سیاستہندوستان

ہندو احیا پرستی کا (جناح) مایا جال

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کے تنازع کا تعلق کرناٹک انتخاب سے نہیں بلکہ کیرانہ اور نورپور کے ضمنی انتخابات سے ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کے تنازع کا تعلق کرناٹک انتخاب سے نہیں بلکہ کیرانہ اور نورپور کے ضمنی انتخابات سے ہے۔ یہ دونوں حلقہائے انتخابات مغربی اتر پر دیش میں ہیں۔ ان دونوں مقامات پر بی جے پی کے امیدوار کا میاب ہوئے تھے لیکن اس کو ڈر ہے کہ کہیں گورکھپور اور پھولپور کی کہانی کا اعادہ  نہ  ہوجائے۔   ایک زمانے تک مغربی اتر پردیش میں اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوک دل اور بہوجن سماج پارٹی کا زور سماجوادی پارٹی سے زیادہ تھا لیکن ابھی حال میں حالات بدلے ہیں اور رائے دہندگان کا رخ ایس پی کی جانب مبذول ہوا ہے۔  راجیہ سبھا کی ناکامی  سے بددل ہوکر مایا وتی نے اس بار  سماجوادی پارٹی  کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر  اسی کے ساتھ وہ  ضمنی انتخاب  نہیں لڑنے  کے فیصلے پر قائم ہیں۔

کیرانہ حلقہ انتخاب میں سہارنپور کا ایک بڑا حصہ شامل ہے جہاں  گزشتہ سال انہیں دنوں میں مہارانہ پرتاپ کی جینتی کو لے کر ذات پات کی بنیاد پر نسلی فسادات ہوئے تھے۔ ان  دلت ٹھاکر فسادات کے بعد اس بات امکان نہیں ہے کہ دلت رائے دہندگان بی جے پی کو ووٹ دیں۔ یوگی سرکار اگر چاہتی تو دلتوں  کے زخموں پر مرہم رکھ کر انہیں قریب کرسکتی تھی  لیکن اس کو اپنے راجپوت رائے دہندگان کی زیادہ فکر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  بھیم آرمی کی وارننگ کے باوجود انتظامیہ نے ۲۰۰ لوگوں کو  مہارانا پرتاپ جینتی منانے کی اجازت دی اور ہائی الرٹ لگا کر ۸۰۰ اہلکار تعینات کردئیے۔ اس زبردست بندو بست کے باوجود   حالات بگڑے اور بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل والیا کے بھائی سچن والیا کو دن دہاڑے  گولی ماردی گئی۔  یہ واردات اس مقام سے قریب رونما ہوئی جہاں  مہارانا پرتاپ جینتی جارہی تھی۔ اس سے ناراض سچن کے بھائی اور رشتہ داروں نے ضلع اسپتال کے باہر ہنگامہ آرائی  کی اورالزام لگایا  کہ سچن کو انتظامیہ نے قتل کروایا ہے۔  یوگی جی انکاونٹر راج میں یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں ہے۔ اس واقعہ کے بعد کسی دلت کی کٹیا میں بھوجن  کر کے اگر امیت شاہ یا ادیتیہ ناتھ یہ توقع کرتے ہیں کہ انہیں دلت ووٹ مل جائے گا تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

امیت شاہ اور یوگی جی تو فی الحال کرناٹک میں مصروف ہیں لیکن اس بیچ  اکھلیش یادو اور اجیت سنگھ نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئ الحاق کرلیا ہے۔ کیرانہ سے آرایل ڈی نیز نورپور سے سماجوادی  پارٹی کےامیدوار پر اتفاق  ہوگیاہے۔ اس کے علاوہ ایک اور عقلمندی یہ کی گئی کہ کیرانہ سے اجیت سنگھ کے بیٹے جینت چودھری نے خود لڑنے کے بجائے بی ایس پی کی  سابق رکن پارلیمان تبسم حسن کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ۲۰۱۳؁ میں ہونے والے مظفرپور فساد کے بعد جاٹوں اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹنے کے لیے کیا گیا۔ تبسم حسن ۲۰۰۹؁ میں بی ایس پی کے ٹکٹ پر کامیابی  ہوئی تھیں جبکہ ان کے خاوند منورحسن نے ۱۹۹۶؁ میں سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر  کامیابی درج کرائی تھی۔ ۲۰۱۴؁ کے پارلیمانی انتخاب میں کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کا امیدوا دوسرے نمبر  پر، بہوجن سماج پارٹی کا تیسرے اور آر ایل ڈی کا چوتھے مقام پر تھا۔ اسے صرف  ۸ء۳ فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ سماجوادی پارٹی کو ۴۵ء۲۹ فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اس کے باوجود یہ سیٹ  آر ایل ڈی  کے لیے چھوڑ کر اکھلیش نے بڑی کشادہ دلی کا ثبوت دیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ وہ بی جے پی کو ہرانے کے لیے کس  حد تک جاسکتے ہیں۔ بی جے پی نے مسلمانوں کو ووٹنگ سے باز رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن سے گرمیوں کے رمضان میں تاریخ رائے دہندگی کا اعلان کروادیا۔ وہ نہیں جانتی کہ کمل کی پتیاں نوچنے کے لیے مسلمان سارے مصائب برداشت کرلیں گے اور  ویسے بھی روزے کے دوران  نہ صرف قوت برداشت  بڑھ جاتی ہے بلکہ ایمان میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے۔

