ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں!

نایاب حسن

چرچاہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی نے اتوارکوکل جماعتی میٹنگ میں خطاب کے دوران گئورکشاکے نام پر ہونے والے دہشت گردی اور تشدد کے خلاف سخت لب ولہجے میں بات کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے ایسے عناصرپر لگام لگانے کی اپیل کی ہے۔نیوزچینلوں اوراگلے دن کے سبھی مطبوعہ اخباروں میں یہ خبر لیڈمیں رہی،رپورٹروں نے اپنے اپنے اندازسے خبر میں تراش خراش کرکے اسے شائع کروایا،وزیر اعظم کے بیان کے تین اہم پہلوتھے،جن میں گئو رکشا والا پہلوتقریباً حاوی رہااوراس کی وجہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مورچہ بندی تھی،دوسرے پہلووں میں کرپشن کے خاتمے کی تاکیدکے ضمن میں لالوخاندان پرطنزوتعریض اور اس ماہ کے شروع میں امرناتھ یاتریوں کے ایک قافلے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے شامل رہے۔مودی نے سیاست اور رسیاست دانوں کے بیچ سے بدعنوانی کے خاتمے پر زوردیااور کہاکہ قانونی گرفت کو سیاسی سازش قراردے کر بدعنوانی کو چھپانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے،انھوں نے میٹنگ کے بعد اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں بھی ان امور پر اظہارِ خیال کیا۔

ملک کے باشعورعوام کا بہت بڑاطبقہ گئورکشاکے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی اوراس پر وزیر اعظم کی خاموشی سے نالاں تھا،لوگوں کاخیال تھا کہ مودی کی خاموشی کی وجہ سے ایسے عناصر کوشہہ مل رہاہے اور وہ وباربار ملک کے مختلف گوشوں میں درندگی کامظاہرہ کررہے ہیں ،ایسی قیاس آرائیاں تھیں کہ اگر وزیر اعظم اس موضوع کواپنے کسی عوامی خطاب یا اہم سیاسی اجتماع کاموضوع بنائیں تواس سے ملک میں ایک توانا پیغام جائے گا اوران لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوگی،جو گایوں کے تحفظ کی آڑلے کر انسانوں کا شکار کررہے ہیں ،جون کے اواخر میں ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکے جنیدکے بہیمانہ قتل کے بعد جب ملک گیر سطح پر’’میرے نام پر نہیں ‘‘کے زیر عنوان احتجاجی جلوسوں کا دراز سلسلہ چلااوراس میں سماج کے ہر طبقے کے نمایندہ افراد نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیااور ہندوستان کے اندرکا یہ مسئلہ پوری دنیاکے میڈیامیں چھاگیا،تب کہیں مودی جی نے اس موضوع پر اظہارِ خیال کرنے کی زحمت فرمائی اوروہی کہا،جووہ سال ڈیڑھ سال پہلے بھی کسی موقعے سے کہہ چکے تھے کہ گائے کے تحفظ کے نام پر تشدداور غیر سماجی سرگرمیوں کو انجام دینا قابلِ مذمت ہے ۔

جنید کی موت کے بعدان کا بیان آیا،مگرجوسلسلۂ کشت و خون تھا،وہ تھمنے کی بجاے جاری ہی رہا،حتی کہ جس دن ان کابیان آیاتھا، اسی دن جھارکھنڈمیں ایک شخص کوماردیاگیااورابھی اتوار کوجب وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمایندگان کے بیچ خطاب کررہے تھے اور گائے کے نام پر ذاتی دشمنی نکالنے یا اپنے اغراض و مقاصدکی برآری کی کوشش کی مذمت کررہے تھے،تبھی کم ازکم دو ایسے کیسزرونماہوگئے۔اس سے ایک اور حقیقت توکھل کر سامنے آگئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابتدامیں حکومت کی خاموشی یا خاموش تایید کی وجہ سے جن جنونیوں نے انسانوں اور مخصوص طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ٹارگیٹ بنانا شروع کیاتھا،وہ اب حکومت اور حکومت کے سربراہِ اعلیٰ کی اپیل اور دھمکیوں کوبھی خاطر میں نہیں لارہے ہیں ،وہ عصبیت کی انتہاپر پہنچ چکے ہیں ،ان کے دماغ میں یہ خیال جاگزیں ہوچکاہے کہ ہم  جوچاہیں کرلیں ،کوئی کچھ نہیں کرسکتا،وہ اپنے آپ کوبالکل محفوظ سمجھ رہے ہیں ،انھیں بالکل اطمینان ہے کہ گئوماتاکوبچانے کے نام پروہ جس شخص کو، جہاں چاہیں آغوشِ نیست میں پہنچاسکتے ہیں ،پولیس اپنی،آس پاس کے لوگ اپنے،حکومت اپنی،حاکم اپنا،منصف اپنے اورسب کچھ اپناہے۔

