سیاست

گول مال ہے، سب گول مال ہے!

ندیم عبدالقدیر

یہ کہانی بی جےپی کے قومی صدر امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ کی ایک کمپنی ’ٹیمپل انٹرپرائزیز ‘کی ہے۔ یہ کہانی بھی  پراسرا ر کہانیوں سے کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہے۔   اس دارِ فانی میں ’ٹیمپل انٹرپرائزیز‘ کا وجود یوں تو 2004ء میں ہی عمل میں آگیا تھا، لیکن 2013ء تک اس کمپنی میں کوئی خاص لین دین نہیں ہوا۔ یہ   فلمی انداز میں کسی خفیہ ایجنسی کے ’انڈر کور‘ ایجنٹ کی طرح  گوشہ نشینی کی زندگی گزارتی رہی۔ تقریباً 11؍بہاریں دیکھنے کے بعدکمپنی نے 2013ء میں 5؍ہزار روپے اور 2014ء میں 50؍ہزار روپے کی آمدنی کی ۔ 2014ء کے جولائی میں امیت شاہ بی جےپی کے قومی صدر بن گئے اور 2015ء میں کمپنی کی آمدنی 50؍ہزار روپےسے بڑھ کر غیبی طور پر 80؍کروڑ تک پہنچ گئی ۔ یعنی ایک سال میں تقریباً 16؍ہزار فیصد کا اضافہ۔ انسانی عقل کو  حیران کرکے رکھ دینے والی اس آمدنی کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ ۵۱؍کروڑ روپے اسے  ’مصنوعات کی فروخت ‘ سے حاصل ہوئے  ہیں ۔کمپنی کو گیارہ سال تک کوئی خاص آمدنی نہیں ہوئی لیکن حسنِ اتفاق دیکھئے کہ جس سال امیت شاہ بی جےپی کی  قومی صدارت پر تخت نشین ہوئے اُسی سال  کمپنی کو ’مصنوعات کی فروخت ‘ سے ایسی طلسماتی آمدنی ہوئی۔ اس کمپنی کی ’کامیابی کی کہانی‘ میں دوسرا پڑاؤ  ’‘کے آئی ایف ایس‘ ‘ نامی کمپنی  سے ملنے والا 15ء8؍کروڑ روپے کا قرض  تھا۔ کمال یہ ہے کہ جس سال  ’کے آئی ایف ایس‘ نے جئے شاہ کی کمپنی کو 15ء8؍کروڑ کے قرض سے نوازا اُس وقت خود اُس کی آمدنی ۷؍کروڑ تھی۔دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ ’کے آئی ایف ایس‘ نے اپنے لین دین کے حساب میں اس قرض کا ذکر تک نہیں کیا،یعنی کمپنی15ء8؍کروڑ روپے جیسی خطیر رقم  کا عطیہ دینے میں ’  ’ایک ہاتھ سے اس طرح دو کہ دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو‘‘ کے اقوال ِ زریں کو ملحوظ رکھا۔

اب یہاں سوا ل یہ اٹھتا ہے کہ ایک ایسی کمپنی کو 15؍کروڑ کا قرض کیسے مل سکتا ہے  جس کمپنی کی آمدنی کچھ نہیں ہو؟ کمپنی نے قرض لوٹانے کیلئے کوئی گیارنٹی بھی نہیں دی تھی؟ امیت شاہ کے بیٹے کی کمپنی پر   شانِ سخاوت دکھانے والی اس سخی کمپنی کے بارے میں بھی جان لیں ۔ ’ کے آئی ایف ایس‘ نامی یہ کمپنی راجیش  کھنڈیوال نامی شخص کی ہے اور یہ شخص بی جےپی کے راجیہ سبھا کے ممبر ’پریمل ناتھوانی‘ کے سمدھی ہیں ۔ پریمل ناتھوانی نےکہنے کو تو آزاد امید وار کے طور پر راجیہ سبھا کا الیکشن لڑا لیکن انہیں بی جےپی کی مکمل حمایت حاصل تھی ۔ یہ گجرات کرکٹ ایسو سی ایشن کے نائب صدر بھی ہیں ۔

