سیاست

ہماری ذمہ داری ہے!

مدثراحمد

ملک بھر میں پارلیمانی انتخابات کیلئے کائونٹ ڈائون شروع ہوچکا ہے، کچھ ہی دنوں میں اگلے پانچ سالوں کیلئے حکومت چننے کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔ حسب اعلان اس دفعہ کے انتخابات ملک کی جمہوریت کی بقاء، ملک کے دستور کے تحفظ، ملک کی سالمیت، یہاں کی عوام کے حقوق، عدل وانصاف کیلئے تبدیلی لانے کی کوشش میں ہندوستان کے ہر دانشور و امن پسند شہری لگے ہوئے ہیں۔

 ملک میں ہر طرف یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ اس دفعہ ظالم حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹانا ہوگا اور امن پسند وسیکولر نمائندوں کو منتخب کرناہوگا۔ ہندوستان کے تمام مسلم دانشوران، علماء وعمائدین بھی مسلسل اس بات کی اپیل کررہے ہیں کہ مسلمان ہر حال میں ووٹ دیکر جمہوریت کے نظام کومضبوط کریں، فاسق و فسطائی جماعتوں کو شکست دیں۔ یہ اعلانات یقیناً بے حد ضروری ہیں، اس کے علاوہ تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ ملک میں 3 کروڑ کے قریب مسلمانوں ودلتوں کے نام ووٹنگ فہرستوں سے غائب کئے گئے ہیں۔ یہ اعداد وشمارات منظرعام پر آتے ہی ہندوستان کے ہوشمند شہریوں نے بے چینی کا اظہارکیا ہے اور سرکاری مشنریوں اور الیکشن کمیشن کی لاپرواہی کی پُر زور مذمت کی ہے۔ جس ملک میں مشنریوں پر فسطائی و فرقہ پرست جماعتوں کے اہلکار خدمات کیلئے فائز کئے گئے ہوں اُن مشنریوں سے کیاتوقع کی جاسکتی ہے۔ ان کیلئے توان کے فرقہ پرست آقا ہی سب کچھ ہیں اور وہ بھی ایک طرح سے فرقہ پرستی کے ذہنی مریض ہیں۔ ہندوستان کے بنیادی اصولوں کو وہ مضبوط کرنے کے بجائے اسے کھوکھلا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

جابجا یہ خبریں آرہی ہیں کہ مسلمانوں کے نام ووٹنگ فہرست سے ہذف کئے گئے ہیں، یا پھرایک علاقے کے مسلمانوں کے نام کسی اور علاقے میں منتقل کئے گئے ہیں۔ ایسا ہر سال ہوتا آیا ہے اور ایسا اُس وقت ہوتا رہے گا جب تک کہ سرکاری محکموں ومشنریوں میں سیکولر غیر مسلموں کے علاوہ مسلمان بھی بڑی تعدادمیں خدمات انجام دنہیں دیتے۔ ایک طرف سرکاری مشنریوں کی جانب سے مسلمانوں کے نام ہذف کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے تو دوسری جانب ملک بھر میں اندازاً12 لاکھ مسلمان چاہ کر بھی ووٹ نہیں دے رہے ہیں۔ 12 لاکھ ووٹ معمولی نہیں ہیں بلکہ پوری طرح سے2 ایم پی کو منتخب کرنے والے ووٹ ہیں۔

