سیاست

ہے بنکم! آج خوش تو بہت ہوگے تم

تسنیم کوثر

یہ تحریر ہندو تفاخر سے لبریز ان ٹی وی اینکروں کے نام  ہےجنہوں نے پورے ہندوستانی سماج کو زہر آلود کر رکھا ہے اور جمہوریت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔دیکھنا ہے کہ تاوان کی صورت کس کا لہو کام آتا ہے۔

ٹی وی چینلوں پہ نمو نمو جاری ہے(اسے جاری رکھا جائےگا) بھکت  اینکر منہ ٹیڑھے کر کر کے کانگریس کو نہیں دراصل مسلمانوں کو چڑھا  رہے ہیں۔فکر کی بات مسلمانوں کے لئے نہیں ہے کیونکہ انکے لئے بہت کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔ فکر تو مادر وطن کی ہے۔ آزادی کے بعد ایک مسلم ووٹ بینک کھڑا کیا گیا تھا، جبکہ ہندو ووٹ بینک کھڑا کرنا تھاجو آنند مٹھ کا سبق تھا۔1925 سے وہ ہندو ووٹ بینک کھڑا کرنے کی سعی مسلسل جاری تھی بلاآخر کامیاب ہو گئی۔ دُربل سنیاسیوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے والے بنکم کی مراد پوری ہوئی۔

آج ہم جس بھگوا راشٹرواد کوبھوت کی طرح ہندوستان کی روح سے چمٹے ہوئے دیکھ رہے ہیںیہ 100 سال کی محنت ہے بھئی  اور اسمیں سربراہان مملکت نے اپنے اپنے حصے کا زہر سماج میں بویا ہے  اور فصل کاٹی ہے۔ اور پچھلے پانچ سال میں اگلے سو سال کی اسکرپٹ لکھ دی گئی ہے جسمیں جنوبی ایشیا میں ہندوستان اسلام مخالف  طاقتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم پہ  اپنے ہندوتوا  سُپرمیسی کا جھنڈا اٹھائے آگے آگے چل رہا ہے۔ آپ یقین رکھئے سرکار کوئی بھی آئے یہ پالیسیاں اندر اندر سیٹ کر دی گئی ہیں۔ ہم خود کو تاریخ سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔اگر آپ آئین میں کی گئی ترامیم کو دیکھیں خاص طور پر میناکشی پورم  واقعہ سے پہلے اور بعد میں تو اندازہ ہوگا کہ آج کے ہندوستان کی اسکرپٹ تو کافی پہلےکی لکھی ہوئی ہے ایسے میں بنکم چندر چٹوپادھیائے کا ذکر ضروری ہے۔بھارت ماتا کی جئے  والے اتی راشٹرواد کے جنک جو ہیں جناب۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان کے امن پسند عوام اس ہندو تفاخر کے بطن سے پھوٹے ہندوتوا نامی اژدہے کو دُم سے پکڑتے ہیں یا دہن سے۔

اس حقیقت سے بھلا کس کو انکار ہوگا کہ 2014 میں مودی حکومت کا بر سر اقتدار آنا بھارت میں مسلمانوں کی نسل کُشی کی بساط پر لکھی گئی تاریخ ہے۔ آپ دیکھیں گے 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی تشکیل کے بعد 2014  آتے آتے  سنسد میں یہ آنکڑا  2 سے 282 کو پہنچ گیا  اور آج  400 بھی پہنچا دیا جائے تو حیرت کی کیا بات ہے۔سوال تو یہ ہےکہ اتنے لیڈر آئے کہاں سے ؟
کیا اسمیں کانگریسی شامل نہیںجو کب سے اس لمحے کے منتظر تھے۔ جنکی رول بُک آنند مٹھ رہی ہے۔جنکا  نصب العین وندے ماترم ہے۔

