سیاست

ہندستانی فوج سویم سیوک سے کمتر!

 عبدالعزیز

 آر ایس ایس کے سنچالک موہن بھاگوت نے بہار کے مظفر پور ضلع میں آر ایس ایس کے کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سنگھ سیوک (رضاکار) ہندستانی فوجی جوانوں سے زیادہ قابل اور لائق ہیں۔ ہندستانی فوج کو سرحد پر جنگ لڑنے کیلئے تیار ہونے میں چھ ماہ کی مدت درکار ہوسکتی ہے جبکہ سنگھ سیوک دو تین دنوں میں تیار ہوسکتے ہیں بشرطیکہ حکومت کی اجازت ہو۔

موہن بھاگوت نے کوئی نئی اور حیرت میں ڈال دینے والی بات نہیں کہی ہے۔ آر ایس ایس میں جو شامل ہیں اور جوان کے ہمدرد اور متفق ہیں وہ ایسے تمام لوگوں کی جو آر ایس ایس کے فلسفہ سے اتفاق نہیں رکھتے ان کو حیوان نما انسان سمجھتے ہیں اور انسانوں کی فہرست میں سنگھ پریوار کے سوا کوئی شامل نہیں ہوتا، لہٰذا ان کے نزدیک دیگر انسان جو حیوان نما ہوتے ہیں حیوان کی طرح ہوتے ہیں یا حیوانوں جیسے ہوتے ہیں۔ ان میں وہ لیاقت و قابلیت نہیں ہوسکتی ۔ آر ایس ایس کا فلسفہ برہمنی فلسفہ سے ماخوذ ہے اور برہمنی فلسفہ یہودیوں سے بالکل ملتا جلتا ہے۔ یہودی اپنے کو چنیدہ یا چیدہ انسان (Chosen) سمجھتے ہیں۔ خود کو خدا پسندیدہ بندہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی فقہ کی کتاب (A body of Jewish Civil and Ceremonial law) میں لکھا ہے کہ وہ یہودیوں کے علاوہ ساری دنیا کے انسان حیوان نما ہیں۔ ان کا استعمال ہر طرح سے کیا جاسکتا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ صیہونی یا برہمنی فلسفہ کے حامی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دلت، مسلمان، عیسائی یا کسی اور مذہب اور عقیدہ کے لوگوں کو ہندوتو فلسفہ قبول کئے بغیر بھروسہ اور اعتماد کے لائق نہیں سمجھتے۔ موہن بھاگوت نے اپنے فلسفہ کی روشنی میں یہ بات کہی ہے۔ ان کے بیان سے ایک بات تو ظاہر ہوگئی کہ ان کی تنظیم کلچرل تنظیم نہیں ہے بلکہ عسکری تنظیم ہے۔ وہ militant ہیں اور ان کی فوجی یا عسکری تربیت نظم و ضبط کے لحاظ سے ہندستانی فوج سے کہیں بہتر ہے۔

 گاندھی جی کے قتل کے بعد ہندستانی حکومت سے آر ایس ایس کامعاہدہ تھا کہ وہ ایک کلچرل تنظیم کی حیثیت سے کام کرے گی۔ وہ سیاست میں حصہ نہیں لے گی مگر اس وقت آر ایس ایس موجودہ حکومت کو پورے طور پر کنٹرول کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بغیر کسی خوف و خطرہ کے فوج کو بھی چیلنج کیا جارہا ہے کہ فوج بھی آر ایس ایس کی تنظیمی اور تربیتی صلاحیت سے فروتر ہے۔ ایک ملک میں جسے ہندستان کہتے ہیں فوج کے مقابلے میں ایک اور فوج کے وجود کا دعویٰ کیا جارہاہے۔ یہ کس قدر خطرناک ہوسکتا ہے دنیا جانتی ہے اور ایسی متوازی تنظیموں کا حشر کیا ہوتا ہے اس سے بھی دنیا واقف ہے۔

 سنگھ پریوار کے لوگ ٹی وی چینلوں کے پینل ڈسکشن (مباحثہ) میں بیٹھ کر ان کی پارٹی یا پریوار کے جو لوگ نہیں ہوتے ان کو طعنہ دیتے ہیں کہ وہ ملک اور ملک کے فوجی جوانوں کی عزت و احترام نہیں کرتے۔ مذکورہ بیان سے سنگھ پریوار کے لوگوں کی قلعی کھل جاتی ہے کہ وہ فوج اور ملک کی کس قدر عزت و احترام کرتے ہیں۔

