سیاست

گجرات میں مونچھ سب سے بڑا مسئلہ ہے!

حفیظ نعمانی

ہندوستان میں کوئی صوبہ ایسا نہیں ہے جہاں دلت طبقہ کے لوگوں کے ساتھ اونچی ذات کے ہندوئوں کا سلوک انہیں ذلیل سمجھنے کا نہ ہو لیکن خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ گجرات کا ہندو ضرورت سے زیادہ ہی انہیں ذلیل سمجھتا ہے۔ یہ واقعہ صرف گجرات میں ہی دیکھا کہ ایک مری ہوئی گائے کی کھال اُتارتے ہوئے انہیں پکڑا اور ہر قسم کے الفاظ میں صفائی دی کہ وہ مری ہوئی گائے تھی ہم نے اسے نہیں مارا لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی اور ان کے کپڑے اُتارکر اور ایک بڑی کار سے باندھ کر گھنٹوں مارا اور باری باری مارا اور اس منظر کو چھپانے کے بجائے ٹی وی پر مسلسل دکھایا۔ اور جب پورا ملک چیخ پڑا تو سرکاری طور پر اعلان ہوگیا کہ ہم نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔

گجرات میں دلت طبقہ کے ساتھ ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوجاتی ہے جس سے سارا ملک لرز جاتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم اس کا اثر صرف اس بات سے ختم کردینا چاہتے ہیں کہ امت شاہ کو کسی دلت کے گھر کھانا کھاتے ہوئے دکھا دیتے ہیں ۔ اور ایک موریہ کو وزیر بنا دیتے ہیں یا کوئی عہدہ دے دیتے ہیں ۔ ہندوستان کے دوسرے صوبوں سے بھی خبریں آتی رہتی ہیں کہ کسی دلت لڑکی نے اچھے نمبروں سے ہائی اسکول پاس کیا اس کے باپ یا بھائی نے اسکول جانے کے لئے اسے سائیکل خریدکر دے دی تو اسے یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ سائیکل پر گھر سے بیٹھ کر جائے۔ گائوں کی سرحد سے نکل کر بیٹھے۔ یا ٹھاکر صاحب کے ہینڈپمپ سے دلتوں کو پانی پیتے ہوئے دیکھا تو ان کی پٹائی کردی یا پنڈت جی کے تالاب میں دلت نہا لیا تو وہ ناپاک ہوگیا جبکہ ان کی بھینس اپنے گوبر کے ساتھ اس میں اُتر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا۔

گجرات کے علاوہ ہم نے نہیں سنا کہ جو دلت ریزرویشن کی عنایت سے یا اپنے طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بڑے عہدے پر آجاتے ہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہو جو جوتے کی مرمت کرنے یا نالی دھونے والے دلت کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن گجرات میں ہر دلت افسر کے ساتھ بھی حقارت کا برتائو کیا جاتا ہے۔ تہلکہ کی جوائنٹ ایڈیٹر رعنا ایوب نے وضاحت سے لکھا ہے کہ پولیس کا ایک بہت بڑا ریٹائرڈ افسر پریہ درشی سے اس کی کئی ملاقاتیں ہوئیں اس کے بارے میں رعنا ایوب کا کہنا یہ ہے کہ وہ ایسی جگہ رہتا تھا جو معمولی لوگوں کا محلہ تھا اور پڑوس کے لوگ صرف ایک پولیس والا کی حیثیت دیتے تھے۔

پریہ درشی نے ہی رعنا کو بتایا کہ وہ اپنے گائوں میں ابھی تک عام ہندوئوں کے درمیان نہیں رہتا ہے بلکہ گائوں کے کنارے پر اپنا مکان بنایا ہے اور گائوں کے نائی نے گائوں میں اس کی حجامت بنانے سے اس لئے انکار کردیا کہ پھر اونچی ذات والے ان اوزاروں سے حجامت نہیں بنوائیں گے۔ اور پریہ درشی نے اپنی بہترین کارکردگی کے باوجود ترقی نہ ملنے کی ذمہ داری مودی پر ڈالی جو وزیر اعلیٰ تھے۔ رعنا نے ان کی بات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ ریٹائر ہونے لگے تو مودی نے بلاکر معلوم کیا کہ اب کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ پریہ درشی نے مودی کو بتایا کہ مجھے کس کس طرح دبایا گیا تھا۔ مودی نے سوال کو ٹال کر پوچھا کہ یہ بتائو کہ کون کون افسر سرکار کے خلاف ہیں ؟ میں نے جواب دینے سے پہلے معلوم کیا کہ کیا مجھے سوال کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا پوچھو۔ میں نے معلوم کیا کہ میں دو دہائیوں سے کام کررہا ہوں کیا آپ نے میرے خلاف کبھی کچھ سنا۔ انہوں نے کام کی تعریف کی تب میں نے کہا کہ پھر آپ نے اے سی آر میں میرا درجہ کیوں گھٹا دیا؟ اس کے بعد کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

