سیاست

ہم بھی ہیں جوش میں

مدثراحمد

لوک سبھا انتخابات کاچرچہ ہر جگہ چل رہا ہے، قومی وعلاقائی پارٹیوںکے علاوہ بعض مقامات پر مسلم اکثریتی سیاسی پارٹیاں بھی اپنے علاقوںمیں امیدوار اتار رہے ہیں۔ جہاں اس دفعہ کانگریس  سمیت بیشتر سیکولر سیاسی جماعتوںنے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارنےسے گریز کیا ہے، اتنے ہی پیمانے پر مسلم اکثریتی سیاسی پارٹیاں لوک سبھا انتخابات کیلئے اپنے مسلم امیدواروںکو اتار چکے ہیں۔ ایک طرف سیکولر سیاسی جماعتیں حکمت کے نام پر مسلم امیدواروں کومیدان سے دور کررہی ہیںتو دوسری جانب مسلم جماعتیں حماقت کے نا م پر اپنے امیدواروں کو الیکشن میں اتار رہی ہیں۔

 سیکولر سیاسی جماعتوں کے پاس یہ حیلہ ہے کہ ہم اُسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینگے جو مسلمانوںکے علاوہ غیر مسلموںکے ووٹ بھی حاصل کرے۔ جبکہ غیر مسلم امیدوار کو ٹکٹ دئیے جانے پر مسلمانوں پر یہ پابندی عائدکی جاتی ہے کہ مسلمان ہر حال میں اسی امیدوار کو ووٹ دے، یہ ایک طرح سے فرمان جاری ہوجاتا ہے اور اس فرمان پر مسلم فلاحی وسماجی تنظیمیں بھی عمل پیراں ہوجاتے ہیںاور سیکولر پارٹی کے فرمان کوفتوے کی طرح قبول کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ یہی مسلم ملّی و فلاحی تنظیمیں سیکولر پارٹیوں سے سوال کرنے کی سکت نہیں رکھتے کہ جب ہم پورے مسلمان مل کر ایک غیر مسلم جیت دلانے کے پابند ہیں تو کیونکر تمام سیکولر جماعتیں مل کر ایک مسلم امیدوار کو کامیاب نہیں کرواسکتے؟

 کرناٹک کی ہی بات لے لیں یہاں جے ڈی ایس اور کانگریس نے مل کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، پوری ریاست میں صرف ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ جے ڈی ایس نے ایک بھی مسلمان کو ۓٹکٹ دیا ہے۔ بقیہ27 مقامات پر جے ڈی ایس وکانگریس نے غیر مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیکر مسلمانوں پر حکم صادر کردیاہے کہ مسلمان جے ڈی ایس یا کانگریس کے امیدوار کو ہی ووٹ دیںاور سیکولرزم کو مضبوط کریں۔ جے ڈی ایس اور کانگریس کے اس فرمان پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیکولرزم کا ٹھیکہ ان دونوں سیاسی جماعتوںنے ہی لے رکھا ہے، باقی جو سیکولر لیڈران ہیںوہ کانگریس اور جے ڈی ایس کو چھوڑنے پر کمیونل ہوجاتے ہیں۔ بنگلورو سینٹرل سے فلم اداکار و معروف سماجی جہدکار پرکاش رائے آزاد امیدوار ہیں، انہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں وزیر اعظم نریندرمودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف جتنی مخالفت کی ہے اتنی مخالفت شاید ہی کانگریس یا جے ڈی ایس کے کسی مسلم لیڈرنے کی ہو۔

آج جب پرکاش رائے نے بنگلورو سینٹرل سے امیدوار ہونے اور اپنے لئے کانگریس وجے ڈی ایس سے حمایت مانگی تو یہ لوگ ان سے اس قدر کنارہ کشی کرنے لگے کہ مانو وہ کٹر مودی بھگت ہیں۔ جس طرح کے سیکولرنظریات پرکاش رائے نے پچھلے پانچ سالوںنے پیش کئے ہیں اس کی مثال کانگریس وجے ڈی ایس میںنہیں ملتی۔ جس طرح سے مسلمانوںمیں یہ سوچ ہے کہ ختنہ کرنے پر ہی کوئی مسلمان بن سکتا ہے یا پھرداڑھی رکھنے والا ہی دین کی بات کرسکتا ہے، اسی طرح سے کانگریس وجے ڈی ایس نے یہ طئے کرلیا ہے کہ ان کی پارٹی میں رہنے والا ہی سیکولر ہے۔

آج سیکولرزم کو نام نہاد پارٹیوںنے کاپی رائٹ کرلیا ہے، جس کے بعد کوئی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف سیکولرزم کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں تو دوسری جانب ہماری مسلم اکثریتی سیاسی جماعتیں سیدھے اپنا مقابلہ ایم ایل اے اور ایم پی الیکشن میں کرنے کیلئے اترتی ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی طرح کے بنیادی تیاریوں کوانجام دئیے بغیر ہی فائنل میں اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی کامیاب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دیکھیں تو اس میں یہ بات صاف نظرآتی ہے کہ ان کے یہاں گرام پنچایت، تعلق پنچایت، ضلع پنچایت، ٹائون کائونسل، میونسپل کائونسل اور کارپوریشن کے سطح پر پہلے قیادت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، ہر سیاسی جماعت اپنے کم ازکم ایک رکن کو ان حلقوںمیں قیادت کیلئے تیار کرتی ہیںاور ان کے نمائندے نہ صرف پنچایت راج یا کائونسل یا میونسپل کائونسل میں قیادت کرنے والے ہوتے ہیں بلکہ اے پی ایم سی، ٹی پی ایم سی، چیمبر آف کامرس، مقامی کوآپریٹیوسوسائٹیاں اور ملٹی پرپزسوسائیٹوںمیں اپنے لیڈروں کو قیادت کرنے کیلئے چھوڑ دیتی ہیں، جس کے سبب ان کیلئے ووٹروںکے درمیان جانے کیلئے آسانیاں پیدا ہوتی ہیںاور ان اداروںمیں منتخب ہونے والے لیڈران خود اپنی سیاسی پارٹیوںکے امیدواروں کوکامیاب کروانے کیلئے منصوبہ بندی کردیتے ہیں، جس سے سیدھے طور پران کاامیدوار جیت جاتا ہے۔

 حدتو یہ ہے کہ بی جے پی و کانگریس کے کئی لوگ سرکاری محکموںمیں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بارکائونسل کے نمائندے بھی بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی ایس جیسی سیاسی جماعتوںکے لیڈران ہیں۔ صرف وہ انہیں عہدوں پر نہیں بلکہ جائزہ لیں تو پولیس، سرکاری محکمے، آربی آئی تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ مگر ہماری مسلم سیاسی جماعتوںکے لیڈران پورے ملک کے کونسے گرام پنچایت پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں؟کونسی تعلق پنچایت میں ان کی قیادت ہے؟کس کارپوریشن میں یہ صدر ہیں؟اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ بس ایم پی الیکشن کا اعلان ہوا تو مسلم جماعت کی طرف سے ایک امیدوار، ایم ایل اے الیکشن کااعلان ہو اتو مسلم سیاسی پارٹی کےدس امیدوارمیدان میں اتر جاتے ہیں۔ لیکن ان کے جیتنے کے اسباب نہ کہ برابر ہوجاتے ہیں۔ ہمیں جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close