سیاست

گجرات اور بنگال کی مٹی کا ٹکراؤ

حفیظ نعمانی

دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کا صدر شکر ادا کررہا ہے کہ وہ ایک 42  سیٹوں والی زنانہ پارٹی کے ورکروں کے ہاتھوں مار کھانے سے بچ کر آگیا۔ اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے 60  ساتھی مار دیئے گئے۔ امت شاہ نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ ایک ایک سیٹ کے لے بھوکوں کی طرح لڑرہے ہیں۔ اور بے شرمی کا یہ حال ہے کہ چھ رائونڈ ہوجانے کے بعد دعویٰ کررہے ہیں کہ 300  سیٹیں تو وہ جیت چکے اب ساتویں رائونڈ میں جو سیٹیں جیتیں گے انہیں کمر سے باندھ کر آئیں گے۔ پروین شاکر اُردو دنیا کی ممتاز شاعرہ نے کہا تھا   ؎

لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب

ہنس رہی ہیں اور کاجل بہہ رہا ہے ساتھ ساتھ

اب تک یہ شعر صرف لڑکیوں کے لئے تھا لیکن اب یہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کے صدر امت شاہ پر فٹ ہورہاہے جو خوش ہیں کہ چھ رائونڈ میں 300  سیٹیں (گن کر) لے چکے اور اپنی دیدی 42  سیٹوں میں سے 23  اور لینے کے لئے ہندوستان بھر سے بھگوا وردی پہنے اور جے شری رام بولتے ہوئے کرایہ کے گئورکشک بلوائے اور پرامن بنگال کو آگ کا گولہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرڈالی۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بی جے پی کی تگڑی نے ہر طرح سے اور ہر طرف سے حساب لگایا تب بھی نتیجہ یہی نکلا کہ کچھ بھی کرو اور لائو۔ یہ ان کی ناسمجھی ہے کہ انہوں نے یہ سوچا کہ ممتا عورت ہے اسے تین طرف سے گھیرکر مارلو اور اس کی سیٹوں میں سے چھین لو دوسرے صوبوں میں گئے تو دوڑا دوڑاکر مارے جائیں گے۔ اور دو مہینے بنگال میں ان تینوں نے جتنے حملے کئے ہیں اتنے حملوں میں پورا ملک فتح ہوسکتا تھا لیکن اسے نریندر مودی کے حافظہ کی کمزوری ہی کہا جائے گا کہ وہ بھول گئے کہ جو لڑکی ہندوستان کے ابتدائی زمانہ کے دو سب سے بڑے سرمایہ داروں میں سے ایک ٹاٹا کے قابو میں نہیں آئی وہ سیاست کے ان کاغذی نیتائوں کے قابو میں کیسے آجائے گی۔ یہ بات سب مانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی طاقت پیسے کی ہوتی ہے اور کمزوری بھی پیسہ ہوتی ہے۔ ترنمول کانگریس جسے ایک بہادر لڑکی ممتا بنرجی نے بنایا ہے اس میں ہر سطح کے تعلیم یافتہ مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی اور وہ سب دیکھ رہے ہیں کہ ممتا جس مکان سے بیگ لٹکاکر پڑھنے جاتی تھی پھر اسی سے اس نے سیاست کے میدان میں جانا شروع کیا اور اس میں رہتے ہوئے بڑے سے بڑے ٹرک بنانے والے اور چھوٹے سے چھوٹے نمک بنانے والے ٹاٹا جن کی طرف بھیک مانگ کر سیاست کرنے والے آنکھ بھی نہیں اٹھا سکتے تھے اسی ٹاٹا کو اسی مکان میں رہتے ہوئے للکارا۔ اور بھگاکر چھوڑا۔

