سیاستہندوستان

گول کا الم ناک واقعہ: چند سوالات، چند اشکالات

محمد شفیع میر

سابق وزیر اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ فاروق عبداللہ کی جموں میں واقع رہائش گاہ پر مامور مسلح محافظین نے جس عام شہری کو گولی مار کر جان بحق کر دیا، اسے سپرد لحد بھی نہیں کیا گیا تھا کہ صوبہ جموں کے ضلع رام بن کے علاقہ کوہلی میں 58؍آرآر کے فوجی اہلکاروں نے دو عام شہریوں محمد رفیق گوجرولد محمد شفیع اور شکیل احمد ولد محمد یوسف شیخ پر اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دئے۔ اس کے نتیجے میں بر سرموقع محمد رفیع نامی شہری موقع اللہ کو پیارا ہوگیا جب کہ شکیل احمد شدید طور سے زخمی ہوا۔ گول کے رہنے والے یہ دونوں نوجوان مال مویشی کا کاروبار کر تے ہیں۔ اسی غرض سے یہ دونوں کوہلی گئے تھے جہاں رات کو ایک گھر میں  باضابطہ قیام کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صبح صادق جب ان نوجوانوں نے اپنے مال مویشی کو چارہ ڈالنے کے لئے دروازہ کھولا تو ان پر یک بہ یک گولیوں کی بوچھاڑکی گئی جس میں ایک نوجوان کی زندگی کا چراغ گل ہو اور دوسرا زخم زخم ہے۔

 یاد رہے کچھ برس پہلے ماہ صیام میں وردی پوشوں نے اسی طرح علی الصبح کئی شہریوں کو موت کی ابدی نیند سلادیا۔ تازہ خونین واقعہ کے ردعمل میںلوگوں کے اندر غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ لوگ اس صدمہ خیزواردات کی مخالفت میں سڑکوں پر آکر فوراًسے پیش تر احتجاج کرنے لگے۔ مقامی لوگ اس اندوہ ناک واردات پر واویلا کر تے ہوئے اس سانحہ کو ایک سوچی سمجھی سازش کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیاں اقلیتی طبقہ کو زیر کرنے کا گیم پلان ہیں۔ عام لوگ یہ الزام دیتے ہیںکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں گئو رکشک کے نام پر غنڈے بدمعاش تسلسل کے ساتھ خلاف ِ قانون اور خلاف ِ انسانیت مشن انجام دے رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں گئو رکشا کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم کر نے کاناپاک کام اب وردی پوش انجام دینے لگے ہیں۔ لوگ سوال کر تے ہیں کہ کیاعوامی تحفظ کی ڈیوٹی وردی پوشوں سے ہٹا کر اس کی جگہ انہیں جانوروں کے تحفظ کا کام سونپ دیا گیا ہے ؟ کھٹوعہ سے لے کرکوہلی تک کے سانحات باور کراتے ہیں کہ گنگا جمنی تہذیب کے دلدادہ پیارے ملک میں اب انسان کی کوئی قدر و منزلت نہیں رہی ہے، ظلم و جبر کی آندھیاں چلنا ایک عام سی بات ہوگی ہے، انسانی زندگی کا منٹوں میں خاتمہ کر نابائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے۔ یہ ساری کارستانیاںخاص طور سے ملک میں مسلمانوں کا جینا دشوار تر بنانے کے لئے ہورہی ہیں۔

گزشتہ کئی سال سے جموں صوبہ میں جس طرح مسلم آبادی آزادنہ طور شرپسندوں اور فسادیوں کا آسان شکار بنائی جا رہی ہے، وہ ہر صورت میں ا ُسی  انداز میں ایک سوچی سمجھی سازش لگتی ہے جو ملک بھر میںکہیں گائے کے نام پر ا ور کہیں سہ طلاق کے نام پر عملائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے یہ ایک عجیب و غریب معمہ ہے کہ گائے کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے خود گائے کی چمڑی تک فروخت کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اسی کمیونٹی سے وابستہ لوگ بیف کا بیوپار بڑے پیمانے پر ملکی اور غیر ملکی سطح پرکر تے ہیں۔ پھر بھیمسلمانوں کو ہی جان بوجھ کر کیوںٹارگٹ بنایا جا رہا ہے؟ نیزیہ تاثر کیوں پر وپگنڈا مشینری سے پھیلا یا جارہا ہے کہ صرف مسلمان ہی گا ئے کا ذبیحہ کھاتے ہیں جب کہ شمالی مشرقی ریاستوں میں غیر مسلم بھی اس کا بے دریغ استعمال کر تے ہیں۔ حیران کن اور تعجب خیز بات تو یہ بھی ہے کہ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارت کے سب سے بڑے اور ماڈرن ذبح خانے کا مالک ستیش اگروال نامی ایک ہندو ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ستیش اگروال  ’’الکبیر‘‘ نامی ایک بہت بڑی بیف ایکسپوٹر کمپنی کا مالک ہے اوراس کے مذبح میں روزانہ ہزاروں گائیوں کو ذبح کیا جاتا ہے، یہاں سے ہی بیف ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ملکی وغیر ملکی سطح پر بیف کا کاروبار اتنے بڑے پیمانے پر کرنے والے کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر تا لیکن دووقت کی روٹی کے طلب گار مسلمانوں کو ہجومی تشدد، ترشول تلواروں اور گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ کیسادوہرا معیار ہے ؟

