سیاستطنزو مزاح

گنے سے دھنائی

ڈاکٹر سلیم خان

للن  کمارشرما اور کلن سنگھ ٹکیت اپنے گنے کے کھیت میں بیٹھ کر حقہ پھونک رہے تھے  کہ وہاں چھٹن بجرنگی پہنچ گیا۔ للن نے کہا آو بھائی بھلے پدھارو اور کیتلی سے گرم گرم چائے مٹی کے کلہڑ میں انڈیلنے لگا۔

چھٹن بجرنگی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے  للن سےکہا دیکھا کیا کردیا تمہارے ان جاٹ دوستوں نے۔ دھرم مریادہ   سب خاک میں ملادی۔

کلن نے پوچھا تم کس دھرم یدھّ کی بات کررہے ہو بھائی ہمیں بھی تو پتہ چلے؟

اب زیادہ نہ بنو بجرنگی بولا میں کیرانہ چناو کی بات کررہا تھا۔

للن بولا وہ  دھرم  یدھ کیسے ہوگیا وہ  تو ایک راجنیتک  چناو تھا۔

اچھا تو کیا دھرم یدھ میں راجنیتی نہیں ہوتی ؟  لگتا ہے تم نے بھی اس بار اپنی وفاداری بدل کر کمل کے بجائے ہینڈ پمپ پر مہر لگا دی ہے۔

للن نےجواب دیا اس بار تو نہیں لیکن اگلی بار ضرور لگاوں گا۔

وہ کیوں بجرنگی نے چونک کر پوچھا

للن بولا اس کے دو کارن ہیں۔ ایک تو ہمارے گھر اور کھیت میں پانی کمل سے نہیں ہینڈ پمپ سے آتا اور دوسرے مجھے  اس بار امید نہیں تھی کہ اس ہینڈ پمپ سے پانی بھی نکل آئے گا اس لیے سوچا ووٹ خراب کرنے سے کیا فائدہ؟

کلن بولا میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ اس بار پانی  ضرورنکلے گا لیکن تم نہیں مانے اور اپنا ووٹ ضائع کردیا۔

للن نے کہا وہ تم لوگوں نے ایک مسلمان کو ٹکٹ دے کر ساری گڑ بڑ کردی ورنہ میں اس بار تو ضرور ہی ہینڈ پمپ پر مہر لگاتا۔

بجرنگی یہ سن کر پریشان ہوگیا۔ اس نے پوچھا یہ کیا کہہ رہے ہو شرما جی  آخر آپ کو کیا ہوگیا؟  کمل سے ایسی ناراضگی  کی وجہ کیا ہے ؟

کلن کو موقع مل گیا وہ بولا ارے بھائی کیندر میں کمل کو کھلے ہوئے چار سال ہوگئے۔  پہلے تو کہتے تھے کہ سماجوادی سائیکل گڑ بڑ کردیتی ہے لیکن اب تو راجیہ میں بھی ایک سال ہوگیا لیکن اس نے کیا کیا؟ بتاو کوئی ایک کام بتا دو جو اس نے کسانوں کی بھلائی کے لیے کیا ہو؟

بجرنگی بولا تم جیسا احسان فراموش میں نے نہیں دیکھا۔ یوگی جی نےہمارے علاقہ کے جاٹ نیتا سریش رانا کو گنا منتری بنادیا  اور کیا چاہیے؟

للن شرما نے کہا بھائی وہ براہمن نہیں جاٹ ہے۔ اس سے ہم کو کیا ملا؟

خیر سب سمودائے کے لوگوں  کو تو وزیر نہیں بناسکتے۔ تمہارا نائب وزیراعلیٰ تو ہے نا؟

 لیکن ہم سے یہ وعدہ تو کیا  ہی نہیں گیا تھا کہ یہاں  کے آدمی کو گنا منتری بنایا جائے گا۔

اچھا تو کیا وعدہ تھا ؟ بجرنگی نے سوال کیا۔

کلن بولا جو اپنا وعدہ تک بھول جائے وہ  اس کو پورا کیسے کرے گا؟

للن نے کہا بھیا وعدہ تو یہ تھا کہ ۱۴ دن کے اندر گنے کی ادائیگی ہوجائے گی۔ اب تم ہی بتاو کہ تمہاری کتنے دنوں کی رقم بقایہ ہے۔

کلن بولا یہ کیا بتائے گا میں  بتاتا ہوں۔ چار مہینے ہوگئے ایک پیسہ نہیں ملا۔ میں نے یوگی پر بھروسہ کرکے  نجی مل کے بجائے سرکاری مل کو کم دام پر گنا بیچا تھا لیکن پھر بھی مایوسی ہاتھ آئی۔ اب تو بول بجرنگی  کسان کیا  کرے ؟ مودی بھجن سے پیٹ  تو نہیں بھرتا ؟؟

چھٹن بجرنگی کی حالت خراب ہوگئی تو اس نے پینترا بدل کر کہا دیکھو کلن سنگھ میں بھی تمہاری طرح کسان ہوں اور تمہارا درد سمجھتا ہوں لیکن کیا تم بھول گئے کہ یوگی جی نےستاّ میں آتے ہی  سب سے پہلے کسانوں کے قرض معاف کردیئے۔

