سیاست

گاندھی جی کا دوسرا قتل

ڈاکٹر عابد الرحمن

۳۰؍جنوری کو ایک ویڈیو نظر سے گزرا جس میں زعفرانی لباس پہنے ایک موٹی سی عورت گاندھی جی کی تصویر لگے پتلے کو گولیاں مارتی نظر آئی، آس پاس بہت سے لوگ بھی کھڑے نظر آئے جو گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے اور اکھل بھارت ہندو مہا سبھا کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ اخبارات سے پتہ چلا کہ وہ عورت ہندو مہا سبھا کی نیشنل سیکریٹری ہے، بعد میں اس نے ناتھو رام گوڈسے کی تصویر کی گل پوشی بھی کی اور مٹھائیاں بھی بانٹی،ویڈیو علی گڑھ کا ہے۔ ۳۰؍جنوری ۱۹۴۸ کو ہندو شدت پسند ناتھو رام گوڈسے نے گاندھی جی کو قتل کردیا تھا۔ اس کے بعد سے ۳۰؍ جنوری یوم شہادت کے طور پر منایا جا تا ہے، ملک کے تئیں گاندھی جی کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

 یوں تو گاندھی جی کے قاتل گوڈسے کے حامی ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن اب تک علی الاعلان اسکی حمایت میں کچھ نہیں کیا گیا تھا پچھلے چار ساڑھے چار سالوں میں ہی گوڈسے کی حمایت بھی بڑی ہے اور اس میں کچھ زیادہ ہی ہونے لگا ہے۔ پہلے ۳۰ جنوری کو گاندھی جی کے قتل میں کامیابی کے لئے ’شوریہ دیوس ‘ کے طور پر منانے کی خبر آئی پھر اس کے بعد ناتھو رام کے مجسمے لگا ئے گئے اس کے مندر بنائے گئے اور اسکی پوجا ارچنا کی بھی خبر آئی اور اس سال تو بہت بے شرمی کا کام کیا گیا۔ ۔  ’گاندھی جی کا دوسرا قتل ‘۔ یوں تو اس سال بھی صدر مملکت اور وزیر اعظم نے گاندھی جی کی برصی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا لیکن سب سے عجیب بات یہ رہی کہ اس ویڈیو کے بعد کہیں سے کوئی خاص ردعمل نہیں آیا۔ نہ سوشل میڈیا میں کوئی ابال آیا، نہ دیش دروہ کی وارداتوں پر تڑپ جانے والے محب وطن میڈیا ہاؤسیس میں کوئی بھونچال آیا، نہ کہیں سے دیش دروہ کا الزام لگا نہ عوامی سطح پر کسی نے کوئی احتجاج درج کروایا، نہ دیش بھکتی اور دیش دروہ کا پیمانہ لئے پھر نے والے بی جے پی کے بڑ بولے اور اشتعال انگیز نیتاؤں کی زبان چلی، نہ وزیر اعظم مودی جی نے گاندھی جی کو دوبارہ قتل کر نے والوں کی اپنے خاص تحقیر آمیز انداز میں سرزنش کی اور نہ ہی دیش بھکتی کا درس دینے والے اور ہر دیش دروہ پر کڑی نظر رکھنے والے سنگھ پریوار میں سے کسی نے کچھ کہا۔ سب سے زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کانگریس کی طرف سے بھی کوئی شدید ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اور نہ ہی ہماری حساس پولس دوسرے معاملات کی طرح حرکت میں آئی کہ خاطی آناً فاناً گرفتار ہوجاتے اور ان کے تمام موجود اور غیر موجود حواریوں کی بخیہ ادھیڑ دی جاتی، بس یہ ہوا کہ پولس نے اس ضمن میں ویڈیو میں دکھائی دینے والی عورت اس کے شوہر اور دیگر ۱۲ نا معلوم لوگوں پر مقدمہ درج کرلیا لیکن ابھی تک اہم مجرم کی گرفتاری کی خبر نہیں ہے۔ ا ن لوگوں پر جو مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ بھی عام تعذیرات کے تحت ہی کیا گیا ہے سوال یہ ہے کہ جب محض نعرے لگانے سے دیش دروہ، وطن سے غداری کا مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے تو ملک کے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ نقصاندہ دہشت گردانہ حملے کی دوبارہ فرضی تخلیق کر نے اور کرتے رہنے کا اعلان کر نے والوں پر کیوں نہیں ؟

