سیاستہندوستان

کیرالہ سیلاب: بھکتوں کی بدعقیدگی اور مرکزی حکومت کا رول

رضی الہندی

کیرالہ میں سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کے بعد حالات بدستور ابتر بنے ہوئے ہیں۔ بھاری بارش ہونے سے اب تک 350 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لگاتار تباہی کے بعد افسران نے صوبہ میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

کیرالہ کے 14 اضلاع میں سے 11 میں بدھ کی دوپہر ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ جن مقامات کے لئے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ان میں اڈوکی، کوجی کوڈ (کالی کٹ)، وائناڈ، ملپورم، پائتھن متھیٹا، کنّور اور ایرناکولم شامل ہیں۔کوچین ایئرپورٹ میں پانی بھرنے کی وجہ سے ہفتہ تک بند کر دیا گیا ہے۔

منگل کی دیر رات شروع ہوئی موسلادھار بارش کے بعد پانی کی سطح 2ہزار 4سو فٹ سے متجاوز کرنے پر صوبہ کے تمام 33 ڈیموں کے دروازے کھول دینے پڑے، ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ بارش کے ہفتہ تک جاری رہنے کے امکانات ہیں۔

اس طوفانی بارش نے کیرالہ کے لوگوں کے لئے پہلے تحفظ نفس کا مسئلہ کھڑا کیا ہے کیونکہ یہاں پر آبادیاں کہیں وادیوں میں ہیں جہاں چاروں طرف پہاڑ تو کہیں سہ رخی پہاڑوں کے درمیان لوگ بستے ہیں ۔

ایسی نازک حالت میں اندھ بھکتی اور جمود عقل کے نادر بیانات سامنے آئے ہیں ۔اس وقت ملک میں حکمراں پارٹی کے کارکنان اور کچھ لیڈروں نے تو ملک کو وہم پرستی اور بد عقیدگی کی دلدل میں دھکیلنے والا بیان جاری کر دیا اور کہا کہ کیرالہ کی سڑکوں پر گایوں کو ذبح کیا گیا تھا اسی وجہ سے یہ بھیانک اور ہلاکت خیز سیلاب آیا ہے لہٰذا انہیں اپنا انجام بھگتنا چاہیے ۔

 پورا بھارت اس وقت چونک پڑا جبکہ بھارتی ریزرو بینک (آربی آئی)  کے گورنر نے یہ بیان دیا کہ کیرالہ کے "سبری مالا” مندر میں عورتوں کے داخلہ کی وجہ سے باڑھ آئی ہے ۔

اور اس طور پر بابائے قوم گاندھی جی کے اس بیان کی یاد تازہ کردی جبکہ آزادی ھند سے قبل 1934 میں بہار میں کوسی ندی میں سیلاب آیا تھا اور لاکھوں لوگ مر گئے تھے تو گاندھی جی نے کہا تھا کہ "سورن ذات کے لوگوں نے دلتوں پر ظلم کی انتہاء کردی تھی اس وجہ سے باڑھ، آئی ہے۔

ایک صاحب کے مطابق زلزلہ تھا

In 1934 there was earthquake in Bihar. Bapu said this was divine chastisement for the sins committed against Harijans & they deserve it. Hamam me Sabhi nange hai Bapu ki tarah.

معاملہ جو بھی رہا ہو یہ بات طے ہے کہ گاندھی جی نے بھی غیر ذمہ دارانہ بیان دیکر سنسنی مچادی تھی ۔

ویسے کیرالہ میں حالیہ سیلاب کی طرح 1924 میں بھی سیلاب آیا تھا ۔

ابھی گذشتہ دنوں کی بات ہے کیدارناتھ غار، گپھا یعنی امرناتھ یاترا میں جل پرلے سے 15000بھگت مرے کیا حالانکہ وہاں پر شب و روز، 24 گھنٹے بھجن کیرتن کی تقریبات ہورہی تھیں وہاں تو گائے نہیں کٹتی تھیں پھر کیوں اتنی بڑی مصیبت آئی کیا کسی نے بھی اسکو فرقہ واریت کا رنگ دیا نہیں بلکہ وہاں کے مضافات میں آباد مسلمانوں نے ہر طرح کی مدد کی مالی ہو، یا نرسی خدمات، عیادت گذاری کی سب کچھ کیا اور بی جے پی کے ماتحت گوا میں سرِعام گائے اور بیف کھلایا جاتا ہے اور منی پورہ میں تو اسی پر ووٹ بٹورے تھے کہ بیف پر بین نہ لگے گا ۔وہاں کیوں طوفان اور سیلاب نہیں کیا اس لئے کہ بی جے پی  کی حکومت ہے نہیں بلکہ یہ راگ الاپ کر 52لاکھ فرضی ووٹر جو مدھیہ پردیش میں آگامی چناؤ کیلئے تیار ہیں ان کو موضوع بحث ونکتہ چینی سے ہٹا دیا جائے تاکہ بآسانی جیت مل جائے ۔