یہ تو تاریخی حقیقت ہےکہ جب آزاد بھارت کا  نیا آئین لکھا جا رہا تھا تو، وندے ماترم کو قومی ترانےکے طور پر منظور نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس نے قومی گیت کی حیثیت حاصل کی تھی۔اسپر جو خدشات ظاہر کئے گئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ یہ گیت آنند مٹھ ناول کا حصہ ہے جسکی کہانی میں بھارت کو دیوی ماں  ثابت کیا گیا ہے اور اس دیوی کے پجاریوں کو  ایک خونی انقلاب کی تحریک دی گئی ہے جسمیں انگریزوں کے بجائے مسلمانوں کو ملک سے بھگانے اور انکو اپنا اصلی دشمن ماننے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور سب سے بڑی بات  اسمیں سنیاسیوں اور باباوں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

انگریزوں کی سرکار کے پہلے  سول سرونٹ بنکم چندر سے انگریزوں نے یہ ناول لکھوایا کیونکہ 1857 غدر کے ہندو مسلم اتحاد کی طاقت کو وہ بھانپ چکے تھے ۔ بنگال، بہار کے پورنیہ اور ترہت کے مسلم راجاوں سے آنند مٹھ کے سنیاسی بھڑے اور جیتے یہ اس ناول کی کہانی ہے، آج بنگال اسی ہندوتوا کے مرکزی کردار کے روپ میں سامنے ہے۔لڑائی پھر اسی علاقے میں پہنچ گئی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ ہندو مسلم اکثریت بنیاد پہ 1905 میں بنگال کا بٹوارہ ہوا تھا ۔ وہ انگریزہی تھےجو آنے والی نسلوں کے لئے مزہبی خطوط پر دنیا کا نقشہ ترتیب دے رہے تھے۔ ۔۔۔آج احساس ہو رہا ہے وہ کتنے بڑے فطرت شناس تھے کہ ہندو کی صورت میں انھیں وہ خمیر مل گیا تھا جو جنوبی ایشیا میں ہمیشہ کے لئے انکا آلئہ کار ثابت ہونے والا تھا۔

یاد کیجئے آئین سازاسمبلی کے صدر اور بھارت کے پہلے صدر، ڈاکٹرراجندر پرشاد نے 24 جنوری، 1950 کو آخری سیشن کےبالکل آخری وقت  پہ یہ اعلان کر ہی دیا کہ وندے ماترم  بھارت کا قومی گیت ہوگا اور اسے قومی ترانے جن گن من کے مساوی درجہ حاصل ہوگا۔ اسوقت آئین ساز اسمبلی کے ارکان جسمیں کئی مسلم رہنما شامل تھے خاموش رہے۔ تاریخ داں کہتے ہیں کہ ڈاکٹر راجندر پرشاد نے بہ حیثیت صدر جمہوریہ ایسے اقدامات کئے جس نے ہندوستان میں رہ گئے مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کر دی اور انہی خطوط پر چلتے ہوئے ہندوستان کا مقدر لکھ دیا گیاحتی کہ صدارتی محل سے مسلمان اسٹاف تک نکال دیا گیا۔ویسے تو 1928 میں آئی نہرو رپورٹ (موتی لال نہرو) نے بعد کے دستور ہند کے خد و خال طے کر دئے تھے جسمیں مسلمانوں کے لئے غلاموں سے بد تر جگہ تھی، بھلا ہوبابا صاحب کا جنہوں نے توجہ کا مرکز اس ملک کی نچلی ذات برادریوں کو بنا دیا اور مسلمان سیکنڈ ٹارگٹ کی صف میں کھڑے کر دئے گئے۔آج اگر اس ہندوتوا دہشت گردی سے ملک کو آزاد کرانے کی جدوجہد ہوئی تو یہی طبقہ سینہ سپر ہوگا کیونکہ ہم تو نفسیاتی طور پر ان سے بدتر بنا دئے گئے ہیں۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ بعد کے دنوں میں جواہر لال نہرو نے اپنے والد کی اس نہرو رپورٹ کی جزوی طور پہ نفی کی جسکی روشنی میں ڈاکٹر راجندر پرساد  سے انکی کوئی  اچھی کیمسٹری نہیں بن پائی خاص طور پر یہ اسوقت جگ ظاہر ہوئی جب راجندر پرساد بحیثیت صدر جمہوریہ  جیوترلنگ  رکھنےگجرات کے سومناتھ مندر  بلائے گئے ۔ یہ کام سردار پٹیل کی دیکھ ریکھ میں چل رہا تھا۔ دراصل 1947 میں ہی سومناتھ مندر کو سرکاری فنڈ سے بازیافت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن مہاتما گاندھی نےایک فارمولہ دیا اور کہا اسے سرکاری فنڈ کے بجائے چندے سے بنوایاجائے۔ یہاں رُک کر سوچئے کہ عوام کو ایک مقصد خاص سے جوڑنے کی مہم کا آغاز سومنات  سے تب کر دیا گیا جب آڈوانی کی رتھ یاتراکا کوئی تصور نہیں تھا اور کس نے کیا یہ بھی یاد رکھئے۔ باپو تو اس سے بھی آگے کی سوچ رہے تھے دور اندیش آدمی تھے، امبیڈکر بھگوان بنتے جا رہے تھے ایسا کیسے ہوتا، وہ خود ایک دلت کالونی میں رہنے  چلےگئے تھےپانچ دن رہ آئے اور ڈاکٹر راجندر پرساد جیسے شدھ برہمن کو بھی ساتھ آنے کی دعوت دی جسکی شکایت انہوں نے پنڈت نہرو سے کی۔ پٹیل، مالویہ اور منشی بھی اس بات کو پسند نہیں کر رہے تھے۔اور ہوا یوں کے ایک ناتھو رام گوڈسے جسنے حصول آزادئ ہند کے نام پر کسی انگریز پہ کبھی کوئی گولی نہ چلائی  باپو کو چھید گیا۔ ہے رام !باپو کا چیپٹر 1948 میں ہی کلوز کر دیا گیا۔ہندو راشٹر کا ایک تخیلاتی خاکہ تو کب سے تیار تھا  بس ہندو اکٹھے نہیں ہو پا رہے تھے۔ اسکے لئےسومنات کو سمبل چنا جا چکا تھا۔

