سیاست

کیوں نہ راہل گاندھی کو بھی آزما لیا جائے

حفیظ نعمانی

پنڈت جواہر لعل نہرو کے بعد اندرا گاندھی کانگریس کی سربراہ اور وزیراعظم بنیں اور ان کے بعد راجیو گاندھی سربراہ اور وزیراعظم بنے لیکن دونوں میں سے کوئی بھی کانٹوں بھرے راستے پر چل کر نہیں آیا بلکہ اے سی روم سے اُٹھے اور سرکاری اے سی روم میں آکر بیٹھ گئے۔ راہل گاندھی اس معاملہ میں پنڈت نہرو کے بعد اس گھر کے دوسرے لیڈر ہیں جو ہر بھٹی میں تپ کر قدم بہ قدم راج سنگھاسن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دس سال اپنی حکومت ہوتے ہوئے حکومت سے دور رہتے ہوئے اور پانچ برس دشمن حکومت سے دو دو ہاتھ کرنے کے بعد وہ جتنا معاملات کو سمجھ چکے ہیں یہ اس کا نتیجہ ہے کہ راہل گاندھی نے کانگریس کے صدر ہوتے ہوئے ویر ساورکر کو ڈرپوک کہا اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمی خدمات کو سلام کیا۔

گجرات کے الیکشن کے وقت راہل گاندھی نے اپنے کو مسلمانوں سے اتنا دور دور رکھا تھا کہ کسی بڑے چھوٹے جلسے میں احمد پٹیل جیسے مقامی لیڈر اور اپنے خاندان کے سیاسی مشیر کو بھی ڈائس پر نہیں آنے دیا۔ اور یہ بات زور شور سے کہی گئی کہ کانگریس نے ایک جلسہ بھی مسلم علاقوں میں نہیں کیا۔ قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ ہم نے اسے اچھا فیصلہ قرار دیا تھا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کانگریس کا نام بھی نہ لیں لیکن کوشش کریں کہ ہر ووٹ کانگریس کو مل جائے۔ اور یہ بات ہر مسلمان عالم اور دانشور نے کہی اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ جتنی سنجیدگی سے اس الیکشن میں مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا اس کا نتیجہ ہے کہ سات ممبر جیتے اور اگر مایاوتی ٹانگ اَڑاکر ووٹ نہ کاٹتی تو اس سے زیادہ مسلمان کامیاب ہوتے۔

اس فیصلہ کی وجہ یہ تھی کہ نریندر مودی اسے ہندو مسلم الیکشن نہ بنا پائیں۔ ان کا یہ کارتوس تو فیل ہوگیا لیکن انہوں نے اصلی ہندو اور نقلی ہندو کا وہ تیر آزمانا چاہا جو اترپردیش میں اکھلیش یادو کے خلاف آزمایا تھا کہ ہندوئوں کو یہ سبق پڑھایا کہ جو ہندو وزیر مسلمانوں کے کام کرتا ہے وہ اصلی ہندو نہیں ہے اور انہوں نے اپنے جھوٹ کے حربے کو استعمال کیا اور اتنے جھوٹے الزام لگائے کہ اسے کہنا پڑا کہ میں بھی تو ہندو ہوں۔