کانگریس کے لوگوں نے ملک میں رضا کار فوج کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے جن باتوں کا اظہار کیا ہے وہ خلافِ حق نہیں ہے۔ کانگریس کے آر ایس ایس کو پرائیوٹ فوج بتایا ہے اور کہا ہے کہ ایسی فوج جس ملک میں ہوتی ہے وہاں جمہوریت کو خطرہ ہی لاحق نہیں ہوتا بلکہ جمہوریت نیست و نابود ہوجاتی ہے۔ جیسے افغانستان میں ہوا۔ طالبان نے ملک کی فوج کی جگہ لے لی اور آج افغانستان جنگ و جدل کا اکھاڑہ بن گیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کے سنچالک کی تقریر فوج کی سراسر توہین ہے۔ وہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جو سرحد پر اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔ وہ قومی پرچم کی بھی توہین کر رہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ملک کے شہیدوں کی توہین کر رہے ہیں۔

کانگریس کے ذرائع ابلاغ کے سربراہ رندیپ سُرجیوالا نے کہا ہے کہ ’’آر ایس ایس کے ممبر اور سربراہ گاندھی جی، نہرو، امبیڈکر اور سردار پٹیل جیسے لوگوں کی توہین روز و شب کرتے رہتے ہیں۔ 52سال تک آر ایس ایس نے اپنے ہیڈ کوارٹر پر قومی پرچم نہیں لہرایا۔ ہم لوگ آر ایس ایس کا جو DNA ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں میں تفریق پیدا کرتے ہیں اس کو سرے سے رد کرتے ہیں‘‘۔

کانگریس کے دیگر لوگوں نے بھی اسی طرح کی باتیں کہی ہیں۔ اپوزیشن کی دوسری پارٹیوں کے بھی موہن بھاگوت سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

  میرے خیال سے آر ایس ایس سے آج سے نہیں آزادی کے بعد ہی سے ملک کو خطرہ لاحق تھا مگر کانگریس کے لیڈروں نے خیال نہیں کیا۔ مولانا حفظ الرحمن نے آزادی کے فوراً بعد پارلیمنٹ میں تقریر کی تھی: ’’ملک کو آر ایس ایس سے زبردست خطرہ لاحق ہے۔ مسلم لیگ یا کسی اور پارٹی سے خطرہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ کا زور ٹوٹ چکا ہے ۔ وہ پاکستان جاچکی ہے، لہٰذا کانگریس کو اور حکومت کو چاہئے کہ آر ایس ایس پر نظر رکھے۔ اس ذہن کے لوگ کانگریس میں بھی شامل ہورہے ہیں‘‘۔

 آر ایس ایس اب وہاں پہنچ چکی ہے جہاں سے اسے ہٹانا کارِ دارد فوج، پولس، عدلیہ، انتظامیہ، بیوروکریسی جسے Deep State کہتے ہیں اس میں اچھی طرح سے اپنی جگہ بنالی ہے۔ جو لوگ ان سے حقیقی معنوں میں ہر جگہ پنجہ آزمائی کر رہے ہیں وہ کمیونسٹ یا دلت ہیں۔ مسلمانوں کو کمیونسٹوں اور دلتوں کو اس لڑائی میں ساتھ دینا چاہئے۔ کانگریس ایک ایسی پارٹی ہے جس سے بی جے پی کی لڑائی اس کی مجبوری ہے مگر کانگریس میں جو لوگ ہیں چند لوگوں کے سوا وہ کسی وقت بھی پارٹی بدل سکتے ہیں اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ منی پور، گوا اور اب تریپورہ جیسی ریاستوں میں یہ چیز نظر آرہی ہے۔ جولوگ کانگریس میں تھے وہی لوگ آج ترنمول کانگریس میں ہیں۔ ایسی جماعتوں کے لوگ آسانی سے بی جے پی کا دامن تھام لیتے ہیں ۔