بنگال کا بایاں محاذ جس نے 30  برس بنگال پر حکومت کی وہ صرف جیوتی باسو نہیں تھے لیڈروں کی ایک ٹیم تھی اور جس ٹیم سے ہر سال اور ہر الیکشن کے موقع پر کانگریس ٹکراتی تھی اور زخم کھاکر بیٹھ جاتی تھی اسی بایاں محاذ کو ایک 40  کلو وزن کی لڑکی نے اکھاڑکر پھینک دیا۔ اور اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا وہی شکستہ مکان سوتی ساڑی سوکھے بال معمولی چپل چھوٹی گاڑی اور اپنے ووٹروں سے محبت ہے۔ ایسی فولادی خاتون سے وہ امت شاہ کیا لڑیں گے جنہوں نے پارٹی کے آفس کے نام پر ہزاروں کروڑ روپئے کا ایک محل بنوایا ہے اور وہ نریندر مودی کیا کریں گے جو سائیکل کے کیریئر پر بیٹھ کر چلا کرتے تھے اب کروڑوں روپئے کی ایک جیسی ایک درجن گاڑیوں کے ساتھ چلتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ مودی جی ہوں، امت شاہ ہوں یا یوگی سب نے وکاس کیا ہے وہ صرف اپنی پارٹی کے عشرت کدوں کا ہیلی کاپٹر کا اور اپنے خاص خاص آدمیوں کا۔ باقی ملک کا تو تیل نکالا ہے۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ اتنے بڑے بنگال میں غنڈہ گردی کرنے کیلئے بنگال سے باہر کے بھگوا وردی والے غنڈے کرایہ پر بلانا پڑے اور یہ مودی جی کی بدنصیبی ہے کہ پانچ سال حکومت کرنے کے بعد بھی ان کی ریلی میں کرایہ پر بھیڑ بلائی جاتی ہے اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں کہ ہر طرف آدمی ہی آدمی ہیں۔ اور یہ اس بھیڑ کا ہی نتیجہ ہے کہ وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ ممتا کی گالیوں اور دھمکیوں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ دیدی کے غنڈے گولی اور بم لے کر تباہی پر اُتر آئے ہیں لیکن آپ ڈٹ کر کھڑے رہیں آپ کا یہی حوصلہ ان کے اقتدار کو جڑ سے اکھاڑکر پھینک دے گا۔

امت شاہ کہہ رہے ہیں کہ ہر جگہ پرامن پولنگ ہوئی تو پھر بنگال میں ہر تاریخ کو مارپیٹ اور آتش زنی کیوں ہوئی؟ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ایسے اور بھی صوبے ہیں جہاں بی جے پی کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا لیکن وہاں کی نہ حکومت ان تینوں کو کچھ سمجھتی ہے اور نہ عوام۔ بنگال میں تھوڑے سے ہندو ہیں جو بہار، اڑیسہ اور اترپردیش کے رہنے والے ہیں اور باقی وقت پڑنے پر موٹر سائیکلوں سے بھی آجاتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ جس مٹی نے سبھاش چندر بوس کو پیدا کیا تھا اسی مٹی سے یہ فولادی لڑکی پیدا ہوئی جو بی جے پی کی تگڑی کو کمل کے پھول سے زیادہ نہیں سمجھتی۔

امت شاہ نے کہا کہ اگر مرکزی ریزرو فورس کے جوان نہ ہوتے تو ان کا وہاں سے بچ نکلنا بہت مشکل تھا۔ اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ ممتا تو 42  سیٹوں پر لڑرہی ہیں اور ہم 543  سیٹوں پر لڑرہے ہیں جن میں تین سو سیٹیں جیت چکے ہیں امت شاہ کو اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا کہ جتنا جھوٹ مودی جی بول دیں اسی کو وہ سبق کی طرح سناتے رہیں۔ ہر آدمی سوچے گا کہ جب تین سو جیت چکے تو کیوں جان دے رہے ہو اور کس کی ہمت ہے کہ 42  سیٹوں میں سے 23  سیٹیں جیت لے بی جے پی نے پوری طاقت، بنگال میں صرف اس لئے جھونک دی ہے کہ یہاں مقابلہ ایک لڑکی سے ہے شاید دو چار سیٹیں مل جائیں اور جو شہرت ہے اس کی گونج میں جو مل جائے وہ بھاگتے بھوت کی لنگوٹی ہوگی ورنہ بنانے والے تو غیربی جے پی حکومت کا خاکہ بنا رہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close