سیاستہندوستان

یوپی میں یوگی راج اور مسلمان

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیراعلیٰ بنایا جانا یوپی کے انتخابی نتائج کی طرح غیر متوقع ہے۔ چنائو کا ریزلٹ آنے کے بعد وزیراعلیٰ کے لئے جن ناموں کی بات ہورہی تھی ان میں یوگی آدتیہ ناتھ کا نام شامل نہیں تھا۔ وہ بھاجپا کے فائر برانڈ نیتا ہیں ۔ ان کے کئی بیان چنائو سے پہلے اور چنائو کے دوران بحث کا موضوع بنے۔ ان کی سرپرستی والی تنظیم ہندویوا واہنی شمال مشرقی یوپی میں کافی سرگرم اور اپنے کاموں کی وجہ سے سوالوں کے گھیرے میں رہی ہے۔ لوجہاد، گھرواپسی اور ہندوئوں کے نقل مکانی جیسے متنازعہ مدوں سے بھی ان کا نام جڑا رہا۔ یوپی میں بی جے پی کو زیادہ سیٹیں ملنے کی خبر کے بعد ہی بلند شہر کے گائوں میں مسجد کی مینار پر بھاجپا کا جھنڈا لگانے اور بریلی کے گائوں میں مسلمانوں کو گائوں چھوڑنے کے پوسٹر لگانے کے واقعات سامنے آئے۔ ایسے میں یوگی کے وزیر اعلیٰ بننے پر عوام میں شک وشبہ پیدا ہونا فطری ہے۔

یوپی کے وزیراعلیٰ کی ابتدائی گفتگو میں یوگی آدتیہ ناتھ کانام نہیں تھا۔ منوج سنہا، راج ناتھ سنگھ، کیشو پرساد موریہ اور دنیش شرما کے نام چل رہے تھے۔ منوج سنہاکا بیان آیا کہ نہ تو وہ کسی ریس میں ہیں اورنہ ہی ان کا کوئی دعویٰ ہے۔جبکہ یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیراعلیٰ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وزیراعلیٰ بننے کیلئے سماجی، معاشی اور ثقافتی سمجھ ہونا ضروری ہے اور وہ ہر شہری کی حفاظت کے ساتھ صوبے کا وکاس کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ انہوں نے یہ تمام خصوصیات اپنے اندر ہونے کی بات قبولی تھی۔ واضح رہے کہ سنگھ بھارت میں رہنے والے سبھی لوگوں کو ثقافتی طورپر ہندو مانتا ہے اور ہندوتوا کو مذہب کے بجائے ایک تہذیب یا وچار دھارا کا نام دیتا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے جن تین خصوصیات کی بات کہی اس میں سنگھ کے نظریہ سے واقفیت کی طرف ہی اشارہ ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق شمال مشرقی یوپی کی سیٹیں جتانے میں یوگی آدتیہ ناتھ کا رول اہم رہا ہے۔ کئی لوگ یوپی میں بھاجپا کی جیت کو ہندوتو کی جیت اور یوگی کو اس کے چہرے کے طورپر دیکھ رہے ہیں ۔ ہوسکتا ہے فرقہ وارانہ اپیل نے رائے دہندگان پر کچھ اثر کیا ہو لیکن اسے جیت کی اصل وجہ بتانا ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا ہوتا تو بابری مسجد کی شہادت کے بعد عوام بی جے پی کے ہاتھوں میں اقتدار سونپتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے بعد جن ریاستوں میں بھی چنائو ہوئے وہاں بی جے پی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔1993میں مدھیہ پردیش میں دگوجے سنگھ کی قیادت میں کانگریس کی سرکار بنی تھی۔ دراصل یوپی کے ووٹروں نے بدعنوان علاقائی پارٹیوں کو شکست دی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں یہاں جاتی واد کی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ قانون وانتظام نام کی کوئی چیز ہی نہیں بچی تھی۔ سماجوادی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور پارشدوں کی مرضی کے بغیر نہ تھانیدار کی تقرری ہوتی تھی اورنہ ان سے پوچھے بنا تھانے میں ایف آئی آر لکھی جاتی تھی۔ سپا سرکار میں اقتدار یادوں کے ہاتھ میں تھا۔اکھلیش یادو نے آخری زمانے میں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ خاندانی جھگڑے نے حالات کو اور خراب کیا۔ رہا مایاوتی کا سوال تو انہوں نے اپنے دور اقتدار میں دلتوں اور پچھڑوں کے بنیادی مسائل پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ پہلے برہمنوں کو سادھنے میں ان کی اندیکھی ہوئی اور اس بار مسلمانوں کا راگ الاپ کر انہوں نے اپنے ووٹ کھودیئے۔ اسی کا دونوں کوخمیازہ بھگتنا پڑا۔ یوپی کے ووٹروں نے مرکزی حکومت کے ذریعہ نوٹ بندی سے ہوئی تکلیف کے باوجود بھاجپا سے امید لگائی کہ شاید اس سے کچھ حاصل ہو جائے۔ مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست اورآر ایس ایس کے پرچارک رہے گریش جویال کے مطابق مسلمان،نوجوانوں اور خواتین نے بھاجپا کا ساتھ دیا۔ خاص طورپر مسلم خواتین نے تین طلاق، حلالہ کے خلاف بڑی تعداد میں بھاجپا کوووٹ دیئے۔ چالیس سے زیادہ سیٹیں ایسی ہیں جو بھاجپا ان ووٹوں کے بغیر نہیں جیت سکتی تھی۔