 آر ایل ڈی اور سماجوادی کے اتحاد  سے بی جے پی کی نیند کااڑنا فطری امرہے اور وہ جب  بھی اس طرح کی مشکل صورتحال سے دوچار ہوتی ہے اسے پاکستان یا محمد علی جناح کی یاد آتی ہے اس لیے کہ وہی اس کی آخری جائے پناہ ہے۔ اتر پردیش میں گورکھپور اور پھولپور کے اندر منہ کی کھانے کے بعد کیرانہ کے ضمنی انتخاب میں کامیابی درج کرانے کے لیے سنگھ پریوار کو علی گڈھ مسلم یونیورسٹی  محمد علی جناح کی تصویر نظر آگئی۔ اس کی  تعلیمی فضا کو بلی کا بکرا بنا دیا گیاجبکہ ایوان پارلیمان  میں قائد اعظم کی تصویر آویزاں ہے ا    ور ان کے بغل میں بی جے پی   پہلا اوتار جن سنگھ کے بانی صدرشیاما پرشاد مکرجی براجمان ہیں۔ پاکستان اور جناح کا نام  سنگھ پریوار کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔  اس لیے وہ موقع بہ موقع  پاک پاک یا جناح جناح کھیلتے رہتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران یہ لوگ پاکستان کے خلاف آگ اگلتے ہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا عزم دوہراتے ہیں  مگر کامیابی کے بعد حلف برداری کی تقریب میں پاکستانی وزیراعظم کو مہمان خصوصی بنا لیاجاتا ہے۔

یہ ان کی قدیم روش ہے اٹل جی نے جب وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا تو پاکستان کا ویزہ آسان بنا دیا۔ وزیراعظم بننے کے بعد وہ بس میں بیٹھ کر پاکستان  کے  دورے پر نکل  کھڑے ہوئے۔ کارگل کا زخم بھلا کر سابق صدر پرویز مشرف کو آگرہ بلا لیا۔  ہندو ہردیہ سمراٹ نریندر مودی نے گجرات کے انتخاب میں میاں مشرف کا خوب شور کیا مگر  سنگھاسن پر بیٹھنے کے بعد  بن بلائے لاہور پہنچ گئے اورپاکستانی وزیراعظم  نواز شریف  کی والدہ کے چرنوں کو چھو کر  آشیرواد لیا۔   گجرات میں جب حالت پتلی ہوئی  تو سابق وزیر خارجہ  خورشید محمود  قصوری کے دہلی دورے  کو اپنے خلاف سازش قرار دے کر عوام کو ورغلانے کی کوشش کی۔ اس  من گھڑت بہتان کے ذریعہ نہ  صرف کانگریسی رہنما منی شنکر ائیر، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری بلکہ سابق آرمی چیف تک کی کردار کشی کی گئی اور الیکشن کے خاتمے پر اسے  بھلا دیا گیا۔ مودی  جی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی  دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ٹویٹ کیا تھا  کہ پاکستان کو ہندوستان اپنی الیکشن بحث میں گھسیٹنا بند کرے اور من گھڑت سازشوں کے بجائے اپنی طاقت کے بل بوتے جیت حاصل کرے۔ مداخلت کا الزام پوری طرح بے بنیاد اور غیرذمہ دارانہ ہے۔ محمد فیصل  ایک بار پھر انتخابی فائدہ اٹھانے کی خاطر بی جے پی کے  پاکستان کا نام استعمال کرنے پر اعتراض کیا ہے۔

