سیاست

یوپی انتخاب :کیا کہتے ہیں نتائج؟

راحت علی صدیقی قـاسمی

ہندوستان کی عظیم ریاست اترپردیش میں انتخابی نتائج کا اعلان ہوچکا ہے ۔20کروڑ افراد کا مسکن زعفرانی ہوگیا ، بی جے پی صوبہ میں عوام کا بھروسہ جیتنے میں کامیاب ہوئی اور 37سالوں بعد 300سے زائد سیٹیں حاصل کرکے اس نے عظیم فتح کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا ،تمام مبصرین، تجزیہ نگار کے اندازے اور اندیشے ظاہر کرنے والے ابھی حالت استعجاب سے مقابلہ آرا ہیں ،ابھی ان کا ذہن و دماغ اس نتیجہ کو قبول نہیں کر پارہا ہے ،مختلف قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ،صورت حال ہی کچھ ایسی ہے ،مد مقابل ہی نہیں بی جے پی کی بھی خواہش اور امید سے کہیں زیادہ بڑھ کر نتائج سامنے آئے ہیں ۔

325سیٹیں اپنے نام کرکے بی جے پی نے مخالف جماعتوں کو نہ صرف دھول چٹائی بلکہ کچھ سیاسی جماعتوں کے مستقبل پر تاریکی کے پردے تان دئے ، ممکن ہے آنے والے انتخاب میں وہ سیاسی جماعتیں تاریخ کا حصہ اور نشان عبرت بن کر رہ جائیں ، اسی طرح بہوجن سماج پارٹی بھی ریت کے محل کی طرح زمیں بوس ہوگئی اور ان کا 127مسلمانوں کو انتخاب میں اتارنے کا جوا بخاری اور رشادی کی حمایت مسلمانوں کو متاثر کرنے کی کوشش، تمام تدابیر پوری طرح ناکام ثابت ہوئیں ،وہیں اس انتخاب کی خاص بات یہ رہی کہ مایاوتی کے دامن میں دلتوں نے بھی ووٹ کی بھیک نہیں ڈالی ۔

روہت وومیلا معاملہ اور 2014 اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی حمایت کے بعد دلتوں نے مایاوتی پر اعتبار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نتیجہ اب وہ راجیہ سبھا میں بیٹھنے لائق بھی نہیں رہی ۔ کیشو پرساد موریہ یا منوج پرساد سنہا وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہوئے تو چند دلت گھرانے جو اب تک مایاوتی پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں وہ بھی اُڑن چھو ہو جائیں گے اور مایاوتی کا حال چھوٹے چودہری جیسا ہو جائے گا ،جو ایک زمانے میں پر وقار اوربلند حیثیت کے مالک ہوا کرتے تھے ، حکومت میں شرکت کے دعوے کیا کرتے تھے ،ایک خاص طبقہ اور علاقہ پر ان کی مضبوط پکڑ ہوتی تھی ،مگر آج کھاتا کھولنا بھی ان کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے اور ان کے بہت سے امیدوار تو عزت و ناموس کی بھی حفاظت نہیں کرپاتے ،ان کی ضمانتیں ضبط ہو جاتی ہیں ،حتی کہ اسمبلی انتخاب میں وہ اپنی سیٹ بھی نہیں بچاپائے تھے اور اس انتخاب میں انہوں نے جاٹوں کے متحد ہونے کا دعویٰ کیا ، ریزیرویشن معاملہ کو جاٹوں کی بی جے پی سے ناراضگی کی وجہ گرادانا، ہم کھلی آنکھوں مشاہدہ کرچکے، ان کا یہ دعویٰ بھی دیوانے کی بڑ ثابت ہوا ، وہ صرف ایک ہی سیٹ بچا پائے اور عام طور پر ان کے امیدوار مقابلہ کرتے نظر نہیں آئے۔

