سیاستہندوستان

ہر طرف نقش قدم نقش قدم نقش قدم!

حفیظ نعمانی

راجستھان میں اگر کوئی اپنے کو گائے کا محافظ کہتا ہے تووہ جھوٹا ہے اور بے ایمان ہے۔ جے پور میں صوبہ کا سب سے بڑا گئوشالہ بنا ہوا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ سیکڑوں گائیں ہیں ۔ ٹی وی چینل پر بار بار دکھایا جاچکا ہے کہ وہاں اپنے ہی گوبر پیشاب اور کیچڑ میں درجنوں گائیں اس حال میں پڑی ہیں کہ وہ کمزوری کی وجہ سے بیٹھ بھی نہیں سکتیں اور جو بیٹھی ہیں وہ کھڑی نہیں ہوسکتیں اور جو کھڑی ہیں وہ چل نہیں سکتیں ۔ ایک دفعہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان کے کھانے پینے کا بجٹ چار کروڑہے(ماہانہ یا سالانہ) اور اس بے رحم وزیر کو بھی دکھایا گیا تھا جو اس میں سے تین چوتھائی خود کھا جاتا ہے اور کچھ اس کے چیلے کھا جاتے ہیں اور جو بچتا ہے وہ منہ بولی ماں کو ملتا ہے۔

راجستھان ہو، اترپردیش ہویا کوئی بھی صوبہ ہر جگہ گائے پالنے والے زیادہ تر ہندوئوں کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ صبح کو دودھ نکال کر گائے یعنی اپنی منہ بولی ماں کو گھر کے باہر نکال دیتے ہیں کہ جائو سڑکوں اور گلیوں یا بازار میں خاص طور پر سبزی منڈی میں جو کوڑا پڑا ملے کھالو، لیکن اپنی ماں کو گھر کے سب سے آرام والے کمرہ میں رکھتے ہیں ۔ اسلام میں ماں کا درجہ یہ بتایا گیا ہے کہ ماں کی خدمت  میں ہی جنت ہے۔ اسلام میں منہ بولی ماں یا منہ بولی بہن کوئی چیز نہیں ہے۔ البتہ رضاعی ماں بھی ماں ہے جس کا اگر کسی بچہ نے دودھ پیا ہے تووہ ماں جیسی ہے۔ اور خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رضاعی ماں اور بہن کے ساتھ اچھے سے اچھا سلوک کرکے دکھلادیا کہ ہر مسلمان کو اپنی رضاعی ماں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔

اگرراجستھان میں گئو رکشکوں یعنی غنڈوں نے گائے کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے تو پہلے جے پور کے گئو شالہ جائیں اور اس بے  ایمان وزیر سے حساب لیں جس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے آتے ہیں اور گائیں تڑپ تڑپ کر اور سسک سسک کر مرتی ہیں اور انھیں مارنے والے سب ہندو ہیں ۔ اس گئو شالہ کے علاوہ سڑکوں پر پلاسٹک کھا کھا کر مرنے والی گایوں کو پکڑ کر ان کے مالکوں کے گھروں میں جا کر باندھیں ۔ اور وہ نخرے کریں تو سرکاری گئو شالہ میں بھرتی کرکے ان کی زندگی کی فکر کریں ۔ راجستھان اور ہر ہندو حکومت کو چاہیے کہ ہر گائے کے گلے میں شناختی کارڈڈالنا ضروری قرار دے تاکہ معلوم ہوکہ وہ کس کی گائے ہے؟ اور یہ قانون بنائے کہ جو پالے گا وہ اپنے گھر میں رکھے گا اور اگر رکھنا نہیں چاہتا تو ا سے ضبط کرلیا جائے۔

ہر مسلمان کے لیے یہ سمجھنا کہ وہ اگر گائے لیے جارہا ہے تو کاٹنے کے لیے لے جارہا ہے اس لیے دماغ سے نکال دینا چاہیے کہ جس گھر میں ہم رہتے ہیں اس کے سامنے ایک گھوسی کا خاندان ہے جس کے پاس پانچ گائیں ہیں ۔ سارے محلے کے گھروں میں اس کا دودھ جاتا ہے۔قانون یہ ہے کہ شہر کے اندر اگر گائے پالنا ہے تو صرف ایک ہو اور وہ بھی گھر  کے اندر ہو، قیصر باغ کوتوالی کا حلقہ ہے اور افسروں کو بھی گائے کے خالص دودھ کی ضرورت ہے۔ اس لیے انھوں نے کامران نام کے گھوسی کو اجازت دے رکھی ہے کہ جتنی چاہو گائیں رکھو اور خالص دودھ مفت کوتوالی میں دیتے رہو۔

