سیاست

ہندوستان میں اقلیتوں کا استحصال اور ہماری ذمہ داری

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

اس حقیقت سے قطعی انحراف  و انکا ر نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اب سیاسی اقدار بڑی تیزی سے  روبہ زوال ہیں؛ کیونکہ  جو تصور؛ مفہوم اور تعبیر وتشریح سیاست وحکومت کی عہد حاضر میں سیاسی رہنما پیش کررہے ہیں؛ وہ نہ صرف ملی؛  ملکی اور قومی مفاد کے تئیں نقصاندہ ہے بلکہ ایک ترقی پذیرسماج کے لئے بھی خطرہ ہے – بد قسمتی  یہ ہیکہ اس عظیم الشان جمہوری ملک میں مسلم اقلیت کبھی اپنوں تو کبھی اغیار و اعداء کی زد میں رہی ہے؛ یہی وجہ ہیکہ آزادی کے بعد سے آج تک ہندوستان میں مسلم اقلیت کو درکنار کیا جاتا رہا ہے؛  امتیازی سلوک پر شاہد عدل سچر کمیٹی کی رپورٹ موجود ہے- علاوہ ازیں اگر ہم سات دہائیوں کی پوری تاریخ اٹھاکر دیکھیں  تو اندازہ ہوجائے گا کہ مسلم اقلیت کا کوئی فرد (باستثناء چند ایک تمثیلوں کے  )کسی بھی باوقار اور قابل ذکر سرکاری عہدہ پر فائز نہ ہوسکا  یہاں فطری طور پر ایک سوال ابھرتا ہے کہ آخر مسلمانوں میں استعداد و صلاحیت کی کمی ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہے؟  سچائی یہ ہیکہ  چند منفی افکار کے حاملین  کی وجہ سے مسلم اقلیت کو بارہا زدو کوب کیا گیا ہے – اگر ہم اپنے آئین کی دفعات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت طشت ازبام ہوتی ہے کہ وطن عزیز میں تمام افراد وقبائل کے ساتھ یکساں سلوک و برتاؤ کیا جانا ضروری امر ہے- مگر افسوس کہ یہاں ایک طبقہ ہمیشہ سے ایسا موجود رہا ہے جس نے ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے ساتھ اونچ نیچ؛  بھید بھاؤ اور امتیاز و افتراق جیسا رویہ اپنا نے کو اپنی سعادت و کامرانی سمجھا ہے؛ اسی طبقہ کی منفی فکراور ناقص سوچ کی وجہ سے ہندوستان کے منظر نامہ سے آئےدن   تشویشناک خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں- تازہ خبر ہندوستان کے صوبہ آسام سے موصول ہوئی کہ وہاں ایک معمر مسلم شخص کے ساتھ زعفرانی عناصر نے ظلم و ستم کا ننگا ناچ ناچا؛  حتی کہ اس کو خنزیر کا گوشت کھلانے کی مکروہ سعی کی – در اصل مودی حکومت کی کامیابی کا راز ہندو مسلم تفریق ہی میں  مضمر ہے – ذرا تصور کیجئے جو حکومت ایک طرف سب کا ساتھ سب کا وکاس جیسا پر امید نعرہ دیتی ہے وہیں دوسری طرف ملک میں فرقہ پرست عناصر مسلم اقلیت کو  لو جہاد؛ گھر واپسی؛ حب الوطنی  اور ہجومی تشدد کے نام پر درجنوں افراد کو تہ تیغ کرڈالتے ہیں  ہیں؛  مگر حکومت نے اپنے دور اقتدار میں ان غنڈوں کے خلاف ابھی تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی ہے حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ یہ دلخراش واقعات حکومت کے ایماء پر انجام دیئے جارہے ہیں؛ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ملاحظہ کرتے چلیں کہ سلطان پور میں مینکا گاندھی نے ایک عوامی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے جس طرح مسلم اقلیت کو ڈرایا  دھمکایا  وہ بھی جمہوری قدروں کے لئے ٹھیک نہیں ہے؛  واضح رہے کہ جمہوریت کی عظمت و شان یہی ہیکہ کہ ہر شہری اپنے حق رائے دہی کے لئے آزاد ہے ؛ وہ اپنی مرضی کے مطابق جسے چاہے اپنا ووٹ دے؛  نیز کسی بھی فرد پر دباؤ دھونس بناکر کسی خاص سیاسی جماعت کے لئے  اسے ووٹ ڈا لنے پر مجبور کرنا جمہوری قدروں کو داغدار کرنے کے مترادف ہے ؛ ان کے اس دھمکی بھرے لہجے میں ایک راز پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ؛  وہ بین السطور میں یہ کہنا چاہتی ہیں کہ رواں الیکشن؛ میں ہارہی ہوں اور اسی خوف کی وجہ سے انہوں نے اپنی حمایت کی اپیل میں غیر اخلاقی کلمات استعمال کئے ہیں ؛  مسلم اقلیت کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کی  ایسی ایک دو مثالیں نہیں ہیں بلکہ ہم گزشتہ پانچ برسوں سے یہی سنتے  دیکھتے اور پڑھتے آئے ہیں ؛ اس طرح کے بیانات سے فسطائی طاقتوں کو فائدہ اس طور پر بھی ہوتا ہے کہ ماحول  اشتعال انگیز ہوجاتا ہے؛  لہذا اس کی ضرورت بھی زعفرانی طاقتوں کو ہمیشہ رہتی ہے؛ مودی حکومت کے پانچ سالہ دور اقتدار کی تاریخ بھی یہی رہی ہیکہ وہ ابھی تک نان ایشوز کو ایشو بناکر  بھناتی رہی ہے اور رواں الیکشن کو بھی ہندو مسلم رنگ  میں  رنگ دینے کی پوری کاوش ہورہی ہے – حیرت تو اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ حکمراں جماعت نے جس طرح سے ہندوستانی معاشرہ میں نفرت و تنگ نظری کے بیج بوئے ہیں وہ کسی بھی سیکولر آئین کے حامی معاشرہ میں مناسب نہیں ہیں سیکولر آئین کے تحفظ کے متحمل معاشرہ کی خصوصیت باہم انگیز کرنا؛  بقائے باہم پرایمان ویقین رکھنا ہے-  دلچسپ بات یہ ہیکہ اب دیش بھکتی کا سرٹیفکٹ وہ عناصر بانٹ رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ ملک کو پارہ پارہ کرنے اور باہم نفرت وعداوت پھیلانے کا کام کیا ہے؛

