سیاست

ہاں میں اختر الایمان ہوں!

نازش ہماقاسمی

جی اخترالایمان، ایمان کا ستارہ، سیمانچل کا مسیحا، کشن گنج کا رہبر، مسلمانوں کا غم خوار، مظلوموں کا ہمدرد، دلتوں کا دوست، ظلم پر سوال کرنے والا، ظالموں کو آنکھیں دکھانے والا، ایوان اسمبلی میں آئینی حقوق کی بازیابی کے لیے گرجنے والا، بہار کا تین بار سابق ممبر اسمبلی، ایم آئی ایم مجلس اتحاد المسلمین صوبہ بہار کا موجودہ صدر، انتہائی ذہین، زیرک، دانشور، سلجھا ہوا، عوامی درد کو سمجھنے والا، مجبوروں کو قریب سے دیکھنے والا، زمینی سطح پر کام کرنے والا رہنما، عوام کے دلوں کی دھڑکن، نوجوانوں کی امید، لوک سبھا ۲۰۱۹ الیکشن کا حلقہ کشن گنج سے امیدوار اخترالایمان ہوں۔

میری پیدائش ۱۹۶۴ میں اپنے نانا محترم حاجی کفیل الدین کے یہاں مودھو کوچا میں ہوئی۔ میرے آبائی گاؤں کا نام ٹینا ہے جو نانیہال سے تقریباً تین کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ والد محترم کا نام مولانا عبدالرشید صدیقی (اللہ انہیں غریق رحمت کرے) ہے جو اپنے دور میں علاقے کے بااثر عالم دین اور مرجع الخلائق تھے۔ میری چار بہنیں اور چار بھائی ہیں جن میں بڑا میں اخترالایمان، دوسرے مولانا اخترالاسلام ندوی، تیسرے تنزیل الرحمن صدیقی اور چوتھے تفہیم الرحمن صدیقی ہیں۔ میری شادی ۱۹۹۱ میں سنگھاڑی گاؤں میں ہوئی۔میری دو لڑکیاں اور چار لڑکے ہیں۔ میری بسم اللہ والد محترم سے ہوئی اس کے بعد علاقے کے مشہور ومعروف ادارہ ’انسان اسکول‘ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے مگدھ یونیورسٹی (گیا) میں داخلہ لیا اور وہاں سے ایم اے اردو کیا۔

والد محترم کے وصال کے بعد ان کی جگہ سماجی خدمت گار کے طور پر علاقے کے دبے کچلے پچھڑے عوام کی مسیحائی کی، ساتھ ہی ساتھ اپنے اہل خانہ کی پرورش بھی کی، بڑا بھائی ہونے کے ناطے اپنے بھائی بہن کو والد سا پیار دیا، انہیں اعلیٰ تعلیم سے مزین کیا اور روزی و روزگار سے جوڑا، رشتہ ازدواج سے منسلک کرکے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوا۔ میں شروع سے ہی انتہائی شریف النفس، غم خوار اور ذمہ داری اُٹھانے والا انسان ہوں۔ علاقے میں عوام کو بنیادی سہولیات نہ ملنے پر ہمیشہ کڑھتا رہا، یہاں (حلقہ کشن گنج ) سے بڑے بڑے لیڈران منتخب ہوئے؛ لیکن ایک دو رہنمائوں کو چھوڑ کر اکثر نے کوئی ایسا کام کام نہیں کیا جس سے یہاں کی تقدیر بدل جاتی، ترقیاتی کاموں میں ابھی بھی یہ علاقہ بہار کے دوسرے علاقوں سے برسوں پیچھے ہے۔

کوسی کے قہر سے برباد، اپنے بہترین مسیحا کی تلاش میں یہ علاقہ مجھ سے امیدیں قائم کیے ہوا تھا، اسی امید پر کھرا اترنے کے لیے میں نے سب سے پہلے ۲۰۰۴ میں ضلع پریشد کا الیکشن لڑا اور عوامی خدمت کے لیے عوام نے مجھے منتخب کرلیا اس کے بعد میں پیچھے نہیں مڑا ہمیشہ آگے ہی دیکھتا رہا، اور تین بار لالو پرساد یادو کی پارٹی سے ممبر اسمبلی منتخب ہوکر ایوان اسمبلی میں گرجا، حقوق کے لیے آوازیں اُٹھائیں، علاقے کو مثالی بنانے کے اقدام کیے، مجبوروں کو حوصلہ دیا، نوجوانوں کو امنگیں بخشی، اور پھر ۲۰۱۴ کے عام انتخاب میں نئے عزم وحوصلے کے ساتھ نتیش کمار کی پارٹی سے پرچہ نامزدگی داخل کیا؛ لیکن اہم کانگریسی رہنما مولانا اسرارالحق قاسمیؒ کی جیت اور فرقہ پرست پارٹی کو ہرانے کے لیے انتخاب سے چند دن قبل اپنا پرچہ واپس لے کر مولانا کی حمایت کرتے ہوئے ایثار کی ایک مثال قائم کی ، میں ملت کے ’اسرار‘ کا ساتھ دے کر ’اشرار ‘ کی ہار کا سبب بنا اور مولانا مرحوم تاریخ ساز ووٹوں سے جیت کر ایوان میں پہنچے۔ میرے اس ایثار کو سیمانچل سمیت پورے ملک میں سراہا گیا دیکھتے ہی دیکھتے میں پورے ہندوستان میں ایثار وقربانی کا استعارہ قرار دیا گیا۔

ہاں میں وہی اخترالایمان ہوں جس پر سیمانچل کے گاندھی تسلیم الدین اعتماد و بھروسہ کیا کرتے تھے، انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح چاہا، اور بہترین مشورے دیے، سیاسی داؤ پیچ سے واقف کرایا، ہاں میں وہی اخترالایمان ہوں جو کوسی کے سیلاب زدگان کی داد رسی کے لیے راتوں کی نیند، دن کا آرام سبھی قربان کرکے ان کے درمیان موجود رہا، انہیں اپنی پارٹی کی جانب سے کی جانے والی امدادیں جس میں دوائیاں، ڈاکٹرس اور کھانے پینے کے علاوہ دیگر بنیادی سہولیات تھیں پہنچاتا رہا، ان کے لیے بارش اور سیلاب سے بچنے کے اسباب مہیا کرتا رہا، سیلاب میں ڈوبتوں کے لیے میں اس وقت تنکوں کا سہارا تھا، ہاں میں وہی اخترالایمان ہوں جسے پپو یادو سمیت اہم سیاسی وسماجی، ملی، دینی لیڈران کی حمایت حاصل ہے، ہاں وہی اختر الایمان جس پر پروفیسر اخترالواسع نے اعتماد وایقان کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ میں اختر الواسع ہوں اور اخترالایمان پر یقین رکھتا ہوں انہیں کامیاب بنانا ضروری ہے‘‘۔

ہاں میں اختر الایمان ہوں جس کی جیت کے لیے بہار سمیت پورے ملک کے انصاف پسند سیکولر عوام مسلمان و دلت دعائیں کررہے ہیں۔ ہاں میں وہی اختر الایمان ہوں جو کشن گنج میں اے ایم یو سینٹر کےقیام کے لیے مولانا اسرار الحق قاسمیؒ کے شانہ بشانہ رہا، ہاں میں وہی اخترالایمان ہوں جس نے ممبر اسمبلی رہتے ہوئے بدعنوان افسروں پر کارروائی، اردو اساتذہ کی بحالی، قبرستان کی گھیرا بندی، مدرسوں میں سہولیات فراہم کرنے، مولوی بحالی میں بدعنوانی پر کارروائی، علاقہ میں بجلی فراہمی، کشن گنج میں وگیان کیندر کے قیام، اقلیتی مالیاتی فنڈ، سیمانچل میں صاف پانی کی دستیابی،مدرسہ اساتذہ کی بقایہ تنخواہ کی ادائیگی، اقلیتی ہاسٹل کے قیام، مدرسہ کی ڈگریوں کی مساویت سمیت ان جیسے دیگر اہم مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کروائی۔ ہاں میں وہی اخترالایمان ہوں جس کا یہ قول مشہور ہے کہ ’’لیڈر قوم کی بہتری کے لیے سوچتا ہے، جبکہ ٹھیکداروں کو اپنے فائدے کی فکر ہوتی ہے۔ ٹھکیدار کبھی رہنما نہیں بن سکتا اور رہنما کبھی ٹھیکدار نہیں بن سکتا میں سیاست میں ٹھیکداری کے لیے نہیں آیا، بلکہ قوم کی بھلائی کے لیے آیا ہوں‘‘۔

اسی بھلائی کے دائرہ کو وسیع کرنے کے لیے، سیمانچل کے ابتر حالات کو بدلنے کے لیے، کشن گنج کے پریشاں حال عوام، بیروزگار نوجوان، دبے کچلے، برسوں سے ستائے ہوئے دلتوں کے لیے ایوان میں پہنچنا چاہتا ہوں جہاں جاکر ان کے حقوق کے لیے لڑوں گا، اسی لڑائی کے لیے میں مجلس اتحادالمسلمین کے ٹکٹ پر لوک سبھا کا امیدوار ہوں پرچہ نامزدگی داخل کرچکا ہوں۔ اس حلقے سے خود سیکولرازم کا تمغہ اپنے نام الاٹ کرانے والی پارٹیوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں، مسلم ووٹ کو منتشر کرنے کے لیے ہر سیکولر پارٹی نے اپنے اپنے امیدوار کو کھڑا کر کے بی جے پی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ اپنی کوششوں میں ناکام ہوجائیں گے، زمینی سطح پر عوام کے دلوں و دماغ میں اب کی بار اخترالایمان چھایا ہوا ہے، وہ کسی سیکولر کے امام کے مقتدی نہیں بنیں گے، بلکہ قوم کی بے باک وحوصلہ مند آواز بیرسٹر اسدالدین اویسی کو تقویت پہنچانے کے لیے ان شاء اللہ میرا انتخاب کریں گے، میں یہ باتیں صرف ہوا میں ہی نہیں کہہ رہا، بلکہ کشن گنج حلقہ لوک سبھا کے عوام کے میرے تئیں جذبات اس بات کی عکاس ہے کہ انہوں نے مجھے اپنا ممبر آف پارلیمنٹ منتخب کرلیا ہے۔

عوام کے لبوں پر خوشی اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ میں ان کا چہیتا و بے باک لیڈر ہوں انہوں نے اس سیٹ سے سبھی کو آزمالیا ہے اس بار میر ی طرف ٹکٹکی باندھے کھڑے ہوئے ہیں اور میں نے یہ عہد کرلیا ہے کہ میں جیت کر اس علاقے کو مثالی بناؤں گا، کوسی کے قہر سے نجات دلانے کی کوشش کروں گا، اسکول و کالجز کا سلسلہ دراز کروں گا۔ جہاں بچے بچیاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے گھروں سے دور جانے پر مجبور نہیں ہوں گے، روزگار کے مواقع فراہم کروں گا تاکہ ان بے روزگار نوجوانوں کی آنکھوں سے مایوسی کے بادل ہٹ جائے، علاقے کو مین اسٹریم میں شامل کروں گا اور مجھے امید ہے کہ میرے چاہنے والے، مجھے ایوان تک پہنچا کر دم لیں گے۔ ان شاء اللہ۔!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close