سیاست

ہاں میں ہندوستانی ووٹر ہوں!

ہم ووٹروں نے تہیہ کرلیا ہے کہ 2019 کے الیکشن میں اپنے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے

نازش ہماقاسمی

ہاں میں ہندوستانی ووٹر ہوں، جی ہاں! آپ نے بالکل صحیح پڑھا، جمہوری طریقے سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے والا اقلیتی ووٹر، کسان ووٹر، دلت ووٹر، اعلیٰ ذات کا ووٹر اور چند سکوں میں اپنے پانچ سالہ مستقبل کا سودا کرنے والا بے ضمیر ووٹرہوں، مرے ہوئے لوگوں کے نام پر ووٹ ڈالنے والا بوگس ووٹر ہوں، ہاں میں باشعور ووٹر بھی ہوں اور بے شعور ووٹر بھی، ہوشمند بھی ہوں، بے وقوف اور جاہل بھی، پڑھا لکھا اور سب کچھ سمجھ کر ووٹ دینے والا ووٹر بھی ہوں اور عقل وخرد سے عاری فسادی ووٹر بھی ہوں۔

 ہاں میں بیروزگاری سے تنگ نوجوان ووٹر ہوں، قرضوں سے تنگ آکر خودکشی کرنے والا کسان ووٹر بھی ہوں، انصاف کا منتظر مسلمان ووٹر ہوں، قائدین کی آواز پر کانگریس کو ووٹ دینے والا، رہبرکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سائیکل چڑھنے اور ہاتھی کو سلام کرنے والا ووٹر بھی ہوں، ہاں میں بی جے پی سے ڈرنے والا ووٹر ہوں، سیکولرازم کی پاسداری کرنے والا سیکولر ہندو ووٹر ہوں، مذہب کے نام پر ووٹ دینے والا فرقہ پرست ہندو مسلم ووٹر بھی ہوں۔ ہماری اہمیت ہر پانچ سال میں الیکشن کے قریب بڑھ جاتی ہے، کوئی لیڈر ہمارے پاؤں دھوتا ہے، تو کوئی ہماری آرتی اتارتا ہے، تو کوئی ہمارے آگے سجدہ کرتا ہے؛ لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی ہمیں بھلا دیاجاتا ہے۔

 ہاں میں وہی ووٹر ہوں جو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرکے لیڈر چنتا ہے، تاکہ وہ علاقے کی پسماندگی دور کرے، اسے ترقی یافتہ بنائے، ہمارے ذریعے چنے ہوئے کچھ لیڈران تو حقیقی معنوں میں ترقی کے کام کرتے ہیں، اپنے علاقے کو مثالی بنادیتے ہیں اور کچھ جیتنےکے بعد کبھی اپنی شکل تک نہیں دکھاتے۔ ہاں میں وہی ووٹر ہوں جو عین الیکشن کے وقت دھوپ میں کھڑے ہوکر، پسینہ بہاتے ہوئے، سیکوریٹی فورسیز کی نگرانی میں اپنے علاقے کے مشہور چور، ڈاکو، لٹیرے، دولت مند کو اس کے ڈر، خوف اور اس کے اثر و رسوخ سے مرعوب ہوکر ووٹ ڈالتا ہوں۔ ہاں میں وہی ووٹر ہوں جو اپنے علاقے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے سیکولر امیدوار کو عوام کے فلاح و بہبود کےلیے چنتا ہوں۔

ہاں میں بی جے پی کو ووٹ دینے والا ووٹر ہوں، ہاں میں کانگریس کا ہاتھ تھامنے والا ووٹر ہوں، ہاں میں مایاوتی کا چاہنے والا ووٹر ہوں، ممتا کو اقتدار سونپنے والا ووٹر ہوں، ہاں میں راہل کا پرستار، اور پرینکا میں اندرا کی جھلک دیکھ کر اسے اقتدار سونپنے کا ارادہ رکھنے والا ووٹر ہوں، ہاں میں مظفر نگر فساد کے ملزمین کو ووٹ دینے والا ووٹر ہوں، گجرات دنگے کے ملزمین کو اقتدار دینے والا ووٹر ہوں، ہاں میں اسدالدین پر فریفتہ اس کی پارٹی مجلس کو ووٹ دینے والا ووٹر ہوں، ملائم سنگھ سے دھوکہ کھانے والا ووٹر ہوں، اکھلیش سے امید باندھنے والا ووٹرہوں، لالو جیسے سیکولرازم کے امام لیڈر کو چاہنے والا ووٹر ہوں، تیجسوی کے خوابوں کی تکمیل کرنے والا ووٹر ہوں، نتیش سے فریب کھایا ہوا ووٹر ہوں، مانجھی کا اقلیتی پچھڑی ذاتی کا ووٹر ہوں، اکبر الدین اویسی کا مسلم اقلیتی و ہندو سیکولر ووٹر ہوں، پاسوان کا پاسی ووٹر ہوں، محبوبہ کا محبوب ووٹر ہوں، ہاں میں سی پی ایم کا ووٹر ہوں، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے گھڑی کو ووٹ دینے والا ووٹر ہوں، تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا ووٹر ہوں، تیلگو دیشم کا ووٹر ہوں، یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آف انڈیا کابھی ووٹر ہوں، گوا بچاؤ فرنٹ کو ووٹ دینے والا ووٹر ہوں، شیوسینا کے تیر کمان کو سنبھالنے والا ووٹر ہوں۔ ہاں میں الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ جماعتوں کو اقتدار سونپنے والا مختلف النوع ووٹر ہوں۔

