سیاستطنزو مزاح

گؤ ماتا کے بول بچن

ڈاکٹر سلیم خان

للن رپورٹر سے کلن ڈرائیور نے کہا سنا تم نے کل یگ میں گائے بھی بولتی ہے

للن نے چونک کر پوچھا کیا بکتے ہو؟  کہیں تم بلند شہر ان گایوں کی بات تو نہیں کررہے ہو جن کی ہڈیاں کھیتوں میں پائی گئیں؟

کلن بولا نہیں بھائی موت کے بعد گائے کیا انسان بھی نہیں بولتے۔  میں کسی خیالی نہیں بلکہ حقیقی گائے کی بات کررہا ہوں۔

یہ افواہ تم نے واٹس ایپ پر تو نہیں دیکھ لی؟ اخبار پڑھا کروتاکہ جھوٹ سچ کا پتہ چل سکے۔ کچھ نہیں تو اپنا امر اجالا۔

مجھے پتہ ہے تم ہندوستان ٹائمز پڑھ کر امراجالا میں لکھ دیتے ہو۔ میں نے یہ خبر اپنے لوکل اخبار ہاتھرس سماچار میں پڑھی ہے۔

اچھا کہاں ہوگیا یہ چمتکار ؟

اپنے ورنداون میں اور کہاں؟

ہاں سمجھ گیا تم نے صرف سرخی دیکھی ہوگی۔ پوری خبر نہیں پڑھی۔

ارے یہ تمہیں کیسے پتہ چل گیا۔ انتریامی ہوگئے ہو کیا؟

نہیں بھائی ایسی بات نہیں۔ ورنداون کی لاوارث بیواوں کو بھی ماتا کہتے ہیں۔ وہ بیچاری بولتی تو بہت ہیں لیکن سنتا کون ہے؟

نہیں بھائی اس سماچار کے پیٹ میں گئو ماتا کی تصویر بھی تھی۔

کیا تمہارے پاس ابھی ہاتھرس سماچار ہے۔

کیوں نہیں گاڑی میں رکھا ہے ابھی لاتا ہوں۔ تم خود دیکھ لو۔

 اخبار دیکھنے کے بعد للن رپورٹر کے چودہ طبق روشن ہوگئے وہ بولا یار کمال ہوگیا! گوکل آشرم کی یہ گائے تو واقعی بولتی  ہے۔

تو کیا میں جھوٹ بول رہا تھا ؟

یار بات ایسی ہے کہ کسی بڑے اخبار میں یہ سماچار نہیں چھپا۔ تم اگر مجھے ہاتھرس لے چلو تو میں اس کا انٹرویو لے لوں۔

بھائی میرا تو یہی دھندا ہے اس لیے چلوں گا  کیوں نہیں؟ مگر کم ازکم پٹرول تو ڈلواو گے نا؟ یا یونہی  مفت ؟

گاڑی کا ایندھن  اور ڈرائیورکا بھوجن میرے ذمہ۔ میری طرف سے دعوت ہے جو چاہو کھاو۔

کلن خوش ہوگیا۔ اس روز کوئی بکنگ نہیں تھی سوچا کھانے پینے کا جگاڑ کے ساتھ  اپنے دوست پر احسان بھی تھوپ دیا جائے گا۔ ورنداون کے گوکل آشرم  میں پہنچ کر للن رپورٹر نے اپنا عندیہ بتایا تو آشرم کے سنچالک نےکہا یہ گائے کے مطالعہ کا وقت ہے اس لیے خلل اندازی نہیں ہوسکتی۔ آپ کو شام تک انتظار کرنا پڑے گا۔

کلن نے پوچھا گائے کا پڑھنا لکھنا کبھی نہیں سنا؟

سنچالک بولے گائے کا بولنا سنا تھا؟

نہیں وہ بھی نہیں سنا ؟

تب !بولنے کے لیے پڑھنا بھی تو پڑتا ہے۔ وہ نیتا تھوڑی نا ہے کہ جو منہ میں آیا بک دیا اور نہ پترکار ہے کہ جو جی میں آیا لکھ مارا۔