’ٹیمپل انٹرپرائزیز ‘ کی آمدنی جب 50؍ہزار روپے سے ایک سال میں ہی 80؍کروڑ روپے پر پہنچ گئی تب تو اگلے سال عین ممکن تھا کہ اس کی آمدنی 800؍کروڑ تک پہنچ جاتی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا۔یکے بعد دیگرے حیرت انگیز موڑ سے گزرتی ہوئی اس کمپنی کی کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا ہے جب  اگلے سال کمپنی کو خسارہ ہوگیا۔ کمپنی نے اپنے حساب کتاب میں لکھا ہے کہ اس کا سارا اثاثہ erode  یعنی اُڑ گیا۔

’ٹیمپل انٹرپرائزیز ‘ کے ساتھ ساتھ ایک اور کہانی چل رہی تھی اور یہ کہانی تھی ’ستّو ا ٹریڈ لنک‘ نامی کمپنی کی ۔   وہ بھی سن لیجئے۔
جئے شاہ اور کھنڈیوال نے مل کر ایک اور کمپنی بنائی تھی ’ستّوا ٹریڈ لنک‘ ۔ اس نے بھی  ’ٹیمپل انٹرپرائیز‘ کو 15ء78؍کروڑ روپے کا قرض دیا تھا۔ بعد میں یہ کمپنی 2015ء میں بند کردی گئی ۔ اس کمپنی کے بند کرنے کے بارے میں جئے شاہ کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اُس وقت بزنس کے لئے حالات ساز گار نہیں تھے اسلئے کمپنی بند کردی گئی ۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ 2015ء میں ہی ٹیمپل انٹرپرائزیز  کی  آمدنی ۱۶۰۰۰؍ہزار گنا  بڑ ھ گئی تھی  اور اسی سال کے بارے میں  ’ستّوا ٹریڈ لنک‘ کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ بزنس کےلئے حالات سازگار نہیں تھے۔ یعنی   ٹیمپل انٹرپرائزیز کو 15ء78؍کروڑ روپے کا نذرانہ دے’ستّوا ٹریڈ لنک‘کمپنی کو بند کردیا، اور یہ 15ء78؍کروڑ روپے غائب ہوگئے۔

کراماتی ’ٹیمپل انٹرپرائزیز‘ کمپنی کا کرشماتی سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا ہے ۔ 2015ء میں  اس نے  ’کسُم فائن سرو‘ نامی کمپنی سے پارٹنر شپ کی  ۔ اس کمپنی کو بھی ’کے آئی ایف ایس‘ کی شانِ فیّاضی کے کچھ حصے کے طور پر 2ء6؍کروڑ کا قرض مل  گیا ۔ ’کسم فائن سرو‘ کو ایک اور جگہ سے 4ء9؍کروڑ کاقرض ملا ۔ یہ کونسی جگہ ہے یہ بات اب تک پردۂ غیب میں ہی ہے۔
اب اس کمپنی کے کاروبار کے بارے میں بھی جان لیجئے ۔ اس کمپنی کا کاروبار امپورٹ ایکسپورٹ اور شیئر کی خرید وفروخت ہے  لیکن اس کہانی میں سب سے دلچسپ موڑ اس وقت آتاہے جب شیئر کا بزنس کرنے والی یہ کمپنی رتلام میں 2ء1؍میگا واٹ کا بجلی پیدا کرنے کا پروجیکٹ شروع کردیتی ہے۔پروجیکٹ کیلئے رقم کی ضرورت پڑتی ہے اور ’ٹیمپل انٹرپرائزیز‘ سرکار کے ’ایریڈا‘ (IREDA) محکمہ سے قرض کی درخواست کردیتی ہے ۔ سرکاری محکمہ’ایریڈا‘  گویا پہلے سے ہی درخواست کا بے چینی سے انتظار کرتا ہوا بیٹھا رہتا ہے ۔

