سیاست

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں

حفیظ نعمانی

ہم نے 1960 ء میں سیاست میں عملی طور پر دلچسپی لینا شروع کی اور جہاں تک حافظہ کام کرتا ہے اس کے دو چار برس بعد کانگریس کے ایک تیز طرار لیڈر کے طور پر ڈاکٹر عمار رضوی سے تعارف ہوا۔ وہ جس دن ملے اس دن بھی کانگریسی تھے اور آج بھی جبکہ ان کے زمانہ کے نہ جانے کتنے پارٹی چھوڑ چکے۔ انتہا یہ ہے کہ وہ وزیراعلیٰ نرائن دت تیواری جو اُن کو برسوں اپنا جانشین بنائے رہے وہ بھی اس حال میں مرے کہ وہ سابق کانگریسی ہوچکے تھے۔

کانگریس میں نہ جانے کتنے ممتاز لیڈر ہیں جو بلیک میل کرنے کیلئے کانگریس کو چھوڑنے اور پکڑنے کا کھیل کھیلتے رہے ہیں لیکن کسی کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوا جو برسوں سے عمار صاحب کے ساتھ ہورہا ہے۔ ہمیں وہ دن بھی یاد ہے جب نینی تال میں ایک ضمنی الیکشن ہورہا تھا اور اترپردیش میں سنجے منچ کا ڈنکا بج رہا تھا اس وقت اکبر احمد ڈمپی کے مقابلہ کے لئے پوری کانگریس کو صرف عمار رضوی صاحب نظر آئے اور تیواری جی نے وہاں ایک تقریر میں کہا تھا کہ میں اس لیڈر کے لئے آپ سے ووٹ مانگ رہا ہوں جو ہوسکتا ہے کہ کل جب آپ اُترپردیش کے چیف منسٹر سے بات کرنا چاہیں گے تو جواب ملے گا کہ کہئے میں عمار رضوی بول رہا ہوں۔

ہمیں وہ دن بھی یاد ہیں جب جنتا پارتی کی حکومت میں سنجے گاندھی اور اندرا گاندھی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس کے ہر لیڈر نے جیل بھرو تحریک میں حصہ لیتے ہوئے گرفتاری دی تھی اور لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل میں نرائن دت تیواری کے ساتھ تمام بڑے چھوٹے کانگریسی بند تھے تو ہر دن عمار رضوی صاحب دن کا زیادہ وقت ان سب کی خبرگیری اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے میں گذارتے تھے۔ اور ایک دن جیل میں ہی ہم سے ملاقات ہوئی اور وہ تاریخی و مکالمہ سنا گیا جو عمار صاحب نے قیدیوں کو دی جانے والی سبزی پر کہا تھا۔

عمار صاحب ان سیاسی لیڈروں میں بھی بہت ممتاز ہیں جو علم کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں وہ وزیر تعلیم بھی رہے پارلیمانی امور کے وزیر بھی رہے اور پی ڈبلیو ڈی جیسے سونا برسنے والے وزیر اور پنچایت راج کے بھی وزیر رہے اور جہاں رہے وہاں انہوں نے چھاپ چھوڑی اور ان سے پچاس سال سے زیادہ عرصہ کے تعلق میں کسی سے نہیں سنا کہ انہوں نے حکومت سے کمایا۔

کانگریس کی جب جب حکومت بنی وہ وزیر رہے اور جب حکومت نہیں رہی تو ان کا دولت خانہ ملت کے مسائل پر مذاکرات کیلئے وقف ہوگیا۔ ہم خود نہ کانگریسی تھے اور نہ ہمیں اتنی فرصت تھی کہ وزیروں سے دوستی کریں لیکن ایسی کوئی میٹنگ یاد نہیں جو انہوں نے بلائی ہو اور اس میں اصرار کرکے ہمیں نہ بلایا ہو۔ وہ شیعہ ہیں لیکن یاد نہیں کہ ان کے گھر پر کبھی شیعہ مسائل کے بارے میں کوئی میٹنگ ہوئی ہو وہ ملک کے مسلمانوں کے بارے میں ہی سوچتے اور بات کرتے تھے۔ انہوں نے محمود آباد جیسی چھوٹی جگہ کو تعلیمی اعتبار سے انتہائی معیاری بنا دیا اور ایسا ماحول بنایا کہ ریاست کے گورنر صاحب بھی محمود آباد ہو آئے۔

1980ء میں جب جنتا پارٹی بکھر گئی اور کانگریس کیلئے راستہ صاف ہوگیا تو سنبھل کے سابق چیئرمین کانگریس سے اسمبلی کا ٹکٹ چاہتے تھے۔ ان کو کسی نے بتایا کہ حفیظ سے ان کی دوستی ہے۔ وہ ضد کرکے لے گئے ہم نے یہ بتادیا تھا کہ پارٹی کی مصلحت اور دوستی برابر نہیں ہوتی۔ اس وقت وہ محمود آباد ہائوس میں ہی رہتے تھے۔ ہم گئے تو گھر کے سامنے ایک بڑا شامیانہ لگا تھا جس میں نہ جانے کتنے ٹکٹ کے بھوکے بیٹھے تھے اور وہ ایئرپورٹ گئے ہوئے تھے۔

عمار صاحب آئے تو سب سے پہلے میرے پاس آئے کیونکہ برسوں کی دوستی میں کبھی ایسے موقع پر میں نہیں آیا تھا۔ میں نے تعارف کرایا انہوں نے پارٹی کی پالیسی بتائی اور کہا کہ پھر بھی جو ہوسکتا ہے وہ کروں گا۔ وہ کانگریس کے بہت مقبول لیڈر تھے نہیں بلکہ ہیں انہوں نے ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے کانگریس سے علیحدگی ان کا نہیں کانگریس کا نقصان ہے وہ انتہائی ذہین ہیں بہت اچھے مقرر ہیں جن کی کانگریس میں بہت کمی ہے ان سے پارٹی نے جس بنیاد پر کنارہ کیا ہے وہ اس سے زیادہ نقصان دہ نہیں ہے جتنی راج ببر نے کی کہ 2017 ء میں جھانک کر بھی نہیں دیکھا کہ ان کی پارٹی کہاں کہاں لڑرہی ہے بلکہ مذاق بناتے رہے اور ان کو ڈر تھا کہ شاید ان کی چھٹی کردی جائے گی اس وجہ سے انہوں نے بستر باندھ لیا تھا مگر وہ نہ رضوی ہیں نہ خان نہ سید ہندو بھی ہیں اور ہیرو بھی۔ ہم الیکشن کی کانگریس کو جو کہیں وہ الگ ہے لیکن جب مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کا ہوگا تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم کہاں ہوں گے؟ اسی رشتہ کی بناء پر کہہ رہے ہیں کہ کانگریس سے عمار صاحب کی علیحدگی کانگریس کا نقصان ہے عمار صاحب کا نہیں۔ اور اترپردیش میں کوئی نہیں ہے جو کانگریس اور مسلمانوں کے درمیان پل بن سکے اور اس طرح کے لوگوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے کہ بہار میں کانگریس یوپی سے کہیں بہتر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close