یونین کے قومی الیکشن میں بی جے پی کی ہار

حفیظ نعمانی

بعض کام چھوٹے، معمولی اور غیراہم ہوتے ہیں لیکن حالات انہیں بہت اہم بنا دیتے ہیں اور بعض بہت اہم ہونے کے باوجود بھی غیراہم ہی رہتے ہیں ۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں  یونین کے الیکشن ہمیشہ گڑیا گڈے کا کھیل سمجھے جاتے تھے۔ لکھنؤ یونیورسٹی کی یونین کے ابتدائی الیکشن خوب یاد ہیں شاید 1954 ء میں یونین کا الیکشن لڑانے والے ہمارے دوست تھے۔ ہم نے نیا نیا پریس لیا تھا کام کم ہونے کی وجہ سے فرصت بھی رہتی تھی اس لئے وقت کا کافی حصہ دوستی میں کٹ جاتا تھا۔ حیدر عباس، ابن حسن، عبدالمنان، شارب ردولوی، یہ سب رابن مترا کے ساتھ تھے۔ 1955 ء تک جب جب یونین کا الیکشن ہوا کسی نے پوسٹر نہیں لگایا تھا اس لئے کہ پوسٹر پیسے سے چھپتے تھے اور پیسے لڑکوں کے پاس کہاں ہوتے تھے؟ ہمارے پریس کی وجہ سے یہ فیصلہ ہوا کہ پوسٹر چھاپے جائیں ۔ چھپائی تو دوستی میں ہوجائے گی لیکن کاغذ کہاں سے آئے؟ سب نے طے کیا کہ ہر کوئی اپنے گھر سے پرانے انگریزی کے اخبار لے آئے نیشنل ہیرالڈ اور پائنیئر اور جب سب دوست لائے تو ہم نے چھپے ہوئے اخبار کے ایک صفحہ پر بہت موٹا موٹا لکھوا دیا۔ اور لال روشنائی سے چھاپ دیا۔

VOTE FOR PRESIDENT OF LUCNKNOW UNIVERSITY UNION

ROBIN MITRA             THANKS

لکھنؤ یونیورسٹی یونین کے الیکشن میں  یہ پہلا پوسٹر تھا جو ہر جگہ لگا اور اس کی بدولت ہی رابن مترا یونین کے صدر بنے۔ اس کے بعد تو پھر ایسا مقابلہ ہوا کہ ہم نے ہی ایک ایک اُمیدوار کے دس دس ہزار پوسٹر چھاپے اور ایک ایک لڑکے نے پچاس پچاس ہزار روپئے خرچ کئے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

لیکن یہ روایت دہلی یونیورسٹی سے شروع ہوئی کہ کانگریس کے حمایت یافتہ لڑکے جیتے تو اندراجی اور شیلا دکشت نے انہیں مبارکباد دی۔ اور اب تو نوبت یہ آگئی ہے کہ جیتنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو اگر وہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ہوں تو وزیر اعظم کی طرف سے سرکاری ملازمت کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ نہ جانے کیا بات ہے کہ دہلی میں ہی جواہر لال نہرو یونیورسٹی اس پر ہمیشہ بائیں بازو کا قبضہ رہا۔ تین سال پہلے جب مودی جی وزیر اعظم بن کر آئے تو اس دن سے انہیں نہرو یونیورسٹی کی فکر ہوئی اور وہاں اپنی ودیارتھی پریشد کے لڑکوں کو داخل کرایا اور وائس چانسلر بھی اسی ذہنیت کا مسلط کردیا۔ اور ان نااہل لڑکوں کو اکساکر جتنا ماحول خراب کیا جاسکتا تھا اتنا ماحول خراب کیا اس وقت کے یونین کے صدر کنہیا اور اس کے دست راست کشمیر کے عمرخالد کو ایسا نشانہ بنایا جیسے یہ ملک کو دوبارہ تقسیم کرانا چاہتے ہیں ۔ پولیس نے سنگھی ذہنیت کے وکیلوں اور ماتحت عدالتوں نے اس ذہنت کا مظاہرہ کیا کہ انصاف اور آبرو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔

اس سال کا الیکشن بی جے پی نے نہیں بلکہ حکومت نے لڑا جان توڑ کوشش اسکی کی کہ کوئی جیتے بایاں محاذ نہ جیتے مودی جی جہاں کہیں بھی ہارے ہیں اس کے خنجر کی چبھن آج بھی محسوس کررہے ہیں لیکن کیرالہ جہاں کمیونسٹوں کی حکومت ہے اس نے راتوں کی نیند اُڑادی ہے۔ وہ ملک کی اکیلی ریاست ہے جہاں ہر دن لاشوں کا حساب ہوتا ہے اور برابر رہتا ہے۔ ایک کامریڈ مارا جاتا ہے تو جواب میں ایک آر ایس ایس کا مار دیا جاتا ہے۔ بی جے پی نے انہیں ہندو بنانے کی ہر ممکن کوشش کرلی لیکن وہ ہندو ہوتے ہوئے کمیونسٹ ہیں اور بی جے پی کا اسمبلی میں صرف ایک ممبر ہے ایسی حالت میں کیسے برداشت کرلیں کہ جے این یو دہلی میں ہے اور اس میں حکومت کمیونسٹوں کی ہے؟

وزیر اعظم کیلئے یہ بھی ایک خنجر ہے کہ جس ہریانہ میں ان کی حکومت ہے وہاں کی گیتا جواہر لال نہرو یونین کی صدر بن گئی ہے۔ اور اس نے صدر بننے کے بعد کہا کہ اس کے اہم کاموں میں مودی حکومت کے جھوٹ کو نوجوانوں میں بے نقاب کرنا اور 2019 ء کے الیکشن سے پہلے ملک کے سامنے سچی تصویر پیش کرنا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ملک آج جیسے بدترین دَور سے گذر رہا ہے ایسا دَور اس نے کبھی نہیں دیکھا۔ مودی جی نے صرف اُترپردیش میں اپنی حکومت کے لئے نوٹ بندی کا خطرناک کھیل کھیلا جس نے ملک کو توڑ کر رکھ دیا۔ ان کے اوپر جنہوں نے ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ الیکشن جیتنے کا الزام لگایا وہ بھی اسی لئے کہ وہ جیتنے کے لئے ہر کام کرسکتے ہیں یہاں تک کہ ملک کو تباہ بھی کرسکتے ہیں ۔ انہیں معلوم تھا کہ کالا دھن کوئی مسئلہ نہیں ہے اور دنیا کے جن ملکوں میں جن لوگوں نے رکھا ہے ان کا لانا ناممکن ہے۔ لیکن انہیں  ایک بار بھی یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ میں 100  دن میں منگوا لوں گا۔ انہوں نے صرف مخالف پارٹیوں کو مالی اعتبار سے دیوالیہ کرنے کے لئے نوٹ بندی کا ڈرامہ کھیلا۔ اور وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے لال قلعہ سے جھوٹ بولا کہ ڈھائی لاکھ کروڑ ایسا روپیہ ہے جس کی چھان بین کی جائے گی۔ اور ریزرو بینک کے گورنر نے کہہ دیا کہ 99  فیصد روپیہ واپس آگیا۔ اور وہ ایک فیصدی جو رہ گیا ہے وہ صرف اس اُن کا رہ گیا جو تبدیل نہیں کرپائے اور جن کے لئے سپریم کورٹ نے درد بھرے انداز میں بھی کہا کہ ایک موقع اور دینا چاہئے لیکن مودی جی نے اس لئے نہیں دیا کہ 100  فیصدی واپس آجاتا اور ان کی زبان بند ہوجاتی۔

یہ خوشی کی بات ہے کہ ملک کے نوجوانوں میں یہ شعور پیدا ہورہا ہے کہ وہ ملک کی فکر کریں معروف اسٹوڈنٹ لیڈر شہلا رشید نے نئی صدر کو مبارکباد دی ہے اور اس پر فکر ظاہر کی ہے کہ جے این یو میں ودیارتھی پریشد دوسرے نمبر کی پارٹی بن گئی۔ ابتدا سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بی جے پی تو کیا کانگریس کو بھی نہیں گھسنے دیا گیا یہ ہمیشہ سے ترقی پسند لڑکوں کا مرکز رہی ہے۔ اور اس دانش گاہ سے نکلنے والوں نے ملک کو نئی راہ دکھائی ہے۔ ودیارتھی پریشد کی رگوں میں سرخ نہیں زعفرانی خون ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ جے این یو میں اپنی جگہ بنانے میں حکومت کی ہر ممکن کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہوئی لیکن جو دانش اور علم کے لئے آئے ہیں ان لڑکوں کو ماحول کی طرف سے مستقبل خطرہ میں نظر آرہا ہے۔ کیونکہ مودی جی گرام پنچایت میں بھی اسی کو پنچ دیکھنا چاہتے ہیں جو مودی مودی بولے اور اس کے لئے وہ ہمیشہ اور ہر جگہ سب کچھ کرنے پر تیار رہتے ہیں ۔



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے