سیاست

کیشوان کا جگر سوز سڑک حادثہ

میں کس کےہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

ایم شفیع میر

کہتے ہیں کہ حادثات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں لیکن ہمارے خطہ چناب میں تو لگتا ہے کہ جیسے حادثات ہماری زندگی کا اب اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں۔ بے شک زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ البتہ صوبہ جموں میں آئے روز سڑک حادثات کا وقوع پذیر ہونے میں ہماری اپنی کوتاہیاں اور خامیاں بھی شامل ہیں۔ یہاں ٹریفک حادثات کی وجہ سے گزشتہ کئی سال سے تواتر کے ساتھ سینکڑوں افراد جہان ِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اندوہناک حادثات رونما ہونے پر چند دنوں تک کافی گرما گرم بحث ہوتی رہتی ہے،کوئی کہتا ہے کہ حادثوں کے ذمہ دار ڈرائیور حضرات ہیں ، کوئی یہ کہتاہے کہ حقیقی قصوروار ٹریفک حکام ہیں ، کوئی سارا دش سرکار کے سر ڈالتا ہے، کہیں یہ تبصرہ ہوتا ہے کہ تمام دلدوز حادثات کی اصلی وجہ تعمیراتی ایجنسیاں ہیں جو غیر معیار ی تعمیراتی مواد استعمال کر کے سڑکیں تعمیر تو کرتے ہیں لیکن چند ہی مہینوں میں سڑکوں کی حالت اس قدر خستہ ہو جاتی ہے کہ ان پر گاڑیوں کا چلنا پھر ناتو دور کی بات پیدل چلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ الزام در الزام کا یہ سلسلہ بس یونہی فیشن کے طور چلتا ہے۔ گزشتہ دنوں خطہ چناب کے کیشوان اور خطہ پیر پنچال کے لال غلام سڑک حادثات کے بعد عوامی حلقوں میں ایک مختلف قسم کی بحث چھڑ گئی ہے، اب کہا یہ جا رہا ہے کہ سڑک حادثات کے حقیقی قصوروار سیاست دان ہیں جو عوام سے ووٹ بٹور بٹور کر ایوانوں میں بیٹھتے تو ہیں لیکن عوامی مسائل کا ازا لہ اُن کی آخری ترجیحات میں بھی شامل نہیں ہوتا۔ عام لوگوں کی شکایت ہے کہ سیاست دان جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو اُن کی یہی ترجیح رہتی ہے کہ کسی طرح سے اپنی تجوریاں بھردی جائیں ، اسی چکر میں سیاست کاروں کا ناجائز طریقے سے اپنی آمدن بڑھا نا لازم و ملزوم ہو جاتا ہے۔ یہی سیاست دان اپنے ہی منظور نظر ٹھیکیداروں کو تعمیراتی کام دلاتے ہیں جو لوٹ کھسوٹ کی حدیں پار کرکے خزانہ ٔ عامرہ کو گھر کی لونڈی بناتے ہیں۔ غرض سیاست دانوں کا تعمیراتی کاموں میں عمل دخل محض مال اکٹھا کرنا اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کر نا ہوتا ہے۔ کیشوان حادثات کے بعد جس طرح سے ریاست بھر اور بالخصوص چناب ریجن کے باسیوں میں سیاست دانوں ، ٹریفک حکام اور محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے تئیں غم و غصے کی لہر دکھائی دے رہی ہے وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ٹریفک سے جڑے تمام شعبہ جات حادثات کے تعلق سے کہیں نہ کہیں قصوار ٹھہر تے ہیں اور سب سے بڑا قصور ان میں صرف مال وزر اکٹھا کرنے کی لالچ ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ کیا ہی خوب ہوتا اگر ہر کوئی اپنا کام دیانتداری اور ایمانداری سے انجام دیتا، ایک دیوانے کی بڑ ہے جب تک بدعنوانی کے پھلتے پھولتے کلچر کو جڑ سے نہ اکھاڑا جائے۔

اب کچھ بنیادی سوالات زیر قلم حادثوں کے حوالے سے۔ کیا ڈرائیوکرنے والے ڈرائیورکے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا ؟ اگر نہیں تو کس بنیاد پر اسے گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی؟ کیا ہمیشہ کی طرح دو چار دن اس الم ناک موضوع پر بات کرکے اسے فراموش کر دینا ہی مسئلے کاحل ہے ؟، کیا حادثات کے اسباب و محرکات کا تدارک کر نے کی کوشش کی جائے گی؟ حادثات کا اصل کا ذمہ دار کون ہوتا ہے: گاڑی یا موٹر سائیکل کا ڈرائیور یا نا قص و غیر ہموار سڑکیں ؟ راقم نے ان سوالات کا جواب سوشل میڈیا پر دوستوں سے مانگا تو بہت ساروں نے اپنے اپنے انداز فکر کے دائر ے میں جوابات ارسال کردئے۔ ان میں سے کچھ دوستوں کے جوابات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

کہیوں نے کہا کہ سڑک حادثات میں جہاں سیاست دان، محکمہ ٹریفک، تعمیراتی ایجنسیاں ، ڈائیور حضرات کی ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں وہیں عام لوگ بھی ان کے بارے میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ عام لوگوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ جس گاڑی میں وہ سوار ہوکر کے سفر پر نکل رہے ہیں اُس کی ظاہری حالت کیسی ہے، پھر یہ دیکھیں کہ گاڑی میں سواریاں بٹھانے کی تعداد کتنی ہے اور اگر ڈرائیور اَور لوڈنگ کے چکر میں زیادہ سواریوں کو بٹھا رہا ہے تو ایسی گاڑی میں بیٹھنے سے گریز کیا جائے ،ہوسکے تو ٹریفک حکام یا متعلقہ پولیس تھانہ کو یہ مطلع کر دیں کہ گاڑی میں اَور لوڈنگ ہو رہی ہے، ہوسکتا ہے کہ کوئی ذمہ دار پولیس آفیسر جس کا ضمیر ممکنہ حادثہ رونما ہونے سے قبل بیدار ہو اور وہ ایمانداری سے اپنی فرض شناسی سے ممکنہ حادثے کو ٹالنے کے لئے ڈرائیور کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائے۔ اس طرز عمل سے ڈرائیوروں کی جانب سے برتی جانے والی انتہادرجے کی لاپرواہی، من مانی اور غیر سنجیدگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کچھ دوستوں کی رائے ہے اگر ڈرائیور کے لئے باضابطہ طور ڈرائیونگ تربیت  لازمی قرار دی جاتی ہے تو شاید حادثات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ایک اور دوست نے بڑے خوبصورت انداز میں کہا کہ ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور آئندہ کے سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے  آج بلکہ ابھی سے موثرلائحہ عمل اپنانا چاہئے۔ اس کے برعکس ہم ایک دن حادثہ یاد رکھتے ہیں اور پھر اگلے دن اس کا دیا ہو ادردوکرب بھول جاتے ہیں۔

ہم اورآپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انسانی جان کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ کوئی بچہ یتیم ہونے کے بعد کس قدر مشکلات سے دوچار ہو جاتا ہے ، یہ یتیمی کے بھینٹ چڑھے  بچوں کو جا کر دیکھئے۔ ہمارے سامنے کیشوان حادثہ میں زخمی ہونے والی ایک کمسن بچی ادیبہ ایک جیتی جاگتی مثال ہے جس نے اس دلدوز حادثہ میں اپنے والدین اور دو بھائیوں کو کھودیا ہے۔ یہ کمسن بچی اس وقت میڈیکل کالج جموں میں زیر علاج ہے جہاں اس کا ماموں جان اس کے ساتھ ہے۔ اب ادیبہ کی  زندگی میں سناٹا اور اند ھیرا ہے۔ یہ ایک مثال عبرت حاصل کرنے کے لئے ہمارے واسطے چشم کشا ہے ، ورنہ ہمارے چاروں اطراف میں ایسی ہزاروں مثالیں بکھری پڑی ہیں جنہیں دیکھ اور سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری  سنگ دلی اب اس مقام پر آگئی ہے کہ سڑک حادثات کے متاثرین کو چند لمحہ بعد ہی بھول جاتے ہیں ، گویا ہمارے سینوں میں دل نہیں پتھر دھڑکتا ہے۔ اگر واقعی ہمارے سینوں میں گوشت پوست والے دل ہوتے تو شاید ہم میں مذکورہ متاثرین کے درد کا احساس ٹیسیں مارتا۔

بہر حال قابل غور بات یہ ہے کہ  جن کے پاس آج ڈرائیونگ لائسنس ہوتے ہیں ان میں اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کی جان لینے کا ہمیں لائسنس مل چکا ہے۔ لائسنس کا پرزہ جیب میں رکھ کر کندہ ناتراش قسم کے ڈرائیور سڑکوں پر گاڑیوں کو بے ہنگم انداز میں دوڑانے پر فخر محسوس کر تے ہیں۔ یہ حضرات بائیں سمت سے اوورٹیکنگ کو جرم سمجھنے کی بجائے ایک عمدہ ٹیکنیک تصور کرتے ہیں اور کبھی بھول کر بھی نہیں سوچتے کہ ایسے میں حادثہ ہوا تو قصور ان کا ہی گنا جائے گا۔ لاپرواہ  لائسنسں ہولڈروں کو اس لاپروائی کی سزا دی جانی چاہیے تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔ یہ بات بھی نوٹ کر نے کے قابل ہے کہ وہ گاڑی مالکان جو اپنی آمدنی میں اضافے کیلئے ٹریفک قوانین کو بھی بالائے طاق رکھ دینے کے عادی ہیں یا پھر ہماری ٹریفک پولیس جو اِن ڈرائیوروں کو قانون کی دھجیاں اُڑانے کی کھلی چھوٹ صرف اس لئے دیتے ہیں تا کہ تنخواہوں کے علاوہ اُن کی جیبیں اوپری آمدنی سے گرم رہیں، ایسے فرض ناشاس سرکاری عناصر کو قانون و قواعد کی خوراک پلائی جائے۔ ہم ارباب اقتدار سے مخلصانہ ومودبانہ گزارش ہی کر سکتے ہیں کہ خدارا خطہ چناب کے بے نوا عوام کو روز روز حادثات کی بھینٹ چرحانے کی اس رسم  پر کوئی روک لگایئے، ٹریفک محکمہ کو سادھاریئے ، قصورواروں کو قطعی معاف نہ کر یں۔ اب بہت ہوگیا،آپ کی عدم کار کر دگی نے سینکڑوں گھرانوں کو اُجاڑ کے رکھ دیا ہے، ہزاروں مائیں اپنے لخت جگروں کو گنوا بیٹھی ہیں ، ہزاروں خواتین بیوہ ہوگیی ہیں ،اور اَن گنتبچے یتیم ویسیر ہوگئے ہیں۔ اب خدارا اپنے مردہ احساس ِ مروت کو بیدار کیجئے۔ ہر حادثے کے بعد پولیس کے گرد آلودہ فائلوں میں ایک عدد ا ایف آئی آردرج کرنے سے نہ مسئلہ حل ہو انہ آئندہ ہوگا۔ ہیں ،کچھ ایک گرفتاریاں عمل لانا بھی اس عوامی درد کا مداوا نہیں۔ دائرے کے اس چکر سے باہر آکر قوانین وقواعد پر عملدرآمد  کرانے کا شیوہ اور شعار ٹریفک نظام کی روح میں پیوست کیجئے ، نہیں تو اس طرح الم ناک حادثات کی ناقابل بیان داستان جوں کی توں قائم رہے گی۔

پولیس صرف ایک ایف آئی آر درج کر نے والی دوکان بن کر رہ جائے بلکہ حادثات کے وجوہات کی سائنسی چھان بین کر کے قصوررواروں کو کڑی سے کڑی سزائیں مجا زعدالت میں دلانے کی ایک معتبر ایجنسی بن جائے۔ ٹریفک پولیس بغیر لائسنس ڈرائیوروں کے  خلاف بھر پور مہم چلائے مگر یہ مہم چائے پانی جمع کر نے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو سڑک حادثات سے تحفظ دلانے کی کامیاب حکمت عملی پر مبنی ہو۔ سڑکوں کی ابتر حالت کا جنگی بنیادوں پر تدارک کیاجائے۔ یاد رکھئے صر ف باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، اس معاملے میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کر نا ہوگا،وگرنہ ہم توہمیشہ بس یوں کہتے سناتے پھرتے رہیں گے   ؎

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close