سیاستہندوستان

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں!

نازش ہما قاسمی

جی ممبر آف پارلیمنٹ، مجلس اتحادالمسلمین کا قومی صدر، زیرک سیاست داں، شیر دکن، خطیب شعلہ بیاں، نقیب ملت، حاضر جواب بیرسٹر اسدلدین اویسی ہوں ہوں۔ میری پیدائش ۱۳؍مئی ۱۹۶۹ کو حیدرآباد کے معروف ومشہور سیاست داںسلطان صلاح الدین اویسی کے گھر میں ہوئی۔ میرے والد صلاح الدین اویسی ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتے تھے۔ میری والدہ کا نام نجم النساء ہے، بھائی اکبرالدین اویسی ہیں جو ریاست تلنگانہ میں رکن اسمبلی ہیں اور دوسرے بھائی برہان الدین اویسی ہیں جو حیدرآباد کے مشہور ومعروف اخبار روزنامہ اعتماد کے ایڈیٹر ہیں۔ میری ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں ہوئی میں نظامیہ کالج، عثمانیہ یونیورسٹی سے استفادہ کرنے کے بعد لاء میں کمال تامہ پیدا کرنے کےلیے لنکن ان لندن انگلینڈ سے ایل ایل بی کیا۔ میری شادی ۱۱؍دسمبر ۱۹۹۶ کو فرحین اویسی سے ہوئی جس سے میری پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ہاں میں وہی اسدالدین اویسی ہوں جس نے اپنے والد کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی کمان سنبھالی اور حیدرآباد وتلنگانہ کے مسلمانوں کی بے باک آواز بن کر ابھرا۔ انہیں ان کے حقوق دلوائے، حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ حیدرآباد کے مسلمانوں کو ترقی کے دھارے میں جوڑے،دہشت گردی کے بے جا الزامات میں گرفتار ملزمین کی رہائی کے بعد حکومت سے انہیں اپنے بھائی اکبر کے ذریعے معاوضہ دلوایا۔ ہاں میں وہی اویسی ہوں جس نے اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے حیدرآباد میں اسکول کا جال پھیلایا، جہاں مسلم قوم کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں اور مجبور ولاچار افراد کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ میری پارٹی کو محض مسلمانوں کی پارٹی کہنا ظلم ہے، میں "جے میم جے بھیم” کے نعرہ کے ساتھ اٹھا ہوں، دونوں پسی ہوئی اقلیتوں کا مسیحا ہوں، میری پارٹی میں دبی کچلی کمیونٹی کے افراد موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ میں محض مسلمانوں کا لیڈر یا رہنما نہیں ہوں، میں ان دبے کچلوں کےلیے بھی آواز اُٹھاتا ہوں اور ان کی آواز میں مزید شدت وقوت پیدا کرنے کے لیے میں نے آئین ہند کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے کے ساتھ گٹھ بندھن کیا ہے۔