یوں تو مودی جی ہر اسٹیج سے گاندھی جی کو یاد کرتے ہیں ان کی خدمات کو سراہتے ہیں ان کے نظریات کو پوری دنیا کے لئے مشعل راہ قرار دیتے ہیں لیکن گاندھی جی کے اس دوبارہ قتل پر وہ بالکل خاموش ہیں، کیوں ؟ دراصل یہ واردات انجام دینے والے انہیں کے نظریاتی بھائی بند ہیں اور انکی پارٹی بی جے پی کے بڑے لیڈران سے نزدیک بھی ہیں جیسا کہ شیوراج سنگھ چوہان اور اوما بھارتی کے ساتھ ان کی تصاویر سوشل میڈیا اور اخبارات کی زینت بن چکی ہیں۔ اس ضمن میں خاموش رہ کراور ہلکی پھلکی کارروائی کر کے دراصل وہی کیا جا رہا ہے جو گوڈسے کی اصل دہشت گردی کے وقت کیا گیا تھا۔ یہ پورے ملک کے لئے انتہائی شرم کا مقام ہے کہ اس کے کچھ لوگ بابائے قوم کی اس طرح تضحیک کریں لیکن اس سے زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی نہ ہو۔

گاندھی جی کے قتل کے بعد ناتھورام گوڈسے پر مقدمہ چلا تھا وہ مجرم ثابت ہوا تھا اور اسے پھانسی دے دی گئی تھی۔ لیکن جس آئیڈیا لوجی سے وہ متاثر تھا، جس مشن کے لئے وہ کام کر رہا تھا اور جن نظریہ ساز لوگوں نے گاندھی جی، ان کے نظریہ اور مشن کے خلاف برین واش کر کے اسے ورغلایا تھا انہیں ایسے ہی چھوڑ دیا گیا، ان کے مشن کی جانچ پڑتا نہیں کی گئی، ان کی حقانیت معلوم نہیں کی گئی، ملک کی سالمیت اور بھائی چارہ کے لئے ان کی زہر ناکی کا اندازہ نہیں کیا گیا یا پھر سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی مہاتما کی لاش پر سیاست کی گئی، سیاسی مصلحت کے تحت انہیں چھوٹ دے دی گئی پنپنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ ناتھورام کے ذریعہ گاندھی جی کے قتل کے ضمن میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ تقسیم ہند اور اس کے نتیجے میں ہوئے فسادات میں ہندوؤں کے جانی نقصان نیز پاکستان کو ۵۵ کروڑ وپئے دلوانے کی وجہ سے وہ گاندھی جی سے ناراض تھا اور یہی ناراضی اسے گاندھی جی کے قتل تک لے گئی تھی لیکن یہ بات سراسر جھوٹ نظر آتی ہے کیونکہ وہ اس وقت بھی گاندھی جی کے قتل کی کوشش کر چکا تھا جب نہ پاکستان کا کوئی وجود تھا نہ پاکستان بننا طئے ہوا تھا۔ یعنی وہ ایک خاص نظریہ کا حامی تھا گاندھی جی جس کی راہ میں رکاوٹ تھے اسی لئے اس نے انہیں راستے ہٹادیا اور افسوس اس مشن کی اسکی پہلی کوشش سے لے کرگاندھی جی  کے قتل تک اس کی ذہنیت اور نظریہ پر روک لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

 آج حالات یہ ہوگئے ہیں کہ اس کے نظریہ کے حامی لوگ نہ صرف اسکی زندہ بادی کے نعرے لگا رہے ہیں، اس کی پوجا ارچنا کر رہے ہیں بلکہ گاندھی جی کا بار بار قتل بھی کر رہے ہیں۔ یہ لوگ کون ہیں سب جانتے ہیں اب تو یہ بہت ڈھیٹ ہو گئے ہیں کھلم کھلا سامنے آ چکے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کی نظریاتی بندش نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے عوام کی بڑی اکثریت کو اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے۔

گوڈسے گاندھی جی کو قتل کر کے بھی ان کے نظریات اور وژن کو قتل نہیں کرسکا تھا اب یہ جو کچھ ہورہا ہے دراصل ان کے نظریات کو قتل کر نے کی کوشش ہے، اور حکومت اسے روکنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی اب یہ کام عوام نے اپنے ذمہ لینا چاہئے اور ان نفرت کے پجاریوں کے خلاف ایسا سخت حساس ماحول تیار کرنا چاہئے کہ انہیں یہ احساس ہوجائے کہ ملک اپنے گاندھی کو مزید قتل نہیں ہونے دے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ گاندھی جی کا قتل دراصل ہندوستان کا قتل ہے۔ اورآج کے ہندوستان کو گاندھی جی کی ضرورت پہلے سے بہت زیادہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close