للن بولا آپ میری توہین کررہے ہیں۔

سونچالک نے کہا شما چاہتا ہوں میں آپ کے بارے میں نہیں کہہ رہا تھا۔ آپ اگر ان میں سے ہوتے تو یہاں آنے کا کشٹ نہیں کرتے۔

للن خوش ہوگیا اور بولا اگر یہ کام جلدی ہوجائے توکل ہی امر اجالا میں آپ کی گائے کا نام روشن ہوجائے۔

سنچالک نے جواب دیادیکھیے ہماری گائے کا نام تو ویسے بھی روشن ہے لیکن آپ اپنی نوکری کی خیر منائیں۔ یہ بہت منہ پھٹ گائے ہے۔

آپ اس کی چنتا نہ کریں میں اپنے فرض منصبی پرملازمت کو قربان کرسکتا ہوں۔

ٹھیک ہے تو آپ شام سات بجے آکر انٹرویو لے سکتے ہیں تب تک آشرم کے مہمان خانے میں آپ کے وشرام کا بندوبست کردیتے ہیں۔

شام سات بجے ایک نیم تاریک باڑے للن اور کلن کو لے جایا گیا۔ وہ لوگ ایک چار پائی پر بیٹھ گئے۔ دور ایک گائے بندھی تھی۔

للن نے پوچھا وہ تو بہت دور ہے ہمارے پرشن کیسے سنے گی؟

سنچالک بولا دیکھئے یہ سنسکاری اور شرمیلی گائے اس لیے دور سے بات کرے گی۔ ہم نے آپ دونوں کے لیے مائک اور اسپیکر کا بندو بست کردیا ہے۔

کلن نے دیکھا گائے کے سامنے ایک مائک رکھا تھا اور اس کے پاس بھی مائک موجودہے۔ وہ بولا یاربڑا ہائی فائی گوکل دھام ہے۔

للن نے بات چیت شروع کی پرنام ماتا جی۔ آپ کیسی ہیں ؟

سکھی رہو۔ میں جیسی بھی ہوں  تمہارے سمکش (سامنے)ہوں۔ آواز میں سوز و درد واضح تھا۔

ماتا جی آج کل تو آپ کا زمانہ آیا ہے۔ سارے دیش میں آپ کی پوجا ارچنا ہورہی ہے۔

سوتو ہے لیکن  پوجا  سے میرا پیٹ نہیں  بھرتا مجھے تو چارہ چاہیے۔

تو کیا آپ کو چارہ نہیں ملتا۔

ملتا تو ہے لیکن اپنے گھرمیں نہیں ملتا اس لیے بیواوں کی طرح آشرم میں آنا پڑتا ہے۔

ہاں یہ بات تو ہے جو بیٹے اپنی جنم دینے والی ماں کو نہیں پالتے وہ دودھ پلانے والی ماتا کی دیکھ بھال کیسےکر سکتے ہیں لیکن پیٹ تو  بھرجاتا ہے گھر میں آشرم میں کیا فرق پڑتا ہے؟

بھائی پیٹ بھی تو نہیں بھرتا۔ کسی طرح زندہ ہیں۔

لیکن سرکار تو گئو شالا کے لیے زمین دیتی ہے اور انودان بھی مہیا کرتی ہے۔

یہ درست بات ہے دراصل میرے نام نہاد گئو رکشکوں کی ساری دلچسپی اس زمین میں ہے۔ ہمارے طفیل یہ جائیداد جب  ان کے قبضے میں آجاتی ہے تو وہ ہم سے منہ پھیر لیتے  ہیں۔

اچھا تو پھر کیا ہوتا ہے۔ یہ کلن کا سوال تھا۔

 اس کے بعد وہ لوگ ہمیں گئو سیوکوں  کے حوالے کردیتے ہیں۔

اچھا تو کیا یہ گئو رکشک اور گئو سیوک  الگ الگ طبقات ہیں؟

جی ہاں کیا تم نے سنگھ سیوک میرا مطلب ہے پردھان سیوک کا  وہ مشہوربھاشن نہیں سنا جس میں انہوں نے یہ فرق بیان کرنے کے بعد کہا تھا گئورکشکوں کے پولس ریکارڈ جانچے جائیں تو ۸۰ فیصد مجرم نکلیں گے۔