 مبصرین کی رائے میںگائے کے نام پرمسلمانوں کا جینا حرام کر ناایک بہانہ ہے جب کہ اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا قافیہ حیات سیاسی مقصد کے لئے تنگ کیا جاتا رہے۔ کوہلی کی خون آشام مثال اس کہانی کے پلاٹ کو اورواضح کر تی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق آر آر کے متعلقہ یونٹ کے نوجوانوں نے مبینہ طور دس کلو میٹر پیدل سفر طے کر کے اپنا آپریشن پورا کیا مگر سوال یہ ہے کہ پولیس کو کیوں پیشگی طور اس کارروائی کی اطلاع نہ دی گئی ؟ یہ ایک حیران کن سسپنس ہے۔ کیا آر آر یونٹ کی جانب سے متعلقہ پولیس کو پیشگی طور مطلع نہ کرنے سے متر شح نہیںہو جاتا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ یہ سانحہ انجام پانے کے بعد پولیس چند ہی منٹوں میں جائے واردات پر پہنچی مگر فائدہ ندارد۔ اس  المیہ میں زخمی ہوا نوجوان شکیل احمد ہسپتال میں زیر علاج ہے، اس سانحہ کے بارے میں موصوف کا کہنا تھا کہ ’’ہم قریباً چار بجے صبح جونہی مویشیوں کو چارہ ڈالنے کے لئے دروازے سے باہر نکلے توآنا فاناً گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی، پہلی گولی میرے ساتھی محمد رفیع  کو لگی، وہ ایک دم زمین پر گر پڑا اور موقع پر ہی شہید ہوگیا۔ میں ابھی رفیق کے بے جان جسم کو سنبھالنے کے لئے آگے بڑھا ہی تھاکہ یک بار مجھ پر بھی گولیوں کی برسات شروع کر دی گئی، اگرچہ پانچ گولیاں میرے جسم میں پیوست ہو گئیں لیکن میں بچ نکلا۔ ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں کہ ہمار ے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟ کس گناہ کی پاداش میں ہم پر گولیاں چلائی گئیں؟ ہمیں موت کے گھاٹ اُتارنے کے لئے کیوں ڈرامائی انداز میں یہ سب ہوا ؟

حالانکہ ہمارا کسی کے ساتھ کیا اختلاف ہو سکتا ہے۔ زخموں سے کراہ رہے شکیل کا دعویٰ ہے کہ ہمارے دیگر دو ساتھیوں کا وردی پوشوں نے شدید زد کوب کیا، شدید مار پیٹ کے بعد جب  ان دو ساتھیوں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا تو وہ فوری طور بھاگ کھڑے ہوگئے۔ متعلقہ فوجی یونٹ نے کوہلی میں ظلم و جبر کی جو انتہا کی، وہ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بے قصوروں کو ڈرایا دھمکایا اور ستایا جا رہا ہے۔ زخمی شکیل احمد کے ایک قریبی رشتہ دار کا کہنا تھا کہ جب ہمیں اس دلدوزواردات کی خبر ملی تو ہم بھونچکا رہ گئے۔ کیا انصاف کے بیاندی تقاضوں کے مطابق گورنر انتظامیہ متعلقہ آرمی والوں سے پوچھنے کی زحمت گوارا کر ے گی اگر آپ کو کوہلی میں ’’چار دہشت گردوں‘‘ کی موجودگی کی خبر ملی تھی تو پھر اتنے بڑے آوپریشن کو انجام دینے کیلئے صرف تین یا چار اہل کار کیوں موقع ٔ واردات پر بھیجے گئے؟

عمومی صورت حال یہ ہے اگر آرمی کوکبھی کسی بستی میںایک ہی ملی ٹنٹ کی اطلاع مل جاتی ہے تو سب سے پہلے فوج اُس کا محاصرہ کر لیتی ہے جہاں پر ملی ٹنٹ کے موجود ہونے کی اطلاع ہو۔ پھر عوام کو ایسے مقام سے دور رہنے کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ collateralنقصان سے بچا جاسکے لیکن کوہلی آوپریشن میںsop کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ یہ کیا ماجرا ہے ؟کیا یہ آپرویشن ملی ٹنٹ کو مار گرانے کے لئے تھا یاا س سے کسی اور مقصد کو پوراکر نا مطلوب تھا؟ یہ کیسا انوکھا انکائونٹر تھا کہدو نہتے نوجوانوں کو یہ دیکھے بغیر موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا کہ آیا وہ عام سوئیلین ہیں یا عسکریت پسند۔ اربابِ اقتدارکو چاہیے کہ اس پُر اسرار معاملے کی تہ تک جاتے ہوئے اصل حقائق کو سامنے لائیں اور جس کسی نے بھی کوہلی میں ایک نوجوان کو ابدی نیند سلادیا اور دوسرے کو مضروب کر کے چھوڑا، اس بارے میں ملوثین کو قانون کے کٹہرے میں اسی طرح کھڑا کیا جائے جیسے ماہ ِرواں کی ۲؍ تاریخ کو سی بی آئی نے منی پورہ میں آسام رائفلز سے وابستہ ایک فوجی آفسر میجر وجے سنگھ بلہرا کو دوسرے سات وردی پوشوں کے ہمراہ ایک بارہ سالہ لڑکے کو ماورائے عدالت قتل کے الزام میں ماخوذ ٹھہرایا۔ گول کے غم زدہ عوام بالخصوص متاثرہ کنبہ فی الحال انصاف کی تک رہے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ سنگین جرم میں ملوثین کو قانون کے سامنے لا کھڑا کیا جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close