ہاں میں وہی اویسی ہوں جو ابھی باطل فرقوں کے ساتھ ساتھ اپنوں کے بھی ذہن و دماغ پر چھایا ہوا ہے، میرا المیہ یہ ہے کہ مجھے جہاں غیر ایجنٹ کہتے ہوئے نہیں تھکتے، وہیں اپنے مسلمان بھائی بھی مجھے آرایس ایس کا ایجنٹ تصور کرتے ہیں میں نے حیدرآباد سے آگے کی سیاست کا سوچا تو بہاریوں نے مجھے ایجنٹ اور کانگریس مخالف سمجھ کر ووٹ نہیں دیا، یوپی میں بھی اترپردیش والوں نے مجھے ایجنٹ سمجھا اور دھتکار دیا، میں نے ہر محاذ پر اپنے دلائل سے مسلم امہ کی پریشانیاں بیان کی، رویا گڑگڑایا؛ لیکن میرے رونے کو مگر مچھ کا آنسو قرار دیا گیا میرے بلکنے کو مکاری و عیاری سے تعبیر کیا گیا، ہاں میں وہی اویسی ہوں جسے مہاراشٹر میں بھی ووٹ نہ دے کر بے عزت کیا گیا ہاں وہی اویسی ہوں جس کا بھائی اکبرالدین اویسی ہے جسے دشمنوں نے راہ چلتے گولیاں ماردی کہ یہ سچ بولتا ہے، ہاں میں وہی اویسی ہوں جو مسلمانوں کے ہر مسائل کو اپنی استعداد و طاقت کے مطابق پارلیمنٹ میں اُٹھاتاہوں؛ لیکن الیکشن آتے ہی جہاں میں کھڑا ہوتا ہوں مجھے ایجنٹ قرار دے کر زیر کردیا جاتا ہے، اسی ایجنٹ قرار دئیے جانے کی وجہ سے میں نے گجرات اسمبلی الیکشن میں امیدوار نہ کھڑا کیا؛ لیکن کیا خود کو سیکولر کہنے والی جماعت جیت گئی ؟ کیا وہاں بہوجن سماج پارٹی اور آریس ایس کی چڈی میں ملبوس ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی نے خانہ خراب نہ کیا ؟ لیکن ان لوگوں نے سیکولر ازم کا تمغہ الاٹ کرالیا ہے انہیں کوئی ایجنٹ نہیں قرار دے گا ایجنٹ تو صرف میں ہی ہوں پھر بھی اسی ایجنٹ کا داغ لیے ہوئے ہمیشہ پارلیمنٹ گیا اور وہاں بحثیں کیں پاگل تک قرار دیا گیا شاید میرے دلائل جو کہ ہندوستانی مسلمانوں کی بقاء اور شریعت میں مداخلت سے روکنے کیلئے تھے وہ میرا جنون میرا جذبہ ان فرقہ پرستوں کو پاگل پن لگا اسی لیے وہ پاگل پاگل چلاتے رہے، ہاں میں پاگل ہوں شریعت کو بچانے کے لیے پاگل ہوں، اپنی ماوں بہنوں  کو بے عزتی سے بچانے کیلیے پاگل ہوں۔ لیکن خدارا مجھ پر بھروسہ رکھیں میں ایجنٹ نہیں ایجنٹ مراعات حاصل کیا کرتے ہیں بحثیں نہیں کرتے، ایجنٹ گردن جھکا کر صرف ہاں میں ہاں ملایا کرتے ہیں، میری طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں نہیں کیا کرتے شاید آپ کو ۲۸/ دسمبر ۲۰۱۷ کے دن ایوان ہند میں میری بحث میرے دلائل سے یقین ہوگیا ہوگا اور اگر نہ ہوا ہوگا تو ڈرتے رہیں بی جے پی سے، جھیلتے رہیں کانگریس کو جس نے ہمیشہ آستین میں خنجر چھپاکر آپ کا قتل کیا ہے اس دن بھی اس نے سرعام بھگوا قانون کے نفاذ میں بھگوائیوں کا ساتھ دیا اگر اب بھی نہ جاگے تو چیختے رہیں چلاتے رہیں یکے بعد دیگرے بھگوا قانون کا نفاذ ہوتا رہے گا اور اخیر میں سبرامنیم سوامی کی پیشین گوئی پوری ہوجائے گی اور پھر آپ ہندوستان میں کبھی سراٹھاکر نہ جی سکیں گے۔

ہاں میں وہی اسدالدین اویسی ہوں جس کے بارے میں قائد جمعیۃ مولانا محمود مدنی نے کہاتھا کہ ہم انہیں حیدرآباد سے باہر تسلیم نہیں کریں گے۔ واقعی انہوں نے اپنے طور پر درست کہا، ظاہراً تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ جہاں جہاں میں نے امیدوار کھڑے کیے وہاں وہاں فرقہ پرست پارٹیوں کو فائدہ پہنچا؛ لیکن کیا آزادی کے بعد سے اب تک کانگریس سے( جس کی حمایت مسلمان کرتے آرہے ہیں) مسلمانوں کو کیا ملا؟ٹاڈا، پوٹا، فسادات، بابری مسجد کی شہادت جیسا ناسور ؟ یوپی میں ملائم سنگھ اور مایاوتی پر بھروسہ کرنے سے کیا حاصل ہوا؟ مظفر نگر فسادات کا زخم۔ ہاں بہار میں مسلمانوں نے لالو پر بھروسہ کیا ان کے دور میں فسادات نہیں ہوئے؛ لیکن مسلمانوں کو پسماندہ کرنے کےلیے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ میں صرف پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو حیدرآباد کے مسلمانوں کی طرح خوشحال ونڈر اور بے باک دیکھنا چاہتا ہوں۔ تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے میں اپنے امیدوار کھڑے کرتا ہوں پہلے نام نہاد علاقائی پارٹیوں سے گفت وشنید کرتا ہوں کہ اگر فرقہ پرستی سے آپ لوگ لڑرہے ہیں تو مجھے بھی فرقہ پرستوں سے لڑنے والوں میں شامل فرمالیں؛ لیکن مجھے شامل نہیں کیاجاتا مجبوراً مجھے تنہا امیدوار اتارنے پڑتے ہیں جس سے فرقہ پرستوں کو فائدہ پہنچ جاتا ہے اگر سیکولر پارٹیاں مجھے بھی اتحاد میں شامل کرلیں تو فرقہ پرستی کو مات دینے میں آسانی ہولوگ میرے بارے میں کہتے ہیں کہ ہیں میرے بیان سے فرقہ پرست متحد ہوجاتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں فرقہ پرستوں کے بیان سے مسلمان متحد کیوں نہیں ہورہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close