سیاستہندوستان

ہماری عقل کا ماتم کوئی نہیں کرتا!

عالم نقوی

سوامی اگنی ویش پر حملے کی مذمت تو بہت سوں نے کی اور ظاہر ہے کہ یہ مذمت کرنے والے گروہ مظلومین  ہی کے لوگ ہیں، اہل ظلم  یا  اُن کے حامی نہیں ۔ لیکن ہزار مذمتوں کے باوجود جو اصل بات ہے وہی کسی نے  ابھی تک نہیں کہی کہ جب تک ’ماب لنچنگ ‘کے راست ذمہ داروں کو انڈیا گیٹ پر یا جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں ہزاروں آنکھوں کی براہ راست  اور کروڑوں کی با لواسطہ (ڈیجیٹل) موجودگی  میں پھانسی نہیں دے دی جاتی اور ماب لنچنگ کے پس ِپردہ ذمہ داروں کو، خواہ اُن میں کتنے ہی ’’بڑے لوگ‘‘  حتی کہ سربراہانِ حکومت،گورنر اور چیف منسٹر  ہی کیوں نہ ہوں، تا عمر قید با مشقت کی سزا کاٹنے کے لیے جیلوں میں نہیں ڈالا جا سکتا   تو کسی بھی طرح کی چیخ پکار سے کوئی فائدہ نہیں۔ یعنی قانون جب تک  لفظاً اور معناً سب کے لیے۔ ۔ امیر غریب، آقا اور غلام۔۔ سب کے لیے برابر نہیں ہو جاتا، یعنی۔ ۔ جب تک  حقیقی نظام انصاف کے قیام  کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو جاتا۔ ۔ سب کچھ بے معنی ہے۔

جو اصل غم ہے وہی غم کوئی نہیں کرتا

ہماری عقل کا ماتم کوئی نہیں کرتا !

سوامی اگنی ویش کوئی عام آدمی نہیں اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اپنی جھارکھنڈ آمد  کی پیشگی اطلاع انہوں  نے بذات ِخود ریاست کے گورنر اور چیف منسٹر کو دی تھی۔ وہ آدی باسیوں کی ایک تنظیم کا پروگرام تھا۔ چھوٹے موٹے عام اجتماعات کی بھی پولیس اور محکمہ خفیہ کو اطلاع ضرور ہوتی ہے لیکن سوامی کی جلسہ گاہ کے آس پاس کہیں بھی کوئی پولیس بندوبست  نہیں تھا۔ لیکن وہاں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی ) بجرنگ دل اور سنگھ پریوار کی  دوسری  تنظیموں کے لیڈر اپنے ساتھ اپنے حامیوں کا ہجوم لے کر پہنچ گئے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہوا ؟

 ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور کپتان پولیس (ایس ایس پی) اور سی آئی ڈی نے  اپنی معمول کی ذمہ داری  کیوں نہیں پوری کی ؟ جبکہ ریاست کے دونوں مکھیا (گورنر اور چیف منسٹر تک ) سوامی کے دورے کی تفصیلات سے باخبر تھے ؟َکیا اس کے معنی یہ نہیں کہ جو کچھ وہاں سوامی اگنی ویش کےساتھ ہوا وہ سب اعلیٰ سطحی جانکاری اور منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا !

اس حملے میں سوامی کی جان کیوں نہیں گئی اس کے دو ظاہری  سبب ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ  پٹائی کرنے والوں کو یہ حکم دیا گیا ہو کہ وہ سوامی کو جان سے نہ ماریں صرف  زخمی کر کے  اور بخیال خود ذلیل کر کے چھوڑ دیں۔ وہ نہیں جانتے کہ عزت اور ذلت تو صرتف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

دوسرے یہ کہ سوامی کے میزبان انہیں  کسی نہ کسی طرح ’’ماب لنچرس‘‘ کے درمیان سے بچا کر نکال لے جانے میں کامیاب  ہو گئے ہوں۔ (تاہم اُن کے زندہ رہ جانے  کا اصل سبب تو یہی ہے کہ’ موت کا ایک دن معین ہے ‘اور وہ ابھی آیا نہیں ہے)۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جلسے کے منتظمین اور سوامی کے میزبانوں نے کوئی ’پیش بندی ‘کیوں نہیں کر رکھی تھی ؟ اور یہ کہ جب انہوں نے  دیکھا کہ ان کی خوش فہمیوں کے بر خلاف ’سیاں بھئے کُتوال تو پھر ڈر کاہے کا ‘ والے اندھے بھکتوں کی بھیڑ وہاں جمع ہو گئی ہے جو  سوامی  جی کو سُننے یا اُن کا’’ آدر سَت کار‘‘ کرنے کے لیے نہیں آئی ہے تو انہوں نے ضروری ’تدارکی اقدامات ‘کیوں نہیں کیے ؟

