سیاست

گورنر تریپورہ تتھا گت رائے کی درندگی

عبدالعزیز

  تریپورہ کے گورنر تتھا گت رائے کلکتہ کے رہنے والے ہیں۔ یہاں کے ایک کالج میں پروفیسر تھے مگر ان کے نام کے ساتھ نہ پروفیسری زیب دیتی ہے اور نہ ہی گورنری۔ ان کی حرکتیں اور باتیں کسی تعلیم یافتہ یا سلجھے ہوئے انسان کی طرح نہیں ہوتیں۔ ان کو گورنر یا کسی اور عہدہ یا مرتبہ کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ہوتا۔ گورنری پانے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ نازیبا حرکتیں اور بیجا باتیں کرنے لگے ہیں۔ اس کی شاید وجہ یہ ہے کہ میڈیا کے لوگ گورنر ہونے کی وجہ سے ان کی باتیں طشت از بام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے ان کی وحشیانہ حرکتیں اجاگر ہوتی رہتی ہیں اور موصوف کو اپنے وحشیانہ پن سے تسکین ملتی رہتی ہے۔

  آج کے اخباروںمیں ان کا ایک ٹوئٹ چھپا ہے جس میں انھوں نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کو آلائش اور کوڑے کرکٹ سے تشبیہ دی ہے اور کہاکہ اس کوڑے کرکٹ کو کوئی اسلامی ملک اور نہ بنگلہ دیش (جس کا ریاستی مذہب اسلام ہے) اپنے یہاں جگہ دینا چاہتا ہے، لیکن ہندستان ایک بڑا درھرمشالہ ہے اسے دینا ہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ نہیں تو یہ غیر انسانی ہے‘‘۔

 گزشتہ دو روز سے وہ اپنی اس گھناؤنی اور غیر انسانی حرکت کا اپنے ٹوئٹر کے ذریعہ پرچار کر رہے ہیں۔ جب چاروںطرف سے ان کی مذمت آنے لگی ۔ بہتوں نے کہاکہ کیسا آدمی ہے جسے اپنے عہدہ اور مرتبہ کا ذرا بھی پاس نہیں ہے۔ اس پر اپنے دفاع میں ٹوئٹ کیا کہ چونکہ صبح سے اسلام پسندوں کی مخالفت اور مذمت کی باڑھ آگئی ہے، محض اس لئے کہ میں نے یہ کہہ دیا کہ روہنگیا کے کوڑے کرکٹ کو ہندستان میں جگہ نہیں دینا چاہئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میں صحیح راستہ (Right track) پر ہوں۔

  زخم پر نمک چھڑکنے والا اپنے آپ کو صحیح راستہ پر پا رہا ہے۔ پروفیسر رائے نے شاید یہی کالج میں طلبہ کو پڑھایا ہوگا کہ جب لوگ مصیبت زدہ ہوں اور اپنی جان بچانے کیلئے پناہ کے طالب ہوں تو ان کا مذاق اڑایا جائے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکا جائے۔ ایسی غیر انسانی اور حیوانی باتیں یا حرکتیں تو شاید ایک اجڈ اور گنوار بھی کرنا پسند نہیں کرتا۔ پروفیسر تتھا گت رائے اپنی اس غیر انسانی حرکت کیلئے بدنام زمانہ ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ کئی حرکتیں اس طرح کی کرچکے ہیں۔ یعقوب میمن کے جنازے میں جو لوگ شریک ہوئے تھے مسٹر رائے کو سب دہشت گرد نظر آئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسٹر رائے کے دل و دماغ میں دہشت گردی یا فتنہ و فساد کا مادہ اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ وہ اسے وقتاً فوقتاً نکالتے رہتے ہیں۔

 کچھ دنوں پہلے انھوں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے حوالے سے بیان دیا کہ ہندستان میں ایک بار ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھگڑا اور فساد ہونا ضروری ہے، جب ہی مسئلہ حل ہوگا۔ جھگڑے اور فساد کی بات وہ کرنا یا کہنا پسند کرتا ہے جو فسادی اور جھگڑالو ہو۔

 مسٹر رائے جب کلکتہ میں رہتے تھے تو اکثر و بیشتر وہ مسٹر اوپی شاہ کے سمینار یا سمپوزیم میں شرکت کیلئے آتے تھے۔ مسئلہ خواہ جو بھی ہوتا وہ کھینچ تان کر اسلام اور مسلمان کا موضوع ضرور بیان کرتے۔ یہ ان کی عادت بن چکی تھی۔ ایک بار وہ قرآن مجید میں خامیاں اور کمیاں نکالنے لگے۔ مجھ سے جب رہا نہ گیا تو میںنے پوچھا پروفیسر صاحب آپ نے قرآن مجید کبھی پڑھا ہے؟ جواب میں جب انھوں نے کہاکہ ’’نہیں پڑھا ہے‘‘ تو میں نے کہا کیا آپ جیسے پروفیسر یا پڑھے لکھے آدمی کو زیب دیتا ہے کہ جس کتاب کو آپ نے پڑھا ہی نہیں اس پر بے لاگ تبصرہ کر رہے ہیں۔ پھر میں نے شاہ صاحب سے کہاکہ آپ انھیں اپنے گھر بلائیے، میں ان سے اسلام، قرآن اور مسلمان جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرنا چاہتا ہوں۔ مسٹر رائے شاہ صاحب کے گھر آئے ۔ ہم دونوں میں تقریباً دو گھنٹے باتیں ہوتی رہیں۔ ان کی ایک ایک بات کا جواب دیتا رہا ۔ جب ان کے پاس کچھ نہیں بچا تو خاموش ہوگئے۔ میں نے سوچا کہ شاید اب اپنی اوچھی حرکتوں سے باز آئیں گے لیکن ہوا الٹا کہ وہ جب گورنر بنا دیئے گئے تو ان کا منہ بھی بڑا ہوگیا اور زبان بھی دراز ہوگئی۔ اب تو شاید وہ کلکتہ کے کسی مذاکرہ میں نہ آئیں یہ سمجھ کر کہ وہ گورنر ہوگئے ہیں۔

  بہت پہلے کی بات ہے جب وہ بی جے پی کے صدر بنائے گئے تو انگریزی روزنامہ ’دی اسٹیٹس مین‘ نے اپنے پینل ڈِسکشن (مباحثہ) میں شرکت کی دعوت دی۔ اخبار کے ایڈیٹر مسٹر سی آر ایرانی نے دعوت تقریر دیتے ہوئے کہاکہ بھاجپا میں بھی ایک پڑھا لکھا آدمی شامل ہوا جس سے بھاجپا کی شان بڑھی ہے۔ مسٹر ایرانی اب دنیا میں نہیں رہے ورنہ آج وہ اپنے الفاظ واپس لے لیتے کیونکہ تتھا گت رائے کے شامل ہونے سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ بھاجپا میں ایک اور حیوان کا اضافہ ہوا۔ تتھا گت رائے نہ گورنری سے پہلے اور نہ گورنری کے بعد کہیں سے بھی پڑھے لکھے یا تعلیم یافتہ نظر نہیں آتے۔ ایسا شخص مودی کے راج میں ہی گورنر ہوسکتا ہے۔ جب ایسی صورت ہوتی ہے تو بقول شاعر  ؎

ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے…

انجام گلستاں کیا ہوگا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close