سیاستہندوستان

یادیں، یادیں، لہو میں ڈوبی یادیں

حفیظ نعمانی

ہوسکتا ہے میری طرح اور بھی کچھ لوگ ہوں جو سوچ رہے ہوں کہ پنڈت نہرو نے جو انتقال سے صرف چند دن پہلے شیخ محمد عبداللہ کو رِہا کراکے دہلی بلایا اور اپنا کوئی پیغام لے کر پاکستان بھیجا اور شیخ کی واپسی سے پہلے ہی وہ دنیا چھوڑ گئے۔ اس کے بعد شاستری جی کو تو زندگی نے موقع ہی نہیں دیا لیکن ان کی لخت جگر اندرا گاندھی تو برسوں وزیراعظم رہیں انہوں نے یا ان کے بعد کانگریس کے بننے والے وزراء اعظموں نے کیوں سنجیدگی سے یہ کوشش نہیں کی کہ پڑوسی ملک پاکستان سے تعلقات ہر اعتبار سے اچھے ہوجائیں۔ اور یہ جذبہ اٹل جی کے اندر کہاں سے آگیا کہ انہوں نے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کو نصب العین بناکر اپنا رشتہ پنڈت نہرو سے جوڑ لیا۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ پنڈت نہرو کشمیر کے مسئلہ میں پاک صاف نہیں گئے اور شاید وہ شیخ عبداللہ کو درمیان میں ڈال کر کشمیر کے مسئلہ کا کوئی ایسا خوبصورت حل چاہتے تھے جو شیخ عبداللہ کے لئے بھی قابل قبول ہو۔ پنڈت جی کے انتقال کے بعد شیخ عبداللہ چین چلے گئے پھر وہیں سے وہ سعودی عرب کے شاہ فیصل کی بلائی ہوئی ’’مؤتمر عالم اسلامی‘‘ میں شریک ہونے کیلئے مکہ معظمہ چلے گئے اور پھر دہلی آکر نظربند ہوگئے لیکن وہ بات سامنے نہیں آئی جس کے لئے انہیں پنڈت نہرو نے پاکستان بھیجا تھا۔

برسوں کے بعد جب اٹل جی وزیراعظم بنے اور انہوں نے پاکستان سے تعلق استوار کرنے کیلئے دوستی بس لے جاکر لاہور میں کھڑی کردی اور مینارِ پاکستان کے نیچے بیٹھ کر نواز شریف اور تمام میزبانوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ اس کے بعد استقبالیہ تقریب میں اپنی مختصر تقریر میں کشمیر کے مسئلہ کا ذکر کیا اور اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا تو پاکستان کے میزبانوں کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ افسوس اسکا ہے کہ اس وقت پرویز مشرف نے کارگل کی پہاڑیوں پر فوج اتار دی اور جب نواز شریف نے معلوم کیا کہ یہ کیا کردیا تو انہوں نے جھوٹ بولا کہ کشمیری مجاہدوں نے کارگل پر قبضہ کرلیا تھا ان کی حفاظت کے لئے فوج کی مدد بھیج دی تھی لیکن ان کی اس حرکت نے ہی بات کو بگاڑ دیا۔ اور اٹل جی اور نواز شریف پھر سنبھال لیتے لیکن اٹل جی کی دوبارہ حکومت نہ بن سکی لیکن وہ کشمیر کو ایک مسئلہ تسلیم کرگئے۔

کل دن بھر جو مذاکرات ہوئے ان سے یہ تو صاف ہوگیا کہ اٹل جی پوری طرح آر ایس ایس سے جڑے ہوئے تھے لیکن سیاسی طور پر وہ الگ فکر رکھتے تھے۔ انہوں نے جب حکومت بنائی تو ان لوگوں کو بھی وزارت میں شامل کیا جو آر ایس ایس کے نہیں تھے لیکن وہ اقلیت میں تھے اور اکثریت ان کی تھی جو سنگھ کے باہر کچھ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے زمانہ کے وزیروں کے خیالات بھی سننے کو ملے جنہوں نے کہا کہ 2002 ء کے بعد اٹل جی نے اڈوانی جی سے کہا تھا کہ نریندر مودی کو ہٹا دیا جائے انہوں نے راج دھرم نہیں نبھایا ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جتنے سنگھ کے لوگ تھے سب مخالف ہوگئے۔ اور 2014 ء کے بعد اندازہ ہوگیا کہ ان سے ہر اس بات کا انتقام لیا گیا جو انہوں نے آر ایس ایس کو نظر انداز کرکے کی تھی۔ ہم تو خود ٹانگ کے حادثہ کی وجہ سے معذور ہوگئے تھے لیکن وہ چند حضرات جو آخر آخر تک اٹل جی کو دیکھنے کے لئے جاتے رہے وہ بتاتے تھے کہ ویرانی کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں جس آدمی نے زندگی کے ساٹھ سال بھڑکتے ہوئے شعلہ کی طرح گذارے وہ بجھے ہوئے کوئلے کی طرح رکھ دیا گیا ہے اور وہ تمام لوگ جو موقع پرست تھے وہ اس سڑک سے بھی نہیں گذرتے۔

یہ حقیقت ہے کہ لقویٰ نے ان کا منھ بند کردیا تھا لیکن وہ زندہ تو تھے۔ اور جب ایک بجلی کی طرح چمکنے اور بادل کی طرح گرجنے والا لیڈر پلنگ پکڑلے تو چاہنے والوں کا جتنا رش ہوگا اس کے دل کو اتنا ہی سکون ملے گا۔ ان کی بیماری اور ان کی یادداشت ختم ہوجانے کو اتنی شہرت دی گئی کہ ان کی خیریت معلوم کرنے کے لئے جانے والے یہ سوچ کر نہیں گئے کہ وہاں کون پہچانے گا؟ ان سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں نے انہیں 14  برس تک خبروں سے دور دور رکھا۔ شاید وہ چاہتے تھے کہ جب ان کا آخری وقت آئے تو ہزار دو ہزار سرکاری اور غیرسرکاری لوگ ان کے آخری رسوم دیکھ لیں۔ ان کی جیسی شخصیت تھی اس کا حق تھا کہ جیسے ہی انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ملک اور قوم کو باخبر کیا جاتا لیکن سب نے دیکھا اور سنا کہ جب ان کی حالت بگڑی تب ٹی وی والوں نے مائک سنبھالے اور بار بار خبر کو اس انداز سے بیان کرنا شروع کیا جیسے جو ہونا تھا وہ ہوچکا سب ڈاکٹر باہر آگئے اب ان کے پاس گھر کے لوگ اور وزیراعظم اور ان کے ساتھی ہیں اور تفصیلات کہ کس وقت کیا اور کہاں ہوگا؟ بار بار ہر چینل نے دہرایا کہ وزیرعظم جب نکل کر چلے جائیں گے تو سرکاری اعلان کردیا جائے گا۔ اور ہم نے خود یکھا کہ مودی جی چلے گئے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر خبر کا انداز ایسا تھا جیسے اٹل جی آخری سانس تو لے چکے اب کسی مصلحت سے اعلان نہیں کیا جارہا ہے۔

اکثر بڑے لوگوں کے آخری وقت اور آخری سانس کے بارے میں ایسی خبریں آپ نے بھی سنی ہوں گی۔ مگر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اقتدار کی کرسی پر ہوں اور ان کی موت کے اعلان سے کسی شورش کا خطرہ ہو یا جانشینی کا تنازعہ ہو۔ اٹل جی 14  برس سے جس حال میں تھے ان کے انتقال کی خبر کو کیا چھپانا اور کیا بتانا؟ اور یہ بھی اپنے کانوں سے سنا کہ انتظام اس طرح کئے جارہے ہیں کہ شاید آخری رسوم میں شرکت کے لئے دس ہزار آدمی آجائیں پھر صبح کو یہ تعداد بیس ہزار ہوگئی اور ہزاروں یا 20  ہزار سے آگے نہیں بڑھنے دی جبکہ اخبارات لاکھوں چاہنے والوں کا سیلاب لکھ رہے ہیں اور ہر مسلک کے تھے جسے دیکھ کر ان کے منھ لٹک گئے جو دس ہزار سے زیادہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بہرحال یہ بحث کی بات نہیں کہ کتنے تھے بس یہ کافی ہے کہ بہت تھے۔

2004ء میں اٹل جی نے اعلان کردیا تھا کہ یہ میرا آخری الیکشن ہے اور انہوں نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کو آواز دی تھی اور ان سے کچھ وعدے کئے تھے۔ ہم جانتے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں جنہوں نے ان کی انگلی پکڑکر چلنا سیکھا تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے وہ سب کرتے جو ہم نے ان سے 1998 ء میں ان کے کمرہ میں بیٹھ کر کہا تھا۔ اور شاید اسی لئے ان لوگوں نے انہیں ہروا دیا جو آج مسلمانوں کا ہی نہیں سوامی اگنی ویش جیسے بزرگ اور محترم سنیاسی کا جینا بھی حرام کئے ہوئے ہیں۔ اگر اٹل جی کو اندازہ ہوتا اور وہ اس کا اشارہ بند بند الفاظ میں کردیتے تو شاید نقشہ دوسرا ہوتا۔ خیر ایمان کا تقاضہ ہے کہ جو ہوا اس کو پروردگار کا فیصلہ سمجھو اور جو خیر ہے اس کا انتظار کرو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close