وزیر اعلیٰ پنرائی وجین نے کیرالہ میں آئے سیلاب کا سامنا کرنے کے لئے لوگوں سے امداد دینے کی اپیل کی ہے۔ وجین نے بدھ کی شام وزیر اعظم نریندر مودی سے اس سلسلہ میں بات کی۔ وزیر اعظم نے ہر ممکن امداد دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی صوبہ کی مدد کرنے اور فورسز کو بھیجنے کا وعدی کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے جو مدد دی ہے وہ ناقابلِ تحسین ہے کیونکہ 2008 میں بہار میں سیلاب کی تباہی پر سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے 1000کروڑ کی مدد دی تھی اور موجودہ حکومت نے500 کروڑ روپے دیئے ہیں جبکہ یہی حکومت جیو یونیورسٹی جسکا ابھی وجود نہیں اس کو 1000کروڑ دے چکی ہے کنبھ کے میلہ کے لئے1000 کروڑ، اشتہارات کے لئے ہزاروں کروڑ اور ایک ایم ایل اے خریدنے کے لئے 100کروڑ صرف کرتی ہے اور منگولیا ملیشیاء کو ایک بلین، بنگلہ دیش کو 5بلین، بھوٹان کو 54 ملین، 318ملین سری لنکا کو، 10کروڑ سیسال کو اور بی جے پی دفتر کے لئے 1100کروڑ اور پٹیل کی مورتی کے لئے قریب 2500کروڑ کی خطیر رقوم دے چکی ہے ۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ ایماندار، 97% تعلیم یافتہ لوگ جہاں بستے ہیں ان کو محض پانچ سو کروڑ ہی کی مدد اسکو سیاست دانوں کی نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ حکومت وقت کو اپنی تعلیم کیوجہ سے ووٹ نہیں کرتے ہیں اور ان کے پروپیگنڈوں کے پھانسے میں نہیں پھنستے ہیں اسی لئے ایسا کیا گیا ہے ۔بہر حال ٹیکس یہ لوگ بھی ایمانداری سے بھرتے ہیں بلکہ گجرات سے بہت زیادہ اچھے ہیں انکی وجہ سے سرکار کٹگھرے میں ہے اور اس کا جواب دینے کے لئے اس کو تیار رہنا چاہئے ۔

 ابتک موصول خوش خبریوں کے مطابق گلف ممالک سے دبئی، سعودی عرب، اور عمان حکومت نے ایک خطیر رقوم بطور امداد فراہم کی ہے مزید مدد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔جبکہ ملک کی سیاست کی ابھرتی ہوئی پارٹی عام آدمی پارٹی جو کہ دلی میں سرکار میں ہے ان لوگوں نے سب سے پہلے قدم اٹھایا اور اسکے اراکین اسمبلی ودیگر نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ دان کرنے کی بات کہی ہے،  اویسی صاحب نے 16لاکھ کی مدد مزید10 لاکھ کی ادویہ سے امداد کی یقین دہانی کرائی ہے، تلنگانہ سرکار نے 25 کروڑ، دلّی سرکار نے 10،پنجاب سرکار نے 10،آندھرا سرکار نے5 ،اڑیسہ سرکار نے 5 ،پانڈیچری سرکار نے 2کروڑ روپے دیئے ہیں اور ویسٹ بنگال ممتا حکومت، اور جمو کشمیر گورنر راج کے ماتحت ہے یہاں کے علاوہ اکثر صوبوں بی جے پی راج کرتی ہے یہاں کی سرکار سے ریلیف کی خبریں موصول نہیں ہوئی ہیں ہاں یوپی سابق وزیراعلیٰ اکھیلیش یادو نے مدد کی اور قدم بڑھائے اور یوپی پولیس ایک دن کی تنخواہ دان کررہی ہے کیرالہ والوں کی مدد کے لئے باقی یہ مصیبت بھی فرقہ واریت کے رنگ میں رنگی جارہی ہے ۔اور راہل گاندھی نے بھی اچھی مدد کی اور اپیل کی ہے۔

بدھ کو بھاری بارش کے بعد گھر گرنے سے ملپورم میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ تین لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، ایک بچے کو بچا لیا گیا ہے۔ وہیں ایک شخص کی موت منار میں لاج منہدم ہونے سے ہوئی ہے۔ پاتھنم تھیٹا میں ایک 70 سالہ خاتون کی موت کرنٹ لگنے سے ہوئی ہے، اس خاتون کا گھر پانی میں ڈوب گیا تھا۔ وہیں لینڈ سلائڈنگ سے ملپورم میں بھی کئی لوگوں کی جان گئی ہے۔

صوبہ کی راجدھانی کے ذیلی علاقوں میں بارش کے بعد پانی بھر گیا ہے۔ افسران نے لوگوں کے لئے وہاں 14 راحت کیمپوں کو قائم کیا ہے۔ جن لوگوں کو ان کے گھروں سے محفوظ نکالا گیا ہے ان میں کانگریس رہنما اور سابق صوبائی صدر وی ایم سدھیرن اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔ اداکار راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سریش گوپی کے گھر میں بھی پانی بھر گیا ہے۔

راجناتھ صاحب بھی وہاں پر جہازوں کو مدد کے لئے  کفایتی تعداد میں بھیجنے میں ناکام رہے ہیں اور ایک نیتا کے بیٹے کی شادی کے لئے 52 جہاز گردش فلک تھے اور اس لحاظ سے تو نہ کے برابر بھیجا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کیرالہ کے لوگوں کے لئے مصیبت سے نجات کا آسان ذریعے میسر فرما دیں ۔۔آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close