سیاستہندوستان

ہرپھر کے دائرے ہی میں رکھتے ہیں ہم قدم

حفیظ نعمانی

ملک کی آخری عدالت سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے بابری مسجد مقدمہ پر فیصلہ نہ دے کر دونوں فریقوں پر بوجھ ڈالا ہے کہ تم دونوں عدالت سے باہر بیٹھ کر باہمی سمجھوتہ کرلو۔ مسئلہ کوئی بھی ہو، عدالت میں وہ اس وقت جاتا ہے جب عدالت سے باہر فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ بابری مسجد مقدمہ اگر اتنا ہی آسان ہوتا تو اسے 1948سے اب تک کئی بار حل کیا جاسکتا تھا۔

یہ مقدمہ دینے اور لینے کا ہے۔ لینے والے اگر کروڑوں کی تعداد میں ہوں مگر صرف کوئی ایک ہی لے لے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا ۔ دینے والے بھی کروڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن ان میں سے پندرہ کروڑ بھی دینے کی ہمت کرلیں تو جو بچیں گے وہ کہیں گے کہ تم کون تھے دینے والے جبکہ ہم بھی موجود ہیں ؟ بابری مسجد اس وقت تک میر باقی کی کہی جاسکتی تھی جب وہ بن رہی تھی یا بن کر مکمل ہوگئی تھی۔ وہ جس دن وقف کردی گئی اس دن سے نہ میر باقی کی رہی نہ بابر کی اور نہ میر باقی کی نسل میں کسی کی وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگئی۔ اب ایک تو وہ ہیں جو قانوناً متولی ہیں اور ان کے علاوہ تمام مسلمان ہیں ۔ یہ بات محترم جج صاحبان کے سوچنے کی ہے کہ وہ کون ادارہ یا تنظیم یا وقف بورڈ ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کے گھر کو مندر بنانے کے لیے دے دے؟

کون ہے جس نے اسلام کی تاریخ پڑھی ہو اور اسے یہ نہ معلوم ہوکہ اسلام صرف اس لیے آیا ہے کہ اللہ کے بندوں کو شرک سے بچائے اور صرف ایک اللہ کو مانے اور صرف اس سے ہی مانگے اور اس کی ہی عبا دت کرے۔ اس کا پیغام ہی یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ دنیا بنانا اور دنیا کی ہر چیز کو بگاڑنا اور باقی رکھنا صرف اس کے اختیار میں ہے۔ وہی بیمار کرتا ہے اور وہی شفا دیتا ہے۔ وہی شادی کراتا ہے اور وہی اولاد دیتا ہے۔ وہی بیٹا دیتا ہے اور وہی بیٹی دیتا ہے اور وہی ہے جو کسی کو دس بچے دیتا ہے اور وہی ہے جو ا یک بچہ بھی نہیں دیتا۔اور مسجد کا یہی مصرف ہے کہ وہاں دن رات میں بار باریا پانچ مرتبہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور سیکڑوں بار کہا جائے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور ہر نماز میں بار بار کہا جائے کہ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس سے مسلمان سیدھا راستہ دکھانے کی درخواست کرتے رہیں ۔ اور اسی سے عرض کرتے ہیں کہ زندگی میں اچھے کام کرنے اور اس کی توحید کی تبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جب وہ موت کی نیند سلادے تو قبر میں قیامت تک کوئی تکلیف نہ ہو۔

اب وہ کون مسلمان ہے جو اس مسجد کو ان لوگوں کو دے دے جو وہاں مندر بنا کر اس میں رات دن صرف یہ کہیں کہ سب سے بڑے شری رام ہیں اوروہی ہیں جو  غریب کو امیر بناتے ہیں ، بانجھ کو اولاد دیتے ہیں ۔ وہی جسے چاہیں بیٹا دیتے ہیں اور جسے چاہیں بیٹی دیتے ہیں اور وہی زندگی دیتے ہیں اور وہی موت دیتے ہیں ۔ مسلمان کو بچپن سے بڑھاپے تک بتایا جاتا ہے کہ وہ ا للہ رحیم وکریم ہر خطا کو معاف کرسکتا ہے لیکن اسی نے کہا ہے کہ شرک کو معاف نہیں کروں گا۔ اور مسلمان اسی شرک کو سب سے زیادہ اونچی آواز میں عام کرانے کے لیے بابری مسجد دے دیں ؟

محترم جج صاحبان میں وہ کون ہے جسے نہ معلوم ہو کہ یہ تنازعہ صرف اس وقت سے نہیں ہے جب سے پنت جی نے 1948میں مسجد میں  مورتیاں رکھوادی تھیں اور اس میں سرکاری تالا ڈلوادیا تھا۔ اس وقت ملک میں ۳ کروڑ مسلمان تھے۔ جب اس وقت مسلمانوں نے مسجد نہیں دی تو اب چار گنا ہوجانے کے بعد یہ امید کرنا کہ مسجد دے کر وہ مندر بنا دیں حیرت کی بات ہے کہ نہیں ؟

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جج صاحبان سارا مقدمہ دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہوں کہ مسجد سادہ زمین پر بنی تھی۔ وہاں کوئی مندر نہیں تھا۔ لیکن ملک کی صورت حال اور اکثریت کا مزاج دیکھتے ہوئے انھوں نے اسے پھرواپس کردیا۔ جبکہ مسلمان صرف عدالت کے فیصلہ کو مانیں گے یا حکومت اگر اپنی طاقت کے بل پر یہ زمین ہندوئوں کو دے دے تو ان پر جہاد فرض نہیں ہے کیوں کہ حکومت ان کی نہیں ہے۔

