سیاست

ہار برداشت کرنا کانگریس سے سیکھو

حفیظ نعمانی

زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ آسام کی مردم شماری کے رجسٹر کے اعتبار سے ایک خبر میڈیا نے پھیلائی کہ 40  لاکھ بنگلہ دیش کے رہنے والے 1971 ء کے زمانہ میں چوری چھپے آسام میں آگئے۔ ان گھس پیٹھیوں کو حکومت آسام واپس بھیج دے گی۔ یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں کہ آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ یہ خبر کیا اُڑی کہ امت شاہ جیسے مزاج کے نیتا کے دل میں لڈو پھوٹ گئے اور انہوں نے اُٹھتے بیٹھتے چالیس لاکھ گھس پیٹھیوں بنگلہ دیشیوں یعنی مسلمانوں کو آسام سے نکلتا ہوا دیکھنے کا پروگرام بنالیا۔ اس کے بعد ہر شہر کے اور ہر جلسہ میں 40  لاکھ مسلمان گھس پیٹھیوں کو وہ نکالنے کی من پسند خبر سناتے رہے۔ ان چالیس لاکھ کی فہرست میں مرحوم صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے خاندان کے لوگ بھی تھے اور فوج کے وہ اعلیٰ افسر جو ملک کی خدمت کرکے ریٹائر ہوگئے تھے ان کا نام بھی تھا۔

بات جب سپریم کورٹ کے سامنے آئی تو محترم جج صاحبان نے آسام کی مردم شماری کرانے والے افسروں کو جوتے تو نہیں مارے لیکن اتنا ذلیل کیا کہ ان کی زبان تالو سے لگ گئی۔ اور جب اعلیٰ افسروں نے اس کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان میں لاکھوں ہندو بھی ہیں اور وہ بھی ہیں جو سیکڑوں برس سے رہ رہے ہیں اور رفتہ رفتہ نوبت یہ آگئی کہ شاید چند ہزار ایسے نکلیں جو کسی بھی ذریعہ سے یہ ثابت نہ کرسکیں کہ وہ پشتوں سے آسامی ہیں۔ اس کے بعد سے شری امت شاہ کی بولتی بند ہے۔ اب وہ نہیں بتاتے کہ وہ چالیس لاکھ گھس پیٹھئے کہاں گھس گئے؟

یہی حالت رافیل سودے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پھر تمام بی جے پی لیڈروں کی ہوئی۔ میڈیا نے سب سے پہلے صرف اتنا کہا کہ رافیل کی خریداری میں سپریم کورٹ نے مودی جی کو کلین چٹ دے دی۔ اس کے بعد ہر بی جے پی نیتا راہل گاندھی سے معافی کا مطالبہ کرنے لگا۔ پارلیمنٹ میں بھی نعرے لگائے وزیر داخلہ راج ناتھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ راہل گاندھی نے عالمی طور پر ملک کو بدنام کیا ہے اس لئے انہیں معافی مانگنا چاہئے۔

ہوسکتا ہے ملک کے عوام بھی اسے مودی کی جیت اور راہل کی ہار سمجھ رہے ہوں۔ ہر آدمی کو یہ نہیں معلوم کہ سپریم کورٹ سے راہل گاندھی نے انصاف نہیں مانگا تھا۔ وہ تو سی اے جی سے اس سودے کی تحقیقات کرانے پر پہلے دن سے زور دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ شیوپرساد سنہا اور پرشانت بھوشن ایڈوکیٹ گئے تھے۔ اور اس سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ پرشانت بھوشن نے ان کے فیصلہ کو غلط قرار دیا ہے اور بی جے پی نے اپنی رپورٹ میں جھوٹ ملا دیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ جب ایک فریق عدالت گیا ہی نہیں تو اس کی ہار کیسے ہوگئی اور سپریم کورٹ کے ججوں نے کئی معاملات کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ ہمارے موضوع کی چیز نہیں ہے۔ لیکن امت شاہ جو پانچ ریاستوں میں سو فیصدی ذلت آمیز ہار کی وجہ سے منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے تھے ا کو یہ کٹا پٹا ادھورا فیصلہ کلین چٹ لگا اور انہوں نے اسے راہل گاندھی کے منھ پر چپت اور چانٹا کہہ کر جلتے ہوئے دل پر پانی ڈالنے کے بجائے مٹی کا تیل ڈال دیا جس کی وجہ سے شعلہ اور بھڑکا اور راہل گاندھی نے پھر کہا چوکیدار چور ہے اور اصرار کیا کہ سی اے جی سے اگر تحقیقات نہیں ہوگی تو ہم برابر یہی کہیں گے کہ سودے میں گول مال ہوا ہے۔