خیرسومنات مندر کی تعمیر نو پبلک فنڈ سے کی گئی اور اس سے متصل مسجد کو دور شفٹ کر دیا گیا۔ مندر 1951 میں بن گیا، سردار پٹیل کو اسمیں شو لنگ استھاپت کرنا تھا لیکن اس سے پہلے قضا نے آلیا اور پٹیل بھگوان کو پیارے ہوگئے۔ اب یہ تاریخی کام ڈاکٹر راجندر پرساد  کے ہاتھوں ہونا طے پایا۔پنڈت نہرو نے اسوقت بہ حیثیت راشٹرپتی ڈاکٹر راجندر پرساد کے سومنات جانے پراپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔اسکے علاوہ  راجندر پرساد کو رام منوہر لوہیا کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ بنارس کے مندر گئے اور وہاں کے پروہت کے پیر دھوئے۔راجندر پرساد دراصل اس برہمنیکل آرڈر کی نمائندگی کر رہے تھے جو ہندوراشٹرکے ایجنڈے پر کاربند تھا،اسوقت سومنات میں کی گئی انکی تقریر میں انہوں نے خود کو سنا تنی ہندو کہتے ہوئے ایک بات صاف لفظوں میں کہی تھی کے دنیا میں پُرتشدد نظریہ حکمرانی ہمیشہ فیل ہوا ہے (سافٹ ہندوتوا کی وکالت کی)انہوں  نے تاریخ سے سبق لینے کی بات کہی کہ مذہبی  عدم برداشت، تہذیبوں کے ارتقا میں مانع رہا ہے  انہوں نے ہندوستان میں مذہبی رواداری کو فروغ دینے اور سیکولرازم پہ کاربند رہنے کو عوام کی ترقی کا فارمولہ گردانا،یہ تو انکا بحیثیت  صدر خیال تھا، من کی بات تو یہ تھی:  اس مندر کی بحالی صرف اس صورت میں مکمل ہو گی جب ہم اپنی ہزار سالہ پرانی  ثقافت کی باز یافت اس حد تک  نہ کر لیں کہ اگر ماڈرن البیرونی  ہمارے ملک کو دیکھے، تو وہ خود کو اسی آئنے میں دیکھے جسمیں ہزار سال پہلے دیکھا تھا(یہ تقریر انگریزی میں نیٹ پہ موجود ہے)۔جی ہاں یہ وہ اشارے تھے جو سمجھنے والوں کے لئے کافی تھے۔ تصور کریں  اسوقت کا طمطمہ و ولولہ سومنات جیسے مندر کی تعمیر نو، 1017 میںمحمود غزنوی کے ہمسفر ابو ریحان البیرونی کو یاد کرنا اور اسکی کتاب الہند میں درج ہندو ثقافت کی بازیافت کی تلقین۔
سوال تو یہ ہے کہ کل کے ہندوستان کے ہندوئوں کی نفسیات، ان کے طور طریقوں اور آج کے ہندوستان، خاص طور پر2014 کے بعد انتہا پسند لیڈروں کے متکبرانہ روئیے اور اکھنڈ بھارت بنانے کے متعصبانہ ایجنڈے میں کیا کوئی فرق آیاہے؟