بی جے پی کو ہندوستانی مسلمانوں کے اندرقائد اعظم  محمد علی جناح کے تئیں عقیدت یا نفرت سے کوئی سروکار نہیں ہے اس لیے کہ اگر وہ الٹی لٹک جائے تب بھی عام مسلمان اس کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس کا مسئلہ بنیادی  ہندو رائے دہندگان ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد روادار لوگوں کی ہے اور دوسرے سخت گیر طبقہ ہے۔شروع میں  بی جے پی شدت پسندوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو برا بھلا کہتی ہے لیکن جب وہ اسے کامیاب کردیتے ہیں تو وہ روادار ہندو سماج کی جانب متوجہ ہوتی ہے اور ان کے اندر اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی سعی کرتی ہے۔ اسی چکر میں اڈوانی جی قائد اعظم کی تعریف و توصیف بیان کردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب بی جے پی عوام کی توقعات کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو سخت گیر رائے دہندگان   کی توجہ   اپنی ناکامیوں سے   ہٹانے کی خاطر بھی پاکستان یا جناح کا راگ الاپا جاتا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا محض ایک ضمنی انتخاب میں کامیابی کے لیے کسی تعلیمی ادارے کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ کیا جاسکتا ہے؟ تو اس کا جواب ہے یہ معمولی ضمنی انتخاب نہیں اگر ان دونوں مقامات پر بی جے پی پہلے کی طرح  ہار جائے تو یوگی ادیتیہ ناتھ کی کرسی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور انہیں آئندہ قومی انتخاب سے قبل ہٹایا جاسکتا ہے۔ اقتدار حاصل کرنے یا  بچانے کے لیے تو پورے لنکا کواپنی پونچھ  جلا دینا   زعفرانیوں  کی پراچین پرمپراہے۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ساورکر نے جناح سے  ۶ سال قبل اپنی تقریر میں دو قومی نظریہ پیش کیا  اور گولوالکر نے اس کو ثابت کرنے میں اپنا سارا زورِ قلم صرف کردیا۔ ہندو مہا سبھا نہ صرف نظریاتی حیثیت سے مسلم لیگ کے دوقومی نظریہ کی حامی تھی بلکہ یہ اس کی سیاسی مجبوری  بھی تھی۔  ہندو مہا سبھا کا مخاطب ہندو رائے دہندگان تھے  جو کانگریس کے ساتھ تھے۔ ان کو کانگریس سے الگ کرکے اپنے ساتھ لینے کی خاطر مسلم لیگ کا ساتھ تو گوارہ کیا جاسکتا تھا لیکن کانگریس کی مخالفت لازمی تھی۔ یہی مجبوری اب بھی ہے کہ بی جے پی والے علٰحیدگی پسندوں کی ہمدرد سمجھی جانے والی پی ڈی پی یا نیشنل کانفرنس کے ساتھ تو جاسکتی ہے لیکن کانگریس کے ساتھ حکومت سازی نہیں کرسکتی جبکہ جموں کشمیر میں  ان دونوں  جماعتوں کو ہندو رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔آزادی سے قبل انگریزوں کے تحت مختلف صوبائی انتخابات میں  کانگریس کا مقابلہ مسلم لیگ سے تھا اوراس تاریخی حقیقت کا انکار ممکن نہیں  ہے کہ مسلم لیگ کے ساتھ  متحدہ بنگال، صوبہ سرحد  اور سندھ  کی حکومت سازی میں ہندو مہا سبھا  اسی طرح شریک کار تھی جس طرح جموں کشمیر میں   بی جے پی والے پی ڈی پی کے حکومت میں جونیئر پارٹنر ہیں۔