امت شاہ ذراسی جھلک دیکھ کر بچوں کی طرح تالی بجانے لگتے ہیں انہیں ایک صدر کی حیثیت سے جائزہ لینا چاہئے کہ اس تلنگانہ میں جہاں کھڑے ہوکر یوگی بابا نے کہا تھا کہ اگر ہماری حکومت بنی تو اویسی ایسے بھاگے گا جیسے نواب بھاگا تھا۔ اور نتیجہ آیا تو اویسی کو سات سیٹیں ملیں اور امت شاہ اور یوگی کو ایک سیٹ ملی اسی طرح میزورم میں اگر کانگریس ہاری تو بی جے پی کو تو صرف ایک سیٹ ملی۔ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کہی جانے والی کو جہاں ایک ایک سیٹ ملے اور جس چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ نے یوگی مہاراج کے بار بار پائوں چھوکر یہ سمجھا کہ ان کا جتانے والے بھگوان سے گہرا تعلق ہے یہ ساٹھ سیٹیں تو ضرور دلوادیں گے۔ وہاں صرف سولہ سیٹیں ملیں۔ امت شاہ کے بارے میں میڈیا میں کہا گیا تھا کہ اب راجستھان میں مودی جی کی پانچ ریلیاں اور ہوں گی اور امت شاہ آخر تک ڈیرہ ڈال کر پڑے رہے۔ وہ اس راجستھان کو بھی نہیں بچا سکے۔ اس کے بعد صرف سونیا اور راہل کو برا بھلا کہنا کیا اس ذلت کو کم کرسکتا ہے؟

ہندوستان میں اتنے مضبوط وزیراعظم کی اس راہل گاندھی کے مقابلہ میں اتنی ذلت آمیز شکست جس کو وہ پاکستان سے سازباز کرنے والا اور انتہائی کمزور لڑکا سمجھتے تھے یہ سبق دیتی ہے کہ یہ دیکھیں کہ انہوں نے ایسا کیا کیا کہ جو نوجوان مودی مودی مودی کی مالا جپتے تھے وہ راہل راہل کررہے ہیں۔ مودی جی کی وہ تقریر جو انہوں نے اتوار 16  دسمبر کو رائے بریلی میں کی ہم نے پوری سنی وہ سرکاری پروگرام تھا گورنر بھی موجود تھے انہیں ریل کے کوچ فیکٹری کو اور زیادہ بڑا بنانا تھا اور نوجوانوں کو اُمید دلائی تھی کہ اب اس کے بعد ہر صلاحیت کے نوجوان کو اس فیکٹری میں روزگار ملے گا۔ لیکن ہمیں عجب سا لگا کہ ریل کے ڈبوں کی اور روزگار کی بات تو انہوں نے اتنی نہیں کی جتنا زور اس پر دیا کہ کانگریس نے تو بہت چھوٹا سا کارخانہ قائم کردیا تھا جس کا مقصد صرف ووٹ لینا تھے ہم نے اسے اتنا بڑا بنا دیا ہے جو دنیا کے کارخانوں میں سب سے زیادہ روزگار دے گا۔ غرض کہ آدھی سے زیادہ تقریر پانچ ریاستوں میں شکست دینے والے راہل گاندھی اور کانگریس پر ہر طرح کا الزام لگاکر اپنے دل کی بھڑاس نکالی جس سے ہر سمجھدار آدمی کو یہ اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مقصد صرف کلیجہ ٹھنڈا کرنا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close