مکل رائے ترنمول کانگریس کے دو نمبر تھے اور ممتا بنرجی کے خاص آدمی تھے مگر انھیں بی جے پی میں شامل ہونے میں دیر نہیں لگی۔ بایاں محاذ پارٹیوں کے علاوہ سب پارٹیوں کا یہی حال ہے۔ نتیش کمار آج پورے طور پر سنگھ پریوار کے رنگ میں رنگ گئے ہیں۔ سنگھ پریوار کی بولی بولنے میں اب ان کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اکبر ، نقوی اور شہنواز بن سکتے ہیں۔ کچھ عالموں کا بھی ایمان اب ڈانوا ڈول ہے۔ ایک عالم دین جو حق پسند تھے آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف دھواں دھار تقریر کرتے تھے اور تحریر بھی نہایت جاندار تھی۔ موصوف کسی وجہ سے بدل گئے اور اچانک سنگھ پریوار کی ترجمانی کرنے لگے ہیں کہ بابری مسجد شہید کرنے والوں کو دے دی جائے؛ حالانکہ انھیںمعلوم ہے کہ سنگھ پریوار والے مسجد کو ڈھاکر وہاں مندر بنا چکے ہیں۔ جہاں اذانیں گونجتی تھیں اور اللہ کی عبادت پانچ وقت ہوتی تھی وہ سب 1949ء سے بند ہے۔ پولس اور مجسٹریٹ کی چال مسلمانوں کی بزدلی اور امام مسجد کا خوف و ہراس نے 23دسمبر 1949ء کو مسجد کا دروازہ بند کردیا۔22 اور 23دسمبر کی درمیانی رات کو مسجد میں چند شرپسندوں نے رام مورتی رکھ دی اور اپنے مقصد میں بظاہر کامیاب ہوگئے۔ آج عالم دین فقہ دکھاکر مسلمانوں کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھیں فقہ چند روز پہلے نظر آیا، اس سے پہلے وہ کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔ ان سے ذرا کوئی دریافت کرے۔ مولانا وحید الدین خاں کے بعد یہ دوسرے عالم دین ہیں جو بابری مسجد مسمار کرنے والوںکو دینے کی وکالت کر رہے ہیں۔ ان دونوں کے چیلے اور شاگرد بھی راتوں رات پیدا ہوگئے ہیں جو ان کی گمرہی پر پردہ ہی نہیں ڈال رہے ہیں بلکہ جواز پیش کر رہے ہیں۔

 یہ سب اب خطر ات ہیں ۔ ان خطرات میں جو لوگ صاف گوئی اور حق گوئی سے مکر جائیں گے ان سے کسی طرح بھی متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ اچھی بات یہ ہے کہ غیر مسلموں میں ہزاروں افراد ایسے ہیں جو قانون کی حکمرانی (Rule of Law) اور انصاف کی بات کر رہے ہیں۔ بابری مسجد کو توڑنے والے یا گرانے والوں میں سے بھی کئی ایک ہیں جو قبولِ اسلام کرچکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بلبیر سنگھ نام کے ایک شخص کی خبر دی جارہی ہے جو پہلے ’آج تک‘ چینل پر آئی تھی۔ جس میں بلبیر سنگھ نے قبول اسلام کی وجہ بتائی ہے کہ ’’ظلم اور گناہ ان کا پیچھا کر رہا تھا اور سکون کی نیند سے محروم ہوگئے تھے۔ ان کا ضمیر بیدار ہوگیا۔ احساسِ گناہ نے ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور بالآخر آغوش اسلام میں آگئے‘‘۔ اس کے گھر کے سبھی لوگ مشرف بہ اسلام ہوگئے ہیں۔ بلبیر سنگھ نے اپنا نام ’محمد امیر‘ رکھا ہے اور اپنی شکل و صورت بھی اسلامی بنالی ہے، اعلان کیا ہے کہ وہ 90سے زائد مسجدوں کی تعمیر بطور تلافی کریں گے۔ اب تک کئی مسجدوں کی تعمیر کرچکے ہیں۔ راقم فیض آباد کا رہنے والا ہے ۔ وہ ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہے جنھوں نے بابری مسجد کو گرانے میں حصہ لیا اور وہ اپنا جرم محسوس (Guilty Concoius) کر رہے ہیں اور اعترافِ جرم کرکے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ جگر مراد آباد نے سچ کہا ہے :

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close