یوپی کے ’’یوراج‘‘کی خوش فہمیاں بھی حقائق میں تبدیل نہ ہوسکیں ،صرف 55نشستیں ہی ان کو نصیب ہوئیں ،کانگریس کا ہاتھ بھی گرتی سائیکل کو روکنے میں معاون اور مددگار ثابت نہیں ہوا ،ایک زمانے میں ہندوستان کی سیاست میں نمایاں مقام رکھنے والی کانگریس پارٹی پوری طرح بے اثر ثابت ہوئی اور راہل پھر مضحکہ خیز عنوان بن کر رہ گئے ۔بزرگوں کی روایت اور ان کے نقش قدم پر چلنا راہل کے بس کا روگ نہیں ہے ،کانگریس کی بدنصیبی ہے  نہرو اور اندرا گاندھی جیسے رہبر دوبارہ ان کو نصیب نہیں ہو سکے ،جس کے نتائج سب دیکھ رہے ہیں اور سماجوادی کے ساتھ مل کر زمین بنانے کا ان کا خواب بھی بے تعبیر رہا ،اکھلیش یادو کے لئے یقینا یہ انتخاب سبق کا درجہ رکھتا ہے اور احساس دلاتا ہے حقائق سے آنکھیں موندنے والے،خوش فہمیوں میں مبتلا رہنے والے ،خود اعتمادی سے چور رہنے والے ، انتخابی معرکہ سر نہیں کرتے ،اس کے لئے ٹھوس حکمت عملی ،محنت جد و جہد اور اپنی تدابیر کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے ،جس میں یقینی طور سے وہ ناکام رہے ہیں اور انتخاب کا منظرنامہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ابھی سیاست میں نو آموز ہیں ، ابھی انہیں بہت سے اسباق پڑھنا اور بہت سے مراحل سے گذرنا باقی ہے ،تب جاکر وہ ایک مکمل رہبر اور ماہر سیاست داں ثابت ہوسکتے ہیں ۔

اس نتیجہ نے انہیں یقینا کئی سبق پڑھائے ہوں گے ،جس طبقہ کے ساتھ انہوں نے نرمی کا رویہ اختیار کیا ،مظفرنگر میں انہیں پنچایت کرنے کا موقع فراہم کیا ،خون کی ہولی کھیلنے کے لئے زمین ہموار کی اور دادری میں ایک قاتل کو ترنگے میں لپیٹ کر دفن کرنے کا اعزاز بخشا ،اسی طبقہ نے ٹھکرا دیا ،انہیں مسلم پرست ،مسلمانوں کا لیڈر ،شدت پسند مذہب کی سیاست کرنے والا رہنما قرار دیا اور کچھ اس طرح کے جملے بھی سماعتوں سے ٹکرائے ہیں ،کہ ’’اکھلیش ہی تو تقسیم کی سیاست کرتے ہیں ،ملا مرے تو پندرہ لاکھ دیتے ہیں اور ہندو مرے تو مقدمہ ٹھوک دیتے ہیں ‘‘اس طرح کے جملے ان کی کوتاہی کی کہانی بیان کرتے ہیں ،اس طرز عمل اور طریقۂ کار سے اگر چہ وہ مسلمانوں کو متحد کرنے میں تو کامیاب رہے اور 19نشستیں انہیں دستیاب ہوئیں اور بہت سے لیڈران دوسرے نمبر پر رہے ،بہت سے گذشتہ سال جتنا ووٹوں پر فتح حاصل کرچکے تھے ،اس سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد بھی شکست وہزیمت سے نہیں بچ سکے ،جیسے کھتولی سیٹ گزشتہ برس 46500پر فتح کی گئی تھی اور اس سال 60ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے کے بعد بھی سماجوادی امیدوار 31ہزار ووٹوں سے شکست سے دوچار ہوئی ،بہت سی سیٹیں اس طرح کی کہانی بیان کرتی ہیں ، انتظامیہ کی سستی نے اکھلیش کے خلاف ہندو ووٹوں کو متحد کیا اور انہوں بی جے پی کو جتانے میں ایڑی چوٹی کازور لگا دیا ،نتیجہ سامنے ہے۔ تمام سیٹوں پر مسلمانوں نے زیادہ اکھلیش ہی پر اعتماد کیا ،اگر ایسا نہ ہوتا تو بہوجن سماج پارٹی کی حالت کچھ بہتر ہوتی اور سماجوادی تاریکی اور گمنامی کے گہرے سمندر میں غرق ہوجاتی ۔