اگر ہم 2014 میں مودی کی حکومت بننے پر اشوک سنگھل کے بیان کو یاد کریں تو تصویر کچھ واضح ہوتی ہے کہ 800 سال بعد دہلی پر ہندووں کا راج قائم ہوا ہے۔ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آزاد ہندوستان میں اس تخیلاتی ہندو راشٹر کا مرکز سومناتھ کے مندر کو بنایا گیا تھا۔کے ایم منشی نے باقاعدہ جئے سومناتھ ناول لکھ کر آنند مٹھ کی توسیع کی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ سومناتھ کے مندر اور محمود غزنوی کی لوٹ مار کے سلسلے میں تعصب سے لبریز جزباتی لٹریچر کو خوب فروغ دیا گیا۔ اور ہم نے محمود کو فاتح  مشتہر کر کے آگ میں گھی ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہمیں اس پروپیگینڈے کی رد میں ان تاریخ دانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے جو مسلسل ہمارے ملک کے کثرت میں وحدت پر مبنی جمہوری نظام کی بقا اور ملک میں امن قائم کرنے کی سمت شدت سے لگے ہیں اور مسلم دور حکومت کی تمام خوبیوں کو وقفے وقفے سے سامنے لاتے رہتے ہیں اور ہر طرح کے سرکاری عتاب کا شکار ہیں بلکہ اب تو ان سے بدلے کی کارراوائی میں تیزی آگئی ہے۔

جس تسلسل سے آزادی کے بعد سے مسلمانان ہند کے خلاف سافٹ ہندوتوا نے پیر جمائے خود مسلمانوں کو اسکا احسا س نہیں ہوا اور  دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک  سیاسی  پراڈکٹ یعنی ووٹ بینک میں تبدیل کر دئے گئے۔ پھر دور یہ بھی آیا کہ انکا ووٹ زیرو کر دیا گیا۔ اس سے ہندو راشٹر کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ؟  کیا بس اتنا ہی کرنا تھا ؟

نہیں آپ  اس خام خیالی کو ذہن سے نکال دیں، ابھینو بھارت کا سنویدھان پڑھئے تو اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا انکا پہلا لکشیہ ہے اور اسکو بنیاد بنا کر ہندووں میں خوف بپا کر کے (بین اسرائیلی مہارشٹرین)چتپاون برہمنوں کی پناہ میں لانا دوسرا۔جسکے لئے  اسرائیل سے مدد لی جا رہی ہے۔