 بھاجپا نے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیراعلیٰ بناکر ایک ساتھ کئی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف اسے 2019 کے عام انتخابات کی تیاری کے طورپر دیکھا جارہا ہے،تو دوسری طرف یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بی جے پی آئندہ ’ہندوپدپاد شاہی‘ کے اصول کو بڑھاوا دے گی۔یعنی اگلا الیکشن کس بنیاد پر لڑا جائے گا یہ اشارہ دیاگیا ہے۔ اسی طرح کا ایک پیغام یوپی میں بھاجپا نے کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہ دے کر دیا تھا۔ یوگی جی کے نام کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بھاجپا ذات اور مذہب کی سیاست ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ سب کی سرکار ہوگی اور سب کے وکاس کیلئے کام کرے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ذاتوں میں بٹی آبادی مذہب کی بنیاد پر اکثریت بن جائے۔ اسی کے پیش نظر بی جے پی نے پسماندہ اور انتہائی پسماندہ کے درمیان سوشل انجینئرنگ کی تھی، یا یہ کہا جائے کہ غیر یادوپچھڑوں اور دلتوں کو اپنے ساتھ جوڑاتھا۔ انہیں کے نمائندے کے طورپر کیشوپرساد موریہ کو صوبائی پارٹی کی کمان سونپی گئی تھی۔ منتری منڈل میں بھی یہ سوشل انجینئرنگ صاف طورپر دیکھی جاسکتی ہے۔سب سے زیادہ 17 وزیر پسماندہ طبقہ سے بنائے گئے ہیں ۔ 7ٹھاکر7 برہمن،6دلت،3 یادو،3کھتری پنجابی اور ایک مسلمان کو بھی وزیر بنایا گیا ہے۔ سماج کے سبھی طبقوں کو وزارت میں جگہ دینے کی کوشش کی گئی ہے یہاں تک کہ دو سکھ بھی اس میں شامل ہیں ۔

