سیاستہندوستان

ہم بچاتے رہ گئے دیمک سے گھر اپنا مگر

مدثر احمد

ہندوستانی میڈیا میں زہرفشانی پھیلانے والے میڈیا کمپنیوں کی فہرست تو لمبی چوڑی ہے ساتھ ہی ساتھ سماج میں پھوٹ ڈالنے کا بیڑہ اٹھانے والے صحافیوں کی بھی تعداد بہت زیادہ ہے ان میں سرفہرست کے صحافیوں میں شمار ہونے والے ایک صحافی ارنب گوسوامی ہیں جو اپنے آپ کو صحافی سے زیادہ دیش بھگت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔دراصل صحافت کے بنیادی اصولوں کو دیکھا جائے تو ایک صحافی کسی بھی مذہب، مسلک، ذات، قومیت اور شہریت سے پرے ہوتاہے۔ اسکا فرض صرف سچی خبروں کی رسائی ہے، وہ اپنے ذاتی نظریات کو خبروں میں شامل نہیں کرسکتا اور نہ ہی مخصوص نظریات کی تشہیر کرسکتا ہے۔ جس طرح سے آج ہمارے درمیان مذہب اور سیاست کو لے کر شدت پسندی کرنے والوں کا دبدبہ ہے اسی طرح سے قومیت یعنی نیشنلزم اور حب الوطنی یعنی پیٹریٹزم کا دکھاوا کرنے والے بھی سماج پر غالب آنے کی کوشش کررہے ہیں، ایسی کوششوں کے علمبرداروں سے ہی سماج کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ہندوستانی صحافی ارنب گوسوامی نے اپنے اسی شدت پسندانہ سوچ کو لے کر حب الوطنی یعنی پیٹریٹزم کا ایسا ڈھونگ اپنے سامعین کے سامنے رکھ رہے ہیں جس سے انہیں سننے اور دیکھنے والوں کے دماغ منتشر ہورہے اور عوام کا یہ انتشار سماج کے لئے مہلک ثابت ہورہا ہے ۔ ارنب گوسوامی جیسے صحافیوں کے نظریات کیمیائی ہتھیاروں سے زیادہ نقصاندہ ہیں مگر سماج اس زہر کو کھانے کا عادی بن چکا ہے۔ جس طرح سے شراب اور گانجے کے عادی اپنی عادت سے آسانی کے ساتھ چھٹکارہ حاصل نہیں کرپاتے بالکل اسی طرح سے ارنب جیسے صحافی عوام کے دماغوں کو نفرتوں کے عادی بناچکے ہیں ۔

پچھلے دنوں ارنب گوسوامی نے اپنے ایک پروگرام کے دوران جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین امری کو دہشت گرد بتایا ہے جبکہ جیش ابلیس(ہم محمد کی جگہ پر ابلیس کا لفظ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ جیش محمد تو محسن انسانیت ہے، مگر خود ساختہ جیش محمد انسانیت اور اسلام کے خلاف کام کررہی ہے) کی املاک میں حرمین شریفین کو جوڑ کر توہین کی ہے اس صورت میں ارنب گوسوامی کی نہ صرف مذمت کرنی چاہئے بلکہ اسکے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے بھی ارنب گوسوامی نے اسلام، اسلامی تعلیمات، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے اناب شناب کہا ہے اور اسکی زبان درازی اس لئے جاری ہے کہ مسلمانوں نے اس پر کبھی قانونی کارروائی نہیں کی ہے ۔ہندوستانی آئین نے جہاں ہندوستان کے ہر شہری کو مذمت و احتجاج کرنے کا موقع دیا ہے وہیں کسی بھی مذہب یا عقیدے کی توہین کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھرپور موقع دیا ہے ۔مگر ہمارے یہاں دیکھا جارہا ہے کہ ہماری مخالفت صرف مذمت تک ہی محدود ہوچکی ہے اور ہم قانونی کارروائیوں سے گریز کرتے رہے ہیں جسکا سیدھا فائدہ سماج دشمن عناصر اٹھارہے ہیں۔

ارنب گوسوامی نے جس طرح سے ملک کے مسلمانوں کی توہین کی ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ارنب کے بیان کے بعد مختلف شعبوں کے سربراہان نے اظہار مذمت تو کی ہے لیکن قانونی کارروائی کی سمت میں پیش رفت کسی نے نہیں کی ہے۔ جماعت اسلامی خود ایک ایسی جماعت ہے جس میں قانون دانوں اور وکلاء کی کوئی کمی نہیں ہے اور انکے ہر شعبے میں تعلیم یافتہ افراد کی اچھی خاصی تعداد ہے ایسے میں جماعت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس سمت میں پہل کرنی ہوگی۔ حالانکہ جماعت ہر معاملے میں حکمت کا دعویٰ کرتی رہی ہے لیکن جب اپنے ہی گھر کو دمک چاٹنے لگے گی تویہ گھر کھوکھلا ہوجائیگا اور گھر کے ساتھ ساتھ کرسیوں کے کیڑے گھر کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی کھوکھلا کردینگے۔ بقول شاعر اسامہ ابراہیم قاسمی

ہم بچاتے رہ گئے دیمک سےگھر اپنا مگر

کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھا گئے

اب ہمیں قانون کا سہارا لے کر ارنب جیسے خود ساختہ حب الوطنوں کے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close