سیاست

کیا یہ مسلم مکت سیاست کی شروعات ہے؟

ڈاکٹر عابد الرحمن

گجرات انتخابات میں بی جے پی کی جیت اور کانگریس کی جیتی ہوئی ہار دونوں میں دراصل ہندوتوا کی جیت ہوئی ہے۔ اس باروزیر اعظم مودی جی اور بی جے پی پوری طرح اپنی اوقات پر آگئے تھے انہوں نے گجرات پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ترقی ورقی سب چھوڑ کر پوری شدت سے ہندوتوا کی اپنی روایتی سیاست کی اور کانگریس نے بھی اسی سیاست کے ذریعہ اپنے منتخب ممبران کی تعداد میں اضافہ کیا دونوں میں فرق صرف یہ رہا کہ بی جے پی نے پورے زور و شور کے ساتھ ہندوتوا کی سیاست کی اور کانگریس نے خاموشی کے ساتھ۔ ان انتخابات میں راہل گاندھی نے اپنے آپ کو ہندو اور کانگریس کو ہندوؤں کی پارٹی ثابت کر نے کی بھر پور اور بہت حد تک کامیاب کو شش کی اس کے لئے وہ نہ صرف مندر مندر گھومے بلکہ مساجد اور درگاہوں کو نہ جاکر اپنے اوپر لگے مسلم حمایت اور مسلم منھ بھرائی کے ’جھوٹے الزام‘ کوبھی جھوٹ ثابت کر نے کوشش کی یہی نہیں بلکہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف جاری منافرت کی مہم اورمختلف بہانوں سے مسلمانوں کے خلاف ہوئیں پر تشدد وارداتوں کے متعلق خاموش رہ کر اور ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ نعرے پر مودی سرکار کا محاسبہ نہ کر کے اور اپنے ایجنڈے مسلمانوں کے متعلق کسی چیز کا کوئی ذکر نہ کر کے یہ بھی ثابت کر نے کی کوشش کی کہ وہ اور ان کی پارٹی بھی اتنی ہی ہندو ہیں جتنے مودی جی اور ان کی پارٹی بی جے پی ہے۔ اور اس بار گجرات میں کانگریس کو جو فائدہ ہوا اس میں اس حکمت عملی کا حصہ پاگل وکاس سے زیادہ ہے۔ اور یہی بات ہم مسلمانوں کے لئے زیادہ تشویشناک ہے۔

اس الیکشن میں ہم مسلمان سیاسی طور پر بالکل غیر متعلق ہوکر سامنے آ ئے ہیں۔ روایتی طور پر ہوتا یہ ہے کہ بی جے پی مثبت و منفی پولرائزیشن کی سیاست کر تی ہے، جو مسلمانوں کی بدنامی پر مشتمل ہوتی ہے۔ مثبت پولرائزیشن یہ کہ جو کچھ وہ کرے اس کی وجہ سے ہندو ووٹ متحرک ہوں اور متحدہ طور پر اس کے خیمے میں آجائیں اور منفی پولرائزیشن اس طرح کہ اس کی اس سیاست پر مسلمانوں اور مخالف سیاسی پارٹیوں کا ردعمل بھی اسی کی مددکرے یعنی ہندوؤں کو اس کے حق میں مزید پولرائز کر دے۔ اس میں اس کی ایک چال تو یہ ہوتی ہے کہ اس کی مسلم مخالفت پر مسلمان خوب واویلا مچائیں، ان کا میڈیا اسکو خوب ہائی لائٹ کر کے گاؤں گاؤں قریہ قریہ مسلمانوں کی گہرائی تک پہنچا دے اور اس سے مسلمان بہت زورو شور سے بی جے کے خلاف متحرک ہو جائیں، سیکولرازم کا خوب راگ الاپیں اور سیکولر ازم ہی کو بنیاد بناکر بی جے پی مخالف پارٹیوں کی حمایت کا اعلان کرتے پھریں تاکہ اس کا ٹارگیٹیڈ (Targeted )ہندو ووٹ مزید متحرک ہو کر پوری طرح اس کا حامی ہو جائے۔

