں لے کر کہہ دیں کہ حکومت گائے کا گوشت باہر نہیں بھیج رہی ہے تو ہم موٹے موٹے لفظوں میں معافی مانگ لیں گے۔ اور اگر وہ مان لیں کہ بھیج رہی ہے تو جاہل ہندو چپ ہوجائے گا۔

بھیڑ کی لاقانونیت ایک دن میں ختم ہوجائے گی حکومت یہ قانون بنا دے کہ مسلمان کو گائے پالنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ کیسا جنگل راج ہے کہ ایک مسلمان گائے خریدکر لارہا ہے اس کے بارے میں ہندوؤں کی بھیڑ یہ کیسے فیصلہ کرسکتی ہے کہ یا یہ کاٹے گا یا اسمگل کردے گا؟ ہمارے چچازاد بھائی 40 ہزار روپئے کی گائے لائے ہیں۔ ہم نے جب سے موجودہ بڑا گھر لیا ہے اس دن سے ہمارے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ خالص دودھ کے لئے گائے پالیں گے۔ اس کی خدمت کے لئے آدمی نہیں ملا ورنہ اب تک لاچکے ہوتے۔ کل ٹی وی پر چند گھرانے دکھلائے جہاں صرف بھینسیں تھیں۔ عورتوں نے کہا اب گائے نہیں پالیں گے اس میں جان جاتی ہے۔

ہمارے وزیراعظم تو نہیں جانتے کہ پوتے پوتی نواسے نواسی کی رونق کیا ہوتی ہے؟ لیکن وزیر داخلہ اور ریاستوں کے وزیراعلیٰ تو جانتے ہیں۔ کیا یہ سن کر اُن کے دل پر چوٹ نہیں پڑی کہ اکبر نے سات بچے چھوڑے ہیں اور وہ کمانے والا اکیلا تھا۔ اور کاشی پھل سے ملتا جلتا راجستھان کا وزیر داخلہ کہتا تھا کہ ایک لاکھ 20 ہزار معاوضہ دیں گے۔ یہ وہی ہے جس نے پہلے کہا تھا کہ پولیس نے غلط نہیں کیا جبکہ چاروں پر قتل کا مقدمہ اسی کو چلانا چاہئے۔

ہم مسلمانوں کا خیال نہ کریں مودی جی سوامی اگنی ویش کے بارے میں سوچیں کہ وہ ایک آریہ سماجی رہنما ہیں انا ہزارے کی تحریک کے عروج پر کانگریس حکومت سے مذاکرات کرانے میں وہ پیش پیش تھے ملک ہی نہیں ملک سے باہر بھی سب ان کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے اوپر یہ الزام کہ وہ جھارکھنڈ میں عیسائی بنانے آئے ہیں اور گائے کھانے والوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کو بے عزت کرکے مارنے والے بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈے تھے جو جے شری رام کا نعرہ لگا رہے تھے۔ کیا یہ نعرہ غنڈہ گردی کیلئے ہے؟ اور وزیراعظم کے اندر اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ بیس پچیس کو گرفتار کراکے بھول جائیں۔ اگر اتنے ہی کمزور ہیں تو اس کرسی پر کیوں بیٹھے ہیں جو بہادروں کے لئے بنی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close