People display their voting identity cards as they stand in a queue outside a polling booth in Shahjahanpur April 18, 2007. In India's northern state of Uttar Pradesh, where corruption and caste have long dominated politics, a group of professionals from engineers to doctors are trying to challenge the grip of traditional parties. In early successes, a professor and a doctor, supported by the party, won elections held to the legislative council of the southern state of Andhra Pradesh in March. REUTERS/Pawan Kumar (INDIA)

گجرات کا الیکشن تاریخ بنائے گا

حفیظ نعمانی

وزیر اعظم مودی جی نہ سوال سننے کے عادی ہیں اور نہ جواب دینے کے وہ 13  برس گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اس زمانہ میں اگر حزب مخالف کانگریس کے کسی لیڈر نے کوئی سوال کرلیا تو اس کا جواب ٹال گئے یا سوال کرنے والے کو جھڑک دیا۔ انہوں نے 13  برس ایسے حکومت کی ہے جیسے چین میں آزادی کے بعد مائوزی تنگ اور چو این لائی نے کی کہ دنیا میں اس وقت ہر ملک کے سربراہ کی زبان پر ہوتا تھا کہ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ مائو کے دل میں کیا ہے تو دنیا کے آدھے مسئلے حل ہوجائیں۔

شہرت تو یہ بھی ہے کہ جب تک مودی جی گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے انہوں نے اپوزیشن کو بولنے ہی نہیں دیا اور کسی نے زیادہ زور دیا تو اجلاس کی مدت تک اپوزیشن کو باہر کردیا کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ بی جے پی کے ایک باغی لیڈر بعد میں کانگریسی شنکر سنگھ واگھیلا بڑے دم خم کے لیڈر تھے۔ انہوں نے اس وقت تک تو کچھ رنگ دکھایا جب تک کانگریس مرکزی حکومت میں رہی اس کے بعد تو ایسے مرجھاگئے کہ کانگریس چھوڑکر راستہ تلاش کررہے ہیں اور گجرات میں جب کانگریس مودی کو برابر کی ٹکر دے رہی ہے تو وہ نہ کانگریس کے اندر ہیں نہ باہر۔

مودی جی نے 13  برس جو بغیر سوالوں والی حکومت کی وہ سارے سوال ریکارڈ میں موجود ہیں اور اب راہل گاندھی نے مودی کی دُکھتی رگ پر انگلی رکھ دی ہے اور ہر ریلی میں ایک سوال مودی جی سے کرلیتے ہیں جس کا جواب تو کوئی نہیں ہوتا مودی جی کے دبنگ لاٹھیاں لے کر دوڑ پڑتے ہیں۔ ایک سوال جس پر اتنے دن گذر گئے کہ ہم جیسے بھی اسے بھول گئے تھے یہ ہے کہ جب ممتا بنرجی نے ٹاٹا سے وہ ساری زمین و اپس لے لی جو ’’نینو‘‘ نام کی چھوٹی گاڑی کے لئے ٹاٹا نے لی تھی اور ٹاٹا کے پائوں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی تو مودی جی سے ٹاٹا کی آنکھ میں آنسو دیکھے نہ گئے اور انہوں نے دعوت دی کہ آپ گجرات آیئے وہاں جتنی زمین کہئے گا آپ کو ملے گی۔ اس واقعہ کو کئی برس ہوگئے اور کسی نے نہیں بتایا کہ پھر کیا ہوا؟ اب راہل گاندھی وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ جس علاقہ میں زمین دی گئی تھی وہاں پانی کی کمی ہے اور نینو کے کارخانہ کے آنے کے بعد اس کی ضرورت بھر کا پانی یہ کہہ کر اسے دیا جانے لگا کہ اوپر سے آرڈر ہے۔ اور جو مقامی لوگ تھے وہ ایک کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور ہوگئے جس کا انجام یہ ہوا آدھی سے زیادہ آبادی وہاں کا ٹھکانہ چھوڑکر چلی گئی۔

اب جو لوگ باقی ہیں ان کو شکایت ہے کہ جب کارخانہ آیا تھا تو ہم سے کہا گیا تھا کہ سب کو روزگار ملے گا اور ہوا یہ کہ چھوٹے چھوٹے اور مزدوروں کے کام کے لئے تو گجراتی ہیں۔ اور دوسرے کام جن کی تنخواہیں زیادہ ہیں وہ سب بنگال یا دوسرے صوبوں سے آرہے ہیں۔ گجراتیوں کو نہ کام ملا اور ان کا پانی بھی چھین لیا۔ راہل نے سوال کیا اور معلوم کیا کہ آخر ٹاٹا سے کیا رشتہ داری ہے کہ ہزاروں کروڑ ٹاٹا کو صرف ایک فیصدی سود پر 25  سال کے لئے قرض بھی دے دیا تو جواب دینے کے بجائے یہ کہا گیا کہ راہل پورے ہندو نہیں ہیں۔ اور جب ہر دن ایک سوال سے مودی جی کو راہل نے گھیرا تو قدرتی طور پر مودی جی آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے اسمرتی ایرانی اور مختار عباس نقوی اور دوسرے وزیروں کو لگایا کہ مجھے سوالوں سے بچائو۔