للن شرما یہ سن کر بھڑک گیا۔ ہاں میں بھی اس دھوکے میں آگیا تھا لیکن جب قرضوں کے کاغذ لے کر پہنچا تو پتہ چلا ڈیڑھ لاکھ سے کم قرض معاف ہوگا۔ میں نے اپنے بھائی کو بھیجا جس کا قرض ایک لاکھ تھا تو پتہ چلا کھیت میں لگنے والی مشینوں کا قرض نہیں معاف ہوگا۔ اس بیچارے کا ایک لاکھ کے عوض ایک ہزار قرض معاف ہوا ۔ اوپرسے زحمت اور احسان الگ۔ میں نے اسے لاکھ سمجھایا کہ اس بار پھر  کمل کو ووٹ دے لیکن وہ نہیں مانا بولا نوٹا کو دوں گا مگر کمل کو نہیں۔کہتا ہے  یہ فریبی اور  بدمعاش لوگ ہیں۔

کلن بولا  میں تو کہتا ہوں کہ اب ان لوگوں کو کوئی نیا شوشہ چھوڑنا پڑے گا ورنہ کمل ہمیشہ کے لیے مرجھا جائے گا۔

ہاں بھئی چھٹن کچھ سنا تم نے اب آگے کا منصوبہ  کیا ہے؟

کیا بتاوں للن شرما ہم لوگ تو اپنے نیتاوں کو سمجھاتے ہیں لیکن یہ مانتے ہی نہیں  لگتا ہے ان کی کھوپڑی میں بھوسا بھر گیا ہے؟

کلن کے کان کھڑے ہوگئے اس نے پوچھا وہ نہیں سمجھتے تو ہمیں ہی سمجھا دو  ممکن ہے ہماری سمجھ میں آجائے ؟

بجرنگی کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا وہ بولا بھائی ہم لوگوں نے انہیں سب کا ساتھ وکاس کے لیے تھوڑی نا اقتدار سونپا تھا وہ تو لوگوں کو بہلانے کے لیے ایک نعرہ تھا لیکن یہ اسی کے پیچھے پڑ گئے۔ اب دیکھ لیا انجام نہ کوئی ساتھ آیا اور نہ وکاس ہوا؟

للن بولا بھائی تم نے ترتیب الٹ دی۔ یہ کہو چونکہ نہ وکاس ہوا۔ اس لیے کوئی ساتھ نہیں آیا بلکہ جو ساتھ آئے تھے وہ بھی چھوڑ گئے۔

کلن نے کہا للن تم جلد باز ہو جو بجرنگی کی بات بیچ  میں سے کاٹ دی پہلے اس کی پوری بات  سنو ؟ پھر اپنی بولو۔

بجرنگی  نے کہا بھائی ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ سیدھے سیدھے رام مندر کا نرمان شروع کردو  لیکن ان کو شوچالیہ بنانے سے فرصت ملے تب نا یہ دھرم کاریہ  کریں۔ مجھے تو لگتا ہے یہ سوچھّتا ابھیان ہمارا سپڑا صاف کردے گا۔

کلن بولا میں آپ سے سہمت ہوں گورکھپور، پھولپور، نور پور اور کیرانہ کے نتائج سے  تو یہی لگتا ہے۔

بجرنگی نے کہا نہیں گورکھپور اور پھولپور کی بات اور تھی وہاں ہمیں کسی مسلمان نے نہیں ہندو نے ہرایا تھالیکن یہاں تو غضب ہوگیا۔ مسلمان کے ہاتھوں شکست  نے ہماری ناک کاٹ دی۔  لگتا ہے تم لوگ مظفر نگرکے گورو اور سچن کو  بھول گیا جن کو مسلمانوں نےکوالی گاوں  میں  مارڈالا تھا۔

کلن بولا جی نہیں ہم اس کو نہیں بھولے لیکن اس کے بعد ہم نے بھی تو بدلہ لے لیا۔ ان کے ۶۲ آدمی مار دیئے۔

للن نے کہا بھائی  چھٹن بجرنگی ایک بات بتاو آخر کب تک ان دو لڑکوں کے نام پر راجنیتی چلاو گے۔ ؁۲۰۱۴ میں ان کے نام ووٹ مانگا ہم نے دیا۔ اس کے بعد ؁۲۰۱۷ میں بھی وہی کہانی دوہرائی گئی۔ پھر سے ہم نے اپنے علاقے کے ۵ میں سے ۴ مقامات پر کمل کھلا دیا۔ اب ؁۲۰۱۹ میں پھر وہی قصہ آخر لے بیٹھےآخرکب تک تم لوگ یہ نفرت کی سیاست کروگے۔ اب تو اس گنے سے رس بھی نہیں نکلتا ؟

گنے کی اس  دو طرفہ دھنائی سے چھٹن بجرنگی پریشان ہوگیا وہ بولا مجھے ابھی ایک ضروری کام سے جانا  ہے۔ پھر کبھی اس وشئے پر بات کریں گے۔

بجرنگی کے چلےجانے کے بعد للن بولا اب یہ اگلےلوک سبھا چناوتک دکھائی نہیں دے گا اور اس  کے بعد اسی طرح روتا ہوا آئےگا۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close