ہاں میں وہی ووٹر ہوں جسے الیکشن کے وقت چند ٹکوں میں خریدا جاتا ہے، جسے صرف ایک دن ووٹ ڈالنے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں، کچھ ضمیر بیچ دیتے ہیں، کچھ ضمیر نہیں بیچ پاتے ہیں جو ضمیر بیچ دیتے ہیں وہ الیکشن کے دن بریانی کھاتے ہیں اور جو نہیں بیچتے وہ کڑی دھوپ میں کڑھی چاول کھاکر ووٹ ڈالتے ہیں۔ ہاں میں وہی ووٹر ہوں جس کا ووٹ پانے کے لیے کچھ لیڈران دور دراز کا سفر کرتے ہیں، صعوبتیں جھیلتے ہیں، تکلیفیں اُٹھاتے ہیں، ہر ایک کا در کھٹکھٹاتے ہیں، بوڑھوں کے پاؤں چھوتے ہیں، بچوں سے آشیرواد لیتے ہیں، مسجد جاتے ہیں، مندر کی گھنٹی بجاتے ہیں، پرساد چڑھاتے ہیں، نذرانے دیتے ہیں، مزاروں پر عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں اور جب جیت جاتے ہیں تمام عقیدت کو بالائے طاق رکھ کر ہندو مسلم کا کھیل کھیلتے ہیں۔

برسوں سے آپسی بھائی چارہ کے ساتھ رہ رہے ہندو مسلم کو لڑاکر اپنی سیاسی روٹی سینکتے ہیں، مسلم محلوں میں مسجد کے پاس اشتعال انگیزی کرتے ہیں اور ہندو محلوں میں مندر کے آگے ہنگامہ برپا کرکے فساد پھیلادیتے ہیں؛ تاکہ یہ دونوں لڑتے رہیں اور اپنا ووٹ بینک مضبوط ہوتا رہے۔ اب ہم ووٹروں میں کچھ سیاسی بیداری آئی ہے، عقل و دانش کا ہم استعمال کرنا جان گئے ہیں، ہم نے سوچ لیا ہے کہ اشتعال انگیز لیڈران کے بہکاوے میں نہ آکر اس بار ۲۰۱۹ کے الیکشن میں سیکولر امیدوار کو ووٹ دیں گے وہ اس لیے کہ پچھلے پانچ سال میں صرف مسجد مندر، طلاق حلالہ، ہوتا رہا، بے روزگاری شباب پر رہی، نوجوان روزگار کو ترستے رہے، کسانوں کی فلاح کے کام نہیں کیے گئے ان کی خود کشی میں اضافہ ہی ہوتا رہا یہاں تک کہ انہیں ا پنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہوئے بول وبراز تک کھانا پڑا، اس حکومت میں ترقیاتی کام صرف وہی ہوئے جو سابقہ حکومت کے ادھورے پروجیکٹ تھے، اس نے جو بھی پروجیکٹ شروع کیے وہ نفرت کے پروجیکٹ تھے، جس کا پھل انہیں ملتا رہا، پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ متاثر ہوئی، گنگا جمنی تہذیب کا مذاق اڑایا گیا، اسپتالوں میں بچے مرتے رہے، نوٹ بندی کے بعد لائن میں بندہ و بندی سسک کر دم توڑ گئے۔

 بے گناہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلے گئے، غریب پریشان رہا، امیر لوٹ کھسوٹ مچا کر بیرون ممالک فرار ہوگئے، سرحدوں پر فوجی مرتے رہیں؛ لیکن دہشت گردوں کی کمر نہ توڑی گئی، فسادات کا لامتناہی سلسلہ جاری رہا، عوام لٹتے رہے، پٹتے رہے، سسکتے رہے، تڑپتے رہے؛ لیکن ان کے غموں کا مداوا نہیں کیاگیا، ہندو مسلم کے درمیان محبت کے فروغ دینے کے بجائے نفرت کی خلیج بڑھائی جاتی رہی۔

 اس لیے اب ہم ووٹروں نے تہیہ کرلیا ہے کہ 2019 کے الیکشن میں اپنے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے، اپنے ووٹ کا سودا گدھے سے بھی کم قیمت میں کرکے پانچ سال تک کف افسوس نہیں ملیں گے، اس بار ہندوستانی ووٹرس نوٹ کے بدلے ووٹ نہیں دیں گے؛ بلکہ ترقی، خوشحالی اور حقیقی سیکولرازم کو ووٹ دے کر اپنے ہندوستان کو امن وسکون کا گہوارہ بنائیں گے، ظالم کے ہاتھ روک دیں گے، مظلوم امیدوار کو جتائیں گے۔ ان شاء اللہ!

جمہوریت زندہ باد، ہندوستان پائندہ باد

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close