مسلم.اقلیت کے ساتھ دوہرا معیار اختیار کرنا اور ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانا  شر پسند عناصر کا وطیرہ بن گیا ہے اس پربالفور بندھ لگانا ضروری ہے-

 حکمراں جماعت کے دور اقتدار میں جس طرح مسلم اقلیت کو ستایا گیا ہے اس سے متاثر ہو کر اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی کمیٹی کی رپورٹ نے بتایا ہے کہ رواں حکومت میں ہندوستان جیسے تکثیری معاشرہ میں اقلیتوں کو ہراساں کیا جارہا ہے ؛ مشیل بسلٹ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ ظاہر کیا ہے کہ 2018 میں نفرت پر مبنی واقعات کی تعداد 218 تک پہنچ گئی ہے  جن میں پچاس واقعات میں مسلم اقلیت کو نشانہ بنایا گیا ہے؛اور بقیہ سانحات میں دلت ودیگر کمزور طبقات کو زک پہنچائی گئی ہے-   اسی طرح یہاں یہ پیش کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا کہ  رواں برس مارچ کے اوائل میں امریکہ کے ایک ادارے یو ایس کمیشن آن انٹر نیشنل ریلیجیس فریڈم کے ذمہ داروں کو ہندوستان آنے کا ویزا دینے سے انکار کردیا گیا نیز اس ادارے کے عہدیداروں کو گزشتہ کئی برس سے ہندوستان آںے کی اجازت نہیں مل رہی ہے  یو ایس سی آئی آر ایف کے چئرمین روبرٹ پی جارج کا کہنا ہے کہ "ہمارا ادارہ ہندوستان آنے کی کوشش کرتا رہے گا کیون کہ ہندوستان سے جو خبریں موصول ہورہی ہیں ان میں یہ بتایا جاریا ہیکہ 2014  سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں؛  اور حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے "

اس رپورٹ کو بی جے پی کے قومی ترجمان  شاہ نواز حسین نے بے بنیاد قرار دیکر رد کرنے کی کوشش کی ہے – ہم کتنا بھی انکار کریں مگر اعداد وشمار اور حقائق و شواہد کو کبھی بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے ؛ حکمراں جماعت کے دور اقتدار میں جس طرح  سے مسلم اقلیت اور دیگر تمام کمزور طبقات کو تہ تیغ کیا گیا ہے وہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی سماج  کی پیشانی پر بد نماداغ ہے اور یہ  ہجومی تشدد کا مکروہ و مذموم سلسلہ 2015 دادری کے اخلاق کی ہتھیا سے شروع ہوا تھا جو ہنوز جاری و ساری ہے-

افسوس کی بات یہ رہی کہ ہجومی تشدد کو روکنے کے لئے سیکولر کہی جانے والی سیاسی جماعتوں نے بھی وہ دم خم نہیں دکھایا جس کی ضرورت تھی؛ اس لئے یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ مسلم اقلیت کو آزادی سے لیکر ابھی تک صرف ووٹ بینک کے طور استعمال کیا ہے؛  اور بدلہ میں کچھ بھی نہیں دیا حتی کہ ابھی تک مسلم اقلیت پورے ملک میں تحفظ نفس اور حفاظت جان کی بھیک مانگتی نظر آرہی؛ اس لئے تحفظ جان کے ساتھ مسلم اقلیت کو دیگر تمام بنیادی اور ضروی سہولیات فراہم کرنا بھی ہماری حکومتوں کی ذمہ داری ہے اسی کے ساتھ ساتھ مسلم اقلیت کے امتیازو تشخص؛ وقار و وجود اور تاریخ و تہذیب کی بھی حفاظت کے لئے عملی اقدام کرنا حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے؛ مگرشرمناک  بات یہ ہیکہ رواں حکومت نےمسلمانوں کے تہذیبی ورثہ اور آثار و علامات کو بھی خرد برد کرڈالا-

مسلم اقلیت کی زبوں حالی ہر محاذ پر قابل رحم ہے؛ تعلیم کے میدان  میں تو سب سے پسماندہ  ہندوستان میں مسلم اقلیت ہی  ہے؛ لے دیکر مسلمانوں کے چند تعلیمی ادارے ہیں ان پر بھی حاسدین و معاندین کی نظر بد مرکوز رہتی  ہے؛  بناء بریں مسلم اقلیت کی تعلیم و تربیت کے لئے مواقع پیدا کرنا اور ماحول کو سازگار بنانا بھی انتھائی ضروری ہے؛  اس کے لئے خود مسلم اقلیت کو بھی  آگے آنا ہوگا اور تعلیم کے حصول کے لئے اپنی تمام تر دولت و ثروت کو لگانا نہایت ضروری ہے-  آخر میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہندوستان میں جس طرح تشدد وانتھاء کی واردات میں اضافہ ہوا ہے وہ پورے ہندوستانی معاشرہ کے لئے کلنک ہے؛ اس سے معاشرہ میں نفرت؛ بدامنی اور بد عنوانی جنم لے رہی ہے اور ملک کی صدیوں پرانی تہذیب انیکتا میں ایکتا؛ ہندو مسلم اتحاد؛  قومی یکجہتی جیسی درخشاں روایات  بری طرح مجرح ہورہی ہیں  ؛ چنانچہ ہندوستانی سماج کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے باہم مرکزیت ویکجائیت اور بھائی چارگی کو فروخ دیناانتھائی ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب اخلاص کے ساتھ ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ملک و ملت کی خدمت کا جذبہ عوام اور خواص سب میں جاگزیں ہو-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

متعلقہ

Back to top button
Close