سیاست

کیا پرانی کہانی پھر دُہرائی جائے گی

حفیظ نعمانی

یہ بات تو ہم نے ایک سال پہلے کہی تھی کہ ایسا تو نہیں لگتا کہ بی جے پی کی جگہ کانگریس لے لے گی لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ بی جے پی میں بڑے پیمانے پر بغاوت ہوجائے اور مودی جی اپنے تھوڑے سے وفاداروں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھنے پر مجبور ہوجائیں۔ لیکن سیاست میں ایک سال بہت ہوتا ہے اور اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ وہی آر ایس ایس جو اپنے بہت بڑے لیڈر بہت وفادار اور خدمت گذار اڈوانی کو آرام دینے کا فیصلہ کرکے مودی کو لایا تھا وہ ہی پھر حرکت میں آگیا ہے اور اس نے مودی کا متبادل امت شاہ کو بناکر بی جے پی کے ان ممبروں کو جو مستقبل کی طرف سے مطمئن نہیں تھے انہیں تبدیلی سے مطمئن کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

بہار ایک صوبہ ہے جہاں 60  پارلیمنٹ کے حلقے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ بہار میں لالو یادو سب سے طاقتور لیڈر ہیں اور نتیش کمار کے الگ ہوکر بی جے پی میں جانے کے بعد بھی ضمنی الیکشن میں لالو کی پارٹی ہی آگے رہی۔ اس بہار سے ایسے اشارے ملے کہ نتیش کمار واپس جانا چاہتے ہیں یا جہاز ڈوبنے سے پہلے بی جے پی سے رشتے ختم کرنا چاہتے ہیں یہ اتنا اہم مسئلہ تھا کہ اس کے لئے مودی جی کو جانا چاہئے تھا اور ان کا حقہ بھرنے کیلئے امت شاہ بھی چلے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا اور امت شاہ اکیلے گئے اور انہوں نے ایک خود مختار لیڈر کی طرح سے صبح کے ناشتہ پر نتیش کمار سے وہ کہا جو اُن سے آر ایس ایس نے کہلایا تھا اور پھر پورا دن ان کو سوچنے اور مشورہ کرنے کا وقت دے کر رات کا کھانا ان کے گھر کھانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ جواب دے سکیں کہ انہوں نے کیا فیصلہ کیا؟ اور میڈیا کے رپورٹر اپنا اپنا سر ہی پٹختے رہے کہ کیا باتیں ہوئیں لیکن ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ کیا فیصلہ ہوا شاید نریندر مودی بھی نہیں۔ خبروں سے جو اشارے ملے ہیں ان سے اس لئے اس کی تائید ہوتی ہے کہ امت شاہ کا جیسا استقبال ہوا وہ اس سطح کے لیڈر تھے نہیں شاید اب ان کو بنایا جارہا ہے۔

سوا چار سال پرانی بات ہے کہ اچانک اڈوانی جی کو کنارے کرکے نریندر مودی کو وزیراعظم کے اُمیدوار کے طور پر سامنے لایا گیا۔ اڈوانی جی نے چھپاکر نہیں سب کو دکھاکر اپنی ناگواری کا اظہار کیا اور ہر قدم پر کیا لیکن ہر قدم انہیں واپس لینا پڑا وہ آواز کسی نے نہیں سنی جس کو سن کر اڈوانی جی بڑھے ہوئے قدم واپس کرلیتے تھے اور نہ وہ چہرہ کسی نے دیکھا جس سے آواز آرہی تھی۔

اب ذرا 2015 ء کی بات یاد کیجئے کہ بہار کا الیکشن ہورہا تھا وزیراعظم مودی پورے بہار میں ان کی اکیلی آواز گونج رہی تھی اور پارٹی کے صدر امت شاہ ان کے ساتھ تھے لیکن ان کی کہیں نکڑ سبھا بھی نہیں کرائی گئی وہ صرف جملے تصنیف کرتے رہے کہ اگر بی جے پی ہار گئی تو پاکستان میں پٹاخے چھوٹیں گے اور بہار کے ہر گائوں میں گائے کا گوشت بکے گا۔ اسی سفر میں جب ہر طرف سے بی جے پی کی مخالفت میں 15-15  لاکھ روپئے کا وعدہ یاد دلایا جارہا تھا تو امت شاہ نے ثابت کیا تھا کہ ان کی عقل کتنی موٹی ہے اور کہا تھا کہ وہ تو الیکشنی جملہ تھا۔ اور یہ نہیں سوچا کہ اگر کسی لیڈر کے ایک جملہ کو الیکشنی کہا گیا تو اس کی تقریر کا ہر جملہ الیکشنی جملہ ہوجائے گا؟

