سیاستہندوستان

گوشت نہیں کھاؤ گے تومرجاؤ گے؟

صادق رضامصباحی

انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی کمیوں پرنظررکھتاہے،اسے اپناعیب نظرنہیں آتا۔ہمارے مسلم معاشرے میں یہ مرض کچھ زیادہ ہی سرایت کر گیاہے اس لیے ہم دوسروں کے ردعمل پرچیخ پڑتے ہیں اوراحتجاج اورمظاہرے کرکے پورے دنیاکویہ بتادیتے ہیں کہ مسلمان واقعی بڑابے صبرا، کمزور اوربے شعورہے۔اترپردیش میں سلاٹرہائوس پرپابندیو ں کاسلسلہ اورپھردیکھتے ہی دیکھتے دیگر ریاستوں کےسلاٹرہائوسوں پرپابندی کےمطالبات پرمسلمانوں کی تشویش ناکی اس کاواضح ثبوت ہے ۔ سمجھ میں نہیں آتاکہ اگرمسلمان گوشت نہیں کھائے گاتوکیامرجائے گا،کیاوہ خوش حال زندگی جی نہیں سکے گا؟ اگرحکومت پابندی لگاتی ہے تولگ جانے دیجیے ،کیافرق پڑتاہے ۔

مسلمانوں کے لیڈران بھی عام طورپرایسے بیانات دیتے ہیں جوصرف مشتعل کرتے ہیں حقیقت پسندی پرمبنی بیانات اس ذیل میں صرف اب تک صرف دو لیڈروں کے آئے ہیں ان میں سے ایک اعظم خان ہیں اوردوسرے مولانا محمود مدنی۔ان دونوں لیڈروں نے ضرورمسلمانوں سے اپیل کی کہ گوشت کھاناچھوڑدو۔ان کے علاوہ خودکولیڈرسمجھنے والوں میں سے کسی کابھی کوئی بیان نہیں آیا ۔مسلمانوں کوشایدمعلوم نہیں کہ ہندوئوں کی پوری تاریخ گوشت خوری سے بھری ہوئی ہے ۔آرین کے دورسے لے کرآج تک ہندوگوشت خوری کرتے آرہے ہیں مگر مسلمانوں کی بے سمجھی ،کم ہمتی اوربزدلی کی وجہ سے یہ معاملہ آرایس ایس نے مسلمانوں کے سرمنڈھ دیاہے اورحیرت ہے کہ مسلمان دفاع پردفاع کرتے جارہے ہیں ،آج اکیسویں صدی کی سترہویں دہائی میں جب کہ دنیا میں اتھل پتھل مچ چکی ہے ،مسلمان ردعمل کے لیے اپنے آپ کوتیارنہ کرسکے ۔یہ بےچارے خودکوتیاربھی کیسے کرتے جب کہ ان کے زیادہ ترلیڈران بکائو اورضمیرفروش ہیں ،یہ بے چارے خود احساس کمتری کے شکارہیں تواپنے عوام کواحساس کمتری سے کیسے نکال سکیں گے ۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں کوئی سیاسی سمجھ بوجھ والالیڈرنہیں ہے اوراگرہیں بھی یاہوئے بھی توہم سے ان کی قدرنہ ہوسکی ورنہ آرایس ایس کی چالیں کب کی دم توڑدیتیں ۔

