سیاست

ہندو افسر ہندوؤں کو کیسے سزا دیں؟

حفیظ نعمانی

سیانہ بلندشہر میں جو کچھ ہوا اسے فساد کہا جائے، پولیس پر حملہ کہا جائے، تبلیغی جماعت کے اجتماع کے خلاف سازش کہا جائے یا وزیراعلیٰ کی خواہش کے مطابق حادثہ کہا جائے۔ یہ طے ہے کہ وہ منصوبہ بند تھا اور اس کا منصوبہ سنگھ پریوار کی جو پھلجھڑیاں ہیں انہوں نے ایک دن پہلے بنایا تھا۔ لیکن اس میں غلطی یہ ہوئی کہ شرارت کرنے والوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ جن لوگوں کو آنا ہے وہ اتنی خاموشی سے آئیں گے اور وہاں جو کچھ ہونا ہے وہ بھی اتنی خاموشی سے ہوگا اور جب جائیں گے تو اس طرح چلے جائیں گے کہ نہ کھیتوں کی فصل برباد ہوگی نہ راستے جام ہوں گے نہ بھگدڑ میں کسی کی موت ہوگی۔

اسی اناڑی پن کا نتیجہ ہے کہ اپنے وزیراعلیٰ کو خوش کرنے کے لئے جن لوگوں نے جانور کاٹے ان کے بارے میں افسروں کا کہنا ہے کہ کاٹنے والے اناڑی تھے۔ اور یہ تو ہر افسر نے کہا ہے کہ تین دسمبر کی صبح کو جب وہ گوشت کھیتوں میں سجایا گیا تو 48  گھنٹے باسی تھا یقین ہے کہ وہ دو دن پہلے کہیں کٹا تھا اور لانے والے خرید کر لے آئے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جانور سیانہ میں نہیں کہیں دور گائوں میں کاٹے گئے جن کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ جانور کاٹتے ہوئے ہم نے دیکھا تھا ان میں بجرنگ دل کا وہ گلابی قمیض والا نیتا بھی تھا جو نامزد رپورٹ لکھانے کے بعد سے فرار ہے اور فوجی جوان جیتو بھی ان میں ہے جنہوں نے کہا کہ ہم  نے گائے کٹتے ہوئے دیکھی۔

افسوس ہے کہ ہم سفر کے قابل نہیں ورنہ وہاں جاتے اور جو آج ذمہ دار ہیں ان سے کہتے کہ گائے بچھڑا بھینس یا کٹرا کاٹنا آسان کام نہیں ہے وہ بھیڑ بکرے کی طرح ایک آدمی کے قابو کے نہیں ہیں انہیں کم از کم دو بہت مضبوط آدمی جو ان کو سینگ پکڑکر گراسکیں اور ان کے چاروں پائوں مضبوط رسّی سے باندھ سکیں وہ کاٹ سکتے ہیں۔ اور کاٹتے وقت بھی خاص خاص مقامات ہیں جہاں سے ان اعضاء کو جسم سے الگ کیا جاتا ہے۔ سب سے اہم مسئلہ اوجھ اور آنتوں کا ہوتا ہے وہ جسم کا سب سے بھاری حصہ ہوتا ہے جس کے ٹکڑے نہیں کئے جاسکتے۔ اگر یہ تفصیل معلوم ہوتی تو کھیت میں جہاں گائے یا کوئی اور جانور کاٹنے کی باتیں ہورہی ہیں وہاں تحصیلدار نے کھال اور سر کا ذکر تو کیاہے حالانکہ یہ کہا ہے ان کو بھونڈے طریقہ سے سجایا گیا تھا۔ انہیں یہ بھی کہنا چاہئے تھا کہ اوجھ اور آنتیں کتنی دور تھیں اور خون کتنی زمین پر تھا۔ اگر یہ سب ہوتا تب کہا جاتا کہ گائے ان کھیتوں میں کاٹی گئی ہے۔

پولیس نے بار بار کہا ہے کہ انسپکٹر اور نوجوان کو گولی کس نے ماری اس کا ثبوت نہیں مل پارہا ہے۔ پولیس سے یہ بھی معلوم کرنا چاہئے کہ کیا گائے کاٹنے کے الزام میں جن مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے ان کے خلاف ثبوت مل گئے یا مسلمانوں کے خلاف ثبوت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی؟ ایک بات وہاں کے حضرات سے بھی کہنا ہے کہ ان افسروں سے یہ بھی معلوم کیا جائے کہ جن کے نام بجرنگی نیتا نے لکھائے ہیں کیا وہ ہیں اس قابل کہ ایک بڑے جانور کو سینگ پکڑکر گرادیں اور ان کی ٹانگیں باندھ کر ان کے ٹکڑے کردیں؟ یہ بھی پولیس کے افسروں کو معلوم ہوگا کہ قریشی برادری میں جو گوشت کا کام کرتے ہیں ان میں بھی بڑے جانور کے قصائی اور چھوٹے جانور کے قصائی الگ الگ ہوتے ہیں۔