 آخر اتنے دنوں تک بھارت کو  ہندو راشٹراعلان کرنے میں پیچ کہاں پھنسا؟

دراصل وندے ماترم کو قومی ترانے کے مساوی لانے کی مسلسل جدوجہد کے دوران اس ملک کے دلت پچھڑوں کو سمجھ میں آگیا کہ اس گیت میں انکی کوئی جگہ نہیں ہے  اور انہوںنے شدو مد سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ ہندو راشٹر کی اس رُول بُک کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اسمیں مسلمان کہاں ہیں ؟جواب یہ ہے کہ دراصل مسلمان ہی ہندو راشٹر کا  نیوکلس ہے۔آپ کو یاد ہوگا منڈل کمیشن موومنٹ کا زمانہ  اور اسی درمیان اڈوانی کی سومنات سے ایودھیا یاترا کا  شروع ہونا۔ بابری مسجد کی شہادت، مسلم کُش فسادات ،  نتیجے میں بمبئی بم دھماکے اور تاریخ نے کروٹ  لےلی۔گویا اقتدار کی چابی مسلمان کے ہاتھ میں ہے زندہ یا مردہ۔۔آج بھی جب بی جے پی ہر ہتھکنڈہ اختیار کر کے تھک گئ تو پھر اسی راگ پہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر،باپو اور گوڈسے  بنام  مسلم پرستی کے ذریعے واپس آگئ۔ کارواں میگزین  میںچھپے مضمون کی روشنی میں ڈی کے جھا کی مانیں تو راج ناتھ سنگھ نے ایک خفیہ میسیج سادھو سنتوں کو بھیجا ہے جسمیں کہا گیا ہے کہ اگربابری مسجد معاملے میں کورٹ کا فیصلہ ہندودوں کے خلاف آیا تو اس باررام مندر کے لئے آردیننس لا یا جائے گا۔ یاد کیجئے  پچھلے سال ہی دہلی میں ایک بڑا جلسہ کرایاگیا تھا جس میں ملک کے کئی حصوں سے سادھوؤں کو مدعو کرکے ملکی عوام کے ذہن میں یہ بٹھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ آئین اور عدلیہ بے معنی ہیں۔ یہ ملک سادھوؤں اور باباؤں کاہے۔ جو وہ چاہیں گے وہی ہوگا۔ اسی لیے سادھوؤں نے دو قدم آگے بڑھ کر دہلی کے جلسے میںہی سپریم کورٹ پر نکتہ چینی کردی اور یہ الزام لگا دیا کہ سپریم کورٹ رام مند ر مقدمہ کا فیصلہ ہندوؤں کے خلاف کرنے جارہا ہے۔ اس کے بعد وشوہندو پریشد اور آر ایس ایس کا دوسرا بڑا جلسہ ایودھیا میں ہوا اس میں تو ہندو لیڈروں نے کھل کر یہ کہہ دیا کہ سپریم کورٹ ہمارے خلاف ہے۔ اس طرح سبھی ہندو نواز پارٹیوں نے سپریم کورٹ اور اس کے ججوں پر اعلانیہ طورپر بے اعتباری کا اظہا رکرکے توہین عدالت کا ارتکاب کیا، یہ سب ان کے سیاسی گیم پلان کا ایک حصہ ہے۔ اور اب تو سپریم کورٹ نے 15 اگست تک باہمی مشورے سے اس مسلے کے حل کے لئے تاریخ طے کر دی ہے۔قلعی اترتی جا رہی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ میڈیا نے ہندوستانی ملی جلی معاشرت پر جو کاری ضرب لگائی ہے وہ نسلوں میں پیوست ہو گئی ہے اسکا توڑ آنے والی صدیوں میں ممکن نہ ہو سکے گا۔مسلم دشمنی ننگی ہو گئی ہے۔ 2019 کے اس تاریخ ساز الیکشن میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر کا باب جڑ جانے پر تو ا س ہندتوا آئیڈیالوجی کی پرتیں  ایسے اتر رہی ہیں جیسے کسی زخم پر جمی کھرنڈ۔ کاش  اس کھرنڈ کےجھڑ جانے پہ زخم مندمل ہو جائیں  نہ کہ ناسور بن کر رستے رہیں۔سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں سیکیولر ازم نام کی کوئی چیز واقعی تھی ؟اس لفظ کو پریمبل میں شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟دیکھا تو یہ گیا ہے کہ ہمارے یہاں سیکیولر ازم کی جو تعریف زبان زدعام ہے اسمیں اس لفظ کومسلمانوں کے خلاف ایک گالی کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ یہ ایک تسلسل سے چلنے والا لائحہ عمل ہے۔پہلےاسمیں کردار اپنی باری آنے پر سامنے آتے تھے اور پھر ایک اثر مرتب کر کے غائب ہوجاتے تھے لیکن اب  وہ سطح پر بنے رہتے ہیں اور مسلمانوں کو نفسیاتی مار مارنے کے لئے تمام سرکاری لوازمات کے ساتھ ہمارے حواسوں پر مسلط کر دئے جاتے ہیں۔نریندر دامودر داس مودی ایسا ہی ایک نام ہے۔جسے سافٹ ہندوتوا کے پیروکارمیڈیا  اور کارپوریٹ نے ہندوستان کا سرتاج بنایا۔