ہم اور ہمارا میڈیا ہمیشہ یہی کرتے ہیں، اب کی بار گجرات کے متعلق ایسا نہیں ہوا تو راتوں رات کسی نے مسلمانوں کو کانگریس کو ووٹ دے کر احمد پٹیل کو ’وزیر عالم‘ بنانے کا مشورہ دینے والے پوسٹرس اور بینرس لگادئے۔بی جے پی کی اس سیاست کی دوسری چال یہ ہوتی ہے کہ بی جے پی مخالف پارٹیاں اسکی اس اشتعال انگیزیوں کے بہانے نام نہاد مسلم ووٹ بنک کو کیش کر نے کے اقدامات میں لگ جائیں، بیان بازیاں کرنے لگیں، سیکولر ازم سیکولرازم اور مسلمان مسلمان کا شور مچانا بھی شور کریں تاکہ ان پارٹیوں کو مسلمانوں کی ہمدرد سمجھ کر اور ان کے مقابلے بی جے پی کو ہندوؤں کی پارٹی سمجھ کران کا مسلم مخالف ووٹ بنک بھی بی جے پی کے حق میں پولرائز ہو جائے۔ اور پچھلے لوک سبھا انتخابات میں یہ بات ابھر کر سامنے آئی کہ اب مسلم ووٹ بنک کا جتناشور ہو گا بی جے پی کا ہندو ووٹ بنک اتنا ہی مضبو ط ہوگا،جو پارٹی مسلمانوں سے جڑے گی انہیں ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کرے گی یا اس مسلم ووٹ بنک کو کیش کر نے کے اقدامات کرے گی ہندو ووٹ اس سے دور ہوتا جائے گا اسی طرح جس طرف یہ مسلم ووٹ بنک جائے گا یا جس کی حمایت کا شور مچائے گا وہ الیکشن ہارے گا۔ لیکن اس بار کانگریس صدر راہل گاندھی نے کمال ہوشیاری سے بی جے پی کی اس چال کو بہت حد تک ناکام کر دیا، مودی جی نے کانگریس کو پاکستان، احمد میاں پٹیل اور اورنگ زیب راج کے بہانے مسلمانوں سے جوڑنے کی بھر پور کوشش کی لیکن اس بارراہل گاندھی اور کانگریس نے مسلمانوں کے م کو بھی نہیں چھوا۔ اور یہی بات دراصل بی جے کی مسلم مخالف پولرائزیشن کی سیاست کا نقطہء عروج ہے جہاں مسلم ووٹ پوری طرح بے معنی و بے اثر ہو گیا۔چلو اس سے راہل گاندھی کو بی جے پی کا کامیاب مقابلہ کر نے کی نئی حکمت عملی ملی لیکن اس میں مسلمان سیاسی طور پر پوری طرح غیر متعلق ہو کر رہ گئے۔

کچھ مسلمان بہت خوش ہو رہے ہیں کہ بی جے پی نے جس کانگریس مکت بھارت کا خواب دیکھا تھا گجرات میں اس کی تعبیر الٹی ہو گئی، کانگریس خود بی جے پی کے گڑھ میں ابھر گئی، صاحبو ایسا تو ہوا لیکن اس طرح ہوا کہ کانگریس نے ہم مسلمانوں کو نہ صرف چھوڑ دیا بلکہ ہمیں پہلے سے بھی زیادہ غلام سمجھتے ہوئے ہمارے ووٹوں اپنا حق سمجھتے ہوئے ہمارا کوئی ذکر بھی نہیں کیا اور یہ بھی دراصل بی جے پی کی ہی نظریاتی جیت ہے کہ اس نے کانگریس کو ہم سے دور دھکیل کر سیاسی طور پر ہمیں بے معنی کر کے ’ مسلم مکت سیاست ‘کاحدف حاصل کر لیا اور یہی ہمارے لئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے۔ ہم نے مسلکی اور جماعتی اور خاندانی عصبیتوں کو چھوڑ پوری طرح متحد ہو کر اس کا کوئی حل تلاش کر نا چاہئے۔ گجرات کا یہ الیکشن ہمارے بحر کی موجوں میں اضطراب پیدا کر نے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے لئے نئی سیاسی شروعات کا ایک بہترین موقع ہے۔ کانگریس کو بی جے پی کی سیاست پر آنے دیں دلبرداشتہ نہ ہوں دونوں کو ایک ہی طرح کی سیاست میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر کے عوام کو اور خود انہیں بھی ان کی اوقات کا علم ہو جانے دیں اور اس دوران ایک متحد اور منظم ووٹ بنک بن کر مضبوط سیاسی قوت کا روپ دھاریں اور پھر اپنی شرطوں پربہت دور اندیشی اور رازدارانہ طور پر کسی سیاسی پارٹی سے سودے بازی کریں، یا کسی سیاسی پارٹی کو سبق سکھانے کا کام کریں۔

