سیاست

گجرات : بی جے پی کےناقابل تسخیر قلعہ پر کانگریس کی کمندیں

ندیم عبدالقدیر

گجرات میں سیاسی موسم برہم ہے، وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ 22 سال کے  اقتدار کے سورج پر گہن لگ رہا ہے۔ مسلم مخالف جذبے   زوال آمادہ ہیں۔  ہندوتواکے نعرے  اپنی کشش کھورہے ہیں۔ مودی کی سیاسی رعنائی ماند پڑرہی ہے۔ ’وکاس‘ کا جنم اسی صوبہ میں ہوا تھا لیکن اب’وکاس‘  کے پاگل پن کے چرچے اسی ریاست سے اُٹھ رہے ہیں۔    گجرات صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ملک کی ۱۸؍ریاستوں اور مرکز میں برسرِ اقتدار بی جےپی کے  ماتھے کا جھومر ہے۔ یہ مودی کا ناقابل تسخیر سمجھاجانے والا قلعہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے گجرات میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کردیا ہے۔ گزشتہ کئی انتخابات میں یہاں مقابلہ یکطرفہ ہوتا رہا ہے لیکن اس بار کانٹے کی ٹکرکے امکانات روشن ہیں۔

بی جےپی کانیوکلیائی ہتھیار مسلم مخالف جذبات اور ہندو توا سوابھیمان ہے۔ اسی کے بل بوتے پر بی جےپی ملک کے سیاسی افق پر چھائی ہے،لیکن حقیقت لاکھ پردوں میں چھپانے کے باوجود زیادہ دنوں تک پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ بھگوا پریوارکا مقصود و مطلوب اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی اجارہ داری کو یقینی بنانا ہے، اس سچائی پر مسلم نفرت کے لاکھوں پردے ڈالنے کے باوجود بھی ’اونا‘ میں اس نے اپنا سر باہر نکال ہی لیا۔ ہندو سماج میں ذات پات کے بھید بھاؤ اظہرمن الشمس ہیں۔ ان سے فرار ممکن نہیںہے۔ بی جے پی نے مسلم دشمنی کی ڈور میں ہندوؤں کے تمام طبقات کو باندھے رکھا تھا لیکن  اب یہ ڈور ڈھیلی پڑرہی ہے۔ او بی سی، پٹیل اور دلت، یہ تینوں طبقات بی جے پی سے اپنے حقوق کا  مطالبہ  کررہےہیں اور پارٹی ان کا جواب دینے میں گریز پائی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

مودی  کے زعم و تکبرنے گجرات میں تین نئے لیڈر پیدا کردیئے۔ ہاردک پٹیل، الپیش ٹھاکر اور جگنیش میوانی۔ہاردک پٹیل، پٹیل برادری کے لیڈر کے طور پر، الپیش ٹھاکر اوبی سی کے لیڈر کے طور پر اور جگنیش میوانی دلتوں کے لیڈر کے طور پر گجرات کے سیاسی منظر نامے پر ابھرے۔

 بی جےپی کے سب سے مضبوط قلعہ کا محاصرہ تنگ ہوتا جارہا ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی طاقتور فوج کےسامنے کھڑی فوج کی لگام ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جسے آج تک اناڑی، ناتجربہ کار، کند ذہن اور پپّو کے استعارات سے نوازا جاتارہا ہے۔ یہ بی جےپی کی طرزِ حکمرانی کا حاصل ہے کہ کند ذہن کی تشبیہ لئے ہوئے راہل گاندھی بھی چیلنج بن گئے ہیں۔بی جےپی کیلئے یہ بڑا جھٹکاہے۔

اس میدانِ  کارزار میں کانگریس کے پاس مثبت پوائنٹ اس صورت میں ہے  کہ اس کے پاس ہارنے کیلئے بہت کم اثاثہ داؤ پر ہے جبکہ بی جےپی اور مودی کا   غرور، گھمنڈ، تکبر، رعونت  اور زعم سب کچھ یہاں داؤ پر لگا ہوا ہے اسلئے بی جےپی کی گھبراہٹ واجب ہے۔ بی جےپی گجرات میں خود اعتمادی کے نیندر سے مکمل طور پر بیدار ہوچکی ہے لیکن حالات اس کے قابو میں نہیں آرہے ہیں۔الپیش ٹھاکر کو لاکھ منانےکی بی جےپی کی کوششوں  کے باوجود وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔ ہاردک پٹیل کے قریبی نریندر پٹیل بی جے پی میں شامل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد نوٹوں کی گڈی لے کر بی جے پی پر دولت کے ذریعے انہیں خریدنے کا الزام لگا کر  داغ مفارقت دے گئے۔ جس سے فکر مندی کی لکیریں گہری ہوتی جارہی ہیں۔

 بی جےپی  اپنی دیگر مشنری کے سہارے جتنا کام کرسکتی تھی وہ کررہی ہے۔ جیسے گجرات انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر، عین انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے صرف ایک دن پہلے انڈیا ٹوڈے کی بی جےپی نواز سروے رپورٹ (انتخابات کے اعلان کے بعدیہ ممکن نہیں تھا)اور ہاردک پٹیل کی راہل گاندھی کی ملاقات کے سی سی ٹی وی تصاویر۔ ہاردک پٹیل نے راہل گاندھی سے رات ۱۲؍بجے ملاقات کی جس کی تصاویر صبح ہی صبح ٹی وی چینلوں کے پاس پہنچ گئیں۔

ایک طرف بی جےپی گجرات کے انتخابات میں حافظ سعیدکے سہارے انتخابات میں مسلم مخالفت کے مردہ جذبے کو زندہ کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے تو دوسری طرف  تو دوسری طرف راہل گاندھی ذات پات کے تانے بانے جوڑ کر ایک مضبوط محاذ تشکیل دینے میں مصروفِ عمل ہیں۔

اس الیکشن میں بی جےپی کے ہاتھوں سے اس  کے اہم موضوعات  پھسلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

نریندر مودی کی ’وکاس‘  کی داستان گوئی کو جو ہزیمت یہاں اٹھانی پڑی ہے اس کی مثال پورے ملک میں نہیں ہے۔ ’وکاس پاگل ہوگیا ‘کا شہرت یافتہ تبصرہ گجرات میں ہی وجود میں آیا۔جس سوشل میڈیا کے سہارے بی جےپی دیگر پارٹیوں کی راتوں کی نیندیں حرام کرتی آئی ہے اسی سوشل میڈیا پر وکاس کے  پاگل پن  نے بی جےپی کی دن کا چین چھین لیاہے۔ وکاس پر شگوفوں کی بہار آئی ہوئی ہے، اور اس کا اثر اتنا ہوا ہے کہ تقریباً ہر بی جےپی لیڈر کو اس کی صفائی دینی پڑرہی ہے۔

بدعنوانی کے خلاف جنگ ‘ کے سارے جملوں کی تاثیر کو جئے شاہ کے ’ٹیمپل۔ رن‘ کے کھیل نے چاٹ لیا۔ گجرات انتخابی ریلی میں مودی، راہل گاندھی کو ’شہزادہ‘کہتے تھے لیکن اس بار ’شاہ زادہ‘ فائدہ کے بجائے نقصان کا حامل ہوگیا۔مودی  جس ’بدعنوانی کے خلاف جنگ ‘کو اپنے ترکش کا سب سے   مہلک  تیر بتاتے تھے  امیت شاہ اور ان کے بیٹے نے اس تیر کو بے سود کردیا۔
گجرات میں  بی جےپی کی سب سے بڑی فکر اس کے وفادار ووٹر ’پٹیل ‘ برادری ہے۔ ۱۵؍فیصد ووٹر پٹیل گزشتہ ۲۲؍سال سے بی جےپی کے اقتدار کی ریڑ ھ کی ہڈی رہے ہیں۔ ۲۰۱۵ء میں اس برادری نے اوبی سی مانگ کی جس کے بعد حالات بدلنے لگے۔

طاقت کے تکبر میں چور بی جےپی نےخوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ سننے کے بجائے   انہیں کچلنا شروع کردیا،جس سے ناراضگی میں اضافہ ہوگیا۔ بی جےپی اپنے زعم میں ہی مبتلا تھی لیکن اس کا نشہ اس وقت ہرن ہوگیا جب پنچایتی انتخابات  کے نتائج سامنےآئے  اور کانگریس کے ۱۲۵؍سیٹوں کے سامنے بی جےپی  ۷۵؍سیٹوں پر سمٹ گئی۔ پارٹی کو ہوش آیا کہ یہ مسلمان نہیں ہیںجنہیں آسانی سے زیر کیا جاسکتا ہے۔  اس کے بعد بی جےپی نے ’پاٹی داروں‘ کو پھسلانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ہے۔ ان کے خلاف ۴۰۰؍ معاملات واپس لے لئے گئے، اور ان کو ریزرویشن دینے کیلئے کمیشن تک قائم کردیا۔

اُدھر او بی سی لیڈر الپیش ٹھاکر لاکھوں کی بھیڑ کے سامنے  کانگریس میں شامل ہوگئےہیں۔ اوبی سی ووٹر گجرات میں سب سے زیادہ ہے۔ اس نے بی جےپی کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ دلت لیڈر جگنیش میوانی بھی راہل گاندھی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

بی جےپی کیلئے کچھ راحت ہے تو صرف یہی ہے ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکر اب تک انتخابی میدان کے امتحان سے نہیں گزرے ہیں۔ جو بھیڑ ان کے ساتھ نظر آرہی ہے وہ واقعی ووٹ میں تبدیلی ہوتی ہے یا  نہیں  یہ بات اب بھی پردۂ غیب میں ہی ہے۔
گجرات بہر کیف، بی جےپی کا گڑھ ہے۔ ملک کی ۱۸؍ریاستوں پر حکومت کرنے والی بی جےپی کیلئے گجرات صرف ریاست نہیں ہے بلکہ ملک میں اس کی حکمرانی کے ماتھے کا جھومر ہے۔ کیا وہ اسے اتنی آسانی سے پامال ہونے د ے گی ؟؟؟یا پھر برہمنی انداز میں ’سام، دام، دنڈ، بھید ‘ کی طاقت جھونکے گی؟

اس ریاست میں راہل گاندھی نے کانگریس کی کمان کسی مقامی لیڈر کو نہیں سونپی بلکہ خود اس کی قیادت کررہےہیں اوربی جےپی کے ناقابل تسخیر قلعہ کی فصیلوں پر چارو ںطرف سے کمندیں ڈال رہے ہیں۔ قلعہ کی گھیرا بندی تکنیکی لحاظ سے بہت ہوشیاری سے کی جارہی ہے۔ کانگریس ایک طویل عرصے تک ’کشتریہ، ہریجن، آدی واسی اور مسلم‘ یعنی ’کھام‘ KHAM  کی مورچہ بندی سے گجرات میں حکومت کی ہے اب اس میں پٹیلوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا راہل گاندھی اس مورچہ بندی کو پھر سے  یک جٹ کرپائیں گے؟؟ یہ ایک بہت بڑا سسپنس ہے، اور دنیا ہے منتظرِ روزِ مکافات۔ گجرات میں سیاسی موسم برہم ہے، وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

Close