جن سنگھ کے بانی صدر شیاما پرشاد مکرجی بہت دلچسپ سیاستداں گزرے ہیں۔ آزادی سے قبل  انہوں نے پہلا انتخاب (۱۹۲۹ ؁) کانگریس کے ٹکٹ پر جیتا اس کے بعد  ساورکر کی ہندو مہاسبھا میں شامل ہوکر(۱۹۴۱ ؁) میں  انتخابی کامیابی حاصل کی اور متحدہ بنگال کے مسلم لیگی وزیراعلیٰ  فضل الحق  کی قیادت میں وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالا۔ فضل الحق نے قراداد پاکستان پیش کی اس کے باوجود ۱۱ ماہ تک مکرجی ان کے وزیر بنے رہے۔ آزادی کے بعد وہ پنڈت نہرو کی کابینہ میں وزیر صنعت بن گئے اور وہاں سے استعفیٰ دے کر(۱ ۹۱۵۱؁) میں   گولوالکر کے آشیرواد سے جن سنگھ کی بنیاد ڈال دی۔ صوبہ سندھ میں مسلم لیگ کے غلام حسین ہدایت اللہ کے تحت تین ہندو مہاسبھا کے  وزراء گوکل داس، ہیمن داس اور لالو مل قرارداد پاکستان کی مخالفت تو کی مگر اس کے پاس ہوجانے کے بعد  وزارت سے استعفیٰ نہیں دیا۔  صوبہ سرحد جس کا نیا نام خیبر پختون خواہ ہے میں ۱۹۳۹ ؁ کے اندر کانگریس کی سرکار گر گئی۔ اس کے بعد مسلم لیگ کے سردار اورنگ زیب نے اقتدار سنبھالا اور ان کی حمایت ہندو مہاسبھا کے مہر چند کھنہ نے کی جنہیں وزیر خزانہ بنایا گیا۔ مہر چند کو ہندوستان میں ہجرت کے بعد پنڈت نہرو بازآبادکاری اور مساکن کی وزارت سونپی۔ پنجاب کے اندر بھی مونجے اور ساورکر نے نے مسلم لیگ کے ساتھ الحاق کی علی الاعلان کوشش کی۔

  ایک وقت ایسا بھی تھا کانگریس میں قائداعظم محمد علی جناح اور مولانا آزاد جیسے قدآور رہنما تھے۔  آزادی کی صبح جب قریب آگئی تو کانگریس کے کچھ رہنماوں مثلاً پنڈت نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے یہ محسوس کیا کہ ملک کی تقسیم سے انہیں غیر منقسم  اقتدار مل جائے گا ورنہ مسلم رہنماوں کو اس میں شریک کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور وزیر دفاع جیسے چار اہم عہدوں میں سے دو تو مسلمانوں کو دینے ہی پڑیں گے۔ اسی طرح دیگر وزارتوں پر بھی نصف یا اس سے کم مسلم دعویدار موجود ہوں گے۔ مسلم رائے دہندگان  کو مسلم لیگ سے   دور رکھنے کے لیے کانگریس کی یہ مجبوری بن جائیگی  ورنہ یہ بھی ہوسکتا  تھا کہ ہندو  اکثریت ہندو مہا سبھا اور کا نگریس کے درمیان تقسیم ہوجائے اور سارے مسلمان متحد ہوکر مسلم لیگ کو اقتدار کی  باگ ڈور سونپ دیں۔  یہی وہ خوف تھا جس نے کانگریسی رہنماوں  کو گاندھی جی  کے متحدہ ہندوستان کے خواب سے برگشتہ کردیا.

 اس حقیقت کا اظہار ہندوستان کی جنگ آزادی پر لکھی جانے والی بہت ساری کتابوں میں کیا گیا یہاں تک کہ  بی جے پی کے سابق وزیرخزانہ اور وزیردفاع جسونت سنگھ نے بھی اپنی کتاب میں برملا کیا اور تقسیم کے لیے جناح کے بجائے نہرو کی مرکزیت پسندی   کو  ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں اپنی کتاب ’جناح: انڈیا، پارٹیشن، انڈپینڈنس ‘ میں لکھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو ہندوستان میں شیطان بنا کر پیش کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ بھی اجنبیوں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ قائد اعظم کو عظیم انسان سمجھتے ہیں  بی جے پی رہنما نے کہا تھا  ’ جی ہاں، اس لیے انہوں نے  ایک ایسی چیز بنادی جو موجود نہیں تھی۔  وہ  اپنے مخالفین کانگریس اور انگریزوں کے خلاف  تنہا کھڑے ہوگئے۔ ہم یہ تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ  گاندھی نے بھی جناح کو عظیم کہا ہے۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے کہ انہوں نے ایسا اعتراف کیوں کیا؟ جسونت سنگھ نے صاف کہا تھا کہ وہ   جناح کی بدنامی کو درست نہیں سمجھتے۔ اپنی اس حق گوئی کے سبب وہ معتوب بھی ہوئے لیکن اپنا موقف تبدیل  نہیں کیا ۔

