سیاست

گجرات الیکشن: کانگریس کے لیے فیصلہ کن موڑ

 ہلال احمد

کانگریس پارٹی لاکھ ہاتھ پاؤں ماررہی ہے لیکن ریاستیں اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتے جارہی ہیں، گجرات اسمبلی الیکشن کی گونج پورے ملک میں ہے تمام علاقائی وقومی سیاسی جماعتیں اپنی پوری طاقت جھونک دینے میں مصروف ہیں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی لگاتار کئی دنوں تک عوامی جلسوں میں شریک ہوکر اپنی پارٹی کی راہ ہموارکرنے میں جہدمسلسل کررہے ہیں دوسری جانب وزیراعظم نریندرمودی کی عزت داؤں پر لگی ہوئی ہے کیونکہ ملک پرقبضہ جمانے کے لیے گجرات ماڈل ہی کاجھانسہ دیاگیا تھا اور پورے ملک کو گجرات ماڈل بنانے کی بات خوب دوہرائی گئی تھی حالانکہ وہاں کے حالات بھی دیگرریاستوں سے قدرے مختلف نہیں ہیں۔ چیونکہ گجرات الیکشن وزیراعظم کے لیے عزت کاسوال ہے اس لیے پوری قوت انتخابی ریلیوں اور پروگراموں میں جھونک رہے ہیں،  بھگوا کیڈر گجرات پر قابض ہونے کے لیے زوربازو لگارہی ہے، خود وزیراعظم ماضی قریب ہی میں کسی ناکسی حیلہ بہانہ سے گجرات دورہ کاہیٹ ٹرک لگاچکے ہیں۔ بی جے پی گجرات میں طویل عرصہ سے حکومت میں ہے جہاں پر دوسری پارٹیوں کو موقع نہیں مل سکاہے تاہم حالیہ انتخاب میں ہوا کا رخ بدلتامحسوس ہورہاہے۔ ایسا لگ رہاہے شاید گجرات سے بی جے پی کے دن لد چکے ہیں کیونکہ پاٹیدار وں، دلتوں، بیوپاریوں  اور دیگراقلیتوں طبقوں میں تبدیلی کی رمق دکھائی دے رہی ہے۔ پاٹی دارلیڈرہاردک پٹیل نے واضح طورپر بی جے پی کے خلاف محاذ کھول رکھاہے، دلتوں پر مسلسل ہورہی ظلم وزیادتی اور جان لیوا حملوں سے حکومت کے تئیں اشتعال پایاجارہاہے اسی درمیان کہیں ناکہیں تبدیلی ٔ اقتدار کی ہوا بھی اپنارخ دکھاتی نظر آرہی ہے۔

مرکز میں حزب اقتدارکے غیراحتیاطی کارناموں سے ہر کوئی پریشان ہے جی ایس ٹی، نوٹ بندی، مہنگائی، بے روزگاری اورنت نئے قوانین نے بیوپار ی طبقات کو پریشان کرکے رکھ دیاہے، زیولری والے بھی کافی پریشان ہیں، غریب الگ دقتوں سے جوجھ رہاہے، ریل حادثات میں کمی کی حقیقی صورت حال اختیارنہیں کیا جارہاہے، نوٹ بندی کی حقیقت سب کے سامنے ہے، پارلیمانی انتخاب میں کیے گئے وعدوں کی رتی برابرتکمیل نہ ہونے سے عوام میں ناراضگی الگ پائی جارہی ہے،  کسانوں کے تئیں حکومت خاموش ہے۔ نوٹ بندی نے غریب، مزدور، روزینہ کمائی کرنے والے، چھوٹے اورمتوسط تجارتی کاروباریوں کی کمر توڑکررکھ دی ہے۔یہ تمام چیزیں ایک بھیانک صورت اختیار کرتی جارہی ہے ہیں،  جس کے چلتے ایوان میں بیٹھے نوکرشاہوں کے ہوش ٹھکانے لگ گئے ہیں۔ گجرات میں سیاسی طاقت جھونکنے کے درپے ہیں کیونکہ اگر یہاں بی جے پی ناکام ہوتی ہے تو پھر اس کی الٹی گنتی شروع ہوناتقریباً طے ماناجائیگا۔ لیکن ان تمام وجوہات وشواہد کوبھنانے کے لیے کانگریس میں وہ دم خم کہیں دکھائی نہیں دے رہاہے۔ اکادکا بیان ضرور آرہے ہیں جس سے بے سود حکمت عملی کااندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ کانگریس کو پارلیمانی انتخابات اور ریاستوں اسمبلیوں کے انتخابات سے سبق لینی چاہیے کہ آخر کونسی مثبت حکمت عملی تیار کی جائے جو ضرب الحجر ثابت ہو۔گجرات انتخاب بالکل سرپر ہے زیادہ سوچ وفکرکے لیے وقت نہیں بچاہے۔ دسمبرمیں انتخاب ہونے کوہیں اس لیے کانگریس کو مضبوط منشور اور کیل کانٹوں سے لیس ہوکر میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔ اتنا تویقینی ہے کہ گجرات میں حکومت مخالف لہر کافی جڑپکڑچکی ہے، عوام میں غم وغصہ زوروں پر ہے بس کانگریس کو اپنی پالیسیوں اورعزائم سے انہیں اپنے موافق کرنے کی ہمت جٹانے کی ضرورت ہے۔ پاٹیدارلیڈر ہاردک پٹیل نے دبے لفظوں میں کانگریس کی حمایت کا اعلان بھی کردیاہے جس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ کانگریس کے اقتدار کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ہوئے طلباء کی انتخابات بھی صحیح سمت دکھانے میں کامیاب رہے ہیں اِدھر گجرات ہی میں سونیاگاندھی کے سیاسی مشیر احمدپٹیل نے راجیہ سبھا انتخاب میں ناقابل یقین فتح حاصل کرکے لوہا منواچکے ہیں۔