 مودی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہاکہ اس طرح کے ماحول سے دنیامیں ہندوستان کی شبیہ خراب ہورہی ہے،خداجانے واقعی انھیں ایسا محسوس ہورہاہے یا یہ ان کا سیاسی اسٹنٹ ہے؛کیوں کہ ملک کی شبیہ توتبھی سے خراب ہونا شروع ہوچکی تھی،جب2015میں دادری سانحہ رونماہواتھااور قومی میڈیاسے زیادہ انٹرنیشنل میڈیامیں ہندوستان اور ہندوستانی حکومت کی تھوتھو ہوئی تھی،تب اگر حکومت موضوع کی حساسیت کا ادراک کرتی اورعصبیت کی بجاے اپنی دستوری و آئینی ذمے داری کوپورا کرتے ہوئے مظلوم اہلِ خانہ کی دادرسی کاسامان کرتی، توبعد میں جو سلسلۂ خوں ریزی چلا،اس کی نوبت نہیں آتی؛لیکن اس وقت تومودی نے اس موضوع پر کوئی توجہ ہی نہیں دی،جبکہ دوسری طرف ان کے وزراالٹاان خانوادوں کونوازتے نظرآئے،جواخلاق کی موت کے راست مجرم تھے،حتی کہ ایک قاتل کومرنے کے بعدقومی جھنڈے میں لپیٹ کر آخری انجام تک پہنچایاگیا۔جب مرکزمیں حکومت آپ کی ہے اور بیشترریاستوں میں بھی آپ ہی برسرِ اقتدارہیں ،توپھرعملی قدم اٹھانے میں کیاپرابلم ہے؟شایداٹھاناہی نہیں چاہتے؛اس لیے پہلے توایک لمبے عرصے تک چپی سادھے رکھی اور اب صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