ہمیں یہ اچھی طرح دھیان رکھنا چاہئے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ہماری ہمدرد نہیں اور علیٰحدہ مسلم پارٹی بنا کر بھی ہم کچھ خاص نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنا سیاسی وزن اتنابڑھا نا ہوگا کہ جس طرف بھی ہم جائیں اس کا پلڑا بھاری ہو جائے لیکن اس کے لئے بہت سوچ سمجھ کر، ماضی اور حال کے تجربات کی روشنی میں مستقبل کا لائحہء عمل تیار کرنا ہوگااور اس میں جذباتیت کی بجائے ہوش کو، چلا پکار کی بجائے عمل کو اور جارحانہ اور اشتعال انگیز بیان بازی کی بجائے سنجیدہ اور خوش گفتاری اور نرم لہجے کو مقدم رکھنا ہوگا کیونکہ مسلم مخالف پولرائزیشن کی سیاست کی ایک اور اہم چال یہ بھی ہے کہ جس لہجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزیاں کرتے ہیں مسلمانوں میں سے بھی کوئی اٹھے اور اسی لہجے میں اگر ان کے یا ہندوؤں کے خلاف اشتعال انگیزی نہ بھی کرے توانتہائی جارحانہ اور اشتعال انگیزانداز میں مسلمانوں کے حقوق اور ان کے خلاف ہونے والے مظالم کی بات کرے تا کہ پہلے ہی مختلف نام نہاد سیکولر پارٹیوں میں بٹے ہوئے مسلمان مزید بٹ جائیں اور ان کی ایک بڑی تعداد انہیں ہی اپنا مسیحا سمجھے اور جذباتی ہوکر ان کی طرف چلی جائے اور اس کا شور بھی کرے اور نتیجتاً ہندو اس مسلم سیاسی پارٹی سے ڈر کر اسے روکنے کے لئے مزید متحرک اور جذباتی ہوکر پوری شدت سے اس سیاست کے بازی گروں کی طرف چلے آئیں۔ پچھلے کچھ سالوں میں مسلم سیاست کا شور اور مسلم سیاسی پارٹی کا غلغلہ اوراس میں جارحانہ بیان بازیاں دراصل اسی کی عملی شکل ہے جس کی وجہ سے بی جے پی کی طرف پولرائزیشن بڑھا ہے۔

سو اس بات کا بھی خاص خیال رکھتے ہوئے ہمیں دیگر دلت پچھڑوں اور مظلوم طبقات کو ساتھ لے کر چلنے والی سیاست کر نی چاہئے۔ اس میں اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ یہ تاثر کبھی نہ جائے کہ ہم کسی مخصوص پارٹی کے دوست ہیں یا کوئی پارٹی ہماری دشمن ہے۔اسی طرح ہماری صفوں میں موجود کالی بھیڑوں، کرائے کے ٹٹوؤں، منافقوں اوران بے ضمیر دلالوں کو پہچاننا اور مسترد کرنا بھی انتہائی ضروری ہے جو اپنے معمولی ذاتی مفادات کے لئے پوری قوم کا سودا کر نے سے بھی نہیں چوکتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close