سیاستہندوستان

کیا ہم جمہوریت چھوڑ کر راج دربار کی طرف جارہے ہیں؟

الیکشن سے ایک سال پہلے ہی سے ملائم سنگھ نے اس کے تانے بانے بننا شروع کردئے تھے۔بینی پرساد ورما جو انہیں چھوڑ کر کانگریس میں چلے گئے تھے ان کو کانگریس کے ہارنے کے بعد ملائم سنگھ نے پارٹی میں لیلیا، وہ صرف چاہتے تھے کہ بینی بابو کی وجہ سے ا نہیں کرمی ووٹ مل جائیں ۔ ملائم سنگھ نے شاید یہ سوچے بغیر کہ اب وہ کہاں جائیں گے انہیں راجیہ سبھا کا ممبر بنا کر ان کے بڑھاپے کے چھ سال شاہانہ انداز سے گذارنے کا بھی انتظام کردیا لیکن بینی پرشاد نے وقت پڑنے پر جو کیا اس کی تکلیف ملائم سنگھ ہی جانتے ہوں گے۔

پہلے تو انھوں نے اپنے بیٹے کے لیے رام نگر کا ٹکٹ مانگا۔یہ ہمارے نزدیک احسان فراموشی تھی کہ باپ کو چھ سال کے لیے راجیہ سبھا کا ممبر بنادیا۔ اس کے بعد انھوں نے بیٹے کے لیے ہاتھ پھیلادیا اور فرمائش کی اس سیٹھ کی جس پر سماج وادی پارٹی کا وزیر برسوں سے جیت کر قابض ہے۔ اور جب اکھلیش نے وہ سیٹ دینے سے انکار کردیا تو ان کے بیٹے نے بی جے پی میں جانے کی دھمکی دی۔ بینی بابو اگر احسان شناس ہوتے تو بیٹے سے کہتے کہ اگر تم بی جے پی میں جائوگے تو یا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا یا راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دوں گا۔ لیکن انھوں نے جو کہا وہ انتہائی شرم ناک ہے۔ اگر راکیش رام کے نام کا سہارا لے کر جاتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے؟ انہیں کون جواب دیتا کہ برا یہ ہے کہ آپ کو ملائم سنگھ نے صر ف کرمی ووٹوں کی وجہ سے راجیہ سبھا بھیجا ہے اور آپ کا بیٹا ہی جب آپ کے آشرواد سے راکیش رام کا نام لے کر بی جے پی میں جارہا ہے تو ان لاکھوں کرمی ووٹوں کا کیا بھروسہ جن کے لیے بینی بابو پر اتنا بڑا احسان کیا؟

بینی بابو یوپی اے میں حکومت میں وزیر تھے اور وہ ایسے وزیر نہیں تھے جو مٹھّا بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں وہ بدعنوانی کے معاملہ میں بھی اتنے فراخ دل تھے کہ ان کی وزارت کے زمانہ میں ٹی وی کے آج تک چینل کے رپورٹروں نے وزیر خارجہ سلمان خورشید صاحب کی بیگم کا ایک معاملہ پکڑا کہ وہ ڈاکٹر ذاکر حسین ٹرسٹ کی چیئرپرسن ہیں اور انھوں نے اس سال کے بجٹ سے مندروں کے لیے وہیل چیئر ، بیساکھی اور دوسرا سامان خریدنے کے بجائے 75 لاکھ روپے کا زیادہ حصہ ہضم کرلیا۔ اور آج تک ایسے بہت سے گواہ کھڑے کردئے جو یہ گواہی دے رہے تھے کہ ہمیں کچھ نہیں ملا اور رجسٹر میں درج ہے کہ ملا۔

اس مسئلہ پر زیادہ شور اس لیے ہوا کہ وزیر خارجہ کی بیگم کی بدعنوانی تھی اور سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین خاں کا نام اس سے جڑا ہوا تھا۔ بینی بابو نے اس وقت کہا کہ صرف ۷۵ لاکھ روپے کے لیے اتنا شور میری سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر ۷۵ کروڑ ہوتا تو ضرور فکر کی بات تھی۔ ایک ایسا وزیر جس کے نزدیک ۷۵ لاکھ کی بے ا یمانی معمولی بات ہے کیوں اس کے ا تنے دن وزیر رہنے کے باوجود اس کا بیٹا اتنا مجبور ہے کہ وہ ٹکٹ کے لیے خود ہاتھ پھیلا رہا ہے۔ اپنے باپ سے سفارش کرارہا ہے اور جب ٹکٹ نہیں ملتا تو بی جے پی میں جانے کی دھمکی دیتا ہے۔ اور جب اپنی بیوی کے ساتھ ووٹ ڈالنے آتا ہے تو سب کے سا منے کہتا ہے کہ سماج وادی پارٹی چھ کی چھ سیٹیں بارہ بنکی میں ہارے گی اور بی ایس پی جیتے گی۔

