سیاست

ہے یہ گنبد کی صدا، جیسی کہے ویسی سنے

حفیظ نعمانی

سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا مشترکہ محاذ بن جانے اور 38-38  سیٹوں پر لڑنے کا فیصلہ کرنے سے بیحد ناراض اُترپردیش کانگریس کے انچارج غلام نبی آزاد نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرکے کہ وہ 80  سیٹوں پر بی جے پی کا مقابلہ کریں گے اسے ہرائیں گے اور نتائج چونکانے والے ہوں گے یہ ظاہر کردیا کہ وہ سب سے ناراض ہیں۔ ایک رپورٹر کے کہنے کے مطابق وہ بیحد غصہ میں نظر آئے۔ آزاد صاحب نے ظاہر تو یہ کیا کہ ان کا غصہ بی جے پی پر ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اکھلیش اور مایاوتی کی بے نیازی نے ان کی بہت توہین کی ہے۔

ہم نہ اِن کے رشتہ دار ہیں اور نہ اُن کے ہم اگر انصاف کی بات کریں تو یہ جیسے کو تیسا ہے۔ تین ریاستوں کے نومبر میں ہونے والے انتخابات میں یوپی کی دونوں پارٹیوں نے یہ چاہا تھا کہ یہ الیکشن تینوں مل کر لڑلیں۔ یہ بحث الگ ہے کہ کس کا قد کتنا ہے، یہ سیاست ہے جہاں ہر کوئی اپنے کو 52  گز کا سمجھتا ہے۔ کانگریس نے یہ تاثر دیا کہ وہ تنہا بی جے پی کا اگر مقابلہ کرے گی تو اسے زیادہ ووٹ اس لئے ملیں گے کہ اس کے ووٹر یہ سمجھیں گے کہ کانگریس اکیلے لڑکر واپس آرہی ہے اور اگر دو پارٹیوں کو ملاکر لڑے گی تو خیال ہوگا کہ وہ اپنے کو کمزور سمجھ رہی ہے۔ اس لئے اس نے نہ مایاوتی کو ساتھ لیا اور نہ اکھلیش کو۔ یہ بات سب کے سامنے ہے کہ مایاوتی پچاس سیٹیں مدھیہ پردیش میں مانگ رہی تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ اگر کانگریس انہیں ساتھ لینا چاہتی تو کم پر فیصلہ ہوجاتا لیکن یہ بات کھل گئی تھی کہ کانگریس اکیلے ہی لڑنا چاہتی ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ مایاوتی اس پر اَڑ گئیں کہ وہ 38  سے کم سیٹوں پر نہیں مانیں گی اس کی وجہ ایک تو کانگریس سے مدھیہ پردیش کی ذلت کا بدلہ لینا تھا اور دوسری یہ کہ وہ یہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ پورے ملک میں جہاں کہیں بھی دلت ہیں ان کی لیڈر وہ نہیں ہیں۔ رہا اجیت سنگھ کا مسئلہ تو وہ جاٹ ہیں اور جاٹوں سے مایاوتی کا 26  کا کانٹا ہے وہ جاٹ کے لئے سیٹ چھوڑ نہیں سکتیں۔

اکھلیش کی مجبوری یہ ہے کہ الیکشن تک اپنی بوا کے مزاج کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتے۔ ہوسکتا ہے کہ اکھلیش کو اس کی اجازت دے دیں کہ وہ اپنے کوٹہ سے اجیت سنگھ اور نشاد کو ان کا حصہ دے دیں یا کوئی اور بی جے پی کو چھوڑکر آئے تو اسے تحفہ دے دیں۔ اس لئے کہ ضمنی الیکشن ان دونوں سے مل کر اکھلیش نے لڑا ہے مایاوتی نے نہیں۔

اب رہی کانگریس کی بات تو دونوں صوبائی پارٹیوں نے کانگریس کو شامل نہ کرکے اس کے لیڈروں پر احسان کیا ہے اور یہ فیصلہ بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے جیسی خبر ہے 2017 ء میں جب راہل کے کہنے سے P.K.  نے درمیان میں پڑکر ملائم سنگھ اور اکھلیش سے معاہدہ کرلیا تھا اس وقت بھی آزاد اور ببر دونوں ہر سیٹ لڑنا چاہ رہے تھے۔ اور جسے برا لگے وہ معاف کرے کانگریس میں ہمیشہ الیکشن آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے اور جس کی جیسی حیثیت ہوتی ہے وہ اتنا ہی کما لیتا ہے۔ جس وقت اسمبلی الیکشن میں معاہدہ ہوگیا تو نہ غلام نبی آزاد تھے نہ راج ببر اور نہ وہ شیلا دکشت جو وزیراعلیٰ بننے کیلئے آئی تھیں۔ جن حضرات نے اس سمجھوتہ کا اعلان کیا وہ بالکل نئے تھے۔ اور وجہ یہی تھی کہ سواچار سو سیٹوں والی ریاست میں 100  سیٹوں پر ننگی کیا دھوتی اور کیا نچوڑتی اس لئے سب چھوڑکر بھاگ گئے۔ آج اس کے علاوہ اور کیا ہوا ہے کہ کرناٹک میں اور تین صوبوں میں کانگریس کی حکومت بن گئی ہے اور اترپردیش کی پارلیمانی سیٹوں کے لئے ہر ریاست سے جذیہ لیا جائے گا اور ڈھول بجایا جائے گا کہ ہم 40  سے زیادہ سیٹیں جیتنے والے ہیں۔ اب یہ راہل گاندھی کے اوپر ہے کہ وہ نوٹوں کے کتنے سوٹ کیس قربان کرتے ہیں۔ اگر انہیں سمجھ ہوگی تو وہ 80  سیٹوں پر تال ٹھونک کر لڑنے کی طاقت کا اعلان کرنے والوں سے یہ ضرور معلوم کرلیں کہ صرف پونے دو سال پہلے آپ کو سات سیٹیں کیوں ملیں۔ اور اس کے بعد کانگریس کے صوبائی لیڈروں اور ورکروں نے کیا بودیا کہ لوک سبھا کی 40  سیٹیں جیت کر چونکانے والے نتیجے دکھادیں گے؟

اُترپردیش آج بھی ملائم سنگھ اور مایاوتی کا ہے کانگریس تو دور بی جے پی کا بھی ابھی اس پر قبضہ نہیں ہے۔ صرف آٹھ مہینے پہلے ضمنی الیکشن میں کانگریس نے ایک اُمیدوار کھڑا کیا تھا جس کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ اور آٹھ مہینے میں صرف اتنا ہوا ہے کہ مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں حکومت بنائی ہے لیکن یہ سندھیا اور پائلٹ کی دن رات کی محنت ہے جبکہ اترپردیش میں سب گردن ڈالے بیٹھے رہے اب بس یہ ہوگا کہ برسوں کے بھوکے ورکر لکھ پتی ہوجائیں گے اور کچھ کروڑ پتی اور راہل کو کیا ملے گا یہ وقت بتائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close