سیاست

یومِ آزادی پر گائے کا مطالبہ: مجھے سیاست سے آزادی چاہئے!

نورمحمد خان

آزادی کے الفاظ زبان پرآتے ہی نہ جانے کس کس نکات پرذہن بازگشت کرتا ہے لیکن جب بات ملک کے آزادی کی آتی ہے تو جسم میں قوت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا محسوس ہوتاہے کہ کاش ہم بھی ملک کی آزادی میں شریک ہوتے ۔مگر جب آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ پرنظرپڑتی ہے تو ایسا لگتا ہےکہ جنگ آزادی کے مجاہدوں کی روحیں بھی ہندی سیاست سے شرمندگی کا سامنا کررہی ہونگی اوریہ سوچ رہی ہونگی کہ ہماری قربانی رائگاں چلی گئی!کیونکہ آزاد ہندوستان کے جو حالات ہیں اس سے ایسا نہیں لگتا ہے ہمیں غیر ملکیوں سے خطرہ ہے، بلکہ ملک کی یکجہتی وسالمیت پرسیاست سے خطرہ ہے جس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی ملک کی دیش بھکتی کے معنی ومفہوم بدل گئے۔ اندھی عقیدت نےانسانیت کو سولی پرچڑھا دیاجس سے ایک مرتبہ اورواضح ہوگیا کہ” سیات میں سب کچھ جائز ہے“یوں تو آزاد ہند کی سرزمین پرحکمرانوں نے ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی لیکن اکیسویں صدی کی ہندی سیاست نے بھی ظلم کے باب کی فہرست میں ایسی تاریخ رقم کی ہے جس کو اوّل مقام کادرجہ دینا غلط نہ ہوگا ۔

وطن عزیزدنیا کی تمام ممالک میں سب سے عظیم ملک ہے۔ جہاں پر تمام مکتب فکر کے لوگ مقیم ہیں جس کی وجہ سے گنگا جمنی تہذيب اور یکجہتی کاگہوار مانا جاتا ہے ۔بلکہ مورخین نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا کے خطاب سے بھی نوازا ہے چنانچہ اسی پس منظر میں برطانیہ نے” سونے کی چڑیا“تلاش کرنے کی غرض سے تجارت کے بہانے ملک میں قدم رکھا اورکم وبیش ڈیڑھ سوسال تک حکومت کی بلکہ عوام کو غلامی کی زنجیروں میں قید رکھا اور ملک کی ملکیت کو لوٹ کر برطانیہ کے خزانے میں محفوظ کردیا۔
1857کے بعد برطانوی حکومت کی درندگی ومظالم کے خلاف تحريک آزادی کاعلم بلندیوں کی جانب گامزن ہوا اوردیکھتے ہی دیکھتے عوام الناس میں انقلابیوں کا اژدہام امڈ پڑا ۔انگریزوں نے مجاہدین آزادی پر ظلم و ستم کی اس وقت حد کردی جب سور اورگائےکی چربی لگی ہوئی کارتوس سے ہندواور مسلمانوں پرداغ کر شہید ہی نہیں کیا بلکہ مذہبی تقدس کو پامال بھی کیا۔ 1925میں آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد ہندودھرم کی حفاظت کرنا اورملک کو ہندوراشٹر بنانا تھا !آر ایس ایس کے اس مقصد اورفی الحال مرکز ومختلف ریاستوں میں بی جے پی حکومت کے غیرملکی تعلقات شک کے دائرے میں ہے ۔ کیونکہ ہندوتو نےمذہبی تقدس(گائے) کے نام پراشتعال انگیزی کی شروعات  2014 لوک سبھاانتخابات کا بگل بجاکرکیاتھااوریہ بتانے کی کوشش کرنے لگی تھی کہ دلتوں اور مسلمانوں سے ہندوعقیدت سے وابستہ "گائے ” کی جان وتقدس دونوں خطرے میں ہے اس طرح گئورکشکوں نے دلتوں اور مسلمانوں کی اسقدر پٹائی کی کہ روح پرواز ہوگئی دوسری طرف ہماری مرکزکی” سب کا ساتھ سب کاوکاس”کادعویٰ کرنے والی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