وزیراعلیٰ کا اپنا الگ مزاج ہے وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ان کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے صوبہ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے انہوں نے کہا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے فساد نہیں ہوسکتا۔ اب تک فساد کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ جس میں دو فرقوں کے درمیان مارپیٹ ہو لاٹھیاں پتھر چلیں گولی چلے اور گاڑیوں اور دکانوں کو آگ لگائی جائے وہ فساد ہے۔ سیانہ میں ہندو مسلمانوں میں جھگڑا نہیں ہوا لیکن ہندو پولیس پر ٹوٹ پڑے پولیس کی کاریں موٹر سائیکلیں جلادیں جو 75  لاکھ روپئے کی ہوں گی ایک سینئر انسپکٹر کے گولی ماردی گئی ایک فوجی نے قبول کیا کہ وہ بھیڑ میں شریک تھا اور بھیڑ پولیس کو مارو مارو کے نعرے لگارہی تھی مگر وزیراعلیٰ اسے صرف ایک حادثہ مانتے ہیں۔ حادثہ یعنی ارادہ کے بغیر اتفاق سے یا قدرت کی طرف سے ہوا۔ حادثہ اس لئے کہ اس کا ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا یہ وزیراعلیٰ وہی ہیں جن کے حلف لینے کے چند دنوں کے بعد ہی ان کے ضلع گورکھ پور میں آکسیجن کے نہ ہونے سے 70  بچے مرگئے جن ڈاکٹروں نے اپنے تعلقات کے بل پر آکسیجن کا انتظام کرکے درجنوں بچوں کو بچایا ان کو انعام دینے کے بجائے اس کی سزادی کہ تمہارے شور مچانے کی وجہ سے حکومت کی بدنامی ہوئی اس لئے تم جیل جائو۔ جبکہ جہاں سے آکسیجن خریدی جاتی تھی ان لوگوں کو اس کے پیسے نہیں مل رہے تھے اور انہوں نے بار بار وارننگ دے کر آکسیجن کی سپلائی بند کردی اس کی سزا ان افسروں اور وزیر کو دینا تھی جنہوں نے بل ادا نہیں کیا۔ مگر وزیراعلیٰ کے نزدیک وہ دوسری بیماری سے مرے آکسیجن کی کمی سے نہیں مرے۔ اور اسپتال میں آکسیجن بھری پڑی تھی۔

یہ الگ بات ہے کہ آج تک کسی حادثہ کے الزام میں کسی ضلع کے ایس ایس پی اور چار افسروں کا تبادلہ نہیں کیا گیا اور آزاد ہندوستان میں آزادی کے بعد ایک سے ایک جو بڑی ریلیاں ہوئیں نہ جانے کتنی تحریکیں چلیں اور لاکھوں لاکھ کا مجمع ہوا۔ اور جس شہر میں ہوا وہاں کے اسٹیشنوں سے تین دن تک ریل کے ٹکٹ والے مسافر روتے رہ گئے اور ریلی یا جلوس کے لوگ ٹرینوں میں بھرکر چلے گئے۔ خود ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے کہ ہم پلیٹ فارم پر بھی نہ جاسکے پل پر ہی کھڑے رہ گئے ہم نے آج تک نہیں سنا کہ بلندشہر کے تبلیغی اجتماع کے منتظموں اور ان کو اجازت دینے والے محکموں کو نوٹس دیا گیا ہے ایسا نوٹس اجازت لینے والے اور اجازت نہ لینے والے کسی منتظم کو دیا ہو کہ 20  لاکھ سے زیادہ آدمی کیوں آئے؟ اور کہا کہ جس کی وجہ سے ٹریفک کا انتظام متاثر ہوا۔ نوٹس دینے اور دلوانے والوں کو شرم نہیں آتی کہ 20  لاکھ انسان آئیں تین دن رہیں اور چلے جائیں نہ کوئی مرا نہ زخمی ہوا نہ کھیت والوں نے شکایت کی۔ شرم سے ڈوب مرنا چاہئے سیاسی پارٹیوں کو کوئی پارٹی نہیں کہہ سکتی کہ اس نے کچھ کیا ہو اور بھگدڑ نہ مچی ہو اور لوگ مرے نہ ہوں۔ یہ سب ان کی حرکت ہے جنہوں نے کروڑوں روپئے خرچ کرکے اجودھیا میں دھرم سبھا میں ایک لاکھ ہندو بلانا چاہے اور 75  ہزار بھی نہیں آئے بلندشہر میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور 20  لاکھ مسلمان آئے اور چلے بھی گئے اور جو اجتماع کو خراب کرنا چاہ رہے تھے وہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔ اب ہم ان کے اردھ کمبھ میں ان کی قابلیت دیکھیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close