ہم ایک ہفتہ کے لیے اپنے وطن سنبھل گئے تو ہمارے عزیز بھائی حکیم میاں نے اپنی گائے دکھائی جسے وہ چالیس ہزار روپے میں لائے ہیں اور ایک بھینس جس کی قیمت بہترہزار روپے ہے، ان کی جیسی خاطر ہوتی ہے ایسی خاطر یوپی کے نئے وزیر اعلیٰ یوگی تو کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے ان جیسے کچھ اور ہندو بھی کرتے ہوں ، لیکن عام ہندو صرف دودھ پینا جانتے ہیں اس کے بعد باہر نکال دیتے ہیں ، راجستھان کی سابق ریاست الور میں پہلو خاں کے ساتھ جو ہوا وہ گائے سے محبت نہیں مسلمان سے نفرت اور ہندو حکومت کا نشہ ہے۔ وہ بے روزگار ہندو نوجوان جن سے وزیر ا عظم نے روزگار کا وعدہ کیا تھا وہ ان کی وعدہ خلافی سے پاگل ہوگیا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک جاہل پارلیمنٹ کا ممبر ہے کوئی وزیر ہے کوئی ایم ایل اے ہے اور کوئی کا رپوریٹر ہے اور وہ ڈگری لیے دھکے کھارہا ہے۔ اب وہ  غصہ کس پر اتارے؟ اسے یقین تھا کہ جس دن بھگوا سرکار آجائے گی ہر ہندو نوجوان کے اچھے دن آجائیں گے لیکن اچھے کیا آتے اور برے آگئے۔ وہ مسلمان کو گائے لیے جاتا دیکھتا ہے تو اس لیے پاگل ہوجاتا ہے کہ بھگوا حکومت میں بھی مسلمان روزگار کررہا ہے اور ہم مودی مودی کے نعرے لگانے کے بعد بھی باپ یا بھائی پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ۔

یہی بے روزگاری ہے کہ ہریانہ اور راجستھان میں پولیس چوکیوں کے ہوتے ہوئے ہندو چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور اس کی ضرورت اس لیے بتائی گئی ہے کہ گایوں کی حفاظت، ان کی اسمگلنگ ،ان کو ذبح کرنے کے لیے لے جانا پولیس چوکیاں بند نہیں کرسکیں اس لیے ہندو چوکیاں قائم کی گئی ہیں ۔ اور ہمارا خیال یہ ہے کہ اب تک پولیس چوکی والے گائے لے جانے والوں سے پیسے لیا کرتے تھے۔ اب ہندو چوکی قائم کرکے بے روزگار ہندو نوجوان اپنی روزی روٹی اور دارو سگریٹ کا انتظام اس سے لیں گے۔ یکم اپریل سنیچر کے دن الور میں جو ایک مسلمان شہید ہوا وہ خبروں کے مطابق چھ گاڑیوں میں گائیں لے جارہے ہیں مسلمانوں میں سے ایک تھا۔ اور جانوروں کے میلہ سے گائیں لے کر آرہا تھا۔ اس کے پاس خریداری کی رسید تھی۔ شاید اس لیے ان لوگوں نے حرام پیسہ دینے سے انکار کیا ہوگا جس کی سزا ننگے بھوکے بے روزگار ہندوئوں نے یہ دی۔ اور پولیس کا یہ کہنا ہے کہ رسید تو ان کے پاس تھی لیکن دوسرے صوبہ میں لے جانے کا پرمٹ نہیں تھا۔ بات کچھ نہیں ہے ہر صوبہ میں ہندو راشٹر کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے۔ اور جس ملک میں ڈاکٹر ایوب اور ایم پی اویسی جیسے سیکولرازم فروش ہوں وہاں ہندو راشٹرکیوں مشکل ہوگا؟

قیاس آرائیوں میں صدر کے لیے ایڈوانی جی جوشی جی اور یشونت سنہا کا نام تھا۔ ہم نے دو برس پہلے لکھا تھا کہ ملک کے مسلمان اگر اسی روش پر چلتے رہے جس پر چل رہے ہیں تو موہن بھاگوت صدر جمہوریہ بنادئے جائیں گے۔ شیوسینا نے یہ نام ا پنی طرف سے ا چھال بھی دیا۔ امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین تو ایڈوانی اور جوشی بھی نہیں ہیں لیکن وہ جب وزیر داخلہ تھے تو سیکڑوں بار انھوں نے کہا تھا کہ ملک کو سیکولرازم سے ہٹانے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ یشونت سنہا وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں اس لیے وہ کوئی فیصلہ کرتے وقت دنیا کو ضرور دیکھیں گے۔ لیکن ایسا اندازہ ہورہا ہے کہ وزیر اعظم ایڈوانی اور جوشی کو بابری مسجد کے جال میں الجھا ہوا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کوئی ان کا نام بھی نہ لے سکے اور وہ مختار عباس نقوی جیسے کسی لیڈر کا چہرہ سامنے آئیں جو راجیہ سبھا میں گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتا رہے کہ الور میں کچھ نہیں ہوا، جو دکھایا جارہا ہے وہ میڈیا کا شعبدہ ہے۔ جبکہ اس وقت لوک سبھا میں وزیر داخلہ تسلیم کریں کہ الور میں ا یک مسلمان کو مار مار کر ختم کردیا جس کی ایف آئی آر بھی ہوچکی ہے اور گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں اور مزید ہوں گی۔ مسلمان کو وزیر بنانے کا فائدہ کانگریس نے بھی اٹھایا اور بی جے پی بھی اٹھارہی ہے اور کیوں نہ اٹھائے جبکہ ان کے مذہب کے بدلہ میں انھیں حکومت اور وزارت دی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close