وزیراعظم نریندرمودی نے پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد یوپی،اتراکھنڈ میں ملی تاریخی کامیابی کیلئے پارٹی کارکنوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں کہا تھا کہ سرکار بہومت سے بنتی ہے لیکن چلتی سرومت سے ہے۔ پیڑ پر جب پھل لگتے ہیں تو وہ جھک جاتا ہے۔ ہمیں نرم ہونا ہوگا، لوگوں کے ساتھ اور نرمی سے پیش آنا ہوگا۔ یہ سب کی سرکار ہوگی ان کی جنہوں نے ووٹ دیا اور ان کی بھی جنہوں نے ووٹ نہیں دیا۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کا دم بھرنے والے مودی جی نے اسکل انڈیا پروگرام کے تحت استاد، شاگرد کی روایت کوآگے بڑھانے اور ہنر کو پہنچان دلانے جیسی اسکیمیں شروع کیں ۔ لیکن انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کو یوپی کا وزیراعلیٰ بناکر سب کو چونکا دیا۔ کیونکہ ان کی شبیہ ایک فرقہ وارانہ لیڈر کی رہی ہے۔ اس لئے بھاجپا کے اس فیصلے کو کئی پولرائزیشن کی ابتدا تو کئی ہندوکارڈ بتا رہے ہیں ۔ سماجی سائنس داں یوگی کے کڑوے بول اور متنازعہ بیانوں کو لے کر فکر مند ہیں کہ کیا ان کی یہ باتیں الیکشن جیتنے کیلئے تھیں ؟ کیا وہ اپنی وچار دھارا بدلیں گے؟ کیا وہ ریاست کے ذمہ دار کی حیثیت سے یوپی کی 20 کروڑ آبادی جس میں 19.31 فیصد مسلمان ہیں ان کا بھروسہ جیتنے کی کوشش کریں گے؟ یہاں کے آدھے سے زیادہ اضلاع فرقہ وارانہ طورپر حساس مانے جاتے ہیں ۔ کیا وہ ریاست میں شانتی قائم رکھ سکیں گے؟ رام جنم بھومی بھی اسی ریاست کا حصہ ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ رام کے بنا راشٹر کوادھورا مانتے ہیں ۔ان کے مقاصد میں مندر کی تعمیر شامل ہے۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمے کو آپسی بات چیت سے حل کرنے کی بات کہہ کر اس مسئلہ کو ایک بار پھر موضوع گفتگو بنادیا ہے۔ اس مسئلہ سے وہ کس طرح نمٹیں گے؟۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیراعلیٰ کی حلف برداری کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں کہاتھا کہ ان کی سرکار کا ایجنڈہ صرف وکاس ہے۔ وہ بنا بھید بھائو کے کام کریں گے، قانون انتظامیہ ٹھیک ہوگی اور خواتین کو بااختیار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یوپی سرکار نریندرمودی ٹیم کی امیدوں پر پوری اترے گی۔ اسی کے ساتھ ان کے غریب پروری اور مسلمانوں کے ساتھ اچھے مراسم کے قصے  بھی سامنے آئے ہیں ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ یوگی راج کیسا رہے گا؟ زیادہ تر مسلم تنظیموں اور دانشوروں نے تشویش کا اظہار کیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ نئی سرکار آئین کے مطابق کام کرے گی۔ مسلم مجلس مشاورت کے صدر نویدحامد نے فکر مندی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ دستور بدلنے کی بات کرنے والے آج اسی کا حلف لے رہے ہیں ۔ مسلم مجلس شوریٰ کے صدر ڈاکٹر خواجہ افتخار نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ یوپی میں بھاجپا کا نیا چہرہ دیکھنے کو ملے گا۔ چنائو کے وقت کی بات اور ہے، یوپی سرکار مودی جی کے وکاس کی یوجنائوں کو ہی آگے بڑھانے کا کام کرے گی۔جمعیت اہل حدیث کے جنرل سکریٹری مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے کہا کہ ذمہ داری قدرتی طور پر رویہ میں تبدیلی پیدا کرتی ہے یوگی جی کی سوچ و عمل بھی بدلے گا مجھے امید ہے کہ وہ سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ ممبر پارلیمنٹ علی انور نے یوگی کو وزیراعلیٰ بنائے جانے کو امت شاہ اور مودی کے ذریعہ انماد کو چننا بتایا۔ انہوں نے کہاکہ بھاجپا کے اس فیصلے نے اسے پہلی بار ووٹ دینے والوں جن میں مسلمان بھی شامل ہیں کو مایوس کیا ہے۔

اترپردیش سرکار نے اپنا ایجنڈہ ڈولپمنٹ رکھا ہے۔ تمام افسران کو بی جے پی کا سنکلپ پتر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شعبہ سے متعلق وعدوں کو پورا کرنے کیلئے منصوبہ بناکر پیش کریں ۔ دہلی میں یوگی آدتیہ ناتھ سے فسادات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ یوپی میں کوئی فساد نہیں ہونے دیں گے۔ان کی سرکار کے کاموں کے نتائج آنے میں دوسال کا وقت لگے گا۔ اس سب کے باوجود ریاستی سرکار نے سلاٹر ہائوس بند کرنے کا قدم اٹھاکر ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کردیا ہے۔ غیر قانونی سلاٹر ہائوس بند ہوں اور اس میں کسی کو اعتراض نہیں لیکن اس کیلئے کچھ وقت ضرور دینا چاہئے تھا۔ کیوں کہ یوپی میں ویسے ہی بے روزگار لوگوں کی تعداد کافی بڑی ہے۔ بے روزگاری کرائم کی وجہ بنتی ہے۔اس لئے متبادل کا انتظام کئے بنا روزگار ختم کرنا سمجھداری کا فیصلہ نہیں کہا جائے گا۔ اس سے ریاست کی آمدنی پر بھی اثرپڑے گا۔من چلوں پر لگام لگانے کا جو قدم اٹھایا گیا ہے وہ اچھا ہونے کے باوجود اس کے غلط استعمال ہونے کا  امکان ہے۔ اس لئے اس پر نگرانی کا نظم بھی ہونا چاہئے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ حلف برداری کے وقت وزیراعظم نریندرمودی نے کہاتھا کہ یوگی کی ٹیم اترپردیش کو اتم پردیش بنانے کی کوشش کرے گی۔ یوپی کے لوگوں کو تعلیم، صحت، روزگار، حفاظت اور معیشت کے سدھرنے کی اس سرکار سے بہت امیدیں ہیں ۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ اترپردیش اتم پردیش بنے گا یا صرف جملہ پردیش بن کر رہ جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close