یہ جو سیاست کی دنیا میں ’’باپ کا بیٹا بھی سیاسی‘‘ بننے کی بیماری پھیل گئی ہے اس کا انجام یہ ہوگا کہ وزیروں کے جاہل اور نا اہل بیٹے سیاست کے راستے حکومت میں آئیں گے اور ملک کا ستیاناس کریں گے۔ آخر یہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ وزیر اپنے لڑکوں لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں ۔ اپنی وزارت کے بل پر دوسرے ملکوں میں بھیج کر دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع دیں اور ملک کے اہم شعبوں میں آکر ملک کی بھلائی کریں ۔ جو سہولتیں وزارت کی وجہ سے وزیروں کے بیٹوں کو حاصل ہوسکتی ہیں وہ ہمارے جیسے عام آدمیوں کے بیٹوں کو نہیں ہوسکتیں ۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ وزیر کا بیٹا صرف وزیر بننا چاہتا ہے یا لوک سبھا راجیہ سبھا یا اسمبلی کا ممبر بننا چاہتا ہے۔جس کے لیے صرف بالغ ہونا کافی ہے۔

چودھری چرن سنگھ کے بیٹے اجیت سنگھ ان کے اکلوتے بیٹے تھے۔ چودھری صاحب جاٹوں کے ایسے لیڈر تھے جیسا نہ اور کوئی تھا نہ ہوا۔ وہ صرف یو پی کے جاٹوں کے نہیں ہریانہ کے جاٹوں کے بھی اتنے ہی مقبول لیڈر تھے اور وہ اگر اپنی زندگی میں ا جیت سنگھ کو ا پنے ساتھ لگا لیتے تو بلا شبہ آج وہ بھی دوسرے چرن سنگھ ہوتے۔ چودھری صاحب کی مقبولیت کا ایک و اقعہ اس کا گواہ ہے کہ وہ جاٹوں کے دلوں میں کتنے اندر بیٹھے تھے۔

حافظ ابراہیم صاحب کے بعد ان کے بیٹے عتیق صاحب الیکشن لڑرہے تھے۔ اندراگاندھی کو ان کی فکر تھی۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ بنسی لال جو خود جاٹ تھے ان کو اندراجی نے بجنور بھیجا۔ عتیق صاحب نے اپنے علاقہ کے تمام بڑے جاٹ چودھریوں کو کھانے پر بلایا۔ کھانے کے دوران بینی لال نے کہنا شروع کیا کہ کانگریس نے جاٹوں کے لیے کیا کیا؟ اور کہہ دیا کہ جاٹ تو ہم بھی ہیں ہم بھی آپ کے بھائی ہیں ۔ اتنا حق تو ہمارا بھی ہے کہ ہم آپ سے عتیق بھائی جیسے پریمی کو ووٹ دینے کوکہہ سکیں ۔بنسی لال سانس لینے کے لیے رکے تو تمام چودھری کھڑے ہوگئے اور کہا کہ کہو کھانا کھائیں کہو نہ کھائیں ؟ جاٹوں کے نیتا تو چودھری چرن سنگھ ہی ہیں وہ حکم دے دیں کہ ووٹ کنویں میں ڈال دو تو ہم کنویں میں ڈال دیں گے اور بنسی لال سے زیادہ عتیق صاحب کے ہوش اُڑ گئے اور بمشکل ان کو کھانا کھلایا۔ یہ الگ بات ہے کہ ووٹ جاٹوں نے عتیق صاحب کو دئے ا ور وہ وزیر بھی بنے۔

چودھری چرن سنگھ کے مرنے کے بعد اجیت بابو آئے اور جاٹوں نے انہیں سیاست کے لیے روک لیا۔ لیکن اجیت سنگھ نے وہی کیا جو سب کررہے ہیں کہ اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ نتیجہ جو بھی ہو لیکن ملک کے لیے یہ اچھا نہیں ہے۔ یہ وہی بیماری ہے کہ راجہ کا بیٹا چاہے کتنا ہی کم عقل ہو راجہ وہی بنے گا اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے اس سے تاریخ بھری پڑی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close