سیاست

گجرات کا انجام جو بھی ہو راہل لیڈر بن گئے!

حفیظ نعمانی

وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں آخرکار وہی زنگ آلود ہتھیار نکال لئے جن پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں ۔ مودی جی ہر جگہ جب پہلا قدم رکھتے ہیں تو وکاس اُن کی لاٹھی ہوتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں تو صرف وکاس پر الیکشن لڑنا ہے اور دکھانا ہے کہ ہم نے کتنا اور کس کس شعبہ میں وکاس کرلیا اور کتنا اور کہاں کہاں باقی ہے؟ پھر جب وہ لاجواب ہونا شروع ہوتے ہیں تو ذات برادری اور خاندان پر آجاتے ہیں اور جب یہاں بھی بات نہیں بنتی تو ہندو مسلم کی تفریق شروع کردیتے ہیں ۔ اُترپردیش میں انہوں نے آخر کے دس دن صرف یہ کام کیا کہ ہندوئوں کو یہ یقین دلایا کہ اکھلیش نے بہت کام کئے مگر ہندوئوں کے نہیں مسلمانوں کے کئے اور ہندو منھ دیکھتے رہ گئے۔ اور یہ ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اتنے گھٹیا درجہ کے جھوٹ بولے کہ اب اگر ان کو بٹھاکر اور ان کے ہاتھ میں گیتا دے کر معلوم کیا جائے کہ کیا اب بھی آپ یہی کہتے ہیں کہ اکھلیش نے قبرستانوں کے لئے مسلمانوں کو زمین دی اور ہندوئوں کو شمشان گھاٹ کے لئے نہیں دی یا رمضان میں مسلمانوں کو اکھلیش نے بجلی دی اور دیوالی میں ہندوئوں کو نہیں دی؟ تو یقین ہے کہ ان کے منھ سے ایک لفظ نہیں نکلے گا۔

بی جے پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی الیکشن سے پہلے رپورٹر سے بحث کررہے تھے کہ مسلمانوں کو زمین دی اور بجلی دی اب آٹھ مہینے سے وہ وزیر اعلیٰ ہیں ان کے زمانہ میں رمضان بھی گذرا اور دیوالی بھی اگر انہیں شرم ہو تو دو سال کا ریکارڈ منگواکر دیکھ لیں کہ اکھلیش نے کیا دیا اور یوگی کے آنے کے بعد حکومت کے خزانہ میں کتنا بڑھ گیا؟ مودی نے اترپردیش میں اکھلیش کو اتنا مسلم نواز ثابت کیا کہ اسے کہنا پڑا کہ ارے میں بھی تو ہندو ہوں ۔

گجرات میں مودی کی سب سے بڑی شکل یہ ہے کہ وہاں کانگریس نے اس بار مسلمانوں سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھا حد یہ ہے کہ مودی نواز ٹی وی کے نمائندے اب کہہ رہے ہیں کہ راہل گاندھی نہ کسی مسجد میں جارہے ہیں نہ مدرسہ میں اور نہ کسی مولانا کے پاس کیا کانگریس نے مسلمانوں کو چھوڑ دیا؟ اب بھگوا بریگیڈ کو یہ پریشانی ہے کہ جو کام اُن کے آقا مودی کرتے تھے کہ کہیں بھی جائیں کسی بھی سرکاری تقریب میں جائیں پہلے اترکر کسی مندر میں جاکر بیٹھ جاتے تھے اور جب ہر طرف شور ہوجاتا تھا کہ وزیراعظم آتو گئے ہیں مگر فلاں مندر میں پوجا کررہے ہیں تب باہر آتے تھے۔