راہل گاندھی اندرا گاندھی کے پوتے ہیں انہوں نے ویرساورکر کو جن کو ہر آر ایس ایس والا بھگوان سمجھتا ہے ڈرپوک اور انگریز سے معافی مانگنے والا کہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت آئی تو ہر سرکاری دفتر سے آر ایس ایس کے ورکروں کو نکالیں گے۔ ابھی الیکشن میں اتنا وقت ہے کہ سب کچھ تبدیل ہوسکتا ہے۔ مسٹر راہل گاندھی نے اشارہ کیا ہے کہ مدھیہ پردیش کے سرکاری دفتروں کو بھگوا بریگیڈ سے پاک کیا جائے گا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ یہ بہت پیچیدہ کام ہے ذرا ذراسی بات پر عدالت مداخلت کردیتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ راجستھان میں جہاں آر ایس ایس کے گئو رکشک غنڈوں نے سب سے زیادہ ان مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مارا ہے جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ گائے خرید کر لارہے تھے۔ پورا ملک گواہ ہے کہ کوئی گائے کاٹ نہیں رہا تھا۔ اور یہ بھی پورا راجستھان جانتا ہے کہ پولیس نے وہ کیا جو سنگھی غنڈوں نے چاہا۔ اب مسلمانوں کو اعلان کردینا چاہئے کہ ہر حادثہ کے ذمہ داروں کو اگر گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلایا جائے اور ہر پولیس والے کو معطل کرکے ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا کام شروع کیا جائے تو پورے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی جائے گی کہ جو انہوں نے گجرات میں کیا ہے وہی ہر جگہ کریں۔ راہل گاندھی نے دفاعی پوزیشن کے بجائے جو جارحانہ انداز اختیار کیا ہے وہ اس لئے ضروری ہے کہ مودی جی جو بھگوا ہندو اور سفید ہندو کا فرق لے کر بیٹھ جاتے ہیں اس کا توڑ ہوسکے۔

مسلمانوں میں قیادت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے آزادی کے وقت جو قیادت بکھر گئی اب اسے سمیٹنے کی ضرورت نہیں۔ ہر جگہ ایسے باشعور مسلمان موجود ہیں جو عقل کی بات بتاسکتے ہیں۔ خطرناک تو وہ ہیں جو قرآن اور حدیث کا حوالہ دے کر ’مسلمان کا ووٹ مسلمان کو‘ کا نعرہ دیں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے بزرگ لیڈر عالم بدیع جیسے مسلمان موجود ہیں جو 20  سال سے ایم ایل اے ہیں اور اپنا گھر بھی نہیں بنایا مگر ان کی آواز میں اتنی طاقت ہے کہ جب یوپی کی بھگوا سرکار نے یہ پیشکش کی کہ ممبرانِ اسمبلی کو لکھنؤ میں مکان بنانے کے لئے ایک ایک پلاٹ دے دیا جائے تو دبلے پتلے بزرگ لیڈر عالم بدیع نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ- پہلے تمام ممبران اسمبلی کھڑے ہوکر یہ بتائیں کہ انہوں نے اپنے حلقہ میں کتنی جھونپڑیاں اور کتنے کتنے چھپر ڈلوائے؟ 425  ممبروں کے ہائوس میں سب کو سانپ سونگھ گیا اور حکومت کا منھ لٹک گیا۔

1947ء سے مسلمانوں کی قیادت ہندوئوں نے ہی کی ہے مسلمان 1967 ء تک آنکھ بند کرکے کانگریس کے ساتھ رہے۔ دوری اس وقت ہوئی جب کانگریس نے مسلمانوں کے لئے کچھ کرنے کی بات کی تو مودی جیسوں نے شور مچا دیا کہ مسلمانوں کی منھ بھرائی ہورہی ہے اور کانگریس نے اسے ٹھنڈے بستہ میں ڈال دیا 15  نکاتی پروگرام یا تحقیقاتی رپورٹیں جیسی آئی تھیں ایسی ہی رہ گئیں وجہ صرف یہ تھی کہ چوکیدار چور ہے کہنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی راہل گاندھی نے جو جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں کہا ہے وہ وعدہ کریں کہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو دیکھیں گے کہ مسلمان فولاد کی دیوار بن کر ان کے ساتھ رہے گا۔ مودی نے اور یوگی نے گجرات میں جو اُن کو کہا تھا اب اس سے زیادہ کہیں گے۔ ہم مسلمانوں کو ان کے مندر جانے نہ جانے سے کوئی مطلب نہیں ہر مسلمان ایک کے بعد دوسری مسجد میں جاتا ہے۔ آدمی کا مذہبی ہونا اچھا ہے شکایت تو اس سے ہے کہ وہ جو ڈرکر پردہ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اب اگر مسلمان کو ساتھ لینا ہے تو ابتدا راجستھان سے کی جائے اور اگر اتنی موٹی بات پر مصلحت کی چادر ڈال دی گئی تو ہر شہر میں بھی اقلیتی شعبہ کی ریلی ہو مسلمان نہیں آئے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close