محترم جج صاحب نے اسے دھرم اور آستھا (مذہب اور جذبات) کا مقدمہ کہا ہے۔ مذہب جو ہے وہ سا منے ہے اور کاغذ پر ہے۔ جج صاحبان خود دیکھ سکتے ہیں کہ وقف علی اللہ کا مالک صرف اللہ خالق ومالک ہوتا ہے۔ اس کا انتظام اور دیکھ ریکھ یا اس میں اضافہ کی مسلمانوں کو اجازت ہے۔ اس کی اجازت نہیں ہے کہ اگر زمین نمازیوں سے زیادہ ہے تو اسے خیرات کردیں یا اس میں رہائشی مکان بنالیں یا فروخت کردیں ۔ رہی جذبات کی بات تووہ جج ہیں ان کے بھی جذبات ہیں اور ہم مسلمان ہیں ہمارے بھی جذبات ہیں کہ پورے ملک میں  صرف مسجدیں ہوں اور ہر طرف ایک ہی آواز گونج رہی ہوکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں ۔

آستھا ہی ہے جو تمل ناڈو لیڈر کروناندھی نے کہا تھا کہ ہمارے پوروجوں کو دنیا میں آئے اور گئے ہوئے چند ہزار برس ہوئے ہیں لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ وہ پیدا کہاں ہوئے تھے اور اور انتم سنسکار کہاں ہوئے؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ رام چندر جی ا ور سیتا جی لاکھوں برس پہلے تھے (اور یہ کبھی نہیں کہتے کہ کتنے لاکھ برس پہلے تھے) وہ جنم بھومی اور سیتا رسوئی کی بات کیسے کرتے ہیں ؟ اور آخر میں کہا تھا کہ یہ صرف آستھا ہے حقیقت نہیں ہے۔ یہی بات بنگال کے سب سے بڑے دانش ور رابندر ناتھ ٹیگور نے لکھی ہے اور نہ جانے کتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو بھی یہی مانتے ہیں ۔ مارچ 1966میں ہم جیل میں تھے، تواری جی ڈپٹی جیلر تھے اور بھٹناگر صاحب سپرنٹنڈنت تھے ۔ہولی کی شام کو سب کوجمع کرکے تواری جی نے ہولی کی مذہبی حیثیت بتائی ، آخر  میں بھٹناگر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہمارے تواری جی پنڈت ہیں اس لیے وہ ہولیکا کی کہانی سناتے ہیں ۔ اصل میں یہ مذہبی تیوہار نہیں ہے۔ یہ کسان کے جشن کا تیوہار ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی محنت پک کر تیار ہے تو وہ خوشی سے ناچتا ہے گاتا ہے اور جشن مناتا ہے۔ آج میں گواہ کہاں سے لائوں لیکن یقین ہے کہ بھٹناگر صاحب جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ جانے کتنے ہوں گے جو مذہب اور آستھا کے فرق کو جانتے ہوں گے۔ اب ہر توقع مسلمان سے کرنا کہ وہ آستھا پر مسجد قربان کردیں اکثریت میں ہونے کا غرور نہیں تو کیا ہے؟

سنبھل میونسپل بورڈ کے رجسٹر کے حساب سے ہماری پیدائش 20؍ اپریل 1932کو ہوئی تھی، سنبھل دیپاسرائے میں ،دادا صوفی احمد حسین کی وہ حویلی معمولی تبدیلیوں کے بعد بھی ابھی اسی طرح موجود ہے۔ اور وہ کمرہ جس میں ہماری پیدائش بتائی جاتی ہے وہ اسی طرح موجود ہے 10 فٹ چوڑا اور 25 فٹ لانبا اس میں ۵ پلنگ بچھے ہوئے ، ہم نے بھی دیکھے ہیں ۔ گھر میں دادی، تائی، چچی اور پھوپھیوں  نے ہمیں بار بار بتایا ہے کہ تم اس کمرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ظاہر ہے اس وقت ایک دائی، دادی صاحبہ، تائی اور پھوپھی ہی پاس ہوسکتی ہیں ۔ بابری مسجد میں مورتیاں رکھنے کی بات سب کے سامنے کی ہے۔ لیکن کوئی نہیں تھا جس نے کمرہ میں لکیر کھینچ کر بتایا ہو کہ جب تم دنیا میں آئے تو تمہاری ماں کا پلنگ کہاں تھا؟

بے شک ہم کوئی اہم شخصیت نہیں تھے۔ اور پیدائش کے وقت حضرت عیسیٰ کے علاوہ اسلام میں بھی کوئی اہم نہیں تھا۔ اہم تو بنانے والا بعد میں بناتا ہے ۔ اسلام میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اہم کون تھا؟ یہ تو معلوم ہے کہ دنیا میں تشریف لا تے وقت مکہ میں مکان کہاں تھا؟ لیکن یہ کوئی نہ بتاسکا کہ جگہ کون سی تھی جب ڈیڑھ ہزار سال سے کچھ زیادہ وقت گذرا ہے۔ یہ آستھا کی طاقت ہے کہ لاکھوں برس کے بعد بھی یہ معلوم ہے کہ ان کے بھگوان رام کس جگہ پیدا ہوئے تھے؟ یہ سب سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو بھی معلوم ہے۔ اور بابری مسجد مقدمہ کے فریق سبرامنیم سوامی نہ پہلے تھے نہ اب ہیں ۔ عدالت عظمیٰ کو جو فیصلہ کرنا ہے وہ اس مقدمہ کا کرے جو وقف بورڈ اور جمعیۃ علماء نے کیا ہے۔ سوامی کے دخل کی  اہمیت نئی نہیں ہے اس لیے مذاکرات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close