ہندو مہاسبھا اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو یہ  اندیشہ لاحق تھا کہ انگریزوں کے بعد پھر سے اقتدار کے بڑے حصے پر مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے گا اور براہمن پھر سے حاشیے پر پہنچ جائیں گے۔ اس خطرے کو ٹالنے کے لیے ہندو احیاء پرستوں نے قدامت پسندی کا نقاب اوڑھ کر  اٹلی کے مسولینی اور جرمنی کے ہٹلر کو اپنا امام بنایا۔ اس  کاثبوت  ڈاکٹر مونجے کی مسولینی سے ملاقات اور گرو گولوالکر کی کتابوں میں ہٹلر کی تعریف و توصیف ہے۔ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر  فسطائیت اور نازیت کےقدم بہ قدم ان لوگوں نے مسلم قوم اور بادشاہوں کے خلاف محاذ کھول دیا۔ اس طرح انگریزوں کے خلاف جدوجہد  میں شامل ہونے کے بجائے  ہندوستانی قوم کے اندر نفرت و عناد کی آگ بھڑکانے لگے۔ انگریزوں کے لیے یہ بہت پسندیدہ عمل تھا اس لیے کہ عوام کی توجہ  انگریز استعماریت سے ہٹا کر   ایک غیر موجود ظالم کی جانب مبذول کرائی جارہی تھی۔ اس طرح ایک بڑے طبقے کو انگریزوں کے خلاف جاری جنگ آزادی سے بلا واسطہ روکا جارہا تھا  بلکہ جنگ عظیم ہندوستانیوں کو انگریز فوج میں شامل ہونے کے لیے اکسایا جارہا تھا۔ ملک کے اندربرپا آپسی انتشار سے آزادی کی لڑائی کمزور ہورہی تھی۔  یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ انگریزوں کے منظورِنظر بن گئے۔

کرناٹک میں فی الحال  نہایت دلچسپ  انتخابی مہم چل رہی ہے۔ ملک کا وزیراعظم  لنگوٹ کس کر دنگل میں اترا ہواہے اور ایک  صوبائی  وزیراعلیٰ ان کو روزآنہ  پٹخنی دے دیتا ہے۔ ایک جلسۂ عام میں مودی جی نے اپنے گھسے پٹے انداز میں عوام سے سوال کیا  گوا میں کیا ہوا ؟ اس سوال جواب ہے بی جے پی جو کہ  انتخاب سے قبل برسرِ اقتدار تھی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس کا وزیراعلیٰ ہار گیا۔  کانگریس نے اس سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی لیکن  چونکہ وہ بھی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اس لیے جوڑ توڑ سے بی جے پی نے حکومت بنائی اور وزیردفاع کو رسوا کرکے وزیراعلیٰ کر بھیج دیا۔ ایسا ہی کچھ کرناٹک میں بھی ہوسکتا ہے کون جانے؟  مودی جی نے آگے  پوچھا مدھیہ پردیش میں کیا ہوا ؟ راجستھان میں کیا ہوا؟ چھتیس گڑھ میں کیا ہوا؟ ان تینوں ریاستوں میں انتخاب مودی جی کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہوئے تھے اس لیے وہاں پر بی جے پی کی کامیابی کا سہرا  وہ اپنے سر نہیں  باندھ  سکتے۔ اتراکھنڈ، اترپردیش، ہماچل پردیش، تریپورہ  اور آسام کے اندر  ان کی رہنمائی  میں بی جے پی نے کامیابی ضرور حاصل کی  لیکن ناگالینڈ اور منی پور میں بی جے پی نے نہیں علاقائی جماعتوں کو کامیابی ملی۔

اس دوران پنجاب، دہلی، کیرالہ اور بہار  میں بھی انتخابات ہوئے اور بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی  اس لیے یہ  تاثر دینا  کہ    ہندوستان میں ہر انتخاب بی جے پی نے جیتا ہے  عوام کو ورغلانا ہےَ۔  مودی جی کو صوبائی انتخابات میں کامیابی یا ناکامی  سے زیادہ قومی الیکشن کی فکر ستا رہی ہے۔ اسی لیے وہ اپنی تقریر میں لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ نہیں بتاتے کہ الور میں کیا ہوا؟ اجمیر میں  کون جیتا اور ارریہ میں کون ہارا؟ سچ تو یہ ہے ۲۰۱۴؁ کے بعد ہونے والے ۱۴  پارلیمانی ضمنی انتخابات میں سے صرف ۲ میں بی جے پی کو کامیابی ملی اور ۱۲ میں شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ اس لیے مودی جی کے لیے کرناٹک سے زیادہ اہمیت کیرانہ کی ہے اور  بی جے پی کے لیے ٹیپو سلطان سے زیادہ محمد علی جناح اہم ہیں۔ سنگھ پریوار  کا مسئلہ یہ کہ اس نے جناح، پاکستان اور مسلمانوں کو ملک دشمن  کہہ کر  خوب بدنام کیا اور جب تاریخی حقائق سامنے آئے تو خود اپنے مایا جال میں پھنس گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close