 حکومت کی غیر سنجیدگی کویوں بھی سمجھئے کہ ابھی جنیدکی شہادت کے بعد ملک کی اکثریت کے درمیان سخت غم و غصے کی لہر دوڑی ہوئی تھی اور لوگ حکومت سے براہِ راست پرسش کرنا چاہتے تھے کہ اچانک پہلے مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈرکی کوششوں سے فرقہ وارانہ فساد کی فضاقائم کردی گئی اوراس کے بعد امرناتھ کے زائرین پر حملے کی شکل میں ملک کوایک نیاموضوعِ بحث مل گیا۔ہندوستانی عوام بھولے ہیں ،وہ ہر نئے حادثے کے بعد پرانے حادثے پر خاک ڈال دیتے اور چند دن ہائے ہلہ کرنے کے بعدپھر کسی نئی حادثے کے انتظارمیں لگ جاتے ہیں ،سوجہاں بنگال میں ہونے والے حادثے میں میڈیانے متعلقہ علاقے کے مسلمانوں کوکھلنایک ثابت کرنے کی کوشش کی،وہیں امرناتھ حملے نے ایک بار پھرسے کشمیر اورکشمیریوں اور پڑوس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پرشورہنگامے کی فضابنادی،اس طرح بات سے کہیں سے کہیں جاپہنچی،میڈیاسے گئورکشکوں کے مظالم کا موضوع ہواہوگیا،پھر سی بی آئی نے بروقت لالویادواینڈفیملی کی گوشمالی کی ٹھانی؛صدارتی انتخابات کی ہماہمی چل ہی رہی تھی،لالوبہارمیں اپنے اتحادیوں کوکانگریسی خیمے میں لانے کے لیے مصروفِ جدوجہدتھے اور اگست میں مرکزی حکومت کے خلاف ایک بڑی عوامی ریلی کا اعلان کرچکے تھے کہ اچانک سی بی آئی نے ان کے گھرپر دھاوابول دیا، ملک بھر میں موجودان کی مختلف عارضی یامستقل رہایش گاہوں پر چھاپے مارے گئے،ان کی بیٹی کوبھی گھیراگیااور اب بہارکے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادوبھی زدپر ہیں، دوسری طرف بہار کے وزیر اعلیٰ کیاکرنے والے ہیں یاوہ کیاچاہتے ہیں ،اس پرسسپنس گہراہوتاجارہاہے۔ان سارے واقعات کے تسلسل سے بی جے پی،مودی اوران کی حکومت کو واضح فائدہ ہواہے اور ہونے والابھی ہے،اپوزیشن پارٹیاں آنے والے پارلیمنٹ سیشن میں بحث و نقاش اور حکومت کو گھیرنے کے لیے الگ موضوعات کی لسٹ تیارکیے ہوئی ہیں ،جبکہ حکومت بڑی عیاری کے ساتھ اپوزیشن کو مات دینے کی فضاہموار کررہی ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ گئورکشاکے نام پر خود بی جے پی حکومت کا جوموقف ہے،وہی لوگوں کویہ ترغیب دیتاہے کہ وہ اس موضوع کا سہارا لے کر کسی کو بھی گھیر سکتے ہیں ،مارسکتے ہیں اوراس کی جان لے سکتے ہیں ،وقفے وقفے سے دائیں بازوکے سیاسی نیتا،بعض ہندومذہبی رہنما،حتی کہ خود مودی کے کئی وزرابھی لگاتار ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں ،جن میں وہ سیدھے طورپربیف کھانے والوں کوجان کی دھمکی دیتے اور گائے کے تحفظ کی دہائیاں دیتے رہتے ہیں ،یہ سب چیزیں مل کر ایسی فضاہموار کرتی ہے،جس میں بے وجہ بھی کسی کی جان لینا آسان ہوجاتاہے۔یہ کتنی حیرت انگیزبات ہے کہ دہلی، یوپی، ہریانہ، راجستھان، جھارکھنڈجہاں بھی گائے کے نام پر لوگوں کوماراگیا،ان موقعوں پر مارنے والوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کی بھی ایک بڑی بھیڑ موجودرہی،مگر کسی کے دل میں کم ازکم یہ احساس بھی نہ پیداہواکہ ماراجانے والافردایک انسان ہے اوراسے اس بے دردی سے نہیں ماراجاناچاہیے،حتی کہ کئی واقعے میں تویہ بھی دیکھنے میں آیاکہ ادھ مراکرکے چھوڑے گئے نہتے وبے بس انسان کوآتے جاتے ہوئے لوگ دیکھتے رہے،مگران کے دل میں جذبۂ انسانی کی رمق تک پیدانہ ہوئی۔ہندوستان کا معاشرہ اس درجہ سفاک کیااچانک ہوگیاہے؟

مجھے توایسا نہیں لگتا،مجھے تویہ لگتاہے کہ ایسا سماج بنانے میں انتہاپسندسیاسی ومذہبی فکرکے علمبرداروں کی ایک لمبی، دوررس، گہری اور نتیجہ خیزمنصوبہ بندی کارول ہے،یہ وہ لوگ ہیں ،جومختلف مذاہب کے ماننے والوں میں ،مختلف ملکوں میں اور مختلف زمان و مکان میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں ۔سترسال قبل ہزارسال سے ایک ساتھ رہنے والے ہندوستانی عوام کے ایک جتھے کودوسرے جتھے سے بھڑاکرہندوستان کے سینے پرآری ترچھی لکیریں کھینچی گئیں اور تب سے ان میں اضافوں کا عمل مسلسل جاری ہے،دیکھئے کہاں جاکرتھمے!



⋆ نایاب حسن

نایاب حسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے