سیاست

ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہو ویسی سنو

حفیظ نعمانی

الیکشن کمیشن کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب دو چار صوبوں کی اسمبلی کی مدت ختم ہونے والی ہوتی ہے تو سب کے الیکشن ساتھ میں کردیتے ہیں ۔ گجرات اور ہماچل کے بارے میں کافی دنوں سے شور تھا کہ دونوں ریاستوں کے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم جو 13  برس گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور ایسے رہے ہیں کہ انہوں نے جس خبر کو چاہا کہ وہ باہر جائے وہ گئی ہے اور جسے چاہا کہ باہر نہ جائے وہ کتنی ہی اہم ہو باہر نہیں گئی۔

2014 ء کے الیکشن سے پہلے کی بات ہے کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال مودی جی سے ملنے احمد آباد گئے تھے تو انہیں 50  کلومیٹر پہلے پولیس نے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات سے پہلے انہیں گھنٹوں تھانے میں رکھ کر تفتیش کی تھی کہ کیوں ملنے جارہے ہیں ؟ اور وہ ملک کے اکیلے ایسے وزیر اعلیٰ تھے کہ ہر دو چار مہینے کے بعد خبر آجاتی تھی کہ دو چار چھ مسلمان لڑکے انکاؤنٹر میں مار دیئے گئے اور ان کی جیب سے اُردو میں لکھے ہوئے خط یا پرچے سے معلوم ہوا کہ وہ لشکر طیبہ کے کمانڈر تھے اور نریندر مودی کو قتل کرنے آرہے تھے۔

مودی جی نے گجرات میں ایسے حکومت کی کہ واحد اپوزیشن پارٹی کانگریس تھی جس نے 50  برس گجرات میں حکومت کی تھی لیکن وہاں اس کا کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا جو وہیں رہ کر دو دو ہاتھ کرے۔ شنکر سنگھ واگھیلا اکیلے لیڈر تھے لیکن وہ کبھی مخالف لیڈر کے تیوروں کے ساتھ سامنے نہیں آئے۔ جب بھی کوئی نازک وقت آتا تھا تو دہلی سے سونیا گاندھی صبح آتی تھیں اور شام کو دہلی آجاتی تھیں ۔ اور مودی جی جو چاہتے تھے کرتے تھے۔

اب مودی وزیر اعظم ہیں اور امت شاہ جو وزیر داخلہ تھے وہ بی جے پی کے صدر ہیں اور حکومت دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔ اس درمیان میں گجرات میں جو ہوا وہ ایسا نہیں تھا کہ جیسا مودی کے زمانہ میں ہوتا رہا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بی جے پی اتنی طاقتور تھی کہ راجیہ سبھا کی تین سیٹوں کے الیکشن کے موقع پر کانگریس کے ایم ایل اے خریدنا شروع کئے مقصد صرف یہ تھا کہ کانگریس کے 52  ممبروں میں سے اتنے توڑ لئے جائیں کہ وہ ایک اُمیدوار بھی نہ جتا سکیں اور احمد پٹیل جو سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر ہیں وہ ہار جائیں اور تینوں سیٹیں بی جے پی کو مل جائیں۔

شہرت یہ تھی کہ وہ ایم ایل اے جن کی مدت صرف تین مہینے رہ گئی تھی وہ ڈیڑھ کروڑ روپئے لے کر کانگریس سے استعفیٰ دے دیں جب الیکشن ہوگا تو بی جے پی کا ٹکٹ بھی انہیں ملے گا اور پارٹی ان کا الیکشن لڑائے گی۔ اس خبر سے کانگریس میں بھگدڑ مچ گئی اور اندازہ ہوا کہ پٹیل ہار جائیں گے۔ کانگریس نے اپنے باقی 43  ممبروں کو ساتھ لیا اور کرناٹک کے ایک ہوٹل میں لے جاکر بند کردیا۔ مودی نے اس وزیر کے گھر انکم ٹیکس کی ریڈ کرادی جس نے انہیں مہمان بنایا تھا لیکن یہ دائو نہیں چلا اور الیکشن کے دن وہ آئے اور احمد پٹیل کو ووٹ دیئے اور وہ راجیہ سبھا کے ممبر بن گئے۔

جس کانگریس کی صرف ایک مہینہ پہلے یہ حالت تھی کہ وہ بلی کی طرح اپنے بچوں کو چھپائے چھپائے گھوم رہی تھی آج وہ اتنی طاقتور ہوگئی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نام لے کر راہل گاندھی کو جواب دے رہے ہیں اور راہل کے لگائے ہوئے الزامات کی ایسے صفائی دے رہے ہیں جیسے ایک چوکیدار اپنی ڈیوٹی میں چور کو نہ پکڑ سکا اور نہ دیکھ سکا۔ راہل نے گجرات میں جگہ جگہ معلوم کیا کہ وکاس کہاں ہے؟ وہ نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کیا ہوا؟ اور کہہ دیا کہ وکاس پاگل ہوگیا۔ مودی جی نے ایسے جواب دیا جیسے راہل برابر کا لیڈر ہے اور کہا کہ میں وکاس ہوں اور جلسہ میں موجود گجراتیوں سے کہا کہ کہو میں وکاس ہوں اور یہی نعرے لگاتے رہے۔ ہم نے زندگی بھر دیکھا ہے کہ ایسی باتیں لیڈر اس وقت کرتا ہے جب اسے اندھیرا نظر آتا ہے۔