مختار عباس نقوی نے بالکل دوسرا انداز اختیار کیا انہوں نے راہل سے کہا کہ پہلے وہ ملک کی ثقافت کو سمجھیں برگر اور بیگن کے درمیان جو فرق ہے اس کی شناخت کریں یہ وہ انداز ہے جیسے کھیلنا کہتے ہیں۔ ہم راہل گاندھی کے حمایتی نہیں ہیں اور نقوی سے زیادہ ان پر تنقید کرچکے ہیں لیکن وہ اس وقت پورے ملک میں مودی جی کا ایسا اکیلا جواب ہیں جو دوسرا نہیں ہے اور یہ بدلے ہوئے راہل کا ہی کارنامہ ہے کہ پورے ملک میں ہر جگہ ہارنے کے بعد وہ مودی جی سے ایسے مقابلہ کررہے ہیں جیسے دونوں برابر کے ہیں۔ جبکہ مودی جی ہر وہ ہتھیار استعمال کررہے ہیں جو وہ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب یہ دیکھ لیتے ہیں کہ اب اس کے علاوہ کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہوگا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم نہرو کو سوم ناتھ مندر سے جوڑا انہوں نے اندرا گاندھی کے بارے میں کہا کہ انہیں گجرات میں بدبو آتی تھی اور وہ ناک پر رومال رکھ لیتی تھیں۔ ہوسکتا ہے مودی جی نے یہ سب دیکھا ہو لیکن ان باتوں کا کیا جوڑ۔

2014 ء میں انہوں نے پورا الیکشن گجرات ماڈل پر لڑا اس زمانہ میں اگر کسی نے بتانا بھی چاہا تو گلا پھاڑ پھاڑکر اس کی بولتی بند کردی۔ ملائم سنگھ نے کہہ دیا کہ ہم اُترپردیش کو خود گجرات بنالیں گے تو جواب دیا تھا کہ گجرات بنانے کے لئے 56  اِنچ کا سینہ چاہئے۔ آج وہی گجرات ہے جہاں کپاس اور مونگ پھلی کا کسان رو رہا ہے پانی کے قحط سے گائوں کے گائوں خالی ہورہے ہیں ٹاٹا کو ہزاروں کروڑ قرض دیا جارہا ہے۔ تاجروں کی زبان پر ہے کہ ہماری بھول کمل کا پھول اور وزیر اعظم ہر دو دن کے بعد گجرات کا دورہ کررہے ہیں اور سوالات کے جواب کے بجائے وہ صرف پگڑیاں بدل بدل کر اور گجراتی بول بول کر اپنی عزت بچانے میں مصروف ہیں۔

اس الیکشن میں  مودی کی جتنی ریلیاں دیکھیں اس میں سننے والوں میں کوئی جوش نظر نہیں آیا جبکہ عام خیال یہ تھا کہ گجرات کتنا ہی بدل جائے مودی جی ہیرو رہیں گے لیکن ان کی ہی دونوں غلطیوں، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہیں جھٹکا دیا اور ان کے کمزور ہوتے ہی ہاردِک پٹیل اور جگنیش میوانی کانگریس کا ہاتھ پکڑکر سامنے آگئے اور اب ایک بڑا طبقہ کہہ رہا ہے کہ گجرات میں حکومت بدل جائے گی اور کانگریس کو 112  سیٹیں ملیں گی۔ اگر بی جے پی گجرات میں واقعی کمزور ہوئی تو مودی اور جیٹلی کیا منھ دکھا پائیں گے؟



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

پرائیویٹ اسپتال موت کے سوداگر

آزادی کے بعد انگریز افسر ہی نہیں گئے وہ اپنے ساتھ بہت کچھ لے گئے اور ان کے بعد جو افسر بنے وہ فطری چور اور بے ایمان تھے اور ان کی گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے شاطر ڈاکٹروں کے دل میں یہ خیال آیا کہ نرسنگ ہوم کے نام سے پرائیویٹ اسپتال قائم کئے جائیں۔ اور پھر ہر اس ڈاکٹر نے جس کے باپ کے پاس دولت تھی نہ کہیں نوکری کی اور نہ اپنا مطب کیا نرسنگ ہوم کھول لیا اس میں بوڑھے باپ، ناکارہ رشتہ دار اور گھر کے دوسروں کو بھی روزگار مل گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے