سیاست

کیا گجرات کا الیکشن مودی کیلئے ’واٹر لو‘ ثابت ہوگا؟

عبدالعزیز

وزیر اعظم نریندر مودی ایک سال میں 14بار گجرات کا دورہ کرچکے ہیں اور ادھر ایک ہفتہ میں چار بار گجرات کے کئی جلسوں کو خطاب کیا۔ اس سے نریندر مودی کی بے چینی اور اضطراب کا پتہ چلتا ہے۔ دوسری طرف کانگریس کے نائب صدر گجرات کے ان تمام نوجوانوں کو جو ریاست کے الیکشن پر اثر انداز ہوسکتے ہیں ۔ ان کو ایک ساتھ کرنے اور جوڑنے کی کوشش میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پٹیدار کمیونٹی کے اس وقت کے سب سے بڑے لیڈر ہاردک پٹیل نے بہت پہلے ہی اشارہ دے دیا ہے کہ وہ گجرات میں راہل گاندھی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اگر راہل گاندھی ان کے مطالبات ماننے کیلئے تیار ہوگئے تو وہ کانگریس کا ساتھ دیں گے۔ او بی سی کے سب سے بڑے لیڈر اپیش ٹھاکر نے کانگریس میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔23اکتوبر کو راہل گاندھی سے گجرات میں ملاقات ہوئی ہے۔ بی جے پی کے نوجوان لیڈر نیکھل سیوانی بھارتیہ جنتا پارٹی سے استعفیٰ دے کر کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اپیش ٹھاکر کانگریس میں شامل ہوگئے۔

ہاردک پٹیل کا پٹیدار سماج پر اچھا خاصہ اثر ہے۔ اسمبلی کی 80سیٹوں پر پٹیدار سماج کا فیصلہ کن اثر ہے۔ اپیش کمار او بی سی کے سب سے بڑے لیڈر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔ او بی سی کا گجرات میں 110اسمبلی سیٹوں پر اثر ہے۔ دلتوں کا 30 سیٹوں پر اثر ہے جبکہ مسلمان اور آدیباسی 35/40 سیٹوں پر اثر رکھتے ہیں۔ بی جے پی کی کامیابی او بی سی، پٹیدار اور دلتوں کے ووٹوں سے ہوتی تھی۔ اب یہ تینوں سماج بی جے پی سے ناراض ہیں اور اس میں شدت بڑھتی جارہی ہے۔ مسلمان پہلے سے ناراض ہیں۔ آدیباسیوں میں بھی بی جے پی سے ناراضگی پائی جاتی ہے۔

گجرات کی بھاجپا پٹیدار سماج کے لیڈروں کو ہاردک پٹیل سے الگ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ ہاردک پٹیل کے دو قریبی رفقاء ورون پٹیل اور ریشما پٹیل کو بی جے پی اپنے فولڈ میں لینے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ٹی وی نیوز چینل اور سوشل میدیا کی آج کی خبر ہے کہ نریندر پٹیل نے کہا ہے کہ بی جے پی میں شامل ورون پٹیل نے انھیں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے ایک کروڑ روپئے کی پیشکش کی تھی جس میں سے دس لاکھ روپئے ان کومل بھی گئے ہیں ۔ نیوز چینلوں نے اپنے اسکرین پر دس لاکھ روپئے دیتے ہوئے ورون پٹیل کو دکھایا بھی ہے۔

بی جے پی کی گھبراہٹ کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ جی ایس ٹی سے متاثر تاجروں کو مرکزی حکومت نے کئی معاملات میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے مگر اس سے بھی گجرات کے تاجروں کی ناراضگی برقرار رہی تو بھاجپا نے الیکشن کمشنر پر دباؤ ڈالا کہ وہ الیکشن کی تاریخوں کا اعلان جلد نہ کریں ۔ الیکشن کمشنر نے بھاجپا کی بات مان لی اور ہماچل پردیش کے ساتھ گجرات کے الیکشن کی تاریخوں کے اعلان سے گریز کیا۔ اب پریس اور سوشل میڈیا میں یہ بات بھی آرہی ہے کہ الیکشن کمشنر کو احمد آباد میں بھاجپا حکومت نے رہائش کیلئے بنگلہ دیا ہے جس کی وجہ سے ان کا جھکاؤ بھاجپا کی طرف ہوگیاہے۔ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ الیکشن کمشنر نے گجرات کے الیکشن کے ساتھ گجرات کے الیکشن کے اعلان کی ذمہ داری یا اختیار وزیر اعظم نریندر مودی کو دے دی ہے۔

بھاجپا ٹوئٹر پر جنگ لڑرہی ہے مگر یہاں بھی اس کی ہار دکھائی دے رہی ہے۔ ٹوئٹر کی جنگ میں راہل گاندھی کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ ان کی شہرت ٹوئٹر پر نریندر مودی سے بڑھ گئی ہے جسے لے کر سنگھی لیڈر بیحد پریشان ہیں ۔ خاص طور سے وزیر اطلاعات و نشریات اسمرتی ایرانی نے راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ راہل گاندھی روس، انڈونیشیا، قزاقستان میں الیکشن لڑیں گے کیونکہ انہی ملکوں سے ان کو ٹوئٹر پر زیادہ حمایت مل رہی ہے۔

امیت شاہ اپنے بیٹے جئے شاہ کی بدعنوانی کی صفائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کے بیٹے کو ایک سال میں 50 ہزار سے 80 ہزار کروڑ کی آمدنی یعنی 16 ہزار گنا ہوگئی ہے۔ بھاجپا کے پیر تلے سے گجرات کی زمین کھسکتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہاردک پٹیل پر گجرات پولس نے جو فرد جرم عائد کیا تھا اسے واپس لے لیا ہے۔ ہاردک پٹیل نے اس پر کہا ہے کہ یہ سب الیکشن اسٹنٹ ہے۔ ان کو رام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ بی جے پی کے بہکاوے میں آنے والے نہیں ہیں ۔

بھاجپا کے لیڈروں کے بیانات کچھ ایسے آرہے ہیں جن میں ان کی گھبراہٹ اور بے چینی کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا اپنی ہار اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو بار بار احمد آباد اور گجرات کا دورہ کرنا پڑ رہا ہے۔ آثار اور شواہد بتا رہے ہیں کہ گجرات کا الیکشن نریندر مودی کیلئے ’واٹر لو‘ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر مودی کے برے دن شروع ہوجائیں گے اور ہندستان کیلئے اچھے دنوں کا آغاز ہوجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close