مخالف کو کبھی کمزورنہیں سمجھنا چاہیے ورنہ یوپی جیسی صورت حال ممکنہ طور پر ہوسکتی ہے، یوپی میں بی جے پی اکثریت حاصل کرلے گی بھگوائیوں کے بھی خواب وخیال میں نہیں تھا لیکن سماجوادی پارٹی کی خاندانی تنازعہ نے خودپیر پرکلہاڑی ماری اور بی جے پی کی راہ بآسانی ہموارہوئی۔گجرات توبی جے پی کا قلعہ ہی ہے جہاں کی سفیدوسیاہ کی مالک وہ گزشتہ ۲۲؍سالوں سے ہے۔ کانگریس میں علاقائی لیڈروں کو ایک ساتھ لے کر چلنے والا کوئی ایسا لیڈرابھی تک سامنے نہیں آسکاہے جو اپنی پکڑمضبوط رکھنے سمیت دوسروں کواپنے آنگن میں بسانے کی قوت رکھتاہو۔ جبکہ بی جے پی میں خود وزیراعظم مودی متنوع اقسام کے صفات کے مالک ہیں،  زبان دانی، جملہ بازی، جادوئی فقرہ بازی، مخالف پرکراراطنز کسنے میں ماہرہیں، علاوہ ازیں حکومت کی ناکام پالیسیوں کو مثبت اورعوام موافق بتانے کا ہنر کوئی انہیں سے سیکھے۔ تین سال کے عرصہ میں سیکڑوں اسکیمیں جاری کرچکے ہیں جس میں شاید بہتوں کے نام انہیں خود یاد نہیں رہ گئے ہوں گے، ہر ارکان پارلیمنٹ نے ایک ایک گاؤں گود لیے تھے اب کوئی سوال کرنے والانہیں ہے کہ آخر تین سال کاعرصہ گزرچکاہے اس کی پرورش کہاں تک ہوئی، اس کے دودھ کے دانت گرے بھی یاابھی وہ گاؤں دودھ پینے ہی کے مرحلے میں ہیں۔ اسی طرح مہنگائی اورارزانی نے کمزورطبقہ کی کمرتوڑکررکھ دی ہے اس پر بھی کانگریس مضبوط داؤں کھیل سکتی ہے لیکن کہیں بھی اس طرح کی صورت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

اس کے برخلاف معدودے نیوز چینلس حزب مخالف کاکرداربخوبی نبھارہے ہیں۔ اگریہ کہاجائے کہ حزب مخالف بالکل ناکارہ ثابت ہوچکی ہے تو شاید غلطی نہیں ہوگی۔ دراصل کانگریس پارٹی میں اجتماعیت اور دوسروں کوساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت مسلوب ہوچکی ہے، ورنہ یہ دن دیکھنے کونہیں ملتے۔ یوپی الیکشن سے عین قبل بھی ایسی صورت حال سے آگاہ کیاگیاتھا لیکن اسوقت بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے گئے اب جبکہ گجرات الیکشن قریب ہے کمزورکانگریس بیساکھی پر سوارہوکر سفر گجرات پر نکل چکی ہے۔ کانگریس پارٹی اندرہی اندر دل برداشتہ ہوچکی ہے، وہ عزم وحوصلہ کھوچکی ہے،  اس کے سامنے کی بساط سمٹتی دکھائی دے رہی ہے وگرنہ ہاردک پٹیل کے ذریعہ دبے لفظوں میں کانگریس کی حمایت کا اعلان کرناہی اس کے لیے روح پھونکنے کاکام کرجاناچاہیے تھا کانگریس کو خود ہی ہاردک پٹیل کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دینے چاہیے تاکہ پاٹی داروں کا ووٹ بینک بآسانی اس کی جھولی میں آجائے۔ ابھی بھی وقت ہے کانگریس کو ہرایسی چھوٹی بڑی جماعت کو اپنے موافق کرنے کی اشدضرورت ہے جو بی جے پی اوراس کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ اسی طرح متحدہوکرایک پلیٹ فارم سے دعوت مبارزت دینے کاوقت ہے۔ سیاست میں مستقل کوئی دوست یادشمن نہیں ہوتاہے اس کابھی پاس رکھناچاہیے خیال رہے ایسی صورت میں کبھی جھکنابھی پڑسکتاہے اورشایدوقت کا تقاضہ بھی یہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ہلال احمد

ایڈیٹرماہنامہ الاتحادممبئی

متعلقہ

Back to top button
Close