آپکویاد ہوگا جب محترمہ حسینہ واجد نمک کا حق ادا کر رہی تھیں اور 7 جون 2015 کو بنگلہ دیش دورے پہ  گئے نئے نویلے وزیر اعظم  کے سپرد  ’بنگلہ دیش لبریشن وار آنر‘  اٹل بہاری باجپائی  کے لئے دے رہی تھیں تو وفور جذبات سے مغلوب مودی جی نے دیوانے کے ہاتھ لگی اینٹ کے مصداق  یہ قبول کر لیاتھا کہ جب بنگلہ دیش میں آزادی کی لڑائی لڑنے والے بنگلہ دیشی اپنا خون بہا رہے تھے، تو بھارت کی عوام بھی ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کر رہے تھے۔ اس طرح انھوں نے بنگلہ دیش کا خواب پورا کرنے میں مدد کی۔‘   یاد رکھنے والی بات تو یہ بھی ہے کہ آر ایس ایس اندرا گاندھی کو اسی بات پر دُرگا کا خطاب دے چکی تھی۔مودی جی نے 6 دسمبر 1971 کو اٹل جی کی پارلیمنٹ میں کی گئ وہ تقریر بھی یاد لائی جسمیں انہوں نے بنگلہ دیش کو الگ ملک ماننے کی حکومت ہند سے پُر زور اپیل کی تھی۔بھوٹان اور ہندوستان نے سب سے پہلے بنگلہ دیش کو الگ ملک تسلیم کیا تھا۔یاد کیجئے11 فروری 2018 کو  بہار کے مظفرپور  میں آر ایس ایس کے چھ روزہ کنوینشن کے آخری دن موہن بھاگوت نے بڑی رعونت سے کہا تھا کہ فوج جس کام کو 6 مہینے میں کرے گی ہم تین دن میں کر سکتے ہیںیعنی  ہند افواج کے مساوی آرمی کھڑی کرنے میں انہیں 3 دن سے زیادہ نہیں لگیں گے۔آخر اتنی تیاریاں کس کے لئے ہیں؟

تیاریاں کسی کے لئے بھی ہوںیہ بیان جو موہن بھاگوت نے دیا وہ ہندوستان کے ہر ا س شہری کو یاد رکھنا چاہئے جو آزاد رہنا چاہتا ہے ایک آزاد ملک کا آزاد شہری بن کر سانس لینا چاہتا ہے۔

2019 کے الیکشن کو راشٹرواد کے نام پہ لڑنےکی اسکرپٹ تو کافی پہلے لکھ لی گئی تھی جسکے لئے ماحول تیار کرنے میں بھکت میڈیا اور واٹس اپ گروپس۔ سوشل سائٹس اور اشتہار بازی  اپنے عروج پرنظر آئی۔اس راشٹرواد میں ہم وطن مسلمانوں کی کوئی جگہ نہیں بننے دی گئی الٹا میڈیا نے شکوک و شبہات پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔یاد رکھنے والی بات تو یہ بھی ہے کہ ہند پاک ایٹمی جنگ کی پیشن گوئی تو ٹرمپ نے 2018 میں ہی خدشے کے اظہار سے کر دی تھی۔ یہ کس کی لکھی اسکرپٹ ہے؟
آخر کونسا لکشیہ حاصل کرنا چاہتےہیں یہ لوگ؟

وہ کونسا ہندو راشٹرہے جسمیں  ہیمنت کرکرے کی جگہ نہیں ہے۔جسمیں دلتوں کی جگہ نہیں ہے جسمیں مسلمان روڑا ہیں؟
آخر ایسا کیا ہے  جسےراز میں رکھنے کے لئے26/11 کی آڑ میں 10 جانباز افسر جان سے جاتے ہیں ساتھ ہی 200 عام شہری بھی قربان کر دئے جاتے ہیں؟