تیسرا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آدی باسی منتظمین اور میزبانوں نے اپنے مہمان کو بے عزت کرنے والوں کا مقابلہ کیوں نہیں کیا ؟َ کیا وہ ’سلف ڈفنس ‘ اور دفاعِ ذات کے حق اور متعلقہ ملکی و عالمی  قوانین سے ناواقف تھے ؟ اور اگر ناواقف تھے تو کیوں؟ اور واقف تھے تو اس فطری قانونی اور بنیادی  حق کا بر وقت اور واجب  استعمال  انہوں نے کیوں نہیں کیا ؟

اب یہ صاف نظر آنے لگا ہے کہ ملک کی اُنہتر ( ۶۹)فی صد اکثریت کی مرضی کے  خلاف  نظام کی داخلی خرابیوں کی وجہ سے محض اکتیس ( ۳۱ )فیصد اقلیتی ووٹوں  کے بل پر پانچ سال سے  جھوٹ، ظلم اور فریب کے ساتھ   حکو مت کرنے والا سنگھ پریوار، سام دام دنڈ بھید، کسی بھی طرح، اگلے عام انتخابات  میں بھی ۲۰۱۴ کی تاریخ دہرانا چاہتا ہے۔ لیکن  جھوٹے وعدوں کے نئے ریکارڈ بنانے والی  عوام دشمن حکومت کی  غریب دشمن  معاشی  و تعلیمی پالیسیوں کی وجہ سے چونکہ  ۲۰۱۹ میں اُسے دو ہزار چودہ والے  اکتیس (۳۱ )فی صد ووٹ  بھی اب   نہیں ملنے والے اس لیے اُس نے ملک میں ۱۹۴۷ والی فرقہ وارانہ صورت حال پیدا کرکے اس کا فائدہ اٹھانے کا ابلیسی فیصلہ کیا ہے !

سیاسی سطح پر آج ملک میں  ایک ایسے متحدہ محاذ  کی سخت ضرورت ہے جو سنگھ پریوار کے چیلنج کا کما حقہ مقابلہ کر سکے۔ لیکن  اس محل پر دو باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

ایک تو یہ کہ سنگھ پریوار کی تمام کامیابیاں کانگریس ہی  کی غلط اور بیہودہ پالیسیوں کی مرہون ِمنت ہیں۔ اس لیے  منافق کانگریس ہر گز ہر گز بی جے پی کا متبادل نہیں۔ دوسرے یہ کہ راہل گاندھی صرف منافق پارٹی اور منافق خاندان ہی  کی فرد نہیں، احمق بھی ہیں۔ جس کا تازہ ترین ثبوت پارلیمنٹ میں ان کی تقریر اور اسکے بعد مودی کو دی جانے والی جھپّی ہے !  کانگریس کا ان کو آئندہ الکشن میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانا ’حماقت ومنافقت کی تلبیس‘  کا  بد ترین نمونہ ہے۔ کانگریس اس طرح سنگھ پریوار کے فاشسٹوں بلکہ دہشت گردوں کے لیے راستہ ہموار کر رہی ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ ملک کو عام آدمی پارٹی جیسی پارٹیوں اور اروند کیجری وال نیز ممتا بنرجی جیسے لیڈروں کی ضرورت ہے۔ اور صرف وہی سیاسی اتحاد آنے والے الکشن میں سنگھ پریوار کا مقابلہ کر سکتا ہے جس میں یہ  عناصر کلیدی رول ادا کر سکیں۔ اور ضرورت تو اس کی ہے کہ جسٹس مارکنڈے کاٹجو، پروفیسر رام پنیانی، پروفیسر اپوروا نند جھا، اور رویش کمار جیسے لوگ عملی سیاست میں براہ راست حصہ لیں !  یاد رکھیے۔ ۔ آزمودہ را آزمودن جہل است۔ ۔ ! ہم اگر حکمت کے بجائے جہالت کا ثبوت دیں گے تو ہمارا حشر بھی وہی ہوگا جو جاہلوں کا مقدر ہے۔

رہے مسلمان تو اُن کے لیے اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ  سب سے پہلے ظلم، جھوٹ اور بد عنوانی (کرپشن) کے قومی دھارے سے باہر آئیں اور متحد ہو کر ’خیرِ اُمَّت ‘ہونے کا اپنا فرض ِمنصبی ادا کریں۔ اللہ اس کے رسول ﷺ اور اللہ کی کتاب قرآن پر ایمان، قرآن اور اُسوہ ءِنبی ﷺ کی مکمل پیروی، اللہ کی مخلوق کی  بلا تفریق و امتیاز خدمت  اور حسب استطاعت فرداً فرداً حصول قوت!

مسلمان  وہ  کریں جو اللہ ان سے چاہتا ہے تو اللہ وہ کرے گا جو اُس کی’ سنت‘ ہے اور جو اُس کا ’وعدہ‘ ہے۔ اور  اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں  ہوتی  اور  وعدہ خلافی اللہ کا شعار نہیں۔ ۔ واللہ اعلم با عدآ ء کم و کفی ٰ با للہ ولیا۔  و کفا با للہ نصیرا ً۔ اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور وہ تمہاری سرپرستی کے لیے کافی ہے۔ اور اللہ تمہاری نصرت کے لیے بھی کافی ہے (سورۃالنسا ءآیت۴۵)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close