ہم نے تو یہ اندازہ کیا ہے کہ آر ایس ایس کے پالیسی ساز جو بھی ہیں وہ جب اٹل جی کے مقابلہ میں اڈوانی جی کو منتخب کرسکتے ہیں اور اڈوانی جی کی جگہ نریندر مودی کو دے سکتے ہیں تو نریندر مودی کی کرسی امت شاہ کو کیوں نہیں دے سکتے؟ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی یا دولت کے لٹیروں کی سرپرستی نے جو حکومت کو سب سے گھٹیا بنا دیا اگر وہ صرف مودی کے فیصلے تھے تو امت شاہ جن کا اپنا بیٹا دیکھتے دیکھتے کروڑوں کما لیتا ہے وہ جو کریں گے اس سے ملک کا کیا حال ہوگا؟ اور یہ بات 18  سال پرانی ہے 16 جولائی 2001 ء کی صبح کو آگرہ میں اٹل جی وزیراعظم ہند اور پرویز مشرف پاکستان کے صدر کے درمیان بات شروع ہوئی مشرف صاحب کے مطابق اس کی ابتدا حوصلہ افزا تھی اور انتہا مایوس کن ظہرانے کے بعد ابتدا میں تنہائی میں اور اس کے بعد ہمارے اپنے اپنے وزراء خارجہ کے ہمراہ دو طویل ملاقاتوں میں ایک مشترکہ اعلامیہ کا مسودہ تیار کیا۔ اس اعلامیے میں دہشت گردی کی مذمت اور باہمی تعلقات میں بہتری لانے کیلئے تنازعۂ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ میرے خیال میں یہ مسودہ انتہائی مناسب الفاظ میں لکھا گیا تھا جو متوازن اور ہم دونوں کے لئے قابل قبول تھا دستخط کرنے کی تقریب ہوٹل جے پی پیلیس جہاںباجپئی صاحب ٹھہرے ہوئے تھے اور جہاں ہم نے بات چیت کی تھی اسی سہ پہر کو ہونا قرار پائی تھی۔ ہوٹل میں تیاریاں مکمل تھیں یہاں تک کہ ایک میز اور دو کرسیاں جن پر بیٹھ کر دستخط کرنا تھے لگادی گئی تھیں۔

میں وزیراعظم سے رخصت ہوکر اپنے ہوٹل میں کپڑے بدلنے کے لئے آیا دستخطوں کی تقریب کے بعد میرا ارادہ اجمیر شریف جانے کا تھا۔ لیکن ایک گھنٹہ کے بعد میرے وزیر خارجہ اور سکریٹری وزیر خارجہ نے مجھے مطلع کیا کہ بھارتی معاہدہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ آخر کیوں میں نے پوچھا۔ سر کابینہ نے اسے نامنظور کردیا میں نے کہا کون سی کابینہ آگرہ میں تو کوئی کابینہ نہیں ہے؟

مجھے بے حد غصہ آیا اور میری پہلی سوچ یہ تھی کہ فوراً اسلام آباد کے لئے روانہ ہوجائوں۔ دونوں سفارتکاروں نے مجھے ٹھنڈا کیا اور کہا کہ مسودہ دوبارہ لکھنے کیلئے کچھ وقت دیا جائے۔ میں نے بادل نخواستہ اجمیر کی زیارت منسوخ کردی۔ جملوں اور مناسب الفاظ کے استعمال کے بحث و مباحثہ کے بعد دو تین گھنٹوں کے بعد دوسرا مسودہ تیار ہوگیا جے پی نے منظوری کرلیا وہ باہر گئے تاکہ مسودہ کی کاپیاں صاف بنالیں۔ میں نے اپنی بیوی کو یقین دلایا کہ کل انشاء اللہ ہر اخبار کی شاہ سرخی آگرہ مذاکرات ہوگی۔ لیکن یہ نوشتہ تقدیر نہ تھا۔ جیسے ہی میں دستخطوں کی تقریب میں جانے کیلئے جانے لگا مجھے ایک اور پیغام ملا کہ بھارتی دوبارہ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ یہ ناقابل یقین تھا۔ میں نے فوراً واپسی کا فیصلہ کرلیا لیکن میرے وزیر خارجہ نے مجھے چلنے سے پہلے وزیراعظم باجپئی کے پاس جانے کیلئے آمادہ کرلیا۔ میں اپنی خواہش کے برعکس ان سفارتی آداب کو پورا کرنے کیلئے آمادہ ہوگیا۔ میں اس رات تقریباً گیارہ بجے وزیراعظم سے انتہائی سنجیدہ ماحول میں ملا۔ میں نے انہیں بتایا کہ غالباً ہم دونوں سے بالاتر کوئی فرد ہے جس کے پاس ہمارے فیصلوں کو ردّ کرنے کی طاقت ہے۔ آج ہم دونوں کی تحقیر ہوئی ہے۔ لیکن وزیراعظم بالکل خاموش بیٹھے رہے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور چلا آیا۔ شاید اسی فرد نے مودی کو بدل کر نیا کھیل کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close