اب راہل گاندھی نے اپنے ہتھیار تو اپنے موقع پر استعمال کئے اور مندر میں جاکر پوجا کرنے کا ہتھیار بھی استعمال کرنا شروع کردیا تو پوری بی جے پی اس بات سے خفا ہے کہ راہل مندروں میں کیوں جارہے ہیں ؟ وہ جب سوم ناتھ مندر میں گئے تو مودی نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ جب آزادی کے بعد سوم ناتھ مندر کی سرکاری طور پر نئی تعمیر ہونی شروع ہوئی تھی تو پنڈت نہرو نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ حیرت ہے کہ مودی جی یہ بھول گئے کہ پنڈت نہرو تو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں نے تو نہ جانے کب سے دھرم کو چھوڑ دیا ہے یہ دھرم ہی ہے جو نہیں چھوڑتا۔ پنڈت نہرو اور اندرا گاندھی نے 30  سال سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی وہ ملک کے گوشہ گوشہ میں گئے لیکن حکومت کے کام سے گئے اور ملک کے کام کئے مندر اس وقت بھی تھے اور کوئی تقریب ہوئی تو چلے بھی گئے لیکن مودی کی طرح کسی نے دھرم کو یا مندروں کو اپنی مقبولیت کا ذریعہ نہیں بنایا۔ اسلام کی بھی تعلیم ہے کہ جو کام بھی تمہارے ذمہ ہے وہ کرو اور جب نماز کا وقت آجائے تو نماز پڑھ لو یہ نہیں کہ جس ملک میں جائو پہلے وہاں کسی مشہور مسجد میں جاکر نماز پڑھو اور جب سب نمازی مان لیں تو وہ کام کرو جس کے لئے گئے ہیں ۔

گجرات کے الیکشن کا موضوع نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کسانوں کی پریشانی اور کپاس (روئی) کی قیمت میں کمی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے بے روزگاری جیسے مسائل تھے۔ کانگریس کو ہاردِک پٹیل، الپیش اور جگنیش جیسے بی جے پی حکومت اور اعلیٰ ذات والوں کے ستائے ہوئے مل گئے ان کی طاقت کے سامنے مودی جی نے ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمان تو ملے نہیں راہل کو کمتر درجہ کا ہندو ثابت کرنے میں لگ گئے۔ راہل کی نانی تو عیسائی ہیں دادا پارسی تھے راہل ہندو ہیں اب یہ ہمیں نہیں معلوم کہ گجرات میں ووٹ کیسے ہندو کو دیا جائے؟ سوم ناتھ مندر ایک تاریخی مندر ہے راہل کی دادی کے باپ اگر اسے سرکاری طور پر بنانے کے خلاف تھے تو وہ وزیر اعظم تھے اور وہی جانتے تھے کہ کیوں مخالف ہیں ؟ راہل ایک عاقل بالغ ہندو ہیں وہ سوم ناتھ مندر میں پوجا کرنے جاتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ گجرات کے الیکشن سے اس کا کیا تعلق اور اب تو عام آدمی بھی کہہ رہا ہے کہ راہل نے جو سوال اٹھائے ہیں ان کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم مندر کی بات کرنے لگتے ہیں ۔

مودی جی گجراتی زبان میں تقریر کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ تو گجراتی ہیں اور راہل گاندھی باہر کے آدمی ہیں اس کے باوجود وہ گجرات کے مسائل کو چھوڑکر مندروں کی سیاست کرنے لگتے ہیں اور نہرو خاندان میں کون کیا تھا اس کی تفصیل بیان کرنے لگتے ہیں ۔ یہ تو اپوزیشن کی خوش قسمتی ہے کہ راہل گجرات کے الیکشن میں جس خود اعتمادی اور بھروسہ کے ساتھ وزیراعظم کا مقابلہ کررہے ہیں اور قدم قدم پر انہیں لاجواب کررہے ہیں اس سے یہ یقین ہوتا جارہا ہے کہ مودی جی من مانی نہیں کرپائیں گے۔ ایک چھوٹے سے صوبہ گجرات میں وزیراعظم کو 15  ریلیاں کرنا پڑرہی ہیں اور اس کے بعد بھی وہ نہیں بتاتے کہ وہ گجرات ماڈل کیا ہوا جسے لے کر وہ 2014 ء میں ملک میں کودے تھے؟ گجرات میں حکومت کس کی بنے گی یہ تو خدا کو ہی معلوم ہے لیکن کیا وزیراعظم اور ان کی فوج ایک اس پارٹی کے نائب صدر سے جسے تین سال پہلے مودی جی نے دفن کرنے کا فیصلہ کیا تھا سر ٹکرا رہی ہے اور اس کے بعد بھی اسے ڈر ہے کہ پھر کانگریس نہ آجائے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ راہل صدر بننے کے قابل ہوگئے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close