سیاست

یوپی میں سانڈوں کے ذریعہ انکاؤنٹر

حفیظ نعمانی

پرسوں سے دو منظر اس طرح آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود پردے سے نہیں ہٹتے۔ ایک منظر یہ ہے کہ آسمان پر ہیلی کاپٹر چیلوں کی طرح اُڑتے ہوئے آکر پریاگ راج پر اُتر رہے ہیں اور ان میں سے وہ مہاپرُش اُتر رہے ہیں جنہیں وزیر کہا جاتا ہے۔ اس پریاگ راج کی سڑکوں پر ایک سے ایک قیمتی کار آرہی ہے جس کے لئے ہر سڑک کو ان کے لئے خاص کردیا ہے۔ اور پھر سب گنگا ماں کی گود میں آکر اپنے پاپ دھوتے ہیں اور ڈبکی لگاکر پھر اس کرسی پر جاکر بیٹھ جاتے ہیں جو کابینہ کی میٹنگ میں ان کے لئے بچھائی گئی ہے۔ اور بہت سے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ پریاگ راج سے میرٹھ تک 650  کلومیٹر لمبی شاہراہ بنائی جائے گی جو لکھنؤ آگرہ کو مات دے دے گی۔

دوسرا منظر اسی میرٹھ سے ملے ہوئے شاملی کا ہے کہ ہزاروں کسان اپنی حیثیت کے کپڑے پہنے بیٹھے ہیں اور باری باری تقریر کرنے والے آتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ اردھ کمبھ کے موقع پر جس وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شردھالوئوں کے لئے ہر ضرورت کی چیز کا انتظام ایسا کیا جیسا آج سے پہلے کہیں اور کبھی نہ ہوا ہو اور غیرضروری بلکہ فضول چیزوں پر بھی ہزاروں کروڑ سرکاری خزانہ سے لے کر لٹادیئے ہوں اسی نے حلف لینے کے بعد اعلان کیا تھا کہ گذشتہ سال کا گنے کا بقایا 15  دن کے اندر کسانوں کو دے دیا جائے گا اور اسی سال کا سارا روپیہ ہاتھ کے ہاتھ دیا جائے گا۔ لیکن شاملی مل کے مارے ہوئے کسان کہہ رہے ہیں کہ اس سال کا تو سوال کیا پچھلے سال کا روپیہ بھی ابھی نہیں ملا جس کی وجہ سے بیمار کا علاج نہیں ہوپارہا، جن کی شادی طے کردی ہے وہ شادی نہیں ہوپارہی اور جو بچے مہنگے اسکولوں کالجوں میں پڑھ رہے ہیں یا بورڈنگ میں رہتے ہیں ان کو نکال کر باہر کھڑا کردیا ہے۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے اس کا جواب صرف یوگی آدتیہ ناتھ ہی دے سکتے ہیں؟ 40  سال پہلے کی بات ہے کہ مغربی اضلاع میں ہر گائوں میں کریشر لگے ہوئے تھے جن کو چھوٹا شوگرمل کہا جاسکتا ہے۔ ہم مودی سرکار کو الزام نہیں دیں گے بلکہ اس زمانہ میں جو بھی حکومت تھی اسے یہ برداشت نہیں ہوپارہا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی خوشحال بنے۔ حکومت نے یہ کہہ کر ان کو بند کرنے کا فیصلہ کیا کہ گنے کا پورا رس نہیں نکل پاتا اس لئے ہر جگہ شوگرمل لگائے جائیں گے اور یہ بھی پروپیگنڈہ کیا کہ کسان کو جو ملتا ہے شوگرمل میں اسے ڈیڑھ گنا ملے گا۔

حکومت نے کچھ مل سرکاری اور کچھ غیرسرکاری دولت مندوں کو لگوا دیئے اور سارے مغربی یوپی ہریانہ اور پنجاب پر قبضہ کرلیا۔ اب جو ہورہا ہے وہ سامنے ہے کہ ایکھ بونے والے جن کا مقولہ تھا اور اس وقت تھا جب پرائیویٹ کریشر چل رہے تھے اور گنے کی قیمت ایسے نقد ملتی تھی جیسے چاندی سونے کی ملتی ہے کہ ہم گنا اُگانے والوں کا کیا ہے؟ اگر فصل اچھی ہوگئی کوئی آفت قدرت کی طرف سے نہیں آئی تو گنا لے کر گئے اور کریشر والوں سے پیسے لے کر سارے نوٹ اوپر کی جیب میں اور کرتے کی نیچے کی دونوں جیبوں میں ایک ایک بوتل شراب کی رکھی اور گاتے ہوئے چلے آئے کہ

بلائیں زلف جاناں کی اگر لیں گے تو ہم لیں گے

اور اگر پالے نے فصل ماردی یا آسمان سے اولے برس گئے تو گھر بیٹھے بیٹھے گاتے رہتے ہیں۔

میرے مولا بلالو مدینہ مجھے

میرے مولا بلالو مدینہ مجھے

اس وقت وزیراعظم ہوں یا حزب مخالف کے لیڈر یا صوبوں کے وزیراعلیٰ ہر کسی کی زبان پر کسان ہے اور ہر جگہ کسان کی بہتری کے منصوبے بن رہے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی زور سے کسانوں کے لئے ہر طرح کی مدد دینے کا وعدہ کیا جارہا ہے اتنی ہی زور سے کسان گنے کے پیسے مانگ رہا ہے جو دو سال سے نہیں مل رہے۔ اور اس سے بھی زیادہ زور سے فیروز آباد اور مین پوری ضلع میں دو گائوں میں اس لئے کہرام مچا ہوا ہے کہ دو کاشتکاروں کو جن میں سے ایک آوارہ جانوروں سے کھیت کی حفاظت کررہا تھا اور دوسرا کھیت کو پانی دے رہا تھا۔ دونوں نے جب کھیت سے یوگی آدتیہ ناتھ کی گایوں اور سانڈوں کو بھگانا چاہا تو سانڈوں اور بیلوں نے پٹخ پٹخ کر دونوں کو مار دیا۔

ہمیں نہیں معلوم کہ یوگی جی کو آواز آرہی ہے یا نہیں اور وہ جو انہوں نے دس جنوری کی تاریخ طے کی تھی کہ سارے جانور پناہ گاہوں میں بند کردیئے جائیں گے۔ اور یہ حکم ڈی ایم اور ایس ایس پی کو دیا تھا اب وہ غریب ملک کے ان غریبوں کی موت کا معاوضہ پچاس پچاس لاکھ دیں گے یا نہیں؟ یا صرف پورے ملک سے اپنے انتظامات اور چالیس ہزار روپئے روز کے کمرے بنوانے پر مبارکبادیاں بٹورتے رہیں گے؟ 2017 ء میں مودی جی نے رو روکر کہا تھا کہ اترپردیش میں 15  برس سے بی جے پی کی حکومت نہیں ہے اور ریاست تباہ ہورہی ہے۔ اور آج بی جے پی کے ڈھولچیوں کے علاوہ ہر سیاست داں اور پترکار کہہ رہا ہے کہ 1947 ء سے آج تک اتنی ناکارہ حکومت نہیں بنی جس کا وزیر اعلیٰ گولی کا جواب گولی سے دیتا ہوا آیا اور آوارہ جانوروں سے انسانوں کو مروا رہا ہے، بھگوا غنڈوں سے پولیس والوں کو قتل کرا رہا ہے اور خود صرف دھرم کرم میں مصروف رہتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close