تب تو یہ خطرناک لوگ ہیں پھر آپ لوگوں کو ان کے حوالے کیوں کیا جاتا ہے؟

تم بہت بھولے پترکار ہو۔ یہ لوگ کسی حوالگی کا انتظار نہیں کرتے بلکہ آگے بڑھ کر ہمیں اپنے مالک سے چھین لیتے ہیں۔ سرکار کی زمین ہتھیا کر اس پر گئوشالہ کی تختی لگا دیتے ہیں۔ یہی ہماری خدمت کے لیے گئوسیوکوں کا تقرر فرماتے ہیں۔ ان کو چھانچ پکڑا کر خود ملائی کھاتے ہیں۔

لیکن ماتا جی آپ لوگوں پرورش کے لیے دی جانے والی سرکاری امداد کہاں جاتی ہے؟

 دیکھو بیٹے پہلے تو وہ ناکافی ہوتی ہے اور پھر ہمارے دیش کی بالٹی میں جو بدعنوانی کا  سوراخ ہے اس سے بہت کچھ باہر نکل جاتا ہے۔

خیر آپ تنہا اس   مسئلہ نہیں جوجھ رہی ہیں بلکہ سارے دیش واسی اس سے پریشان ہیں  لیکن اس کا حل کیا ہے؟

اس کا حل سرکار نے بتایا کہ ہمارے گئو سیوک گوبر اور گئوموتر بیچ کر اضافی آمدنی حاصل کریں۔

یہ تو بڑا اچھا حل ہے۔

کہنے کو بہت اچھا ہے لیکن یہ سب  خریدتا کون ہے ؟

کیا مطلب ؟

ارے بھائی جو چیز  مفت میں مل جائے اس کو کون خریدے اور پھر  سنا ہے کسی دھرو راٹھی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ گئو موتر اور مانو موتر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم مرارجی دیسائی کا بھی یہی خیال تھا اس لیے وہ خود کفیل تھے۔

خیر اس میں تو گئوسیوک کا نقصان ہے  آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟

فرق کیوں نہیں پڑتا۔ اس کا پیٹ جب نہیں بھرتا تو وہ میرا چارہ بیچ کھاتا ہے۔ کیا تم نے چارہ گھوٹالا کے بارے میں نہیں سنا؟

اچھا یہ بتاو کہ اس مسئلہ کی وجہ کیا ہے؟

گئو ماتا اس سوال پر کچھ دیر جگالی کرتی رہی اور پھر بولی اصل وجہ حرص و ہوس ہے۔ میرے مالک کی لالچ۔

للن رپورٹر کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا لیکن کلن ڈرائیور بیچ میں بول پڑا۔ یہ کیا کہہ رہی ہو ماتا  جی میری سمجھ میں نہیں آیا۔

گائے بولی تم تو ڈرائیور ہو؟ تمہیں اخبار میں لکھنا ہے  کیا؟

کلن بولا لکھنا نہیں ہے تو کیا ہوا ؟ سمجھنا تو ہے۔ آخر میں بھی گئو سیوک ہوں۔

ارے تم جیسے گئو سیوک میں نے بہت دیکھے ہیں۔ میرا سوامی (مالک) بھی یہی کہتا تھا لیکن ایک دن وہ میری سوتن لے آیا۔

اس بات للن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ بولا سوتن کیا مطلب؟

مطلب جرسی گائے اور کیا؟ تم نے کبھی جرسی گائے نہیں دیکھی کیا؟

جی ہاں وہ گوری چٹی ّ ، چمکیلی جلد والی گائے تو سب کو معلوم ہے ؟

اسی لیے میرا سوامی اس پر لٹو ّ ہوگیا اور دن رات اس کی خدمت  کرنے میں  لگ گیا۔ مجھ کو بالکل بھول ہی گیا۔