کہتے ہیں کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے کی مصداق جہاں فرقہ پرست جماعتیں مذہبیت کا سہارا لے کراقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں وہیں سیکولر جماعتوں نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ فرقہ پرستوں نے 1934سے لیکر 6 دسمبر 1992 تک رام مندر کا سہارا لے کر سیاسی طاقت ہی حاصل نہیں کی بلکہ اقتدار پراپنا پرچم بھی لہرایا ٹھیک اسی طرح سیکولر جماعتوں نے بھی بابری مسجد اورمسلمانوں کے تحفظ کا مسئلہ اٹھا کر اقتدار کے مزے لئے۔ سیاست دانوں نے سبقت حاصل کرنے کے لئے 6دسمبر 1992کو بابری مسجد شہید نہیں کی گئی بلکہ کروادی گئیں ۔

دراصل ان دونوں جماعتوں پر اقتدار کی اندھی ہوس پروان چڑھ رہی تھیں ۔ نہ انھیں مندر سے عقیدت تھی اور نہ ہی مسجد سے !اقتدار کے لئے لاشوں کا کھیل کھیل رہے تھے۔ جس طرح سے آج کی تاریخ میں گائے اور مسلمان کا کھیل جاری ہے چنانچہ اس غلیظ سیات پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ 2013سے قبل گائے پر خطرہ نہیں تھا ؟حقیقتاً یہ ہے کہ جس قوم اور ملک (انگريز وں )نے ہندوستان پرقبضہ کر کے عوام کو غلامی کی زنجیروں میں قید رکھا اور انہیں لوگوں نے جنگ آزادی کے مجاہدوں پر سور اورگائے کی چربی لگی ہوئی کارتوس سے حملہ کیا آزادی کے بعد اسی ہندی سیاستدانوں نے مذہب عقیدت اور تقدس کو بالائے طاق رکھکر بیف سپلائی کا قرار نامہ تیار کیا آج کروڑوں روپیوں کابیف ہندوستان سے غیر ملکوں میں سپلائی ہوتا ہے !

اب اس پس منظر میں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ بیف ایکسپورٹ سے مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوتے ہیں ؟

دین اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو انسانیت کا درس دیتا ہے اس لئے اللہ تبارک وتعالی نےنبی کریمؐ کو محسن انسانیت کا خطاب دیا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ”کہہ دو اے کافرو نہ میں تمہارے معبودوں کو پوجتا ہوں نہ تم میرے معبود کو پوجتے ہو اور نہ میں تمہارے معبودوں کی پرشتش کرونگا نہ تم اس کی پرستش کروگے جس کی عبادت میں کررہا ہوں تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین ہے(سورہ :الکافرون)مذکورہ آیت کی روشنی میں ایک بات تو صاف ہوگئی کہ ہمارا دین ہمارے لئے ہے اور ان کا دین ان کے لئے ہے اس لئے دین اسلام میں اللہ کے علاوه کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے رہی بات ان کے دین کی تو آپ کسی کو بھی پوجو ہمیں دخل دینے کا اختیار نہیں ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان چرند پرند کیڑے مکوڑے تمام اقسام کی مخلوقات پیدا کیا انسان اور دیگر مخلوق کا ایک دوسرے سے رشتہ جوڑ دیا اللہ نے ساری مخلوق کو انسانوں کی خدمت اور اس کی ضرورت کیلئے بنایا یہ سب قدرت کا نظام ہے دوسری طرف جس طرح سے انسان موذی جانوروں سے پناہ مانگتا ہے ٹھیک اسی طرح جانور بھی انسانوں سے ڈرتا ہے تو ظاہر سی بات ہے جانوروں کو بھی اللہ نےعقل وشعور دیا ہے لیکن اکیسویں صدی میں انسان انسانیت کاقتل کرکےاشروف ہونے  کی دعویداری کرکے جانوروں سے بھی بدترین کردار پیش کررہا ہے۔

تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کی سیاسی گائے کو عقل وشعور نہیں ہے؟ جی ہاں آپ بالکل صحیح سوچ رہے ہیں بھارت کی سیاسی گائے سیاستدانوں سے پناه مانگ رہی ہے۔ اور بارگاہ الہٰی میں دعا مانگتے ہوئی فریاد کررہی ہے کہ یااللہ تو نے مجھے دودھ دینے والی جانور بنایا جس سے انسان سیراب ہوتا ہے اے خدا میں اتنی خوش نصیب ہوں کہ تیرانام لیکر مجھے ذبح کیا جاتا ہے میں اور دوسرے جانور کی طرح حرام موت نہیں مرتی ہوں ۔اے پروردگار میں نےایک زمانہ ایسا بھی دیکھا ہے جب بھگوان کے ٹھیکیداروں نے مجھے لقمہ بنایا اور شکم سیر ہونے کے بعد مجھے مذہبی عقیدت سے جوڑ کر کاروبار کے علاوہ منافرت پھیلانے کا ذریعہ بنالیا اے خدا تو نے مجھے دودھ دینےوالی جانور بنایا میرے دودھ کو سبھی مذہب کے لوگ استعمال کرتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مجھے حکومت غیرملکوں میں فروخت کرتی ہے جہاں مجھے ذبح کرکے پانچ ستارہ ہوٹلوں میں فروخت کیا جاتا ہےتب ان کی عقیدت کہاں چلی جاتی ہے کیا کوئی اپنی ماں کو فروخت کرسکتا ہے؟یارب العالمین جس طرح سے یہ  ملک آزاد ہوا ٹھیک اسی طرح مجھے بھی ہندی سیاست سے آزادی دے دے!

یوں تو آزادی کے 69برسوں میں ملک کی متعدد سیاسی پارٹیوں نے مرکز وریاست میں حکومت کی عوام کی فلاح و بہبود کے دعوے اور اعلانات بہت کئےمگر عوام کی فلاح وبہود کا نظام درست ہوتا توآج مندروں مساجدوں درگاہوں اور گرجاؤں کے علاوه چوراہوں اور گلیوں میں گداگروں کی لمبی قطار نظر نہیں آتی اگر خواتین کی فلاح عدل وانصاف کا نظم ونسق صحیح ہوتا تو بیئر بار شراب خانہ قحبہ خانہ و دیگر مقامات پر جسم فروشی کا کاروبار عروج پرنہیں ہوتا اگرملک میں روزگار کے ذرائع ہوتے تو جیلوں میں مجرموں کی لمبی تعداد موجود نہیں ہوتی؟بحرحال مذکورہ نکات میں ہندومسلم دلت جیسے قبیلے سے وابستہ افراد متاثر ہیں کیا بھارت کے دیش بھکتوں کو دکھائی نہیں دیتا؟ پندرہ اگست کو ملک میں جشن یومِ آزادی منایا جائیگا جہاں پرسیاست داں تنظیمیں وتمام مکتب فکر کے لوگ ملک کی تحریک آزادی پرروشنی ڈالینگے تمام سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پرالزامات لگائینگی لیکن کیا وطن عزیزمیں جاری منافرت کی لہر کو روکنے کی تحریک کااعلان ہوگا؟ آزادی سے قبل ہم ہندوستانی تھے آزادی کے بعد سیاستدانوں نے ہندواورمسلمان بنا دیا کیا یومِ آزادی پر ہندواور مسلمانوں کو ہندوستانی کادرجہ دیا جائیگا ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close