راہل وہی راہل ہیں جنہیں پپو اور شہزادہ کہا جاتا تھا دو مہینے میں انہوں نے کوئی امتحان پاس نہیں کرلیا بس یہ ہوا کہ لوگ مودی سے مایوس ہوگئے اور راہل کے پاس آگئے۔ مودی ہوں ، سونیا ہوں ، ملائم ہوں ، امت شاہ ہوں یا نتیش کمار ان میں ایک بھی لیڈر ایسا نہیں ہے کہ عوام کو جدھر چاہے لے جائے۔ نریندر مودی نے جب ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا نعرہ دیا تھا تو عوام بھی کانگریس سے ناراض ہوچکے تھے انہیں یہ نعرہ پسند آیا اور کانگریس کو صاف کردیا۔ اگر مودی جی یہ سوچیں کہ یہ کارنامہ ان کا ہے تو یہ بھول ہے ان کا تو ایک ووٹ ہے۔ کانگریس کو صاف تو ہم نے کیا اور اس لئے کیا کہ اچھے دن آئیں گے۔ لوٹ مار ختم ہوگی کالا دھن واپس آئے گا بھرشٹاچار ختم ہوگا مارے مارے پھرنے والے بے روزگاروں کو روزگار ملے گا ہر گھر میں فلیش ہوگا اور تین سال کے بعد ہر آدمی کا اپنا مکان۔

آج جب عوام نے دیکھا کہ جو بابا رام دیو پیٹ بجا بجاکر یوگا کو عام کررہا تھا وہ گیہوں چاول سے کھیر گائے کے دیسی گھی تک اور کھانے کے تیل سے لے کر ہر قسم کے درجنوں تیل ہی نہیں ہر قسم کی کریم پائوڈر اور میک اپ کے سامان کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ اتنے قسم کے بناکر بازار میں پھینک رہا ہے کہ لوگ کولگیٹ کو بھولتے جارہے ہیں ۔ اربوں کھربوں کی دولت صرف تین سال میں کماکر اور بابا رام رحیم کی طرح ہر صوبہ میں ایک بڑی فیکٹری لگ چکی ہے جس کی زمین سرکار دے رہی ہے اور روپیہ کے لئے سرکار کا ہر دوازہ کھلا ہے۔ پھر اچانک دوسرا بم پھٹا کہ امت شاہ کے بیٹے نے کاروبار کیا اور ایک سال میں 16  ہزار گنا فائدہ حاصل کرکے کارخانہ بند کردیا۔ یہ اور ایسے نہ جانے کتنے گھوٹالے اور بھرشٹاچار کرکے کانگریس کو دکھایا کہ دیکھو ایسا ہوتا ہے بھرشٹاچار کہ ہر وزیر اسے کاروبار کہہ رہا ہے۔ اور مجبوراً کہہ رہا ہے۔

دوسرے صوبوں کی درجنوں کہانیاں ہیں لیکن وہ اترپردیش جس کا مکھیا ایک سنیاسی کو یہ سوچ کر بنایا تھا کہ اس کے زمانہ میں تو کوئی غلط کام کی ہمت کر ہی نہیں سکتا اس کی صرف تاجپوشی جو تین گھنٹے میں ہوئی اس میں 80  کروڑ روپئے خرچ بتایا گیا اور یوپی کی سڑکوں کے گڈھے بھرنے کے لئے جو سیکڑوں کروڑ خرچ ہوئے اس میں اتنا گول مال ہوا کہ سرکاری بیان کے مطابق 72  انجینئر اور افسر معطل کردیئے گئے اور ایل ڈی اے جس نے تاجپوشی میں 80  کروڑ خرچ کئے تھے اس کی سیکڑوں فائلیں جل کر راکھ ہوگئیں اور جن کمپیوٹروں میں ریکارڈ تھا وہ بھی جل کر خاک ہوگیا۔

اور سب سے بڑا ستم جی ایس ٹی ہے جس نے دیوالی کا وہ تہوار جو ہر کاروباری کے سال بھر کا خرچ دے جاتا تھا وہ 30  فیصدی رہ گیا سورت جو کپڑوں کی جنت ہے وہاں جو مشینیں چوبیس گھنٹے چلا کرتی تھیں وہ آٹھ گھنٹے چل رہی ہیں اور جہاں پانچ لاکھ مزدور کام کرتے تھے اب وہاں سے مزدور روتا ہوا جارہا ہے۔ اب اگر گجرات کا کاروباری مزدور پٹیل کسان دلت یہ سب، سب کا ساتھ سب کا وکاس کہنے کے بجائے وکاس پاگل ہوگیا کہنے لگیں اور راہل کے ساتھ ناچنے لگیں  اور مودی کو ہرادیں تو یہ کانگریس اور راہل کی مقبولیت نہیں عوام کا غصہ ہوگا۔ گجرات کا الیکشن مودی کتنا ٹالیں گے کتنی بے ایمانی کریں گے جب سارا گجرات ناراض ہے اور دوسرا راہل کے علاوہ کوئی نہیں ہے تو وہی ہوگا جو جنتا پارٹی کے ساتھ ہوا جنتا دل سرکار کے ساتھ ہوا اور 2014ء میں کانگریس کے ساتھ ہوا اب مودی کے ساتھ ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close