کلن پھر سے درمیان میں بول پڑا۔ بات صرف رنگ کی نہیں بلکہ وہ دودھ بھی تو زیادہ دیتی ہے۔

گئوماتا نے کہا اسی کو میں حرص کہہ رہی تھی۔ اپنی سوتیلی ماتا کے چکر میں اس  نے دیسی ماتا کو بھلا دیا۔

للن بولا ہم سودیسی اور پردیسی ماتا کے بیچ بھید بھاو نہیں کرتے۔

گئو سیوک کرتے ہیں۔ اب زمانہ پھر سے بدل گیا ہے۔

کیا مطلب ؟

جب سے گئو کشی پر پابندی لگی جرسی گائے کے بھی اچھے دن چلے گئے۔ اب کسانوں نے ہر قسم کی گائے پالنا بند کردی۔

لیکن دودھ کی ضرورت تو ان کو بھی ہے۔

اس سے کس کو انکار ہے لیکن دودھ کالی کلوٹی بھینس بھی دیتی ہے

اگر یہی بات ہے تو گائے کے بجائے بھینس کیوں پالی جائے؟

اس لیے کہ جب وہ دودھ دینا بند کرتی ہے تو اسے  بوچڑ خانے والے خرید کر لے جاتے ہیں اور جو روپیہ ملتا اس میں کچھ اور ملا کر وہ نئی بھینس لے آتا ہے۔

اچھا تو آپ لوگوں کا کیا ہوتا ہے؟

ہمیں گھٹ گھٹ کے مرنے کی خاطر  لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔

کلن بولا اگر ایسا ہے تو آگے کیا ہوگا؟

آگے چل کر ہندوستان کے اندر تمہاری  یہ ماتا صرف کتابوں اور فلموں میں دکھائی دے گی۔

کلن نے پوچھا وہ کیوں ؟

گائے نے قہقہہ لگا کر کہا جب کوئی اسے پالے گا ہی نہیں تو اس کا وجود کیسے قائم رہے گا؟

یہ سن کر للن کا موڈ خراب ہوگیا۔ وہ بولا اچھا ماتا جی اب ہم چلتے ہیں۔ پرنام۔

گاڑی کے اندر کلن نے سوال کیا للن کیا واقعی وہ گائے ہم سے باتیں کررہی تھی ؟

اس میں کیا شک ہے؟

مجھے تو شبہ ہے۔ ایک تو وہ دور تھی اور اندھیرا بھی تھا۔

لیکن اس کے پاس مائک تھا اور اسپیکر سے صاف  آواز آرہی تھی۔

کلن نے کہا جی ہاں  اسی لیے تو مجھے شک ہے۔ لگتا ہے کوئی اور مائک میں بول رہا تھا اور ہم لوگ سن رہے تھے۔

لیکن وہ تو نسوانی آواز تھی۔

تو سمجھ لو کہ کوئی عورت بول رہی تھی۔ ویسے مرد بھی عورتوں کی آواز بنا کر بولتے ہیں۔

یار کلن پہلے تو اس گائے نے میرا موڈ خراب کیا اب تم نہ کرو۔ کیا سمجھے؟

ارے بھائی تو حقیقت بیان کررہا ہوں۔ اب تمہاری مرضی ہے چاہو تو مانو چاہے نہ مانو۔

اچھا تو کیا تمہارا شک اب یقین میں بدل گیا؟

جی ہاں تم جیسے مورکھ پترکاروں کی وجہ سے ایسا ہی کچھ ہوگیا۔

للن بولا دیکھو اب اس گائے کا انٹرویو تو چھپنے سے رہا۔ تم گاڑی کو بلند شہر کی جانب موڑ دو۔

وہاں جاکر کیا کریں گے ؟

میں سبدھ کمار کے پریوار والوں سے بات کروں گا۔ اس کی ماتا جی۔ بیوی سے  اور بچوں سے۔  کلن نے گاڑی کا رخ بلند شہر کے سیانہ گاوں کی جانب موڑ دیا۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close