جب اتنے بڑے افسروں کو صرف ان کی ذات کی وجہ سے برداشت نہیں کیا جاتا تو عام مزدوری کرنے والوں کو کون چھوڑ دے گا۔ اب ایک نیا حادثہ ہوا کہ ذراسی بات پر ایک 21  سالہ جوان کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا اور کسی دلت کو اجازت نہیں کہ وہ مونچھ رکھے یا داڑھی بڑھائے۔ یہ صرف مودی امت شاہ اور اعلیٰ ذات کے زیور ہیں ۔ 21 سالہ جوان کی موت کے بارے میں کہہ دیا کہ ہم نے آٹھ کو گرفتار کرلیا۔ انصاف یہ ہے کہ ان سب کو بھی گرفتار کیا جائے جو گھیرا بنائے کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے وہ سب خونی ہیں ۔ اور صرف یہی نہیں جب تین لڑکوں کو کار سے باندھ کر مارا جارہا تھا اور دیکھنے والے تماشہ دیکھ رہے تھے تو وہ بھی اتنے ہی بڑے مجرم ہیں ۔ اور جہاں کہیں گئو رکشکوں نے مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مارا ہے ان کو بھی گرفتار کیا ہے اور ایک وزیر نے کہا کہ ان کے اوپر ایسی سنگین دفعات لگائی ہیں کہ ضمانت بھی نہیں ہوئی اور سی آئی ڈی نے کلین چٹ دے دی اور سب قاتل گھر آگئے۔

گرفتاری اور سزا دینے کی ساری باتیں جھوٹی اس لئے ہیں کہ مقدمہ پولیس تیار کرتی ہے اور گواہ وہ ہوتے ہیں جو تماشہ دیکھتے ہیں ۔ وہ بدمعاش جب تک جیل میں رہتے ہیں سرکار کے داماد بن کر رہتے ہیں ۔ جب تھانہ میں خودسپردگی کرتے ہیں تو ہار پھول پہن کر زندہ باد کے نعروں میں جاتے ہیں اور وہاں دارو پیتے ہیں اور تھوڑے دنوں کے بعد ناکافی ثبوت ہونے کی وجہ سے رِہا ہوجاتے ہیں ۔ ملک یا صوبوں میں جب تک ہندو حکومت رہے گی یہی ہوتا رہے گا اگر دلتوں کو اور مسلمانوں کو اس کا علاج کرنا ہے تو وہ صرف قربانی ہے۔ یہ ضد نہ کرو کہ ہماری حکومت ہو ہم وزیر ہوں اور ہم ہی ایم ایل اے اور ایم پی ہوں بلکہ یہ دیکھو کہ وہ کس پارٹی کی حکومت تھی جب پنڈت اور ٹھاکر چھواچھات کی ہمت نہیں کرپاتے تھے۔ اور وہ کون کون ہیں مودی اور امت شاہ جن کو اپنا جانی دشمن سمجھتے ہیں ۔ کانشی رام اُٹھے تھے انہوں نے دلتوں کو بھی اٹھایا تھا لیکن انہوں نے نہ معلوم مایاوتی کے اندر کیا دیکھا تھا کہ پارٹی اس کے سپرد کردی اور وہ ننگوں بھوکوں کی طرح دولت پر ٹوٹ پڑی جس کا انجام یہ ہوا کہ خود بھی  مری اور کروڑوں دلتو ں کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا اور موریہ بھی دشمن کے گھر جانے لگے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close