مسلمانوں کواس وقت صرف دوکام کرنے ہیں ۔پہلایہ کہ انہیں اجتماعی طورپرفی الحال گوشت خوری ترک کردینی ہے ۔آپ کایہ فیصلہ خودحکومت کی کمر توڑدے گااورآرایس ایس جس طرح یہ مسئلہ مسلمانوں سے جوڑکراورفرقہ وارنہ ماحول پیداکرکے بےوقوف برادرانِ وطن کوخوش کرتی ہے ،اس کی ہو ادھیرے دھیرے نکلنے لگے گی ۔اس سلسلے میں مسلمانوں کے مقامی ،ضلعی ،ریاستی اورملکی سطح کے لیڈروں کو ایسے بیانات دینے ہوں گے اورمسلمانو ں کوتنبیہ کرنی ہوگی کہ کچھ وقت کے لیے تھوڑاپیچھے کھسک آئیں ۔اس معاملے میں بڑی مشکل یہ ہے کہ مسلمان صرف اپنے پیروں کی سنتے ہیں اس لیے اگرمشائخین طریقت اپنے اپنے مریدوں کوحکم دے دیں تویقیناًصورت حال بدل جائے گی۔دوسراکام گوشت کے کاروبارسے جڑے مسلمانوں سے متعلق ہے ،انہیں اپنی تجارت شروع کرنے سے قبل یاجن کے کاروبار اس کارروائی میں بندکردیے گئے ہیں انہیں جلدازجلدقانونی کارروائی پوری کرنی ہوگی اوراس کاروبارکوچلانے کے لیے جتنے بھی دستاویزات ضروری ہیں انہیں مکمل کرناہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق یوپی میں 140سلاٹرہائوس اورپچاس ہزارسے زائدگوشت کی دوکانوں کے پاس لائسنس نہیں ہیں ۔یہ بات ذہن میں رکھیے کہ سپریم کورٹ کے 2012کے حکم کے مطابق تمام سلاٹرہائوسوں کاقانونی ہونا، نیزاچھے مال کی سپلائی اورآلودگی سے بچناضروری ہے۔سلاٹرہائوسوں کے مالکان کی ذمے داری ہے کہ اپنے تمام دستاویزات یعنی لائسنس ،اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈکی جانب سے ’’نوآبجیکشن ،کلیرینس سرٹی فیکٹ حاصل کریں اوراس کے علاوہ اپنی میونسپل اتھارٹی سے بھی اجازت حاصل کریں ۔یوپی حکومت ایسے ہی سلاٹرہائوسوں پرکارروائی کررہی ہے جن کے پاس یہ سب دستاویزات نہیں ہیں ۔جن کے پاس لائسنس تھے انہیں ردکرنے یاپھرنیالائسنس جاری نہ کیے جانے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔مثلاً سلاٹرہائوسوں سے جوگوشت باہرسپلائی ہوتاہے وہ اچھے معیارکانہیں ہوتااورforeign trade policyکے مطابق پورانہیں اترتا،اس کے علاوہ پولوشن کنٹرول بورڈاورفوڈمنسٹری کی ہدایات پرپورانہیں اترتا اس لیے ان پرکارروئی کی گئی ۔یوپی میں جن ۲۶قانونی سلاٹرہائوسوں کوبندکردیاگیاہے اس کی وجوہات یہی ہیں ۔اترپردیش کے چیف سکریٹری راہل بھٹناگرنے کہاہے کہ یہ پابندی عارضی ہے ،اگریہ تمام قانونی کارروائیاں پوری کرلیں گے توانہیں پھرسے کھول دیاجائے گا۔

سلاٹرہائوس اورگوشت خوری کے حوالے سے کیاگیاتجزیہ بتاتاہے کہ اگرملک میں گوشت پرپابندی لگی تواس کاخمیازہ مسلمانوں سے زیادہ حکومت کوبھگتنا پڑے گاکیو ں کہ اس کوسالانہ ہزاروں کروڑ روپے کی خطیررقم کانقصان برداشت کرناہوگا۔اس وقت پورے ملک میں 72سلاٹرہائوس حکومت سے منظورشدہ ہیں وران میں 38صرف یوپی میں ہیں ۔ان سلاٹرہائوسوں سے گوشت ایکسپورٹ ہوتاہے ۔ خاص طورپرعرب ممالک میں ان سلاٹرہائوسوں کے گوشت کی بہت مانگ ہے ۔سروے رپورٹ کے مطابق یوپی کے سلاٹرہائوس پندرہ ہزارکروڑروپے کی انڈسٹری ہے جس میں 25 لاکھ لوگ ملازمت سے وابستہ ہیں ۔ان سلاٹر ہائوسوں میں روزانہ 300سے لے کر3000تک جانورذبح کیے جاتے ہیں ۔سلاٹرچاہے بھینس کے ہوں یابکری یابھیڑکے ان کے مالکان زیادہ ترہندوہیں ۔اترپردیش ملک میں گوشت ایکسپورٹ کرنے والی سب سے بڑی ریاست ہے۔یہا ں غیرقانونی مذابح کتنے ہیں اس کاکوئی ریکارڈنہیں ہے۔اندازے کے مطابق گوشت ایکسپورٹ کرنے والے سالانہ 26 ہزار 685 کروڑروپے کماتے ہیں ،اوراگراس پرپابندی لگی توریاست کو11 ہزار350 کروڑکاسالانہ نقصان ہوگا اور اگریوگی حکومت نے یوں ہی پابندی جاری رکھی توان کی پانچ سال کی حکومت میں ۵۶ہزار کروڑ روپے کانقصان یوپی کوہوگا۔یہ صرف یوپی کے اعدادوشمار ہیں دیگرریاستوں کے اعداوشمارکابھی احاطہ کرلیاجائے توکئی اربوں کروڑکانقصان حکومت کو اس فیصلے سے برداشت کرناہوگی جوحکومت کبھی نہیں کرسکتی ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میٹ کی اتنی بڑی انڈسٹری کومرکزی حکومت ہی فروغ دیتی ہے ۔فوڈپروسیسنگ منسٹری میٹ انڈسٹری کاایک یونٹ ڈالنے کے لیے پچاس فیصدتک امدادفراہم کرتی ہے۔