آخر کیوںپلوامہ کرنا پڑتا ہے؟ ہندی ہندو ہندوستان کے اس قصے میں انقلاب زندہ باد سے 2019 میں بھارت ماتا کی جئے بولنے، گئو ماتا کی رکشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل کرنے، زیادہ بچے پیدا کر کے دنیا پہ راج کرنے، اسلام میں دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو قتل کرنے کے حکم کو جہاد کا نام دے کر اسلاموفوبیہ پیدا کرنے اور تبلیغ کے نام پر مذہب بدلوانے خوف پیدا کرنے میں اسلام بنام غیر اسلام کی ایک مذہبی جنونی جنگ کو ہندوستان کے کلیجے میں پیوست کرنے کا کام انگریز  بخوبی کر کے جاچکے ہیں۔ نفرت کے جو بیج وہ بو گئے تھے اسنے 47 میں تقسیم دیکھی اور  اسلام کے نام پہ بنا ملک ایک مضبوط مد مقابل نہ بنے تو زبان کے نام پر بنگلہ دیش بنتے دیکھا۔اس پورے کھیل میں آپ کو پوری ایمانداری سے ان مسلم لیڈران کی مکار صفت کو پہچاننا بھی ضروری ہے جنہوں نے اپنے راج پاٹ کے لئے برادران اسلام کا بے دریغ خون بہایا اور کبھی پشیماں نہ ہوئے۔اسی ڈی این اے کے 64 ایم ایل اے  اتر پردیش اسمبلی میں موجود رہے اور دادری میں گائے کے نام پر اخلاق کی آہوتی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر گئے۔ساکشی مہاراج اور اسیمانند کن مسلمانوں سے دنیا کو ڈرا رہے ہیں؟

بات اگر عالمی منظر نامے کی کریں تو بے فکر رہئے  جب تک یہ تثلیث ہے جسکا نام امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ہے دنیا کومسلمانوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہمارے اپنے سر بہت ہیں اتارنے کو۔ہاں اسلام کا نہیں کہہ سکتے  وہ تو اندیکھی قوت کی حفاظت میں پھلتا اور پھیلتا ہے۔ اور پھیل ہی رہا ہے تبدیلئ مذہب کا تازہ انڈیکس اٹھا کر دیکھ لیجئے  پتہ چل جائے گا۔اس حقیقت کا ادراک یہود و نصار کو خوب ہے۔دوسرا میناکشی پورم نہ ہو اسلئے اب ہندوتوا فورسس اسمیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ بدھسٹوں کو سمراٹ اشوک بھلا کر محمد بن قاسم کو یاد کرنے کہا جا رہا ہے کہ اسکے حملے کے وقت انہی کا بول بالا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کے بعد سے ہی وہائٹ سپرمیسی کے کیڑوں نے اپنے جیسے مکوڑے تلاش کرنے شروع کر دئے تھے جو آج آپکو سری لنکا اور میانمار میں بدھسٹ سپر میسی اور ہندوستان میں ہندو سپر میسی کی افریت کی شکل میں بے شرموں کی طرح دکھنے لگے ہیں۔ کیا ان سانپوں کو مسلمانوں نے دودھ نہیں پلایا؟ہم نے کیا کردار انجام دیا ہے اس کے لئے گریبان میں جھانکنا ضروری ہے۔

بقول جون ایلیا :

میں تو صفوں کے درمیاں کب سے پڑا ہوں نیم جاں
میرے تمام جاںنثار،میرے لیے تو مرگئے 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسنیم کوثر

تسنیم کوثر روزنامہ ایشین رپورٹر کی اڈیٹر ہیں۔ آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن کو بھی اپنی خدمات دی ہیں۔ آپ کا آبائی وطن ضلع پورنیہ بہار ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ سماجی اور علمی خدمات میں پیش پیش رہی ہیں۔ ان کے 17 افسانوں کا مجموعہ ''بونسائی'' زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ دوسرا مضامین کا مجموعہ ''خدا جھوٹ نہ بلوائے" زیر طبع ہے۔ asianreporter.in@gmail.com

متعلقہ

Back to top button
Close