اندازے کے مطابق ہندوستان میں روزانہ لاکھوں لوگ دینِ اسلام کی اشاعت، مسلمانوں کی تربیت اور آخرت سنوارنے کیلئے گروہ در گروہ جماعتیں بنا کر تبلیغ کیلئے نکل رہے ہیں۔ اکثر جماعتیں اپنے اپنے مقامی علاقوں کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو ہجرت کرتے ہیں اور وہاں پر دین کا کام انجام دیتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد اپنے دستوری حق کو نظرانداز کرتے ہوئے دین کے کام کو ترجیح دیتے ہیں تو اس سے بہت بڑا خسارا اپنے لئے اور اپنے ملک کیلئے بھی ہوگا۔ اللہ کے رسولﷺ نے حکم دیا ہے کہ تم اپنے لئے ظالم بادشاہ سے پناہ مانگو اور اعتدال پرست حکمرانوں کاانتخاب کرو۔ تو اس طرح سے الیکشن میں ووٹ دینا بھی دینی فریضہ ہے، اگر ہم اپنی ہونے والی حکومت کو اللہ کے بھروسہ چھوڑ دیتے ہیں اور صرف آخرت کی بات کرتے ہیں تو نا مناسب بات ہوگی۔ دین کا کام تاحیات کرنے کا کام ہے، اس کام کو انجام دینے سے قبل کچھ طرح سے منصوبہ بندی کریں کہ آپ کو ووٹ بھی ضائع نہ ہو اور آپ کی عبادتوں و دعوت کے کام بھی خلل نہ ہو۔

 اسی طرح سے مزید6 لاکھ وہ مسلمان ہیں جو عمرہ کیلئے ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ عین انتخابات کے وقت اتنی بڑی تعداد ملک سے باہر ہوجائے تو ان کے ووٹ کون ڈالے گا اور اس کے ذمہ دار کون ہونگے؟۔ ہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم عمرہ جا کر کعبۃ اللہ میں بیٹھ کر دعا کرینگے کہ اللہ ہمیں ظالم حکمرانوں سے محفوظ کریں۔ یقیناً ہمارا یقین اللہ پر ہونا چاہیے، لیکن اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ ” میں اُ س وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلونگا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت بدلنے کی پہل نہ کریں "۔

اب ہماری حالت اور ہماری حکومت کو بدلنے کی ذمہ داری ہم پر ہے، اگر ہم اس موقع پرگنوادیں تو اگلے پانچ سال تک ہمیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ موجودہ پانچ سالوں میں مسلمانوں نے بہت ستم سہے ہیں، گروہی تشدد کے بہانے100 کے قریب لوگ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں، ہماری مسجدوں کو ناپاک کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں تو کہیں حکومتی سطح پر شرعی احکامات میں مداخلت ہوئی ہے۔ ممکن ہے کہ اگلے پانچ سالوں کیلئے ہم نے ابھی سے مصمّم فیصلہ نہ کرتے ہوئے حکومت کو نہیں بدلتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں ہماری جماعتوں کانکلنا محال ہوجائے، عمرہ وحج کیلئے نئے قوانین عمل میں آجائیں، ہماری مسجدوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں، ہماری جانوں کے کھلے دشمن بن جائیں اور ہماری عورتوں کو بچوں کی عزتیں تارتار ہوجائیں یا پھر اس ملک میں ہمارے بنیادی حقوق کو سلب کرلئے جائیں۔ اگر یہ نہیں چاہتے ہیں تو ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہوگی اور الیکشن میں اپنی تمام مصروفیات و ذمہ داریوں کوبلائے طاق رکھتے ہوئے ووٹ دینے کے عمل کو ترجیح دیں۔

ہوسکتا ہے کہ ہماری اس چھوٹی کوشش میں اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل ہوجائے اور ہمارے لئے فتح کا پیغام مل جائے۔ اگر سب کچھ اللہ کے اوپر چھوڑ دیا ہوتا تو فتح مکہ کیلئے صحابہ جنگ کی تیاریاں نہیں کرتے، جنگ بدرنہیں ہوتی، غزوہ احد نہیں ہوتا، سلطان صلاح الدین ایوبی بیت المقد س کو فتح کرنے کیلئے لاکھوں فوجیوں کو لیکر یہود ونصاریٰ کے ساتھ جنگ نہیں کرتے۔ موجودہ وقت میں ووٹ ڈالنا بھی دین کا ہی ایک حصہ ہے، اس ذمہ داری کو ادا کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close