 مسلم مررکے19 ؍اکتوبر2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیامیں چھ سب سے بڑی کمپنیاں جوبیرون ممالک گوشت سپلائی کرتی ہیں اورہرسال حکومت کوکروڑوں کاٹیکس دیتی ہیں ۔ان میں سے چارکمپنیاں ہندوئوں کی ہیں ۔(1)الکبیرایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈاس کے مالکان کانام ستیش اوراتل سبھروال ہے ۔یہ 92؍جولی میکرس ،چمبورممبئی میں واقع ہے۔ (2)عربین ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈکے مالک کانام سنیل کپورہے اس کاپتہ یہ ہے :رشین مینشن ،اوورسیز، ممبئی (3)ایم کے آرفروزین فوڈایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈکے مالک کانام مدن ابوٹ ہے ،یہ کمپنی ایم جی روڈ،جن پتھ نئی دہلی میں واقع ہے۔(4)پی ایم ایل انڈسٹریزپرائیویٹ لمیٹیڈکے مالک کانام اے ایس بندراہے ،یہ کمپنی سی او62۔63،سیکٹرنمبر34 ؍اے ،چنڈی گڑھ پنجاب میں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ حکومت ان پرپابندی عائدکیوں نہیں کرتی ؟کیوں کہ وہ قانونی کارروائی کوپوراکرتے ہیں جب کہ ہم مسلمان بڑے جذباتی ہیں ،اللہ پر’’توکل‘‘ کرتے ہیں ۔مسلمانوں میں سے بیشتر لوگ توکل کامطلب ہی نہیں سمجھ پارہے ہیں ۔زیادہ ترمسلم تاجروں کے پاس مصدقہ دستاویزات نہیں اورنہ ہی حکومت کے مختلف محکموں سے منظوریاں اس لیے جب حکومت کارروائی کرتی ہے تومسلمان واویلا شروع کر دیتے ہیں ۔حالاں کہ واویلاکرنے کےبجائے انہیں اپنااحتساب کرناچاہیے ۔مسلم لیڈران بھی چوں کہ عوام کے ’’نمائندے ‘‘ہیں اس لیے وہ بھی عوام کے جذبات کے ترجمان بن جاتے ہیں ۔