بہرحال یہ انتخاب جہاں اکھلیش کے لئے عبرت کا سامان ہے ،وہیں قوم مسلم کے لئے سبق آموز ہے، ایک جماعت کو فتح یاب کرنے کے لئے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ،ہر ممکن کوشش کی ،زور شور، نعرے دعوے سب ہوئے ،مگر وہ ناکام ثابت رہے اور اسمبلی انتخاب کی طرح بی جے پی یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ ہم مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر جیت کا پرچم لہرا سکتے ہیں ،یہ بہت ہی نازک پہلو ہے ،ایک طرف تو ہم کنگ میکر کہلاتے تھے اور دوسری طرف یہ صورت حال جو یقینا ملک میں ہمارے وقار کو ٹھیس پہنچانے والی ہے اور مسلم قیادت کی وفات کا اعلان ہے ۔اس سلسلہ مسلم رہنماؤں کو خاص طور غور و فکر کرنے اور لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے ،ہمیں کس طرح اپنا وقار بحال رکھنا ہے ،کس طرح اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنی ہے ،کس طرح خود کو ملکی سیاست میں شامل رکھنا ہے ،ان پہلووں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ،جمہوریت میں جو قوم سیاسی دیوالیہ پن کا شکار ہوتی ہے ،وہ بے وقعت اور بے آبرو ہو جاتی ہے ،اس کے حقوق پامال ہوتے ہیں ،اس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا روا خیال کیا جاتا ہے ،اس کی حیثیت و وقعت غلام سے بڑھ کر نہیں رہ جاتی ،وہ چاہ کر بھی اپنی آرزؤں اور خواہشوں کو پایۂ تکیل تک نہیں پہنچا پاتے ،اس حقیقت کو خیال میں رکھتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور ہمارے قائدین کو بھی ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ،کبھی وہ ہاتھ کا ساتھ دیتے ہیں ،کبھی سائیکل کی سواری کرتے ہیں ،کبھی ہاتھی بھی ان کا مرکز نگاہ ہوتا ہے ،کبھی وہ پیس پارٹی کا غبارہ اڑاتے ہیں ،کبھی وہ کمل کی خوبصورتی پر فریفتہ ہوجاتے ہیں ،حد تو یہ ہے بعض قائدین نے نل بھی کھینچا ہے ۔

ایسا لگتا ہے جیسے بن پیندی کے لوٹے یا مطلب کے بندے ہیں ،جس قوم کے سیاسی قائدین اس حال میں ہوں گے اس کے مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے اور دوسرا پہلو یہ بھی ہے ،آزادی کے 70َسال گذرنے کے بعد بھی ہمارے پاس کوئی معتبر قائد نہیں ہے ۔اس انتخاب نے ہمیں ہوش مند بننے کے لئے مجبور کردیا ہے ،اب بھی کوئی تدبیر نہیں کی گئی تو ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا؟سوچیے اور حل تلاش کیجیے،ماتم اور غم کرنے کا وقت گذر چکا،اب جوش و ہمت کے ساتھ تدبیر کیجئے ،ابھرنے سے ڈوبنا ضروری ،بیج مٹی کے سینے میں دفن ہوتا ہے ،اس کے بعد ہی اسے سرسبزوشادابی نصیب ہوتی ہے اور کائنات میں اس کی خوبیاں ظاہر ہوتی ہیں ،اس لئے ہمت اور حوصلہ ہارنے کی توضروت نہیں ،مگر ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھنا بھی وقت کی پکار نہیں ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close