وہ نہ صرف کمپنی کیلئے۱۰ء۳۵؍کروڑ کا قرض منظور کردیتا ہے بلکہ کمپنی کو  ’چھوٹے  رتن‘(  اکبر کے ’نورتن‘ کے طرز پر) کے اعزاز سے بھی نواز دیتا ہے ۔ یہاں اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے کہ  قانون کے مطابق ’ایریڈا‘ ایک میگا واٹ کے پروجیکٹ کو ہی منظوری دے سکتا ہے  اور جہاں تک قرض کی بات ہے تو ’ایریڈا‘کسی بھی پروجیکٹ کی کُل لاگت کا ۷۰؍فیصد تک ہی قرض فراہم کر سکتا ہے ۔ اس لحاظ سے ’ایریڈا‘ ۴ء۹؍کروڑ روپے تک کا ہی قرض دے سکتا ہے ، لیکن اُس وقت کے وزیر پیوش گوئل ، امیت شاہ کے بیٹے کے پریم میں اس قدر اندھے ہوچکے تھے انہیں قانون نظر ہی نہیں آیا۔

کہانی آگے بڑھی اور کمپنی کو ’کالوپور کمرشیل کو آپریٹیو بینک‘ سے بھی ۲۵؍کروڑ روپے کا قرض مل گیا  ۔ اس کے لئے کمپنی نے  ایسی زمینیں گروی رکھیں  جن  کی کل مالیت محض ۵؍کروڑ ہے۔ اس میں امیت شاہ کے قریبی ’یشپال چداسما‘ کی بھی زمین شامل ہے ۔یہ ’یشپال چداسما‘ وہی ہیں جن پر سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر معاملے میں سی بی آئی نے چار ج شیٹ داخل کی تھی ۔

یہ ہے وہ  رپورٹ  جو ’دی وائر‘ میں شایع ہوئی۔اس پورے معاملے میں بزنس کہیں بھی نظر نہیں آتا ہے۔ کمپنیاں بنتی ہیں اور ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں ۔ کروڑوں روپے آتے ہیں اور آبی بخارات بن کر اُڑ جاتے ہیں ۔سرکاری  محکمےعام شہریوں کی خون پسینے کی کمائی کے کروڑوں روپے قانون کو طاق پر رکھ کر  قرض دے دیتے ہیں ۔ کو آپریٹیو بینک اصولوں اور ضوابط کو روند کر ایک ایسی کمپنی   کے نام پر کروڑوں روپے جاری کردیتے ہیں  جس کا وجود صرف کاغذوں پر ہی ہوتا ہے۔

روہنی سنگھ نامی جرأتمند خاتون صحافی نے امیت شاہ کے بیٹے کی اس کمپنی کے کالے کارناموں کا پردہ فاش کیا ہے ۔ یہ روہنی سنگھ وہی ہیں جنہوں نے رابرٹ وڈرا کے لین دین کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تھی جس کے بعد رابرٹ وڈرا کے خلاف بی جےپی نے ہنگامہ شروع کردیا تھا ۔ روہنی سنگھ کی اس رپورٹ کے بعد بی جےپی اب روہنی پر چراغ پا ہے۔  روہینی کے مقصد پر سوال اٹھائے جانے لگے ہیں ۔ حتیٰ کے ان کے کردار کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی جانے لگی ہے ۔ ایسا کرکے بی جےپی روہینی سنگھ کو تو خیر کیا بدنام کرےگی الٹا اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔اس رپورٹ نے بی جےپی کو جتنا نقصان نہیں پہنچایا ہے اس سے کہیں زیادہ نقصان بی جےپی اس رپورٹ پر  متکبّرانہ ردِ عمل کرکے خود کو پہنچادے گی۔ اس ’گول مال ‘ کے کئی اور زاویے ہیں لیکن ان پر کبھی اور بات ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

Close