ملک کےمعروف ترین تاریخ نویس اوردہلی یونیورسٹی کے پروفیسرڈی این جھانے ایک بڑی تحقیقاتی کتاب لکھی -Holy Cow: Beef in Indian Dietary Traditionsاس کتاب میں انہوں نے کئی حیرت انگیزانکشافات کیے ہیں ۔اس کتاب پراشاعت پرہندتواکارکنان کی جانب سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیا ں بھی دی گئیں ۔کتاب میں مستندذرائع سے بتایاگیاہے کہ کیرلاکی 72 ہندو کمیونٹی کے لوگ شوق سے گائے کاگوشت کھاتے ہیں ۔کتاب میں ا س الزام کی تردیدکی گئی ہے کہ ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے گوشت کھانے کورواج دیاہے ۔ہندوستان میں اسلام آنے سے بہت قبل یہاں کے لوگوں کی غذازیادہ ترگوشت ہی رہی ہے بلکہ گوشت خوری ان کی شناخت تھی ۔کتاب میں ویدوں اورہندوستان کی قدیم تاریخ کاتجزیے ثابت کیاگیاہے کہ ہندوستان میں جب آریہ آئےتووہ اپنے کھانے کے لیے جانورہی ذبح کرتے تھے اوریہ وقت چلتارہا جب تک کھیتی باڑی کارواج نہیں ہوگیا۔کھیتی باڑی آنے کے بعدگوشت خوری ان میں پہلے کی بنسبت کم ہونے لگی۔ہندوئوں کے قدیم ترین دیوتااندرا پربیل کاگوشت چڑھایاجاتاتھا اوراگنی دیوتاپرگائے کاگوشت چڑھایاجاتاتھا۔اس کے علاوہ ماروت اوراسون نامی دیوتائوں کوبھی گائے کاگوشت چڑھایاجاتاتھا۔ویدوں کے مطابق 350 قسم کے جانورایسے تھے جن کے گوشت دیوی دیوتائوں کے چڑھاوے کے لیے بہت اچھے سمجھے جاتے تھے۔ہندوئوں کی مقدس کتاب منواسمرتی میں بھی گوشت کھانے پرپابندی عائدنہیں کی گئی ہے ۔قدیم برہمنوں کی کتابوں  میں بھی ایساکچھ نہیں ملتا۔

آرایس ایس کایہ کہناغلط ہے کہ اگرپابندی نہ لگائی گئی تودودھ دینے والے جانورکم ہوجائیں گے ۔سروے کے مطابق ہزاروں جانور روزانہ ذبح ہوتے ہیں مگرپھربھی ان کی تعدادبڑھ ہی رہی ہے ۔ 1997 میں بھینسوں کی تعداد189 لاکھ 96 ہزارتھی جو2012 میں بڑھ کر306 لاکھ 25  ہزارہوگئی ۔اسی طرح گائے پہلے 141 لاکھ 9 ہزارتھیں لیکن بعدمیں 257 لاکھ 11 ہزارہوگئیں – ہماچل پردیش کے بہت سارے مندروں میں آج بھی گائے کوظالمانہ طریقے سے ذبح کیاجاتاہے۔انڈیامیں پہلاباقاعدہ سلاٹرہائوس کسی مسلمان نے نہیں بلکہ بنگال کے گورنر روبرٹ کلائیونے 1760 میں کلکتہ میں بنوایاتھا۔یہاں 30 ہزار جانور روزانہ ذبح ہوتے تھے ۔ا س کے بعدمدراس اورممبئی نیزملک کے دیگرعلاقوں میں 1910میں سلاٹرہائوس بنائے گئے۔رجسٹر ارجنرل آف انڈیاکی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق گوشت خوری میں تلنگانہ کاپہلانمبرہے یہا ں 98.8 گوشت کھانے والے لوگ ہیں ۔ا س کے بعدمغربی بنگال،آندھراپردیش ،اڑیسہ ،کیرلہ ،سکم اورمیزوریم وہ ریاستیں ہیں جہاں لوگ سب سے زیادہ گوشت کھاتے ہیں ۔

ان سب حقائق کوسامنے رکھیے اوراپناجائزہ لیجیے کہ آخرآ پ خودکوکیوں موردالزام ٹھہرارہے ہیں اورکیوں دفاع پردفاع کرتے جارہےہیں ،ردعمل پرآمادہ کیوں نہیں ہوتے ۔حکومت اگرپابندی لگانا چاہتی ہے توشوق سے لگادے ۔ مسلمانوں کانقصان اس میں قطعی نہیں ہوگاہاں ان سلاٹرہائوسو ں میں زیادہ ترمسلمان ملازم ہیں وہ ضرورکچھ دن کے لیے بےروزگارہوجائیں گے مگرکچھ دن بعدان کے لیے راستہ نکل آئے گا۔گوشت کے تاجرمسلمانوں کے لیے ضروری یہ ہے کہ وہ اپنی قانونی کارروائی پوری کریں بصورت دیگران پراسی طرح کے حملے ہوتے رہیں گے ۔ہمیں جب معلوم ہے کہ ہمارے سرپر’’دشمن‘‘مسلط ہے وہ کوئی بھی بہانہ بناکرہم پرحملہ آورہوسکتاہے توہم کیوں اپنے گھرکومضبوط نہیں بناتے ،دشمن پرلعنت کیوں بھیجتے ہیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close